19/10/2025
بچپن میں مفتی محمودرحمہ اللہ کی بہادری کا واقعہ
----------------------------------- قیام پاکستان سے قبل ڈیرہ اسماعیل کے ایک سرکاری سکول میں ایک انگریز افسر نے دورہ کیا ۔ہیڈماسٹر صاحب نے تمام طلباء کو اس کے استقبال کےلئے ایک قطار میں کھڑا کردیا ۔انگریز آفسر نے دورہ کرتے ہوئے آٹھویں جماعت کے ایک طالب علم کے پاس پہنچا اور اس سے پوچھا تعلیم حاصل کرنے کے بعد تم کیا کارنامہ انجام دو گے۔طالب علم نے بے خوفی سے جواب دیا ۔۔۔۔میں اپنے ملک سے انگریزوں کو نکالوں گا ۔۔۔۔۔۔انگریز آفسر نے یہ جواب سن کر وہیں سے واپس چلاگیا ۔۔۔۔۔۔انگریز آفسر نے کے جانے کے بعد ہیڈماسٹر صاحب نے اس طالب علم کو بلایا اور اس کے چہرے پر ایک زوردار تھپڑ رسید کیا ۔اور کہا کہ تم ہماری روزی پر لات مار دی ۔دفع ہوجاؤ۔۔۔طالب علم اپنی کلاس چلاگیا۔۔۔۔۔تھوڑی دیر بعد ہیڈماسٹر صاحب نے پوچھا کہ اس طالب علم کا دماغ اب ٹھکانے آگیا ہوگا ۔اسے بلایا اور پوچھا ہاں تم پڑھنے کے بعد کیا کارنامہ انجام دوگے۔۔۔طالب علم نے ہیڈماسٹر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا ۔۔گستاخی معاف۔اب میں انگریزی کے ساتھ ساتھ آپ جیسے انگریزوں کی تابعداری کرنے والوں کو بھی ملک سے نکالوں گا ۔۔۔۔ہیڈماسٹر طالب علم کے جواب سن کرسکتے میں آگیا ۔۔۔اس نڈر اور بے باک طالب علم کو دنیا آج مفکر اسلام مفتی اعظم پاکستان مفتی محمودرحمہ اللہ کے نام سے جانتی ہے ۔۔
04/10/2025
04/10/2025