Idarah Misbah Ul Quran

Idarah Misbah Ul Quran

Share

Assalam o Alikum this page is my idarah page and islamic page i try my best to share with my friends

Photos from Idarah Misbah Ul Quran's post 06/06/2021

Booking start h idara Misbah ul Quran M

19/11/2020

تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی انتقال کر گئے

لاہور: (دنیا نیوز) تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی قضائے الہیٰ سے انتقال کر گئے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے علیل تھے۔

مولانا خادم حسین رضوی صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں قران پاک حفظ کیا ہوا تھا۔ انھیں عربی اور اردو کے علاوہ فارسی زبان پر بھی عبور تھا۔ عرصہ قبل ان کا ٹریفک حادثہ ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ معذور تھے اور چل نہیں سکتے تھے۔

خادم حسین رضوی 22 جون 1966ء ضلع اٹک میں پیدا ہوئے، ان کے والد کا نام حاجی لعل خان تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم جہلم سے حاصل کی جس کے بعد انہوں نے درس نظامی مکمل کیا۔

26/07/2020

Janwar Idarah Misbah Ul Quran m off load ho chuky hain..(boking jari h )

26/07/2020
18/07/2020

*اَلسَّلاَمْ عَلَيْكُمْ*
آپ کو یاد دہانی کروانی ہے کہ 21جولائی منگل کو ماہ ذی القعد کی 29 تاریخ ہے تمام لوگ منگل کی نماز مغرب سے پہلے اپنے بال کٹوالیں اور ناخن تراش لیں ۔۔پھر قربانی کے بعد ھی اپنے ناخن اور بال تراشیں۔ یہ عمل واجب ھے ماہ ذوالحجہ کی قربانی کرنے والوں پر

07/07/2020

Har saal ki trhan is saal bhi ijtimai qurbani ka behtreen intezaam kia gia h.booking open h

07/06/2020



۲- سورۂ بقرہ (گائے )
۳- سورۂ آل عمران (عمران کی اولاد)
۴- سورۂ نساء (عورتیں)
۵- سورہ ٔمائدہ (دسترخوان)
۶- سورہ ٔانعام (جانور، مویشی)
۷- سورہ ٔ اعراف (بلندیاں)
۸- سورۂ انفال (اموال غنیمت)
۹- سورۂ توبہ (معافی)
۱۰- یونس (ایک پیغمبر کا نام)
۱۱- سورۂ ہود (ایک پیغمبر کا نام)
۱۲- سورہ ٔ یوسف ( ایک پیغمبر کا نام)
۱۳- سورۂ رعد ( بادل کی گرج)
۱۴- ابراہیم ( ایک پیغمبر کا نام)
۱۵- سورۂ الحجر(ایک مقام کا نام)
۱۶- سورۂ نحل (شہد کی مکھی)
۱۷- سورہ ٔٔبنی اسرائیل (حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد)
۱۸- کہف (غار)
۱۹- سورۂ مریم (عیسی علیہ السلام کی والدہ کا نام)
۲۰- سورۂ طٰہ (حروف تہجی کے دو حروف)
۲۱- سورۂ انبیاء (اللہ کے پیغمبر، نبی کی جمع)
۲۲- سورۂ حج (زیارت)
۲۳- سورۂ مومنون (ایمان والے لوگ)
۲۴- سورۂ نور (روشنی )
۲۵- سورہ فرقان (حق و باطل میں امتیاز کرنے والی چیز)
۲۶- سورۂ شعراء (شاعر کی جمع)
۲۷- سورہ نمل ( چیونٹی)
۲۸- سورہ قصص (قصے، سچے واقعات)
۲۹- سورہ ٔ عنکبوت ( مکڑی)
۳۰- سورۂ روم (روم)
۳۱- سورہ لقمان (ایک صالح بزرگ کا نام)
۳۲- سورۂ سجدہ (جھکنا، سجدہ کرنا)
۳۳- سورہ ٔ احزاب (حزب : گروہ ، جمع : احزاب، جنگ)
۳۴- سورۂ سبا ( ایک قوم )
۳۵- سورۂ فاطر (پیدا کرنےوالا)
۲۶- سورۂ یسین (رسول کا نام)
۳۷- سورہ صافات ( صف بستہ )
۳۸- سورۂ ص (حروف تہجی کا ایک حرف)
۳۹- سورہ زمر ( گرورہ در گروہ)
۴۰- سورۂ مومن ( ایمان والا)
۴۱- سورہ حم (حروف تہجی کے حروف)
۴۲- سورہ ٔ شوری ( صالح و مشورہ)
۴۳- سورہ زخرف (سونا)
۴۴- سورہ دخان ( دھواں)
۴۵- سورہ جاثیہ ( گٹھنوں کے بل گرے ہوئے ہونا)
۴۶- سورہ االحقاف ( ایک جگہ کا نام)
۴۷- سورہ محمد (پیغمبر اسلام حضرت محمد ص کا نام مبارک)
۴۸- سورہ فتح (جیت، کامیابی)
۴۹- سورہ حجرات (حجرے ، کمرے)
۵۰- سورۂ ق (حروف تہجی کاایک حرف )
۵۱- سورۂ ذاریات ( گرد اڑانے والی ہوا)
۵۲- سورۂ طور ( ایک پہاڑ کا نام)
۵۳- سورہ نجم (ستارہ)
۵۴- سورہ قمر (چاند)
۵۵- سورہ رحمن (بہت زیادہ رحم فرمانے والا ، اللہ تعالی کے اسمائے حسنی)
۵۶- سورہ واقعہ (قیامت)
۵۷- سورہ حدید (لوہا)
۵۸- سورہ مجادلہ (بحث ، تکرار ، جھگڑا)
۵۹- سورہ حشر (جمع ہونا، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا، قیامت)
۶۰- سورہ ممتحنہ (امتحان لینے والی)
۶۱- سورہ صف (صف بستہ)
۶۲- سورہ جمعہ (دنوں میں سے ایک مبارک دن)
۶۳- سورہ منافقون ( منافق لوگ)
۶۴- سورہ تغابن (خسارہ سے دو چار ہونا)
۶۵- سورہ طلاق (آزاد کرنا، طالق دینا)
۶۶- سورہ تحریم (حرام کر دینا)
۶۷- سورہ ملک (بادشاہی)
۶۸- سورہ قلم (قلم)
۶۹- سورہ حاقہ (حقیقت، قیامت)
۷۰- سورہ معارج (بلندیاں)
۷۱- سورہ نوح (ایک پیغمبر کا نام)
۷۲- سورہ جن ( آگ سے پیدا کردہ ایک مخلوق)
۷۳- سورہ مزمل (چادر لپیٹنے واال)
۷۴- سورہ مدثر (چادر اوڑھنے واال)
۷۵- سورہ قیامت (یقینا قائم ہونے الی، قیامت)
۷۶- سورہ ٔ الدھر(بنی آدم)
۷۷- سورہ ٔمرسالت (ہوائیں)
۷۸- سورہ نبأ (اہم خبر)
۷۹- سورہ نازعات (کھینچنے والیاں، ہوا کی صفت)
۸۰- سورہ عبس (تیوری چڑھانا)
۸۱- سورہ ٔ تکویر (لپیٹنا )
۸۲- سورہ الانفطار( دراڑ)
۸۳- سورہ المطففین (ناپ تول میں کمی)
۸۴-سورہ الانشقاق ( شق ہونا )
۸۵- سورہ البروج ( آسمانی برج )
۸۶- سورہ الطارق ( چمکتا تارا )
۸۷-سورہ الاعلیٰ ( اعلی )
۸۸- سورہ الغاشیہ ( آنے والی آفت )
۸۹- سورہ الفجر ( فجر)
۹۰-سورہ البلد ( شہر)
۹۱-سورہ الشمس ( سورج )
۹۲-سورہ الیلل ( رات)
۹۳ -سورہ الضحیٰ ( دن کو اجالا)
۹۴-سورہ الشرح ( سکون قلب )
۹۵- سورہ التین ( انجیر )
۹۶-سورہ العلق ( جمع ہوا خون )
۹۷-سورہ القدر ( قدر)
۹۸-سورہ البیان ( واضح قسم)
۹۹-سورہ الزلزلہ ( زلزلہ)
۱۰۰-سورہ العادیات ( سر پٹ دوڑنے والے گھوڑے)
۱۰۱-سورہ القارعہ ( کھڑکھڑابے والی)
۱۰۲-سورہ التکاثر ( کثرت کی خواہش )
۱۰۳-سورہ العصر ( دور عصر )
۱۰۴-سورہ الھمزہ ( ریب جوئی والا)
۱۰۵-سورہ الفیل ( ہاتھی)
۱۰۶-سورہ القریش ( قریش )
۱۰۷-سورہ الماعون ( عام استعمال کی چیزیں )
۱۰۸-سورہ الکوثر ( حوض کوثر)
۱۰۹-سورہ الکافرون (کافر)
۱۱۰-سورہ النصر (مدد)
۱۱۱- سورہ لہب( آگ کے شعلے)
۱۱۲-سورہ الاخلاص (وحدانیت)
۱۱۳- سورہ الفلق ( صبح)
۱۱۴-سورہ الناس (انسان،لوگ)

30/01/2020

۔ ┈••❃* ( سُوۡرَۃٌ اِبْرٰهِیْم : ٢۴ تا ٢٦ ) *❃••┈
╭┅🌷 ͜✯͜͡ ۝͜͡ ͜͡ ﷽ ۝͜͡ ✯͜ 🌷┅​╮

*📖 ارشاد باری تعالیٰ ﷻ :*
*اَلَمۡ تَرَ کَیۡفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصۡلُہَا ثَابِتٌ وَّ فَرۡعُہَا فِی السَّمَآءِ ﴿ۙ۲۴﴾ تُؤۡتِیۡۤ اُکُلَہَا کُلَّ حِیۡنٍ ۢ بِاِذۡنِ رَبِّہَا ؕ وَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۲۵﴾ وَ مَثَلُ کَلِمَۃٍ خَبِیۡثَۃٍ کَشَجَرَۃٍ خَبِیۡثَۃِۣ اجۡتُثَّتۡ مِنۡ فَوۡقِ الۡاَرۡضِ مَا لَہَا مِنۡ قَرَارٍ ﴿۲۶﴾*

*📚 ترجمہ :*
*کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کی کیسی مثال بیان کی ہے؟ وہ ایک پاکیزہ درخت کی طرح ہے جس کی جڑ ( زمین میں ) مضبوطی سے جمی ہوئی ہے ، اور اس کی شاخیں آسمان میں ہیں۔ ﴿٦٨﴾ اپنے رب کے حکم سے وہ ہر آن پھل دیتا ہے ۔ اللہ ( اس قسم کی ) مثالیں اس لئے دیتا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔ ﴿٢۵﴾ اور ناپاک کلمے کی مثال ایک خراب درخت کی طرح ہے جسے زمین کے اوپر ہی اوپر سے اکھاڑ لیا جائے ، اس میں ذرا بھی جماؤ نہ ہو ۔ ﴿٢٦﴾*

*✍ تفسیر :*
لا الہ الا اللہ کی شہادت
ابن عباسؓ فرماتے ہیں۔ کلمہ طیبہ سے مراد لا الہ الا اللہ کی شہادت ہے۔ پاکیزہ درخت کی طرح کا مومن ہے اس کی جڑ مضبوط ہے۔ یعنی مومن کے دل میں لا الہ الا اللہ جما ہوا ہے اس کی شاخ آسمان میں ہے۔ یعنی اس توحید کے کلمہ کی وجہ سے اس کے اعمال آسمان کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور بھی بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہیں۔ کہ مراد اس سے مومن کے اعمال ہیں اور اس کے پاک اقوال اور نیک کام۔ مومن مثل کھجور کے درخت کے ہے۔ جس کی جڑیں زمین میں مضبوطی کے ساتھ جمی ہوتی ہیں، اور تیز ہوائیں اور آندھیاں اسے نقصان نہیں پہچا سکتیں، نہ اسے اپنی جگہ سے ہلا سکتی ہیں۔ اسی طرح جب توحید کا کلمہ انسان کے دل ودماغ میں پیوست ہوجاتا ہے تو ایمان کی خاطر اسے کیسی ہی تکلیفوں یا مصیبتوں کا سامناکرنا پڑے اس کے ایمان میں کوئی کمزوری نہیں آتی ؛ چنانچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کو ہر قسم کی اذیتیں دی گئیں ؛ لیکن توحید کا جو کلمہ ان کے دل میں گھر کرچکا تھا اس میں مصائب کی ان آندھیوں سے ذرہ برابر تزلزل نہیں آیا۔ کھجور کے درخت کی دوسری صفت اس آیت میں یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ اسکی شاخیں آسمان کی طرف بلند ہوتی ہیں، اور زمین کی کثافتوں سے دور رہتی ہیں، اسی طرح جب توحید کا کلمہ مومن کے دل میں پیوست ہوجاتا ہے تو اسکے تمام نیک کام جو درحقیقت اسی کلمے کی شاخیں ہیں آسمان کی طرف بلند ہوتے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ تک پہنچ کر اس کی خوشنودی حاصل کرتے ہیں، اور دنیا پرستی کی کثافتوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ اسی طرح ہر وقت ہر صبح ہر شام اس کے اعمال آسمان پر چڑھتے رہتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھجور کا ایک خوشہ لایا گیا۔ تو آپ نے اسی آیت کا پہلا حصہ تلاوت فرمایا اور فرمایا کہ پاک درخت سے مراد کھجور کا درخت ہے۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت عبداللہؓ بن عمرؓ سے منقول ہے کہ ہم آنحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ جو آپ نے فرمایا مجھے بتلاؤ وہ کون سا درخت ہے جو مسلمان کے مشابہ ہے۔ جس کے پتے نہیں جھڑتے نہ جاڑوں میں نہ گرمیوں میں جو اپنا پھل ہر موسم میں لاتا رہتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے دل میں آیا کہ کہہ دوں وہ درخت کھجور کا ہے۔ لیکن میں نے دیکھا کہ مجلس میں حضرت ابوبکرؓ ہیں حضرت عمرؓ ہیں اور وہ خاموش ہیں تو میں بھی چپ کا ہو رہا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ درخت کھجور کا ہے۔ جب یہاں سے اٹھ کر چلے تو میں نے اپنے والد حضرت عمرؓ سے یہ ذکر کیا۔ تو آپ نے فرمایا پیارے بچے اگر تم یہ جواب دے دیتے تو مجھے تو تمام چیزوں کے مل جانے سے بھی زیادہ محبوب تھا۔ حضرت مجاہدؒ کا بیان ہے کہ میں مدینہ شریف تک حضرت ابن عمرؓ کے ساتھ رہا لیکن سوائے ایک حدیث کے اور کوئی روایت انہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کرتے ہوئے نہیں سنا، اس میں ہے کہ یہ سوال آپ نے اس وقت کیا۔ جب آپ کے سامنے کھجور کے درخت کے بیچ کا گودا لایا گیا تھا۔ میں اس لئے خاموش رہا کہ میں اس مجلس میں سب سے کم عمر تھا۔ اور روایت میں ہے کہ جواب دینے والوں کا خیال اس وقت جنگلی درختوں کی طرف چلا گیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ کسی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ حضور مالدار لوگ درجات میں بہت بڑھ گئے۔ آپ نے فرمایا کہ یاد رکھو اگر تمام دنیا کی چیزیں لگ کر انبار لگا دو تو بھی وہ آسمان تک نہیں پہنچ سکتے ہیں۔ تجھے ایسا عمل بتلاؤں جس کی جڑ مضبوط اور جس کی شاخیں آسمان میں ہیں اس نے پوچھا وہ کیا ؟ فرمایا دعا (لا الہ الا اللہ واللہ اکبر و سبحان اللہ والحمد للہ) ہر فرض نماز کے بعد دس بار کہہ لیا کرو جس کی اصل مضبوط اور جس کی فرع آسمان میں ہے۔
ابن عباسؓ فرماتے ہیں وہ پاکیزہ درخت جنت میں ہے۔ ہر وقت اپنا پھل لائے یعنی صبح شام یا ہر ماہ میں یا ہر دو ماہ میں یا ہر ششماہی میں یا ہر ساتویں مہینے یا ہر سال۔ یعنی یہ درخت سدا بہار ہے، اس پر کبھی خزاں طاری نہیں ہوتی، اور وہ ہرحال میں پھل دیتا ہے۔ اگر اس سے مراد کھجور کا درخت ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اُس کا پھل سارا سال کھایا جاتا ہے، نیز جس زمانے میں بظاہر اس پر پھل نہیں ہوتا، اس زمانے میں بھی اُس سے مختلف فائدے حاصل کئے جاتے ہیں۔ کبھی اُس سے نیرا نکال کر پیا جاتا ہے، کبھی اُس کے تنے کا گودا نکال کر کھایا جاتا ہے، اور کبھی اُس کے پتوں سے مختلف چیزیں بنائی جاتی ہیں۔ اِسی طرح جب کوئی شخص توحید کے کلمے پر ایمان لے آتا ہے تو چاہے خوش حال ہو یا تنگدست، عیش وآرام میں ہو یا تکلیفوں میں، ہرحال میں اُس کے اِیمان کی بدولت اُس کے اعمال نامے میں نیکیاں بڑھتی رہتی ہیں اور اس کے نتیجے میں اُس کے ثواب میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے، جو درحقیقت توحید کے کلمے کا پھل ہے۔
الفاظ کا ظاہری مطلب تو یہ ہے کہ مومن کی مثال اس درخت جیسی ہے جس کے پھل ہر وقت جاڑے گرمی میں دن رات میں اترتے رہتے ہیں، اسی طرح مومن کے نیک اعمال دن رات کے ہر وقت چڑھتے رہتے ہیں اس کے رب کے حکم سے یعنی کامل، اچھے، بہت اور عمدہ۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کی عبرت ان کی سوچ سمجھ اور ان کی نصیحت کے لئے مثالیں واضح فرماتا ہے۔
پھر برے کلمہ کی یعنی کافر کی مثال بیان فرمائی۔ ناپاک کلمے سے مراد کفر کا کلمہ ہے، جس کی کوئی اصل نہیں، جو مضبوط نہیں، اس کی مثال اندرائن کے درخت سے دی۔ جسے حنظل اور شریان کہتے ہیں۔
ایسا خراب درخت ہے جس کی کوئی مضبوط جڑ نہ ہو، بلکہ وہ جھاڑ جھنکاڑ کی شکل میں خود اُگ آئے۔ اُس میں جماو بالکل نہیں ہوتا، اس لئے جو شخص چاہے اُسے آسانی سے اُکھاڑ ڈالتا ہے۔
ایک موقوف روایت میں حضرت انس ؓ سے بھی آیا ہے اور یہی روایت مرفوعاً بھی آئی ہے۔ اس درخت کی جڑ زمین کی تہ میں نہیں ہوتی جھٹکا مارا اور اکھڑ آیا۔ اِسی طرح کافرانہ عقیدوں کی کوئی عقلی یا نقلی بنیاد نہیں ہوتی۔ اُن کی تردید آسانی سے کی جا سکتی ہے۔ کفر بےجڑ اور بےشاخ ہے، کافر کا نہ کوئی نیک عمل چڑھے نہ مقبول ہو۔ غالباً اس سے مسلمانوں کو یہ تسلی بھی دی گئی ہے کہ کفر و شرک کے جن عقیدوں نے آج مسلمانوں پر زمین تنگ کی ہوئی ہے، عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب ان کو اس طرح اُکھاڑ پھنکا جائے گا جیسے جھاڑ جھنکاڑ کو اُکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے۔
۔ *وَمَا عَلَيْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ•*
╰┅┈•✿ ͜✯🌹 ͜͡ ۝͜͡ 🌹✯͜ ✿•┄┅​╯​​​
*اَلسَّـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحمَـةُ اللهِ وَبَرَكـَاتُـهُ🌹*
🌹صَبَّاحُ الْخَیْرِ🌹
الّلہ تعالی ہمیں قرآن پاک کو پڑھنے، سمجھنے، غور کرنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین، خوش رہیں، خوشیاں بانٹیں ۔
*🌷اپنی دُعـاؤں میـں یاد رکـھئـے گا🌷*
۔ ؛•‍━━•••◆◉ 💠 ◉◆•••‍━━•؛

30/01/2020

‎ _*🌹بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹​*_

_*​🌺اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه‌💐​*_

_*🌙 04 جمادی الثانی 1441 ھِجْرِی🕌ْ​*_

_*🧾30 جنوری 2020 عِیسَوی*_

_*☀ 17 ماگھ 2076 بِکرمی​*

_*🌍 بروز جمعرات*_ ‎

_*🌹🤝سیدھی راہ پر چلیں چاہے مسافت نہ بھی طے ہو۔۔۔۔۔*_
_*جب اگلے جہاں میں آپ کی آنکھ کھلے گی وہی سیدھی راہ خدا کی قربت کا مقام ہوگی☺*_

_*🤝درودِ پاک پڑھ کر فلسطین، کشمیر، شام ، عراق کے تمام مسلم بہن بھائیوں اور تمام امت مسلمہ کے لیے خصوصی دعا ضرور کیجیے ۔۔ خدائے ذوالجلال ہمارے کشمیر کو اور تمام امت مسلمہ کو دشمن کے شر سے اپنی امان میں رکھے آمین!🤲🏻*_

_*🌻صَبَّاحُ الْخَیْر☕*_

02/01/2020

Assalam o Alikum

13/11/2019

Ap tamaam ahbaab ko dawat e aam di jati h

29/10/2019

_*(مکمل سلامِ رضا)*_

1۔مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام

2۔مِہرِ چرخِ نبوت پہ روشن دُرود
گلِ باغِ رسالت پہ لاکھوں سلام

3۔شہرِ یارِ ارم تاج دارِ حرم
نوبہارِ شفاعت پہ لاکھوں سلام

4۔شبِ اسرا کے دولہا پہ دائم دُرود
نوشۂ بزمِ جنّت پہ لاکھوں سلام

5۔عرش کی زیب و زینت پہ عرشی دُرود
فرش کی طیب و نُزہت پہ لاکھوں سلام

6۔نورِ عینِ لطافت پہ اَلطف دُرود
زیب و زینِ نظافت پہ لاکھوں سلام

7۔سروِ نازِ قِدَم مغزِ رازِ حِکَم
یکّہ تازِ فضیلت پہ لاکھوں سلام

8نقطۂ سِرِّ وحدت پہ یکتا دُرود
مرکزِ دورِ کثرت پہ لاکھوں سلام

9۔صاحبِ رَجعتِ شمس و شقُ القمر
نائبِ دستِ قدرت پہ لاکھوں سلام

10۔جس کے زیرِ لِوا آدم و من سِوا
اس سزائے سیادت پہ لاکھوں سلام

11۔عرش تا فرش ہے جس کے زیرِ نگیں
اُس کی قاہر ریاست پہ لاکھوں سلام

12۔اصل ہر بُود و بہبود تُخمِ وجود
قاسمِ کنزِ نعمت پہ لاکھوں سلام

13۔فتحِ بابِ نبوت پہ بے حد دُرود
ختمِ دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام

14۔شرقِ انوارِ قدرت پہ نوری دُرود
فتقِ اَزہارِ قدرت پہ لاکھوں سلام

15۔بے سہیم و قسیم و عدیل و مثیل
جوہرِ فردِ عزت پہ لاکھوں سلام

16۔سِرِّ غیبِ ہدایت پہ غیبی دُرود
عطر جیبِ نہایت پہ لاکھوں سلام

17۔ماہِ لاہوتِ خَلوت پہ لاکھوں دُرود
شاہِ ناسوتِ جَلوت پہ لاکھوں سلام

18۔کنزِ ہر بے کس و بے نوا پر دُرود
حرزِ ہر رفتہ طاقت پہ لاکھوں سلام

19۔پرتوِ اسمِ ذاتِ اَحد پر دُرود
نُسخۂ جامعیت پہ لاکھوں سلام

20۔مطلعِ ہر سعادت پہ اسعد دُرود
مقطعِ ہر سیادت پہ لاکھوں سلام

21۔خلق کے داد رس سب کے فریاد رس
کہفِ روزِ مصیبت پہ لاکھوں سلام

22۔مجھ سے بے کس کی دولت پہ لاکھوں دُرود
مجھ سے بے بس کی قوت پہ لاکھوں سلام

23۔شمعِ بزمِ دنیٰ ہُوْ میں گم کُن اَنَا
شرحِ متنِ ہُوِ یَّت پہ لاکھوں سلام

24۔انتہائے دوئی ابتدائے یکی
جمع تفریق و کثرت پہ لاکھوں سلام

25۔کثرتِ بعدِ قلّت پہ اکثر دُرود
عزتِ بعدِ ذلّت پہ لاکھوں سلام

26۔ربِّ اعلا کی نعمت پہ اعلا دُرود
حق تعالیٰ کی منّت پہ لاکھوں سلام

27۔ہم غریبوں کے آقا پہ بے حد دُرود
ہم فقیروں کی ثروت پہ لاکھوں سلام

28۔فرحتِ جانِ مومن پہ بے حد دُرود
غیظِ قلبِ ضلالت پہ لاکھوں سلام

29۔سببِ ہر سبب منتہائے طلب
علّتِ جملہ علّت پہ لاکھوں سلام

30۔مصدرِ مظہریت پہ اظہر دُرود
مظہرِ مصدریت پہ لاکھوں سلام

31۔جس کے جلوے سے مرجھائی کلیا ں کھلیں
اُس گلِ پاک مَنبت پہ لاکھوں سلام

32۔قدِّ بے سایہ کے سایۂ مرحمت
ظلِ ممدود رافت پہ لاکھوں سلام

33۔طائرانِ قُدُس جس کی ہیں قُمریاں
اُس سہی سرو قامت پہ لاکھوں سلام

34۔وصف جس کا ہے آئینۂ حق نما
اُس خدا ساز طلعت پہ لاکھوں سلام

35۔جس کے آگے سرِ سروراں خم رہیں
اُس سرِ تاجِ رفعت پہ لاکھوں سلام

36۔وہ کرم کی گھٹا گیسوے مُشک سا
لکّۂ ابرِ رافت پہ لاکھوں سلام

37۔لَیْلَۃُ القدر میں مطلعِ الفجر حق
مانگ کی استقامت پہ لاکھوں سلام

38۔لخت لختِ دلِ ہر جگر چاک سے
شانہ کرنے کی عادت پہ لاکھوں سلام

39۔دُور و نزدیک کے سُننے والے وہ کان
کانِ لعلِ کرامت پہ لاکھوں سلام

40۔چشمۂ مِہر میں موجِ نورِ جلال
اُس رگِ ہاشمیت پہ لاکھوں سلام

41۔جس کے ماتھے شفاعت کا سہرا رہا
اُس جبینِ سعادت پہ لاکھوں سلام

42۔جن کے سجدے کو محرابِ کعبہ جھکی
اُن بھووں کی لطافت پہ لاکھوں سلام

43۔اُن کی آنکھوں پہ وہ سایہ افگن مژہ
ظلۂ قصرِ رحمت پہ لاکھوں سلام

44۔اشک باریِ مژگاں پہ برسے دُرود
سلکِ دُرِّ شفاعت پہ لاکھوں سلام

45۔معنیِ قَدْ رَأیٰ مقصدِ مَاطَغیٰ
نرگسِ باغِ قدرت پہ لاکھوں سلام

46۔جس طرف اٹھ گئی دم میں دم آ گیا
اُس نگاہِ عنایت پہ لاکھوں سلام

47۔نیچی آنکھوں کی شرم و حیا پر دُرود
اونچی بینی کی رفعت پہ لاکھوں سلام

48۔جن کے آگے چراغِ قمر جھلملائے
اُن عِذاروں کی طلعت پہ لاکھوں سلام

49۔اُن کے خد کی سُہُولت پہ بے حد دُرود
اُن کے قد کی رشاقت پہ لاکھوں سلام

50۔جس سے تاریک دل جگمگانے لگے
اُس چمک والی رنگت پہ لاکھوں سلام

51۔چاند سے منہ پہ تاباں درخشاں دُرود
نمک آگیں صباحت پہ لاکھوں سلام

52۔شبنمِ باغِ حق یعنی رُخ کا عَرَق
اُس کی سچی بَراقت پہ لاکھوں سلام

53۔خط کی گردِ دہن وہ دل آرا پھبن
سبزۂ نہرِ رحمت پہ لاکھوں سلام

54۔رِیشِ خوش معتدل مرہمِ رَیش دل
ہالۂ ماہِ نُدرت پہ لاکھوں سلام

55۔پتلی پتلی گلِ قُدس کی پتّیاں
اُن لبوں کی نزاکت پہ لاکھوں سلام

56۔وہ دہن جس کی ہر بات وحیِ خدا
چشمۂ علم و حکمت پہ لاکھوں سلام

57۔جس کے پانی سے شاداب جان و جناں
اُس دہن کی طراوت پہ لاکھوں سلام

58۔جس سے کھاری کنویں شیرۂ جاں بنے
اُس زُلالِ حلاوت پہ لاکھوں سلام

59۔وہ زباں جس کو سب کُن کی کنجی کہیں
اُس کی نافذ حکومت پہ لاکھوں سلام

60۔اُس کی پیاری فصاحت پہ بے حد دُرود
اُس کی دل کش بلاغت پہ لاکھوں سلام

61۔اُس کی باتوں کی لذّت پہ بے حد دُرود
اُس کے خطبے کی ہیبت پہ لاکھوں سلام

62۔وہ دُعا جس کا جوبن قبولِ بہار
اُس نسیمِ اجابت پہ لاکھوں سلام

63۔جن کے گچھّے سے لچھّے جھڑیں نور کے
اُن ستاروں کی نُزہت پہ لاکھوں سلام

64۔جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑیں
اُس تبسم کی عادت پہ لاکھوں سلام

65۔جس میں نہریں ہیں شیٖر شکر کی رواں
اُس گلے کی نضارت پہ لاکھوں سلام

66۔دوش بردوش ہے جن سے شانِ شَرَف
ایسے شانوں کی شوکت پہ لاکھوں سلام

67۔حَجَرِ اسودِ کعبۂ جان و دل
یعنی مُہرِ نبوت پہ لاکھوں سلام

68۔روئے آئینۂ علم پُشتِ حضور
پُشتیِ قصرِ ملّت پہ لاکھوں سلام

69۔ہاتھ جس سمت اُٹھّا غنی کر دیا
موجِ بحرِ سماحت پہ لاکھوں سلام

70۔جس کو بارِ دو عالم کی پروا نہیں
ایسے بازو کی قوّت پہ لاکھوں سلام

71۔کعبۂ دین و ایماں کے دونوں ستوں
ساعدینِ رسالت پہ لاکھوں سلام

72۔جس کے ہر خط میں ہے موجِ نورِ کرم
اُس کفِ بحرِ ہمّت پہ لاکھوں سلام

73۔نُور کے چشمے لہرائیں دریا بہیں
انگلیوں کی کرامت پہ لاکھوں سلام

74۔عیدِ مشکل کُشائی کے چمکے ہِلال
ناخنوں کی بشارت پہ لاکھوں سلام

75۔رفعِ ذکرِ جلالت پہ اَرفع دُرود
شرحِ صدرِ صدارت پہ لاکھوں سلام

76۔دل سمجھ سے ورا ہے مگر یوں کہوں
غنچۂ رازِ وحدت پہ لاکھوں سلام

77۔کُل جہاں مِلک اور جَو کی روٹی غذا
اُس شکم کی قناعت پہ لاکھوں سلام

78۔جو کہ عزمِ شفاعت پہ کھنچ کر بندھی
اُس کمر کی حمایت پہ لاکھوں سلام

79۔انبیا تَہ کریں زانُو اُن کے حضور
زانُوؤں کی وجاہت پہ لاکھوں سلام

80۔ساق اصلِ قدم شاخِ نخلِ کرم
شمعِ راہِ اِصابت پہ لاکھوں سلام

81۔کھائی قرآں نے خاکِ گزر کی قسم
اُس کفِ پا کی حُرمت پہ لاکھوں سلام

82۔جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
اُس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام

83۔پہلے سجدے پہ روزِ ازل سے دُرود
یادگاریِ اُمّت پہ لاکھوں سلام

84۔زرع شاداب و ہر ضرع پُر شیٖر سے
برَکاتِ رضاعت پہ لاکھوں سلام

85۔بھائیوں کے لیے ترکِ پِستاں کریں
دودھ پیتوں کی نِصفَت پہ لاکھوں سلام

86۔مہدِ والا کی قسمت پہ صدہا دُرود
بُرجِ ماہِ رسالت پہ لاکھوں سلام

87۔اللہ اللہ وہ بچپنے کی پھبَن!
اُس خدا بھاتی صورت پہ لاکھوں سلام

88۔اُٹھتے بوٹوں کی نشوونَما پر دُرود
کھِلتے غنچوں کی نکہت پہ لاکھوں سلام

89۔فضلِ پیدایشی پر ہمیشہ دُرود
کھیلنے سے کراہت پہ لاکھوں سلام

90۔اعتلائے جبلّت پہ عالی دُرود
اعتدالِ طَوِیّت پہ لاکھوں سلام

91۔بے بناوٹ ادا پر ہزاروں دُرود
بے تکلف ملاحت پہ لاکھوں سلام

92۔بھینی بھینی مہک پر مہکتی دُرود
پیاری پیاری نفاست پہ لاکھوں سلام

93۔میٹھی میٹھی عبارت پہ شیریں دُرود
اچھی اچھی اِشارت پہ لاکھوں سلام

94۔سیدھی سیدھی رَوِش پر کروروں دُرود
سادی سادی طبیعَت پہ لاکھوں سلام

95۔روزِ گرم و شبِ تیرہ و تار میں
کوہ و صحرا کی خَلوت پہ لاکھوں سلام

96۔جس کے گھیرے میں ہیں انبیا و مَلک
اس جہاں گیر بعثت پہ لاکھوں سلام

97۔ادھے شیشے جھلاجھل دمکنے لگے
جلوہ ریزیِ دعوت پہ لاکھوں سلام

98۔لطفِ بیداریِ شب پہ بے حد دُرود
عالمِ خوابِ راحت پہ لاکھوں سلام

99۔خندۂ صبحِ عشرت پہ نُوری دُرود
گِریۂ ابرِ رحمت پہ لاکھوں سلام

100۔نرمیِ خوئے لینت پہ دائم دُرود
گرمیِ شانِ سطوت پہ لاکھوں سلام

101۔جس کے آگے کھنچی گردنیں جھک گئیں
اُس خداداد شوکت پہ لاکھوں سلام

102۔کس کو دیکھا یہ موسیٰ سے پوچھے کوئی
آنکھوں والوں کی ہمّت پہ لاکھوں سلام

103۔گردِ مہ دستِ انجم میں رَخشاں ہِلال
بدر کی دفعِ ظلمت پہ لاکھوں سلام

104۔شورِ تکبیر سے تھرتھراتی زمیں
جنبشِ جیشِ نصرت پہ لاکھوں سلام

105۔نعرہائے دلیراں سے بَن گونجتے
غُرّشِ کوسِ جرأت پہ لاکھوں سلام

106۔وہ چقاچاق خنجر سے آتی صدا
مصطفی تیری صَولت پہ لاکھوں سلام

107۔اُن کے آگے وہ حمزہ کی جاں بازیاں
شیرِ غُرّانِ سطوت پہ لاکھوں سلام

108۔الغرض اُن کے ہر موٗ پہ لاکھوں دُرود
اُن کی ہر خُو و خصلت پہ لاکھوں سلام

109۔اُن کے ہر نام و نسبت پہ نامی دُرود
اُن کے ہر وقت و حالت پہ لاکھوں سلام

110۔اُن کے مولا کی اُن پر کروروں دُرود
اُن کے اصحاب و عترت پہ لاکھوں سلام

111۔پارہائے صُحف غنچہ ہائے قُدُس
اہلِ بیتِ نبوت پہ لاکھوں سلام

112۔آبِ تطہیر سے جس میں پودے جمے
اُس ریاضِ نجابت پہ لاکھوں سلام

113۔خونِ خیرُالرُّسل سے ہے جن کا خمیر
اُن کی بے لوث طینت پہ لاکھوں سلام

114۔اُس بتولِ جگر پارۂ مصطفی
حجلہ آرائے عِفّت پہ لاکھوں سلام

115۔جس کا آنچل نہ دیکھا مہ و مِہر نے
اُس رِدائے نَزاہت پہ لاکھوں سلام

116۔سیّدہ زاہرہ طیّبہ طاہرہ
جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

117۔حَسَنِ مجتبیٰ سیّدُ الاسخیا
راکبِ دوشِ عزت پہ لاکھوں سلام

118۔اَوجِ مِہرِ ہُدیٰ موجِ بحرِ نَدیٰ
رَوحِ رُوحِ سخاوت پہ لاکھوں سلام

119۔شہد خوارِ لُعابِ زبانِ نبی
چاشنی گیرِ عصمت پہ لاکھوں سلام

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

30 Yasmeen Park Idarah Misbah Ul Quran Kot Lakh Pat
Lahore