02/05/2025
اٹھتے جاتے ہیں محفل سے مرے عہد کے لوگ خامہ اثر : قاضی عبدالقدیر خاموش
وکیل صحا بہؓ و اہل بیتؓ، عالم بے بدل، خطیب ایشیا ء قاری عبدالحفیظ فیصل آبادی۔۔ مرحوم کہتے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ اگلے وقتوں کے اہل علم کی نشانی تھے ، نہ رہے۔ اللہ ان کی قبر کو نور سے بھر دے ، ان کا حشر انہی پاک ارواحؓ کے ساتھ کرے جن کی انہوں نے عمربھر مدح اور وکالت کی ۔سیدہ کائنات اماں جی عائشہ ؓ کی شان بیان کرنے میں انہیں جو ملکہ حاصل تھا،اس کی کوئی دوسری مثال بیان نہیں کی جا سکتی ، شائد اسی محبت کا صلہ انہیں یوں ملا کہ اللہ نے انہیں اپنے پاس عین اس روز بلایا جب سیدہ عائشہ سلام اللہ علیھا کا یوم وفات تھا ،محبت اور وفا کی داستاں تو اللہ نے ان کی موت کے ساتھ یوں بھی منسلک کردی کہ اپنی شریک حیات کی نماز جنازہ کے دویا تین گھنٹے بعد خود بھی پیچھے پیچھے کشاں کشاں چل دئیے ۔۔۔۔
ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم جو یاد نہ آئے بھول کے پھر اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم
قاری صاحب کے چاہنے والے انہیں خطیب ایشیاء کے لقب سے پکارتے تھے تو کچھ غلط نہ تھا ، وہ اک ایسے عظیم دینی مبلغ اورعرب و عجم کے یکساں مقبول خطیب تھے جو پوری دنیا میں گھومےاور سراہے گئے۔ پنجابی اور اردو کے ساتھ ساتھ ان کا عربی اور فارسی کا ذوق بھی انتہائی اعلیٰ تھا ۔وہ بیک وقت خطیب ، ادیب ، شاعر اور نعت گو بھی تھے۔ اردو اور عربی میں اعلیٰ معیار کی شاعری فرمائی ، عربی میں رسول اللہ ﷺ کی شان میں نعت لکھی ، صحابہؓ کی شان میں قصائد لکھے اور پڑھے ، اردو اور پنجابی تو ان کی اپنی زبان تھی ، ان دونوں زبانوں میں بھی ان کا کلام زبان زد عوام ہے ۔سرگودھا میں دوران خطابت جب حکومت کی جانب سے ان کی زبان بندی کی گئی تو انہوں نے عربی میں تقاریر کیں، جو اہل علم کے لئے ایک گراں بہاادبی خزانے سے کم نہیں۔انہوں نے ذاتی زندگی بہت کربناک گزاری ،ان کا جوان بیٹا شھید ہوگیا ، دوسرا بیٹا طویل عرصہ سے لاپتہ افراد میں شامل ہے ، اب تک اپنے والدین کے سانحہ ارتحال کے بعد بھی لاپتہ ہے غالب گمان یہ کہ سرکاری تحویل میں ہے۔ ان کے چھوٹے بیٹے کو بھی اٹھالیا گیا تھا ۔ ایک کے بعد دوسرا حادثہ انہوں نے دیکھا لیکن حوادث کا یہ سلسلہ ان کی تبلیغی اور تحریکی مساعی پر اثر انداز نہ ہو سکا ۔انہوں نے اپنی پوری زندگی دنیا بھر میں اعلائے کلمۃاللہ ، سیرت طیبہﷺ ۖ ، صحابہ کرامؓ خصوصاً امام مظلومین سیدنا عثمان ؓ اور اماں عائشہؓ کی سیرت طیبہ بیان کرنے میں گزاردی ۔ پاکستان کے چاروں صوبوں میں جید علما کرام ان کا والہانہ استقبال کر کے جلسہ گاہ میں لایا کرتے تھے ۔ ان کی مسحور کن آواز سننے کے لئے دور دراز سے خواتین وحضرات ان کی کی دینی محافل میں حاضر ہوا کرتے تھے ۔مسلک اہل حدیث میں صرف تین خطباء ایسے ہیں جن کے انداز کو اپنا کر نئے خطیب عوام میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں ، ایک علامہ احسان الٰہی ظہیر علیہ الرحمہ ، دوسرے علامہ حبیب الرحمٰن یزدانی ؒاور تیسرے قاری عبدالحفیظ فیصل آبادی( وہ بھی اب رحمۃ اللہ علیہ) تھے ، مگر ان کے طرز خطابت کو اختیار کرنا اور داد پانا ہر ایک کے بس کی بات نہ تھی کیونکہ ان کے لہجے کا درد اور انداز بیان کا سوز اختیاری نہ تھا بلکہ درد دل کی صدا تھی ،خون جگر کی جھلک تھی ،جسے مصنوعی طور پراختیار کرنا کسی طور بھی ممکن نہیں ۔
کلیوں کو میں سینے کا لہو دے کے چلا ہوں صدیوں مجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی
میرے ساتھ ان کا محبت اور مودت کا رشتہ کب سے تھا ، سالوں کی گنتی کسے یاد ہے ، بس روز اول سے کہ لیں کہ جناب قاری صاحب اس قافلہ سخت جان کے رکن رکین تھے جس نے علامہ احسان الٰہی ظہیر ؒکے زیر قیادت جمعۃ اہل حدیث کی نشاۃ ثانیہ کی نیو اٹھائی اوراس عظیم تحریک کو مسلک اہل حدیث کی شناخت بنا ڈالا ،تحریکی زندگی کے اوائل میں ان سے استوار ہونے والا محبت کا رشتہ ان کی زندگی کے آخر تک قائم رہا۔ ابھی چند ماہ قبل وہ میرے گائوں ایک جلسہ میں خطاب کے لئے تشریف لائے تو میرے بیٹے کو فون کرکے مجھے ایک روز قبل گائوں پہنچنے کا پیغام دیا ۔ وہ خطیبوں کے اس پرتکلف گروہ سے نہ تھے جو تقریر کا وقت ہونے پر جلسہ گاہ میں نزول فرماتے اور اپنی بات کہ کر راہ لیتے ہیں ، وہ پرانی وضح کے وضع دار انسان تھے۔ جلسہ کے روز نماز ظہر پر ہی تشریف لے آئے ۔ ان دنوں ان کا دوسرا بیٹا بھی زیر حراست تھا ، جس پر بہت غمگین اوررنجیدہ تھے ، میں نے ادھرادھر احباب کو فون کرکے معلوم کیا اور انہیں خوشخبری سنائی کہ ان کا چھوٹا بیٹا اگلے روز رہا ہوجائے گا ، جس پر وہ بہت خوش ہوئے اور دعائوں سے نوازا ۔ ان کی مہربانی کہ جلسہ کے بعد بھی رک گئے اور فرمایا کہ’’ صبح جائوں گا ، رات بھر باتیں کریں گے‘‘ ، ہم علامہ شہید ؒ اور دیگر بچھڑ جانے والے دوستوں کو یاد کیا ، تحریکی زندگی اور تحریکی حوالوں سے ان کے تحفظات پر بات کی۔ اگلے روز ناشتے کے بعد دیر تک وقت کی راکھ سے یادوں کے موتی چنتے رہے ۔ دوبارہ جلد ملنے کے وعدوں کے بعد وہ رخصت ہوئے۔مگر ۔۔۔ ان کے وعدے کہیں اور پورے ہوگئے ، اب ان کی یادیں ہیں ، اور آنسو ہیں ، دل درد سے بھرا ہوا ہے ۔ زبان ان کے لئے اپنے رب سے دعائوں میں مصروف ہے ۔ذہن سوچتا ہے، کتنے قیمتی لوگ ایک ایک کرکے دنیا کو چھوڑتے جا رہے ہیں اور ان کا متبادل کوئی نہیں ،لہجے کی نقل کرنے والوں کی کمی نہ رہے گی مگر وہ علمی رسوخ ،وہ عقیدے کی پختگی ،وہ شعور کا اعلیٰ مقام ، علم وادب کی چاشنی ، سوز قلب ، درد دل اور بلند نگاہی کہاں سے لائیں گے ، ۔۔۔اور
اس کے بغیراب داستان آگے بڑھے گی کیسے ؟ لفظ روٹھ گئے،خیال یار کا دامن چھوٹ چکا
اللہ ان کی قبر کو اپنے نور سے بھر دے ، ان پر اپنی رحمتوں کی بارش برسادے ،ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے اک باغ بنا دے ۔آمین یا رب العالمین ۔قاری صاحب کی ذاتی زندگی کو دیکھیں تو وہ سورۃ الانعام کی اس آئت کا مصداق تھے ۔ اِنَّ صَلَاتی وَنُسکی وَ مَحيَایَ وَمَمَاتی لِلہِ رَبِّ العٰلَمِينَ۔(میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت سب اللہ ہی کے لئےہے جو تمام جہانوں کا رب ہے)۔ ہمارے خطیب ایشیاءانتہائی منکسر المزاج ،حلیم الطبع تھے ، نجی محافل میں ہمیشہ پست آواز رکھ کر بات کرتے تاکہ دوستوں کی دل شکنی نہ ہو ، وقت کا زیاں کبھی نہیں دیکھا ، نجی محفل میں بھی بامقصد اور تحریکی زندگی سے متعلق گفتگو کرتے ، تصنع نہیں تھا ، سادہ ، کھری بات کرتے ان کی محفل میں تازگی کا احساس ہوتا تھا تکلف کا نہیں ۔دور حاضر کا المیہ ہے کہ لوگ دو جلسوں میں بلالئے جائیں تو لہجے میں رعونت آجاتی ہے ، مگر ان کے ہاں رعونت تو کجا تکلف تک نہ تھا ۔متوازن اور سلجھاہوا لہجہ ان کی شناخت تھی ۔ فرقہ واریت کے قریب بھی نہیں بھٹکتے تھے ، ہم نے انہیں اپنے اساتذہ کا بے حد احترام کرتے ہوئے دیکھا ،انہوں نے تفسیر قرآن مولاناغلام اللہ خانؒ سے پڑھی تھی ، ہمیشہ ان کا تذکرہ محبت سے کرتے تھے، ان کے لہجے میں قرآن پڑھ کر خوش ہوتے ۔علامہ احسان الہٰی ظہیر ؒ اور دیگر شہدائے اہل حدیث سے اپنی وفا پر آخری دم تک قائم رہے ۔ ان کی کوئی تقریر مکمل ہی نہیں ہوتی تھی جب تک کہ شہدائے اہل حدیث کا ذکر خیر نہ کرلیتے ۔اللہ ان کے درجات بلندفرمائے ۔ آمین
عجب تنہائی کا سامنا ہے بھری محفل میں مجھے اٹھتے جاتے ہیں سب مرے عہد کے لوگ