Qazi Abdul Qadeer Khamosh

Qazi Abdul Qadeer Khamosh

Share

Interfaith Dialogue Hope for Humanity

Photos from Qazi Abdul Qadeer Khamosh's post 02/05/2025

اٹھتے جاتے ہیں محفل سے مرے عہد کے لوگ خامہ اثر : قاضی عبدالقدیر خاموش

وکیل صحا بہؓ و اہل بیتؓ، عالم بے بدل، خطیب ایشیا ء قاری عبدالحفیظ فیصل آبادی۔۔ مرحوم کہتے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ اگلے وقتوں کے اہل علم کی نشانی تھے ، نہ رہے۔ اللہ ان کی قبر کو نور سے بھر دے ، ان کا حشر انہی پاک ارواحؓ کے ساتھ کرے جن کی انہوں نے عمربھر مدح اور وکالت کی ۔سیدہ کائنات اماں جی عائشہ ؓ کی شان بیان کرنے میں انہیں جو ملکہ حاصل تھا،اس کی کوئی دوسری مثال بیان نہیں کی جا سکتی ، شائد اسی محبت کا صلہ انہیں یوں ملا کہ اللہ نے انہیں اپنے پاس عین اس روز بلایا جب سیدہ عائشہ سلام اللہ علیھا کا یوم وفات تھا ،محبت اور وفا کی داستاں تو اللہ نے ان کی موت کے ساتھ یوں بھی منسلک کردی کہ اپنی شریک حیات کی نماز جنازہ کے دویا تین گھنٹے بعد خود بھی پیچھے پیچھے کشاں کشاں چل دئیے ۔۔۔۔
ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم جو یاد نہ آئے بھول کے پھر اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم
قاری صاحب کے چاہنے والے انہیں خطیب ایشیاء کے لقب سے پکارتے تھے تو کچھ غلط نہ تھا ، وہ اک ایسے عظیم دینی مبلغ اورعرب و عجم کے یکساں مقبول خطیب تھے جو پوری دنیا میں گھومےاور سراہے گئے۔ پنجابی اور اردو کے ساتھ ساتھ ان کا عربی اور فارسی کا ذوق بھی انتہائی اعلیٰ تھا ۔وہ بیک وقت خطیب ، ادیب ، شاعر اور نعت گو بھی تھے۔ اردو اور عربی میں اعلیٰ معیار کی شاعری فرمائی ، عربی میں رسول اللہ ﷺ کی شان میں نعت لکھی ، صحابہؓ کی شان میں قصائد لکھے اور پڑھے ، اردو اور پنجابی تو ان کی اپنی زبان تھی ، ان دونوں زبانوں میں بھی ان کا کلام زبان زد عوام ہے ۔سرگودھا میں دوران خطابت جب حکومت کی جانب سے ان کی زبان بندی کی گئی تو انہوں نے عربی میں تقاریر کیں، جو اہل علم کے لئے ایک گراں بہاادبی خزانے سے کم نہیں۔انہوں نے ذاتی زندگی بہت کربناک گزاری ،ان کا جوان بیٹا شھید ہوگیا ، دوسرا بیٹا طویل عرصہ سے لاپتہ افراد میں شامل ہے ، اب تک اپنے والدین کے سانحہ ارتحال کے بعد بھی لاپتہ ہے غالب گمان یہ کہ سرکاری تحویل میں ہے۔ ان کے چھوٹے بیٹے کو بھی اٹھالیا گیا تھا ۔ ایک کے بعد دوسرا حادثہ انہوں نے دیکھا لیکن حوادث کا یہ سلسلہ ان کی تبلیغی اور تحریکی مساعی پر اثر انداز نہ ہو سکا ۔انہوں نے اپنی پوری زندگی دنیا بھر میں اعلائے کلمۃاللہ ، سیرت طیبہﷺ ۖ ، صحابہ کرامؓ خصوصاً امام مظلومین سیدنا عثمان ؓ اور اماں عائشہؓ کی سیرت طیبہ بیان کرنے میں گزاردی ۔ پاکستان کے چاروں صوبوں میں جید علما کرام ان کا والہانہ استقبال کر کے جلسہ گاہ میں لایا کرتے تھے ۔ ان کی مسحور کن آواز سننے کے لئے دور دراز سے خواتین وحضرات ان کی کی دینی محافل میں حاضر ہوا کرتے تھے ۔مسلک اہل حدیث میں صرف تین خطباء ایسے ہیں جن کے انداز کو اپنا کر نئے خطیب عوام میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں ، ایک علامہ احسان الٰہی ظہیر علیہ الرحمہ ، دوسرے علامہ حبیب الرحمٰن یزدانی ؒاور تیسرے قاری عبدالحفیظ فیصل آبادی( وہ بھی اب رحمۃ اللہ علیہ) تھے ، مگر ان کے طرز خطابت کو اختیار کرنا اور داد پانا ہر ایک کے بس کی بات نہ تھی کیونکہ ان کے لہجے کا درد اور انداز بیان کا سوز اختیاری نہ تھا بلکہ درد دل کی صدا تھی ،خون جگر کی جھلک تھی ،جسے مصنوعی طور پراختیار کرنا کسی طور بھی ممکن نہیں ۔
کلیوں کو میں سینے کا لہو دے کے چلا ہوں صدیوں مجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی
میرے ساتھ ان کا محبت اور مودت کا رشتہ کب سے تھا ، سالوں کی گنتی کسے یاد ہے ، بس روز اول سے کہ لیں کہ جناب قاری صاحب اس قافلہ سخت جان کے رکن رکین تھے جس نے علامہ احسان الٰہی ظہیر ؒکے زیر قیادت جمعۃ اہل حدیث کی نشاۃ ثانیہ کی نیو اٹھائی اوراس عظیم تحریک کو مسلک اہل حدیث کی شناخت بنا ڈالا ،تحریکی زندگی کے اوائل میں ان سے استوار ہونے والا محبت کا رشتہ ان کی زندگی کے آخر تک قائم رہا۔ ابھی چند ماہ قبل وہ میرے گائوں ایک جلسہ میں خطاب کے لئے تشریف لائے تو میرے بیٹے کو فون کرکے مجھے ایک روز قبل گائوں پہنچنے کا پیغام دیا ۔ وہ خطیبوں کے اس پرتکلف گروہ سے نہ تھے جو تقریر کا وقت ہونے پر جلسہ گاہ میں نزول فرماتے اور اپنی بات کہ کر راہ لیتے ہیں ، وہ پرانی وضح کے وضع دار انسان تھے۔ جلسہ کے روز نماز ظہر پر ہی تشریف لے آئے ۔ ان دنوں ان کا دوسرا بیٹا بھی زیر حراست تھا ، جس پر بہت غمگین اوررنجیدہ تھے ، میں نے ادھرادھر احباب کو فون کرکے معلوم کیا اور انہیں خوشخبری سنائی کہ ان کا چھوٹا بیٹا اگلے روز رہا ہوجائے گا ، جس پر وہ بہت خوش ہوئے اور دعائوں سے نوازا ۔ ان کی مہربانی کہ جلسہ کے بعد بھی رک گئے اور فرمایا کہ’’ صبح جائوں گا ، رات بھر باتیں کریں گے‘‘ ، ہم علامہ شہید ؒ اور دیگر بچھڑ جانے والے دوستوں کو یاد کیا ، تحریکی زندگی اور تحریکی حوالوں سے ان کے تحفظات پر بات کی۔ اگلے روز ناشتے کے بعد دیر تک وقت کی راکھ سے یادوں کے موتی چنتے رہے ۔ دوبارہ جلد ملنے کے وعدوں کے بعد وہ رخصت ہوئے۔مگر ۔۔۔ ان کے وعدے کہیں اور پورے ہوگئے ، اب ان کی یادیں ہیں ، اور آنسو ہیں ، دل درد سے بھرا ہوا ہے ۔ زبان ان کے لئے اپنے رب سے دعائوں میں مصروف ہے ۔ذہن سوچتا ہے، کتنے قیمتی لوگ ایک ایک کرکے دنیا کو چھوڑتے جا رہے ہیں اور ان کا متبادل کوئی نہیں ،لہجے کی نقل کرنے والوں کی کمی نہ رہے گی مگر وہ علمی رسوخ ،وہ عقیدے کی پختگی ،وہ شعور کا اعلیٰ مقام ، علم وادب کی چاشنی ، سوز قلب ، درد دل اور بلند نگاہی کہاں سے لائیں گے ، ۔۔۔اور
اس کے بغیراب داستان آگے بڑھے گی کیسے ؟ لفظ روٹھ گئے،خیال یار کا دامن چھوٹ چکا
اللہ ان کی قبر کو اپنے نور سے بھر دے ، ان پر اپنی رحمتوں کی بارش برسادے ،ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے اک باغ بنا دے ۔آمین یا رب العالمین ۔قاری صاحب کی ذاتی زندگی کو دیکھیں تو وہ سورۃ الانعام کی اس آئت کا مصداق تھے ۔ اِنَّ صَلَاتی وَنُسکی وَ مَحيَایَ وَمَمَاتی لِلہِ رَبِّ العٰلَمِينَ۔(میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت سب اللہ ہی کے لئےہے جو تمام جہانوں کا رب ہے)۔ ہمارے خطیب ایشیاءانتہائی منکسر المزاج ،حلیم الطبع تھے ، نجی محافل میں ہمیشہ پست آواز رکھ کر بات کرتے تاکہ دوستوں کی دل شکنی نہ ہو ، وقت کا زیاں کبھی نہیں دیکھا ، نجی محفل میں بھی بامقصد اور تحریکی زندگی سے متعلق گفتگو کرتے ، تصنع نہیں تھا ، سادہ ، کھری بات کرتے ان کی محفل میں تازگی کا احساس ہوتا تھا تکلف کا نہیں ۔دور حاضر کا المیہ ہے کہ لوگ دو جلسوں میں بلالئے جائیں تو لہجے میں رعونت آجاتی ہے ، مگر ان کے ہاں رعونت تو کجا تکلف تک نہ تھا ۔متوازن اور سلجھاہوا لہجہ ان کی شناخت تھی ۔ فرقہ واریت کے قریب بھی نہیں بھٹکتے تھے ، ہم نے انہیں اپنے اساتذہ کا بے حد احترام کرتے ہوئے دیکھا ،انہوں نے تفسیر قرآن مولاناغلام اللہ خانؒ سے پڑھی تھی ، ہمیشہ ان کا تذکرہ محبت سے کرتے تھے، ان کے لہجے میں قرآن پڑھ کر خوش ہوتے ۔علامہ احسان الہٰی ظہیر ؒ اور دیگر شہدائے اہل حدیث سے اپنی وفا پر آخری دم تک قائم رہے ۔ ان کی کوئی تقریر مکمل ہی نہیں ہوتی تھی جب تک کہ شہدائے اہل حدیث کا ذکر خیر نہ کرلیتے ۔اللہ ان کے درجات بلندفرمائے ۔ آمین
عجب تنہائی کا سامنا ہے بھری محفل میں مجھے اٹھتے جاتے ہیں سب مرے عہد کے لوگ

Photos from Qazi Abdul Qadeer Khamosh's post 30/04/2025

اَلَـیْسَ مِنْکُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ

اثر خامہ: قاضی عبدالقدیر خاموش

زمانہ تغیر پذیر ہے، حالات ہر دم کروٹ بدلتے ہیں، اور قوموں کی تقدیریں انہی تغیرات کی نازک گھڑیوں میں سنورتی یا بگڑتی ہیں۔آج جب ہم مسلک اہل حدیث کی موجودہ حالت پر نظر ڈالتے ہیں تو دل ایک انجانی کسک سے بھر جاتا ہے۔ ہماری قیادت، جسے کبھی علمی وجاہت، فکری بالیدگی اور تحریکی قوت کا مظہر سمجھا جاتا تھا، آج ایسے انتشار اور انشقاق کا شکار ہے جس کی مثال ماضی قریب میں بھی مشکل سے ملتی ہے۔
یہ انتشار کوئی حادثہ نہیں ہے۔ یہ ہمارے اندرونی زخموں، ہماری خود ساختہ اناؤں، اور ہم میں پروان چڑھتی گروہی عصبیتوں کا کڑوا پھل ہے۔افسوس صد افسوس!آج جب وقت کی ہوائیں ہمارے حق میں چل رہی ہیں، جب ماضی کی مسلکی رنجشیں ماند پڑ چکی ہیں، جب بیرونی محاذوں پر سازگار فضا موجود ہے — تب ہم خود اپنے آپ سے لڑنے میں مصروف ہیں، کیوں ؟ ایسا لگتا ہے کہ ہم دشمنوں کے حملے کے بغیر ہی خود کو شکست دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ کبھی ہمارے درمیان اختلافات ہوا کرتے تھے — علمی اختلاف، اجتہادی نوعیت کا اختلاف — مگر دل صاف تھے۔ اختلاف کے باوجود دلوں میں ایک دوسرے کے لیے خیر خواہی کی چمک موجود تھی۔ زبانوں پر سخت جملے آ بھی جاتے، مگر سینے بغض و کینے سے پاک رہتے۔ تب مسلک اہل حدیث کی شناخت اتحاد، علم، اور عمل پر تھی۔ تب قیادت کی کرسی محض اقتدار کا سنگھاسن نہیں تھی بلکہ امانت کا بوجھ تھی، جسے اٹھانے کے لیے لوگ کتراتے تھے۔
آج یہ منظر بدل چکا ہے۔
آج قیادت ایک کشمکش کا میدان بن چکی ہے۔آج منصب کی محبت نے خیر خواہی کے جذبے کو مغلوب کر دیا ہے۔آج ہم مسندوں کے پجاری بن گئے ہیں، اصولوں کے نہیں۔حالات کا تلخ مگر کھرا تجزیہ یہ ہے کہ:ہمارے پاس علمی سرمایہ موجود ہے۔ ہمارے ہاں فکری بالیدگی کی کمی نہیں۔سیاسی شعور بھی بہت حد تک موجود ہے۔افرادی قوت بھی اللہ کے فضل سے خاطر خواہ ہے،مگر جو چیز مفقود ہے، وہ "اتحاد" ہے۔اتفاق کی نعمت ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے کھو دی ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر ایک اپنی الگ دکان کھولے بیٹھا ہے۔ ہر کوئی اپنے حلقہ احباب کو "اصل مسلک" کا دعویدار قرار دیتا ہے۔نتیجہ یہ ہے کہ ہماری اجتماعی طاقت ریت کی دیوار کی طرح بکھر رہی ہے۔لازم مگر یہ ہے کہ ہم موقع کی نزاکت کو سمجھیں ،یہ لمحہ صدق دل سے غور وفکر کا متقاضی ہے۔دشمنی کی توپیں خاموش ہیں۔مخالف مسالک کی طرف سے کوئی بڑی یلغار نظر نہیں آتی۔مسلکی رقابت کی آگ نسبتاً سرد پڑ چکی ہے۔لوگ اب تقسیم سے تنگ آ چکے ہیں اور دل سے اتحاد کے متلاشی ہیں۔ دشمن اب ہمارے باہر نہیں، ہمارے اندر ہے۔ہماری بدقسمتی یہ نہیں کہ ہمارے پاس اہل علم نہیں، یا ہمارے پاس سیاسی شعور کا فقدان ہے۔ نہیں، ہمیں اللہ نے علم کا نور بھی دیا، فہم و بصیرت کی دولت بھی، اور سیاسی حکمت کے جوہر بھی۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے "اتحاد" کو اپنی ترجیحات کی فہرست سے خارج کر دیا ہے۔ ہم نے اپنے ذاتی مفادات، اپنی چھوٹی چھوٹی اناؤں، اور وقتی مفادات کو اس بڑی نعمت پر ترجیح دی ہے، جس کا نام اجتماعیت" ہے۔
ایسے میں، لازم ہے کہ ہم اپنی پرانی رنجشوں کو دفن کریں۔لازم ہے کہ ہم دل کے زخموں پر مرہم رکھیں، اور ماضی کی تلخیوں کو خدا کے لیے بھلا دیں۔لازم ہے کہ ہم ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر، ایک نئے جذبے اور نئی امید کے ساتھ بیٹھیں — صرف اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے، صرف اپنے مسلک کی عزت کی خاطر، اور صرف اپنے انتشار کی لعنت سے بچنے کے لیے۔ایسے میں اگر ہم اب بھی بیدار نہ ہوئے،اگر ہم نے اب بھی اپنی صفوں کو نہ سنبھالا، تو آئندہ زمانہ ہماری کہانی کو عبرت کے طور پر بیان کرے گا، نصیحت کے طور پر نہیں۔
سوال اب یہ ہے کہ حل کیا ہے؟
کیا ہم اب بھی کسی ایک ایسی شخصیت پر متفق ہو سکتے ہیں جو سب گروپس کے لیے قابل قبول ہو؟
اگر جواب "نہیں" ہے — اور بظاہر یہی حقیقت ہے — تو ہمیں ایک نئے راستے پر چلنا ہوگا۔ یعنی اجتماعی قیادت (Collective Leadership)۔سب سے پہلے ارباب حل و عقد پر مشتمل ایک خودمختار کمیٹی قائم کی جائے۔ یہ کمیٹی علمی، دینی، اور شخصی لحاظ سے معتبر افراد پر مشتمل ہو۔ ایسے افراد جو ذاتی مفادات سے بالا تر ہوں اور جن کی دیانت پر سب گروپس کو اعتماد ہو۔ جس کے ارکان علمی لحاظ سے بھی قوی ہوں، دینی دیانت میں بھی ممتاز ہوں، اور سیاسی وابستگیوں سے یا تو بالکل پاک ہوں، یا کم از کم ایسے ہوں کہ دوسرے گروپس بھی ان پر اعتماد کر سکیں۔ کمیٹی کا کام یہ ہو کہ وہ تمام موجودہ گروپس سے ملاقات کرے، گروہی تحفظات اور خدشات کو سنے، ان کے مطالبات سمجھے، اور ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کرے۔ تمام گروپس کے ساتھ مشاورت کر کے ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کرے۔اس مشاورت کے نتیجے میں ایک قیادت کونسل تشکیل دی جائے،جس میں ہر گروپ کو مناسب نمائندگی حاصل ہو۔کونسل اجتماعی مشاورت سے فیصلے کرے۔فیصلے نہ کسی فرد واحد کی ضد پر مبنی ہوں، نہ کسی گروہ کی اجارہ داری پر۔ اجتماعی قیادت کے اصول درج ذیل ہونے چاہئیں:
o دین، امت اور مسلک کی بھلائی کو اولین ترجیح دی جائے۔
o ذاتی پسند و ناپسند کو اجتماعی مفاد پر قربان کیا جائے۔
o فیصلے اتفاق رائے یا اکثریت سے ہوں، اور سب ان کے پابند ہوں۔
کچھ لوگ کہیں گے کہ اجتماعی قیادت تو ممکن ہی نہیں۔ ہر ایک اپنی سیادت چاہتا ہے۔
ہم کہتے ہیں، کیا مدینہ منورہ میں انصار و مہاجرین نے ایک دوسرے پر قیادت کا دعویٰ نہ کیاتھا،کیا یہ آسان تھا کہ صدیق اکبرؓ کی بیعت پر سب یک زبان ہو گئے؟لیکن یہ ہوا ۔اگر اسوہ صحابہؓ موجود ہے،اگر اللہ کی نصرت کا وعدہ ہمارے ساتھ ہے،تو یہ کیوں ناممکن ہے؟یہ سب اگر اس وقت ممکن تھا تو آج ہمارے لئے ممکن ہے — بشرطیکہ ہم نیتوں کو خالص کریں اور اناؤں کا گلا گھونٹ دیں۔
آئیے سوچیں:
کیا مسلک اہل حدیث کی عظمت کا تقاضا یہ نہیں کہ ہم اپنے اندرونی اختلافات کو دفن کر دیں؟
کیا دین ہمیں انتشار کے بجائے اجتماعیت کا درس نہیں دیتا؟
کیا قرآن ہمیں بار بار "وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیعًا وَلَا تَفَرَّقُوا" کی صدا نہیں دیتا؟
ہمیں اپنے بڑوں کی تاریخ یاد کرنی چاہیے، جنہوں نے علم، حلم اور برداشت کے ساتھ قیادت کو نبھایا۔ہمیں اپنے حال پر شرمندہ ہونا چاہیے، اور اپنے مستقبل کے لیے نیا عزم کرنا چاہیے۔عمل کا راستہ یہ ہے کہ :
• دلوں کو صاف کریں،نیتوں کو خالص کریں،ذاتی مفادات کو قربان کریں،اجتماعی قیادت کے لیے راہیں ہموار کریں، باہم مشاورت، خیر خواہی، اور حسن ظن کو بنیاد بنائیں۔یہ کوئی ایسا دشوار راستہ نہیں جسے طے نہ کیا جا سکے۔
ہمارے پاس سب کچھ ہے — بس نیت، ہمت اور اخلاص کی کمی ہے۔اور یہ کمی بھی دور ہو سکتی ہے، اگر ہم عزم کر لیں۔
اَب بھی وقت ہے۔
اَب بھی چراغ جلائے جا سکتے ہیں،اَب بھی زخموں پر مرہم رکھا جا سکتا ہے،اَب بھی انتشار کو اتحاد میں بدلا جا سکتا ہے،بس ایک سچی توبہ، ایک خالص نیت، اور ایک بےلوث عزم کی ضرورت ہے۔
آئیے، ہم سب مل کر اپنے مسلک کو بکھرنے سے بچائیں۔آئیے، اجتماعی قیادت کا خواب دیکھیں — اور اسے حقیقت بنا دیں۔
ورنہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔تاریخ ان قوموں کو ہمیشہ بھلا دیتی ہے جو خود اپنی بربادی کا سامان کرتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

05/02/2025

We stand by our Kashmiri brothers and sisters until the realization of their cherished dream of freedom.Kashmir Solidarity Day Kashmir is the jugular vein of Pakistan and no nation can allow it's jugular vein to be held by the enemy.

13/06/2024

انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک سستے ترین ٹکٹ
عمرہ سروسز کا با اعتماد ادارہ
🌴الحمدلله ثم الحمدلله🌴
آپکا اعتماد ہی ہمارا معیار ہے
ایک دفعہ خدمت کا موقع دیں دوسری دفعہ آپ خود ہمارا انتخاب کریں گے ان شاءالله
لاہور،سیالکوٹ،اسلام آباد،ملتان سے عمرہ بکنگ جاری ہے🛫
نیو القدس ٹریول اینڈ ٹورز آفس=ریلوے روڈ لالاموسیٰ گجرات








28/01/2024
23/01/2024

امریکی صدر کے ناشتے کی تقریب میں شرکت
قاضی عبدالقدیر خاموش اور علامہ ہشام الہیٰ ظہیر امریکہ روانہ ہونگے

گجرات ( اسٹاف رپورٹر) اسلامی یکجہتی کونسل (مسلم کرسچن فیڈریشن انٹرنیشنل کے چیئرمین قاضی عبدالقدیر خاموش اور جمیعت اہلحدیث پاکستان کے صدر علامہ ہشام الہیٰ ظہیر کانگریس اور سینیٹ کی مشترکہ کمیٹی کی طرف سے 72ویں سالانہ دعائیہ ناشتے کی تقریب میں شرکت کیلئے امریکہ روانہ ہونگے، اس تقریب میں امریکی صدر اور اعلیٰ حکام کے علاوہ 140 ممالک کے مندوبین ، اسٹیٹ آفس اور امریکی حکام کی علاوہ سینیٹ اور کانگریس کے اراکین سے ملاقاتیں کریں گے۔ اور امریکہ کے مختلف ریاستوں میں سماجی تنظیموں کی طرف سے منعقدہ تقریبات میں شرکت کریں گے۔

Photos from Qazi Abdul Qadeer Khamosh's post 06/10/2023
Photos from Qazi Abdul Qadeer Khamosh's post 30/09/2023

ایک بار پھر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا بخار

جیسے جیسے سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے کےقریب جارہا ہے ، پاکستان میں بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بحث میں شدت پیدا کی جا رہی ہے، میڈیا ہائوسز اور راتب خور ویب سائٹس اسرائل کو تسلیم کرنے کے فوائد گنوانے میں مصروف ہیں جبکہ مین سٹریم دینی جماعتیں ’’ہر چند کہیں کہ ہے مگر نہیں ہے‘‘ کی عملی تفسیر بنی دکھائی دیتی ہیں ۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ اس تمام کے پس پردہ وہی قوتیں ہیں جن کے دام ہم رنگ زمین کا شکار ہو کر سعودی عرب خود کشی کےاس راستے پر چل نکلا ہےاور زہر کا پیالہ پینے کو تیار ہے ۔ ان قوتوں کا اگلا ہدف پاکستان ہے ، وجہ صاف ظاہر ہے کہ جب تک پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اس وقت تک سعودی عرب کا تسلیم کرلینا بھی بے معنی ہے ۔
اب جبکہ عالمی استعمار کی پشت پناہی سے ملک میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے لابنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔ نگران وزیر خارجہ کی جانب سے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اسرائیل کو تسلیم کا مشروط ارادہ ظاہر کردیا گیا ہے تو لازم ہے کہ ہم اس معاملہ میں تصویر کا اصل رخ پیش کریں ، اور نظریات کی جنگ میں حق کا ساتھ دیں، ورنہ ملک جن حالات سے گزر رہا ہے ، اس کے پیش نظر ایسے مباحث کا چھیڑنا بذات خود انتشار کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔ لیکن جب حکومت خود ایک شر انگیز مہم شروع کرنے جا رہی ہے تو پھر خاموش رہنا اور حق بیان نہ کرنا ایک جرم سے کم نہ ہوگا ۔
اس سے پہلے کہ ثابت ہو جرم خاموشی ہم اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں
حقیقت یہ ہے کہ کچھ مغرب زدہ سکالر اپنے اثرورسوخ کو استعمال کر تے ہوئے اسرائیل کو تسلیم کروانے کی مہم چلا رہے ہیں۔ اس کے باعث پاکستان کی واضح اور دو ٹوک خارجہ پالیسی تحفظات اور شکوک و شبہات کا شکار ہو گئی ہے۔ جو لوگ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کررہے ہیں ان کی طرف سے تین دلائل بڑے شدومد کے ساتھ دیے جا رہے ہیں:
1۔ اسرائیل ایک حقیقت ہے اس لیے اب اسے تسلیم کر لینا چاہیے۔
2۔اسرائیل کو تسلیم کرنا پاکستان کے لیے معاشی طور پر خوشحالی کا باعث ہو گا ۔
3۔جب عرب خصوصا سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کر رہا ہے تو پاکستان کیوں نہیں ؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا محض اس بنیاد پر کسی ملک کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ اب وہ جغرافیائی طور پر موجود ہے۔ کیا اس کا کوئی تعلق قانون ‘ضابطۂ اخلاق اور بین الاقوامی تعلقات سے نہیں؟ کیا آپ ایک لٹیرے اور اپنے گھر پر قابض ڈاکو کو چند برسوں بعد صرف اس لیے گھر کا مالک مان لیں گے کہ اب اس قبضے کو کئی سال بیت گئے ہیں؟اگر ہر حقیقت کو تسلیم کرنا لازم ہے تو اسرائیل سے پہلے فسلطین ایک حقیقت تھی ، حقیقت ہے ، اسے تسلیم کیوں نہیں کیا جاتا ؟ افغانستان میں طالبان حکومت حقیقت ہے ، دنیا تسلیم کیوں نہیں کرتی ؟ القاعدہ کا وجود ایک حقیقت ہے دنیا تعلقات کیوں قائم نہیں کرتی ؟ داعش کا وجود حقیقت ہے دنیا تسلیم کیوں نہیں کرتی ، تعلقات کیوں قائم نہیں کرتی ؟ جبکہ اسرائیل تو ‘ جغرافیائی‘ تاریخی‘ آبادی اور اخلاقی اعتبار سے حقیقت ہے ہی نہیں ہر اعتبار سے ایک جھوٹ اور دھوکہ ہے، یہ اسی طرح کی
حقیقت ہے جیسے القاعدہ ، داعش، یا دنیا کی دیگر دہشت گرد تنظیمیں ، قانون فطرت یہ ہے کہ ایسی حقیقت کو مٹانے کے لئے تسلیم یا جاتا ہے نا کہ تعلقات بنانے کے لئے ۔دوسری دلیل کہ پاکستانی معیشت بہتر ہوگی یہ بھی ایک دھوکے کےسوا کچھ نہیں اسرائیل کو تسلیم کرنے سے معیشت سدھرتی تو مصر آج معاشی قوت ہوتا،اس نے دہائیوں سے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے، مگر ان کی اقتصادی حالت بہتر ہونے کے بجائے مزید ابتری کا شکار ہے۔
رہا معاملہ یہ کہ عربوں نے تسلیم کرلیا ہے ، تو ہمیں بھی کر لینا چاہئے ، اس سے زیادہ کمزور اور لایعنی دلیل کوئی ہے ہی نہیں ۔ اس سوال کامسکت جواب آج سے کئی برس قبل شیخ الاقصیٰ شیخ اسعد بیوض تمیمی دے چکے ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں ہماری دعوت پر جناب اسعد بیوض تمیمی دورہ پاکستان پر تشریف لائے ، وزیر اعظم پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹو سے بھی ان کی ملاقات ہوئی ۔ انہوں نے محترمہ سے کہا کہ ’’پاکستان کو چاہئے کہ وہ کبھی اسرائیل کو تسلیم نہ کرے ؟‘‘‘ بے نظیر بھٹو جو اس دور میں عرب ممالک کی بے تابیوں سے آگاہ تھیں ، انہوں نےسوال کیا کہ اگر عرب ممالک تسلیم کرلیں تو ؟ اس پر شیخ تمیمی نے تاریخی جملہ کہا ’’اگر عرب نماز چھوڑ دیں ، اسلام، سے ہٹ جائیں تو کیا آپ بھی چھوڑ دیںگے؟ فرمایا یہ عربوں کا نہیں دین اسلام کا مسئلہ ہے ۔ قبلہ اول یہودیوں کی تحویل میں دینے اور اسے تسلیم کرنے کا حق عرب ممالک سمیت کسی کو نہیں ۔‘‘ محترمہ نے فورا کہا کہ میں سمجھ گئی اور پھر پوری زندگی محترمہ نے اپنا عدہ نبھایا ۔
اب سوال یہ ہے کہ اسرائیلی لابی کے بقول پاکستان کی کوئی اہمیت نہیں تو پھر امریکہ اور اسرائیل اتنے بے تاب کیوں ہیں ؟پاکستان سے تسلیم کروانا ان کی ترجیح اول کیوں ہے ؟ کبھی لالچ، کبھی دھمکی ،کبھی سازش آخر کس لئے ؟ معاملہ یہ ہے کہ پاکستان اپنی ایٹمی قوت ، جغڑافیائی محل وقوع اور اپنے پالیسیوں کے سبب اب بھی ایک اہم اسلامی ملک ہے۔نہ صرف پاکستان کی او آئی سی میں مضبوط لابی ہے، بلکہ پاکستان سے تعلقات کاسب سے زیادہ فائدہ یہ ہو گا کہ عالم اسلام کی اسرائیل سے نفرت کم ہو نے کا امکان ہے۔
اب آتے ہیں اس سوال پر کہ ہمیں اسرائیل کو تسلیم کیوں نہیں کرنا چاہئے ؟
1۔۔۔سب سے پہلی بات کہ اسرائیل سے تنازع بیت المقدس کا ہے ، عربوں کو بے گھر کرنے کا نہیں ، یہ ایک شرعی مسئلہ ہے ، ہم اسے تسلیم کریں گے تو اپنی بنیاد نظریہ اسلام اور اللہ کے احکامات کی خلارف ورزی کے مرتکب ہوں گے ۔
2۔۔۔حکمران اور حکومتیں اپنی جگہ لیکن عالم اسلام کی غالب اکثریت اسرائیل سے نفرت کرتی ہے ،جبکہ پاکستان کو محبت سے نوازا جاتا ہے ،اسرائیل کو تسلیم کرنے سے ہم اس سے کی جانے والی نفرت کے حصے دار ہوں گے ، اور تسلیم نہ کرکے عالم اسلام کی محبت کے حق دار ۔
3۔۔ اسرائیل کو تسلیم کر نا ہماری قومی پالیسی کا قتل ہے ، اس سے ہم ہمیشہ کے لئے کشمیر پر اصولی موقف کو خیر باد کہہ دیں گے ، اگر اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ درست مان لیں تو کشمیر پر بات کرنے کا کیا جواز۔
4۔۔اسرائیل کے جارحانہ عزائم جو پاکستان کی سلامتی کے لیے روز اوّل ہی سے خطرہ ہیں ، ان سے بچائو ناممکن ہوجائے گا ۔ پاکستان سے دشمنی اسرائیل کی بنیادی پالیسی کا حصہ ہے ، بانی وزیر اعظم بن گوریان نے واضح اعلان کیا تھا کہ ’’ دنیا میں اسرائیل کا کوئی حقیقی دشمن اگر ہے تو وہ پاکستان ہے ، کیونکہ وہ اسلام کے نظریہ پر قائم کیا گیا ہے ، یہ ملک ہمارے لیے عربوں سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اسے مٹانا ہمارا قومی و مذہبی فریضہ ہے ۔ اب عالمی صہیونی تحریک کا ہدفِ اول پاکستان ہونا چاہیے ۔ ( جیوش کرانیکل،19؍اگست 1967ء)
5۔۔ پاکستان بھارت کے جارحانہ عزائم کا سامنا اور ملکی سلامتی و تحفظ کو کس طرح یقینی بناسکے گا۔، کیونکہ اسرائیل ہمیشہ بھارت کا جنگی پارٹنر ہے ۔2003 میں اسرائیلی وزیر اعظم شمعون پیریز دو ٹوک الفاظ میں اعلان کرچکا ہے کہ’’ اگرپاکستان اسرائیل کو تسلیم بھی کرلے تو پاک بھارت جنگ کی صورت بھارت جو بھی فیصلہ کرے گا اسرائیل بھارت کا ساتھ دے گا۔ (دی نیشن9 جنوری 2003)۔
6۔۔۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو بھارت اور اسرائیل سے درپیش خطرات کا مقابلہ ممکن نہ ہو سکے گا ۔
یہ محض چند نکات نہیں بلکہ پاکستان کے استحکام اور سلامتی کے وہ عنوانات ہیں جن کو معاشی خوش حالی کے فریب میں بالکل نظرانداز کر دینا نہ صرف نقصان دہ بلکہ تباہی کا باعث ہو گا۔کوئی بھی باشعور اورزندہ قوم یہ خطرہ مول نہیں لے سکتی کہ مالی فوائد کی موہوم امید پر اپنی آزادی،خودمختاری اور قومی موقف سے دستبردار ہونے کو تیار ہوجائے ۔حکمرانوں سے پہیلے کبھی کوئی توقع تھی نہ اب ہے،پاکستانی قوم کو اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے از سر نو اپنے کردار کا جائزہ لینا ہو گا۔ اس تشویش ناک صورت حال میں اگر پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے کی سیاسی غلطی کرتا ہے تو ثقافتی اور نظریاتی محاذ پر نہ صرف ہماری شکست ہوگی بلکہ غیرجذباتی ہو کر کسی بھی رخ سے غور کیا جائے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا پاکستان اور عالم اسلام کے لیے تباہ کن اور ناقابل قبول ہے‘ اس سے پاکستان خطرات کی ایک ایسی دلدل میں پھنس جائے گا جس سے نکلنا ممکن نہ ہو گا۔لازم ہے کہ پاکستان کے ارباب علم ودانش یکسو رہیں ، اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کی ہر کوشش کی ڈٹ کر مخالفت کریں ۔
’’رَبَّنَآ أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِيْنَ‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Photos from Qazi Abdul Qadeer Khamosh's post 17/09/2023

ڈاکٹر سمیع اللہ زبیری اسٹنٹ پروفیسرعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کوجنوبی افریقہ کی اسلامک تنظیم کی طرف سے بڑا ایوارڈعطاکردیاگیا
عربی زبان کی ترویج کے حوالے سے ڈاکٹرسمیع اللہ کی شاندارخدمات ہیں ، ڈاکٹرسمیع اللہ عربی زبان کے بہترین مبلغ ہیں
عربی زبان کورواج دینے سے معاشرے سے فرقہ واریت ختم ہوجائے گی ،قاضی عبدالقدیرخاموش
دنیا بھر میں عربی زبان کی اہمیت اور مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے۔ڈاکٹرطاہرالاسلام ،سعیدالرشیدعباسی ،ظہیرانبالوی کاتقریب سے خطاب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد/راولپنڈی (17/9/2023) پاکستان کے لیے اعزاز،ڈاکٹر سمیع اللہ زبیری اسٹنٹ پروفیسر ڈیپارٹمنٹ آف اریبک اینڈ اسلامک سٹڈیز علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کو ان کی عربی زبان کی ترویج پرجنوبی افریقی کی اسلامی تنظیم نے سب سے بڑا اعزاز، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، ایوارڈ عطاکیا ،مختلف مذہبی وسیاسی جماعتوں نے کہاہے کہ عربی زبان کی ترویج کے حوالے سے ڈاکٹرسمیع اللہ کی شاندارخدمات ہیں ،عربی زبان کورواج دینے سے معاشرے سے فرقہ واریت ختم ہوجائے گی ،دنیا بھر میں عربی زبان کی اہمیت اور مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے ڈاکٹرسمیع اللہ زبیرعربی زبان کے بہترین مبلغ ہیں ۔ان خیالات کااظہاررہنمائوں نے جمعیت علماء اہل حدیث کے چیئرمین قاضی عبدالقدیرخاموش کی طرف سے ڈاکٹرسمیع اللہ زبیری کے اعزازمیں دیئے گئے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔استقبالیہ سے مشائخ وعلماء کونسل پاکستان کے چیف آرگنائزرعلامہ سعیدالرشیدعباسی ،چوہدری یوسف سلفی ناظم مرکزی جمعیت اہل حدیث اسلام آباد،ڈاکٹرطاہرالاسلام عسکری اسٹنٹ پروفیسرشعبہ فکراسلامی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ،چوہدری طاہرکٹاریہ نائب ناظم مرکزی جمعیت اہل حدیث اسلام آباد،چوہدری ظہیرانبالوی نائب ناظم مرکزی جمعیت اہل حدیث اسلام آباد،علی ظہیرحیدری ،محسن لیاقت صدراہل حدیث سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلام آباد،انس اقبال صدراے ایس ایف اسلامی یونیورسٹی ،حافظ عبدالباسط ودیگرنے شرکت وخطاب کیا تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹرسمیع اللہ زبیری نے کہاکہ میرے دوہی شوق ہیں ایک عربی زبان اوردوسراخطابت ،جنوبی افریقہ کی سب سے بڑی تنظیم کی طرف سے مجھے ایوارڈملنادراصل پاکستان اوریہاں کی مذہبی جماعتوں کے لیے اعزازہے عربی زبان قرآن و سنت کی زبان ہے اور ایک مسلمان کے لیے اس کی تعلیم اساسی حیثیت رکھتی ہے۔ قاضی عبدالقدیرخاموش نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹرسمیع اللہ زبیری کی عربی زبان کی ترویج کے حوالے سے شاندارخدمات ہیں وہ عربی زبان کے بہترین مبلغ ہیں ان کوایوارڈملنے پرہم انہیں مبارک بادپیش کرتے ہیں تمام اسلامی کتب کے ماخذومراجع عربی میں ہیں اس لیے عربی کورواج دینے سے نہ صرف فرقہ واریت ختم ہوگی بلکہ اسلام کی اصل شکل قوم کے سامنے آئے گی 1973 کے آئین میں واضح لکھا ہواہے کہ ریاست، مسلمانانِ پاکستان کے لیے اسلامیات اور تعلیم قرآن کو لازمی قرار دے، نیز وہ عربی زبان کی تعلیم و تدریس، فروغ اور اشاعت کی حوصلہ افزائی کرے انہوں نے کہاکہ دنیا بھر کے تمام مسلمان عربی زبان کا نہ صرف احترام کرتے ہیں بلکہ اس کو ایک مقدس زبان سمجھتے ہیں۔ڈاکٹرطاہرالاسلام عسکری نے کہاکہ ڈاکٹرسمیع اللہ کوعربی زبان پرجودسترص حاصل ہے وہ کسی کوبھی نہیںڈاکٹرسمیع اللہ عربی زبان میں نہایت مئوثراورفصیح وبلیغ اندازمیں دعوت وتبلیغ کرتے ہیں اس کے علاوہ انہوںنے یونیورسٹی میں عربی زبان کی ترویج کے لیے گراں قدرخدمات سرانجام دی ہیں

جاری کردہ ۔۔جمعیت علما اہل حدیث پاکستان ۔
03005454744

06/09/2023

6 ستمبر یوم دفاع پاکستان
!! 6ستمبر 1965 پاکستان کی تاریخ کا وہ دن جب جرأت اور بہادری کی نئی تاریخ رقم ہوئی ۔

16/08/2023

سول ھسپتال جھنگ میں نو تعمیر شدہ حسین بن علی رضی اللہ عنہ ھیلتھ بلاک کی افتتاحی تقریب میں خطاب
https://youtu.be/kjlX6CdnW_Y

14/08/2023

ہم زندہ قوم ہے،پائندہ قوم ہے
ہم سب کی یہ پہچان،ہم سب کا پاکستان پاکستان پاکستان۔۔۔۔!!!!
HAPPY INDEPENDENCE DAY

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

27 Second Floor Ichra Shopping Center
Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 19:00
Friday 09:00 - 19:00