Lahore English Academy

Lahore English Academy

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Lahore English Academy, Tutor/Teacher, Lahore.

27/10/2025

ساگودانہ.
تمام گھرانے کی صحت کا قدرتی محافظ.
ساگو دانہ چھوٹے چھوٹے سفید رنگ کے موتیوں جیسے دانے ہوتے ہیں۔ جنہیں دودھ یا پانی میں پکایا جاتا ہے۔یہ ایک درخت کے تنے سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ یہ کھجور سے مشابہت رکھنے والا ایک پام نما درخت ہوتاہے۔ جسے ساگو پام ( Sago Palm) کہا جاتا ہے۔ ہندی، پنجابی اور بنگالی میں سابو دانہ کہا جاتا ہے۔
درخت پر پھل آنے سے پہلے اس کا گودا کاٹ کر الگ کر لیا جاتا ہے اور پھر اسے خشک کر کے محفوظ کرتے ہیں۔ یہ گول دانے ہوتے ہیں جو بے بو اور سفید رنگ کے ہوتے ہیں۔ اس کا ذائقہ پھیکا ہوتا ہے۔
حکما اور اطبا نے ساگو دانہ کی افادیت اور بطور غذا اس کے استعمال کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
ساگو دانہ ملاکو کے جزیروں میں کثرت سے پایا جاتا ہے۔جبکہ فلیگا نامی جزیرہ ساگو دانہ کی کاشت اور پیداوار کے حوالے سے مشہور ہے۔ اس کے علاوہ ساگو دانہ نیو گنی میں بھی کاشت کیا جاتا ہے۔
ساگو دانہ میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا۔
ساگو دانہ کاربوہائیڈریٹ فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔اس میں پروٹین کی بھاری مقدار پائی جاتی ہے۔ یہ وٹامن کے، وٹامن بی کمپلیکس، کیلشیم،پوٹاشیم، زنک، آئرن اورفائبر، فولک ایسڈسے بھرپور ہوتا ہے۔
ساگو دانہ کے طبی فوائد.
غذائیت سے بھر پور ساگودانہ کی افادیت سے سب ہی واقف ہے۔ یہ تقریباً دو ہزار برس سے انسان استعمال کرتا چلا آ رہا ہے۔ اس کے حیرت انگیز طبی فوائد بہت سے ہیں۔
ہڈیوں کی نشوونما۔
کیلشیئم، آئرن اور فائبر سے بھر پور ساگودانہ ہڈیوں کی صحت اور مرمری ہڈیوں کی لچک کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے استعما ل سے تھکاوٹ دور ہوتی ہے۔ ساگودانہ کو بچوں کی ابتدائی غذا میں شامل کرنے سے بچوں کی ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں اور قد میں اضافہ ہوتا ہے۔
پیدائشی نقائص۔
غذائی اجزا کی کمی اور غلط ادویات کا استعمال اکثر بچوں میں پیدائشی نقائص کا سبب بن جاتا ہے۔ ساگو دانہ میں پایا جانے والا فولک ایسڈ اور وٹامن بی 6 بجوں کی بہترین نشونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین حاملہ خواتین کو ساگو دانہ کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
پٹھوں کی افزائش.
ساگودانہ پروٹین کی بھر پور مقدار فراہم کرتا ہے۔ ساگودانہ کے استعمال سے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں اور متاثرہ پٹھوں کی افزائش ہوتی ہے۔ ساگو دانہ کو روز مرہ کی غذا میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
متوازن بلڈپریشر.
ساگو دانہ پوٹاشیم کی بھر پور مقدار پائے جانے کے سبب خون کی گردش متوازن رکھتا ہے جس سے دل کی صحت بہتر ہوتی ہے۔ ساگو دانہ کے استعمال سے بلڈ پریشر کنٹرول میں رہتا ہے۔ بی پی کے مریضوں کے لیے ایک دن میں ایک کپ سادہ پکا ہوا ساگو دانہ تجویزکیا جاتا ہے۔ اس کے باقاعدگی کے استعمال سے با آسانی بلڈ پریشر کے مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
طاقت و توانائی کا ذریعہ.
ورزش یا دیگر سخت جسمانی سرگرمیوں میں زیادہ دیر تک مشغول رہنے والے افراد کے لیے ساگو دانہ بے حد مفید ہے۔ اس کے استعمال سے تھکن کم ہوتی ہے اور کمزوری دور ہوتی ہے۔ مسلز بنانے کے شوقین افراد اسے اپنے ناشتے میں شامل کر سکتے ہیں۔ دن کے آغاز میں اسے کھانے سے تا دیر بھوک کا احساس نہیں ہوتا اور انسان خود کو ہلکا اور طبیعت مثبت محسوس ہوتی ہے۔
وزن میں اضافہ.
وزن بڑھانے کے خواہشمند افراد ساگودانہ کا دودھ کے ساتھ روزانہ استعمال کر سکتے ہیں۔ ساگودانہ کھانے سے وزن میں اضافہ ہوتا ہے۔ جبکہ غذائی ماہرین ساگو دانے کو سپلیمنٹس سے بھی زیادہ صحت کے لیے مفید قرار دیتے ہیں۔
قد میں اضافہ.
اگر آپ بڑھنے والے بچو ں کوساگودانہ کھلائیں تو اسکے باقاعدہ استعمال سے آپکے بچوں کے قدمیں اضافہ ہوسکتاہے۔بچوں کے لئے یہ بے حد فائدہ منداورقد میں اضافہ کے لیے بہترین غذا ہے۔
نظام ہاضمہ.
نظام ہاضمہ اور آنتوں کی صحت کے لیے ساگو دانہ بے حد مفید ہے۔ اس سے معدے کے مسائل جیسے کہ قبض، بدہضمی اور گیس وغیرہ کے ساتھ کولیسٹرول کی سطح کو بھی بہتر بنا تا ہے۔ ساگودانہ جسم کی اضافی چربی بھی پگھلانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
ساگودانہ کے استعمال کے طریقے:
اسے کھیر، پڈنگ، سوپ، کیک، پین کیک، بریڈ، کھچڑی اور بائنڈنگ یعنی کسی بھی غذا کو گاڑھا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
خالی دودھ یا پانی میں پکا کر بھی استعمال کیاجاسکتاہے اورگاڑھاہونے پر حسب ضرورت چینی ملا کر استعمال کریں۔
بچے اگر اسے کھانا پسند نہ کریں تو ساگو دانہ کو دودھ میں ابال کر چھان کر الگ کر لیں، اب یہ دودھ بچوں کو پلایا جا سکتا ہے۔
اسے آلو میں ملا کر اس کے کٹلس بھی بنائے جا سکتے ہیں۔

22/07/2025

O level Mathematics preparation start for Oct/Nov, 2025

22/07/2025

سائنسں دانوں کہنا ھے کہ لوہا
اس زمین اور نظام شمسی کا حصہ نہیں ھے۔
کیونکہ لوھے کے پیدا ہونے کے لئے ایک خاص درجہ حرارت کی ضرورت ھوتی ھے جو ہمارے نظام شمسی کے اندر بھی موجود نہیں۔ لوہا صرف سوپر نووا supernova کی صورت میں ھی بن سکتا ھے۔ یعنی جب کوئی سورج سے کئی گنا بڑا ستارہ پھٹ جائے اور اس کے اندر سے پھیلنے والا مادہ جب شہاب ثاقب meteorite کی شکل اختیار کرکے کسی سیارے پر گر جائے جیسا کے ھماری زمین کے ساتھ ھوا۔
سائنسدان کہتے ہیں کہ ھماری زمین پر بھی لوھا اسی طرح آیا۔ اربوں سالوں پہلے اسی طرح شہاب ثاقب meteorites اس دھرتی پر گرے تھے جن کے اندر لوھا موجود تھا۔

اللہ سبحان وتعالی نے یہی بات قرآن میں بیان فرمائی ہے، 1400 سال پہلے اس بات کا وجود تک بھی نہیں تھا کہ لوھا کیسے اور کہاں سے آیا؟
قرآن کی 57 ویں سورة کا نام الحدید ھے جس کا مطلب لوھا ھے۔ لوھے کے نام پر پوری صورت موجود ھے اور اسی سورة کی آیت میں اللہ فرماتا ھے کہ:

"اور ہم نے لوھے کو اتارا، اس میں سخت قوت اور لوگوں کے لئے فائدے ہیں۔”
(سورة الحدید، آیت نمبر 25)
قرآن میں موجود یہ سائنسی حقائق اس بات کی دلیل ھے کہ یہ رب کا سچا کلام ھے۔ جو اس آخری پیغمبر حضور ﷺ پر نازل ھوا جو اُمی کہلاتے ہیں ۔

سورہ حدید آیت 4

﴿۴﴾ وھی ھے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ جو چیز زمین میں داخل ھوتی اور جو اس سے نکلتی ھے اور جو آسمان سے اُترتی اور جو اس کی طرف چڑھتی ھے سب اس کو معلوم ھے۔ اور تم جہاں کہیں ھو وہ تمہارے ساتھ ھے۔ اور جو کچھ تم کرتے ھو خدا اس کو دیکھ رھا ھے۔
اس سے بھی زیادہ حیران کر دینے والی بات یہ ھے کہ لوہا زمین کے بالکل درمیان میں ھے۔ اور لوھے کی بدولت مقناطیسی لہریں زمین کے گرد پیدا ہوتی ہیں جس سے زمین پر سورج کی الٹرا ریز اثر انداز نہیں ہو سکتی اور یہ وائرلیس کمیونیکیشن میں بھی مدد فراہم کرتی ھے۔

اب حیران کرنے والی بات یہ ھے کہ قرآن میں 114 سورتیں ہیں اور سورہ الحدید کا نمبر 57 ھے یعنی سورت حدید عین قرآن کے بیچ میں ھے۔ اور لوہا اسی طرح زمین کے درمیان ھے۔ یعنی اللہ نے اس سورہ کی ترتیب بھی اسی حساب سے رکھی جو کہ ایک معجزے سے کم نہیں۔

یہ بات حقیقت ھے کہ لوھے کہ بنا زمین پر زندگی تقریبا نا ممکن تھی۔ لوھا ہیموگلبن کی صورت میں ھمارے خون میں موجود ھے۔ جو کہ خون میں آکسیجن کو پورے جسم پہنچانے کام کرتا ھے۔

عربی زبان کے ٢٨ حروف ہیں اور ھر حرف سے کوئی عدد منسوب ھے.حروف کو مختلف ترتیب سے لکھا جاتا ھے.
سب سے زیادہ عام طریقہ درج ذیل ھے۔

ا ب ج د ہ و ز ح ط
1 2 3 4 5 6 7 8 9
ی ک ل م ن س ع ف ص
10 20 30 40 50 60 70 80 90
ق ر ش ت ث خ ذ ض ظ
100 200 300 400 500 600 700 800 900
غ
1000

ا کے لئے 1 ب کے لئے 2 کا عدد ھے ج کے لئے 3 اور د کے لئے 4

اسی طرح الحدید میں ا ل ح د ی د الفاظ ہیں۔

اسکے ابجد الفاظ درج زیل ہیں۔
1 + 30 + 8 + 4 + 10 + 4 = 57

الحدید سورت کا نمبر بھی 57 ھے۔

اب آتے ہیں لفظ حدید کی طرف۔ حرف حدید میں چار الفاظ ہیں ح د ی د۔ اسکا ابجد نمبر ھے۔
8+ 4 + 10 + 4 = 26

اب آپ سوچیں گے کہ اب 26 کیا چیز ھے؟؟؟

جی جناب یہ لوھے کا ایٹومک نمبر ھے۔
Atomic number of iron is 26

سورہ حدید میں رکوع کی تعداد 4 ھے جبکہ آئرن کے آئسوٹوپس کی تعداد بھی 4 ھے۔

ھماری زمین میں سب سے زیادہ لوھا زمین کی سب سے اندرونی تہہ (inner core) میں پایا جاتا ہے. Inner core 80% لوہے اور 20% نکِل پر مشتمل ھے. زمین کی اس تہہ یعنی inner core کی پیمائش(موٹائی) 2475 کلومیٹر ھے۔ جبکہ سورہ حدید میں حروف کی تعداد بھی 2475 بنتی ھے.

سورہ حدید قران مجید کی 57 ویں سورت ھے جبکہ سائنسدانوں کے مطابق inner core کا درجہ حرارت بھی 5700 کیلون یعنی5427 ڈگری سنٹی گریڈ ھے. جبکہ آئرن کے ایک آئسوٹوپ کا ماس نمبر بھی 57 ھے.

ایک ستارا کا ایندھن ہائیڈروجن گیس ہوتی ھے اور گریوٹی کی وجہ سے ستارا کے رکز میں فیوزن ری ایکشن شروع ھوتا ھے اور ہائیڈروجن ایٹم دوسرے ایٹم سے ملکر ہیلیئم بناتی ھے جب کسی ستارا کہ تمام ہائیڈروجن ختم ھو جاتی ھے تو اس کا ایندھن ہیلیئم ھوتا ھے اور ہیلیئم کے آئیٹم فیوزن ری ایکشن سے نائیٹروجن اور پھر آکسیجن بناتے پھر اور آخر میں لوھا بنتا ھے جب کسی ستارا میں لوھا پیدا ھونا شروع ھو جائے تو وہ ستارا مر جاتا ھے اور بلاسٹ کر کے لوھا کائنات میں چھوڑ دیتا ھے۔
زمین پر موجود لوھا کس مرے ہوئے ستارے سے آیا۔ جس کو قرآن نے 1400 سال سے بھی پہلے بیان کر دیا۔

اسلام اور قرآن کی حقانیت جدید سائنس دن بدن عیاں کر رھی ھے مگر پھر بھی ھم اللہ کو راضی کرنے کے بجائے دنیا کے پیچھے پڑے ہیں۔
بیشک قرآن حکیم ایک زندہ و جاوید معجزہ ھے
لاھور سائنس اکیڈمی
ماڈل ٹاؤن
لاھور

23/06/2025
23/06/2025

کہا جاتا ہے کہ حضرت سلیمان بن داؤد علیہما السلام کے ایک چرواہے کی نگرانی میں کچھ بھیڑیں تھیں۔ ایک دن اس کے پاس ایک بھیڑیا آیا اور بولا:
“مجھے ایک بھیڑ دے دو!”
چرواہے نے حیران ہو کر جواب دیا:
“یہ بھیڑیں حضرت سلیمان علیہ السلام کی ملکیت ہیں، میں تو بس ان کا رکھوالا ہوں!”
بھیڑیا بولا:
“تو جا کر حضرت سلیمان سے پوچھ لو کہ کیا وہ مجھے ایک بھیڑ دینے کی اجازت دیتے ہیں؟”
چرواہے نے کہا:
“مجھے ڈر ہے کہ اگر میں چلا گیا تو تم بھیڑوں پر حملہ کر دو گے۔”
بھیڑیا ہنسا اور بولا:
“جب تک تم واپس نہ آ جاؤ، میں خود بھیڑوں کی نگرانی کروں گا، الله نہ کرے کہ میں خیانت کروں لیکن اگر میں نے خیانت کی تو میں آخری امت کا قربِ قیامت والا ایک آدمی بن جاؤں” (یعنی اپنے آپ کو بد دعاء دی کہ ہم یعنی موجودہ مسلمانوں کی طرح ہو جاؤں، جو کہ افسوسناک ہے)
یہ سن کر چرواہا روانہ ہو گیا۔
راستے کی حیرت انگیز نشانیاں
چلتے ہوئے چرواہے نے تین عجیب و غریب مناظر دیکھے:
1️⃣ پہلی نشانی: اس نے ایک گائے کو اپنی ہی بچی کا دودھ پیتے دیکھا! حیران ہو کر اس نے سوچا: “سبحان الله! میں نے اس جیسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا، اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟”
2️⃣ دوسری نشانی: آگے بڑھا تو ایسے لوگ دیکھے جو بوسیدہ کپڑے پہنے ہوئے تھے، مگر ان کے ہاتھوں میں سونے کی تھیلیاں بھری پڑی تھیں! چرواہے نے سوچا: “یہ بھی بڑی عجیب بات ہے، ان کے پاس سونا ہے مگر یہ پھر بھی فقیر نظر آ رہے ہیں!”
3️⃣ تیسری نشانی: کچھ اور آگے بڑھا تو ایک بہتا ہوا چشمہ نظر آیا، پیاس کی شدت میں جیسے ہی قریب پہنچا، تو بدبو نے اسے روک دیا۔ پانی کی بدبو اتنی شدید تھی کہ وہ پیچھے ہٹ گیا اور حیران ہو کر بولا: “یہ کیسی بات ہے؟ بہتا ہوا پانی اور اتنا گندا؟”
حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکمت بھری وضاحت
بالآخر وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچا اور بھیڑیے کی درخواست بیان کی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا:
“ٹھیک ہے ، میں نے اسے اجازت دی کہ وہ ایک بھیڑ چن کر کھا لے۔”
چرواہے نے عرض کیا:
“حکم بجا لاتا ہوں، مگر راستے میں تین عجیب چیزیں دیکھی ہیں، ان کی حقیقت جاننا چاہتا ہوں۔”
✦ پہلی نشانی کا جواب:
“یہ آخری زمانے کی نشانی ہے۔ مائیں اپنی بیٹیوں کو فتنہ میں مبتلا کریں گی تاکہ خود فائدہ حاصل کر سکیں۔”
✦ دوسری نشانی کا جواب:
“یہ لوگ ڈاکو اور چور ہیں۔ جو مال حرام سے آتا ہے، اس میں برکت ختم ہو جاتی ہے۔ آخری زمانے میں حرام کمائی عام ہو جائے گی، قناعت ختم ہو جائے گی اور برکت اٹھا لی جائے گی۔”
✦ تیسری نشانی کا جواب:
“یہ بھی آخری زمانے کے نام نہاد دیندار ہیں۔ دور سے دیکھو تو ان کا لباس دین داری کا ہوگا، مگر جب قریب جاؤ گے تاکہ کچھ سیکھ سکو، تو پاؤ گے کہ وہ دنیا اور خواہشات میں ڈوبے ہوئے ہیں۔”
یہ سن کر چرواہے نے تڑپ کر کہا:
“میں اس زمانے کے فتنے سے الـلــَّـه کی پناہ مانگتا ہوں!”
بھیڑیے کی حیران کن دیانتداری
چرواہا واپس آیا تو دیکھا کہ بھیڑیا واقعی بھیڑوں کی نگرانی کر رہا تھا۔
اس نے کہا:
“حضرت سلیمان نے تمہیں اجازت دے دی ہے کہ تم کسی بھی بھیڑ کو چن کر کھا سکتے ہو۔”
بھیڑیے نے بھیڑوں پر نظر دوڑائی اور ایک کمزور، بیمار بھیڑ کو چن لیا۔
چرواہے نے حیرت سے پوچھا:
“تم نے یہی بھیڑ کیوں چنی؟”
بھیڑیا بولا:
“کیونکہ یہ اپنے رب کی تسبیح سے غافل تھی! جو اپنے رب کے ذکر سے غافل ہو، وہ بہت بڑی آزمائش میں ہوتا ہے۔۔

11/11/2024

درویش نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا اے میرے پروردگار آپ کون ہیں ؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا _______
میں احد گنتی سے پاک ہوں
میں صمد جدائی سے پاک ہوں
میں لم یلد ولم یولد اجنما ہوں
میں اپنے لیے آپ ہی کافی ہوں
میری کفایت کرنے والا کوئی نہیں ہوسکتا
ولم یکن لہ کفوا احد درویش نے پھر عرض کیا اے میرے
پروردگار آپ کیسے ہیں ؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ________
میں نور ہوں آسمانوں اور زمینوں کا اللہ نور السماوات والارض
درویش نے کہا آپ کا رخ کس طرف ہے ؟
اللہ تعالیٰ نے نے فرمایا ____
تم جس طرف بھی رخ پھروگے ہر طرف میرا چہرا پائو گے فاینما تولو فثم وجہ اللہ
درویش نے کہا اے میرے پروردگار آپ کہاں ہیں ؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ______
تم جہاں ہو میں بھی وہاں ہوں تمہارے ساتھ ساتھ وہو معکم اینما کنتم
آپ میرے کتنے قریب ہیں؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا _______
میں تمہارے شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں ونحن اقرب الیہ من حبل الورید
درویش نے کہا اللہ تعالیٰ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں ؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ______
میں تمہارے نفسوں میں ہوں تم بصارت سے کام کیوں نہیں لیتے وفی انفسکم افلا تبصرون

درویش نے اپنے من میں جھانکا اور کہا
حق موجود اللہ موجود سدا موجود
دوستو !!
عشق تو دو کام کر دکھاتا ہے ابتدا میں یہ اپنی ذات سے آزادی دلاتا ہے پھر تلوار سے سر کاٹ دیتا ہے اور پھر خدا کی ذات کے علاوہ کچھ بھی باقی نہیں رہتا پھر محبوب ملتا ہے باقی تمام خیال دل سے نکال دیتا ہے
‏عشق پہلے جذب و مستی پھر سکوت بیکراں
ابتدا سب کچھ ہے لیکن انتہا کچھ بھی نہیں

29/07/2024

آدم
طلسمِ بُود و عدم، جس کا نام ہے آدم
خدا کا راز ہے، قادر نہیں ہے جس پہ سخن
زمانہ صبحِ ازل سے رہا ہے محوِ سفر
مگر یہ اس کی تگ و دَو سے ہو سکا نہ کُہن
اگر نہ ہو تجھے اُلجھن تو کھول کر کہہ دوں
’وجُودِ حضرتِ انساں نہ رُوح ہے نہ بدن،!
علامہ اقبال رحمتہ اللہ

22/09/2022

حکمرانوں ہوش کے ناخن لو!

ٹرانس جینڈر بل نامنظور

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 20:00
Tuesday 09:00 - 20:00
Wednesday 09:00 - 20:00
Thursday 09:00 - 20:00
Friday 09:00 - 20:00
Saturday 09:00 - 20:00