25/06/2026
**وزیرِ تعلیم صاحب کے نام ایک کھلا خط: سرکاری اسکولوں کا اصل سچ اور چشم کشا حقائق**
ہر چند دن بعد میڈیا اور بیانات میں سرکاری اسکولوں کے خلاف زہر افشانی کرنا اور انہیں نظام کی ہر خرابی کا ذمہ دار ٹھہرانا ایک فیشن بن چکا ہے۔ لیکن کیا کبھی ہمارے وزیرِ تعلیم صاحب نے حقیقت اور زمین پر موجود اعداد و شمار کا سامنا کیا ہے؟
آئیے جذبات اور سیاست سے ہٹ کر، پنجاب کے اپنے آفیشل **سکول انفارمیشن سسٹم (SIS)** کے ان حقائق پر نظر ڈالتے ہیں جنہیں عام طور پر عوام سے چھپایا جاتا ہے۔
# # # 📊 سکول انفارمیشن سسٹم (SIS) کا اصل حقائق نامہ
اگر ہم ویب سائٹ کے آفیشل ڈیٹا کا حساب لگائیں تو اصل تصویر کچھ یوں بنتی ہے:
* **کل زیرِ تعلیم بچے:** 10,464,770 (ایک کروڑ چار لاکھ سے زائد)
* **کل اساتذہ (PST, EST, SST):** 306,498
* **ٹیچرز کی اوسط تنخواہ:** PST کی 65,000 روپے، EST کی 70,000 روپے اور SST کی تقریباً 100,000 روپے ماہانہ۔
# # # # 💰 تنخواہوں کا کل بجٹ اور سالانہ خرچہ:
* **ماہانہ بجٹ:** تمام اساتذہ کی تنخواہیں ملا کر ماہانہ تقریباً **21.5 ارب روپے** بنتے ہیں۔
* **سالانہ بجٹ:** اس حساب سے اساتذہ کی تنخواہوں کا کل سالانہ بجٹ تقریباً **258 ارب روپے** بنتا ہے۔
* **فی بچہ اوسط خرچہ:** اساتذہ کی تنخواہوں میں اگر اسکولوں کا **NSB فنڈ (1,200 روپے سالانہ)** بھی شامل کر لیا جائے، تو سرکاری اسکول کے ایک طالب علم پر ماہانہ اوسط خرچہ صرف **2,153 روپے** اور سالانہ تقریباً **25,840 روپے** آتا ہے!
# # # ❓ پروپیگنڈا بمقابلہ حقیقت: باقی کا 500 ارب کہاں جا رہا ہے؟
وزیرِ تعلیم صاحب اور بیوروکریسی کی طرف سے اکثر یہ راگ الاپا جاتا ہے کہ "750 ارب روپے سرکاری اساتذہ کھا رہے ہیں"۔
> **یہاں ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہوتا ہے:** اگر زمین پر موجود اساتذہ کا کل سالانہ بجٹ صرف **258 ارب روپے** بن رہا ہے، تو پھر **باقی کے تقریباً 500 ارب روپے کہاں جا رہے ہیں؟** وہ پیسہ کس کی جیب میں جا رہا ہے؟ وہ پیسہ اساتذہ پر نہیں، بلکہ محکمے کے بڑے افسروں کے پروٹوکول، شاہانہ دفاتر، پٹرول، گاڑیوں اور متوازی بیوروکریسی کی نذر ہو رہا ہے جس کا حساب کوئی نہیں دیتا!
>
# # # 🏫 معیاری تعلیمی ادارے بمقابلہ 10 بائے 10 کے کمرے (PEF کا سچ)
سرکاری اسکولوں میں آج بھی وسیع انفراسٹرکچر، کھلے میدان اور معیاری تعلیمی ماحول موجود ہے جہاں سے پڑھ کر بچے ملک کے بڑے عہدوں پر پہنچتے ہیں۔ لیکن وزیرِ تعلیم کا پورا زور اس پورے صوبے کے نظام کو پرائیویٹ ٹھیکیداروں (PEF) کے حوالے کرنے پر لگا ہوا ہے۔
کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ کھلے اور معیاری سرکاری اسکولوں کے بجائے **10 بائے 10 کے چھوٹے کمروں** میں مشینوں کی طرح ٹھونس کر پڑھایا جائے؟ اگر آپ چاہتے ہیں کہ بچوں میں کانفیڈنس ہو، وہ اچھی اور کھلی فضا میں پڑھیں، تو پھر اس پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ڈھونگ کو بند کرنا ہوگا۔
جب حکومت سرکاری اسکولوں کو پرائیویٹ ٹھیکیداروں کے حوالے کرتی ہے تو وہاں بھی فی بچہ **1,800 سے 2,200 روپے** تک دیا جاتا ہے۔ تو پھر سرکاری اسکولوں کا 2,153 روپے کا خرچہ کس بنیاد پر خزانے پر بوجھ لگتا ہے؟
# # # # 💸 ٹھیکیدار راج اور نوجوانوں کا استحصال:
پیف (PEF) اسکولوں کا **ٹھیکیدار خود تو ماہانہ لاکھوں روپے کما لیتا ہے**، لیکن وہاں پڑھانے والے غریب اور پڑھے لکھے نوجوان اساتذہ کو **صرف 5 سے 10 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ** دی جاتی ہے! وزیرِ تعلیم صاحب! کیا آپ اس صوبے کے لاکھوں ڈگری ہولڈر نوجوانوں کا یوں معاشی استحصال کروانا چاہتے ہیں؟ کیا آپ ہمارے بنے بنائے معیاری سرکاری اداروں کو اپنے من پسند ٹھیکیداروں کے حوالے کرنا چاہتے ہیں؟
# # # 💼 بجٹ کا اصل بلیک ہول: افسر شاہی کی عیاشیاں
اصل خرچہ اساتذہ کی یہ معمولی 65 سے 80 ہزار کی تنخواہ نہیں، بلکہ وہ بھاری بھرکم متوازی ڈھانچہ اور نئے ادارے ہیں جو صرف بیوروکریسی کو نوازنے کے لیے کھڑے کیے گئے ہیں:
* **پیکٹا (PECTA)** اور اس جیسے دیگر درجنوں مانیٹرنگ اور ایڈمنسٹریٹو اداروں میں بیٹھے بڑے افسران کو **10 لاکھ، 20 لاکھ اور 25 لاکھ روپے ماہانہ تک تنخواہیں** اور شاہانہ مراعات دی جا رہی ہیں۔
* دوسری طرف، یہ اساتذہ کسی سفارش پر نہیں آئے، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کٹھن امتحانات (PPSC اور NTS) پاس کیے، جو اس ملک کے برلیئنٹ مائنڈز (Brilliant Minds) تھے اور میرٹ پر سلیکٹ ہو کر آئے۔ ان کو اب ہر وقت ذہنی طور پر ٹارچر کیا جاتا ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اساتذہ کی تنخواہوں کے ساتھ ساتھ ان افسران کی تنخواہوں کا بھی آڈٹ کرایا جائے!
# # # 📢 ہمارا مطالبہ: وزیرِ تعلیم کو عہدے سے ہٹایا جائے!
جس وزیرِ تعلیم کو اپنے ہی محکمے کے بنیادی حقائق کا علم نہ ہو، جو زمینی حقائق کے بجائے ہوائی باتوں پر اساتذہ کو ہراساں کرے، عوام میں جھوٹا پروپیگنڈا پھیلائے اور بنے بنائے سرکاری اسکولوں کو ٹھیکیداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے، وہ اس عہدے کے لائق نہیں ہے۔
سرکاری تعلیمی نظام کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے **موجودہ وزیرِ تعلیم کو فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے**۔
منقول