Bloody Minded

Bloody Minded

Share

Bloody Minded

17/06/2018

سب سے برق رفتار سپر کمپیوٹرSummit
امریکی کی اوک ریج لیبارٹریز نے نیا سپر کمپیوٹر تیار کیا ہے جو جلد ہی دنیا کا سب سے تیز رفتار سپر کمپیوٹر ہونے کا اعزاز حاصل کر لے گا۔ اس کمپیوٹر میں این ویڈیا کے 27 ہزار جی پی یوز کا استعمال کیا گیا ہے۔

17/06/2018

کلاشنکوف (AK 47) جس کو روسی جنرل میخائل کلاشنکوف نے ڈیزائن کیا تھا۔ 1949 میں روسی افواج کو اس آٹومیٹک رائفل سے لیس کیا گیا۔ بعد ازاں یہ دنیا کے بہت سے ممالک کی افواج کو بیچی گئی۔
کم خرچ مگر مہلک ہونے کی وجہ سے یہ باغی تنظیموں اور دہشت گردوں کا بھی سب سے ذیادہ پسندیدہ ہتھیار ہے۔

17/06/2018

ایف 22 ریپٹر۔۔۔
پانچویں نسل کا لڑاکا طیارہ ہے۔ یہ طیارہ زمین سے فضا اور فضا سے فضا میں لڑائی کرنے کے ساتھ دشمن کی سرحدوں میں اندر گھس کر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مزید جو خوبیاں ایف 22 کو ممتاز کرتی ہیں وہ اس کی سپر سانک(super sonic) پرواز کی صلاحیت سب سے خطرناک اور متاثر کن اسٹیلتھ (Stealth) خوبی ہےیعنی یہ راڈار پر نظرآئے بغیر ہی حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہیں بے پایاں صلاحیتوں کی وجہ سے امریکی حکومت نے ان طیاروں کی برآمد پر پابندی عائد کی تھی۔
#اسحلہ #ٹیکنالوجی

16/06/2018

چینی لیپ ٹاپ بانے والی کمپنی لینوو ایک نیا لیپ ٹاپ متعارف کرا رہی ہے جس میں 128 جی بی ریم اور 6 ٹیرا بائٹ میموری کی اسپورٹ موجود ہے۔ فی الحال اس لیپ ٹاپ کے 8/16/32 جی بی ریم کے ساتھ مارکیٹ میں اگلے ماہ سے متعارف کرایا جائے گا۔

#ٹیکنالوجی

11/06/2018

نقلی ایس ایم ایس کا سیلاب اور حساس پاکستانی معاشرہ اضطراب کا شکار
تحریر : مہوش اقبال
۔
جدید ٹیکنالوجی نے جہاں انسانوں کےلیے بے شمار فوائد آشکار کیے ہیں تو وہیں اس سے نابلد افراد اور معاشرے نہ صرف اسکے ثمرات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے بلکہ اسکے غیر متوازن اور منفی اثرات سے خود کو بچا بھی نہیں پاتے۔
۔
پاکستانی معاشرہ نہ صرف ایک حساس معاشرہ ہے بلکہ یہ کافی حد تک جدید ٹیکنالوجی سے انجان معاشرہ بھی ہے۔ انہی کمزوریوں کو نشانہ بناکر کچھ افراد اور گروہ آئے روز نہ صرف پاکستانیوں کی جان و مال اور عزتوں سے کھیل جاتے ہیں بلکہ انہیں دھونس دھمکیوں سے ڈرا کر بلیک میل بھی کرتے رہتے ہیں۔ کچھ چالاک افراد تو ان معمولی ٹرکس اور ایپس apps سے نہ صرف قومی اداروں کو دھوکا دے جاتے ہیں بلکہ ان سے کبھی کبھار پیسے بھی بٹورتے رہتے ہیں۔
۔
انہی ٹرکس میں سے خطرناک ٹرکس پلے اسٹور میں موجود وہ ایپس apps ہیں جنہیں کوئی بچہ بھی ڈاٶن لوڈ اور انسٹال کرکے سینکڑوں ہزاروں افراد کو آسانی سے الو بنا سکتا ہے۔
۔
ان ایپس میں سے سب سے خطرناک وہ ایپس apps ہیں جو انسٹال ہونے کے بعد کسی کمپنی، سرکاری ادارے بلکہ کسی فرد کے پرسنل نمبر سے نقلی sms جنریٹ کرکے موبائل کے inbox میں بھیج دیتے ہیں جنہیں بعد میں کوئی بھی شخص اصلی گردان کر ہزاروں افراد کو با آسانی یقین دلا سکتا ہے کیونکہ وہ نقلی میسجز بالکل اصلی میسجز کی طرح inbox میں شو ہوتے ہیں اور مشاہدہ کرنے والوں کو %100 ایسا لگتا ہے کہ جیسے واقعی کسی اصلی نمبر سے ایک اصلی sms آیا ہوا ہے حالانکہ وہ بالکل نقلی ہوتا ہے۔
۔
پاکستان میں کئی غلیظ افراد اس طرح کے ایپس کے استعمال سے لڑکیوں کو بلیک میل کرتے ہیں اور انہیں ڈراتے دھمکاتے ہیں لہذا عوام اور والدین میں اس سلسلے میں شعور اور آگہی کی سخت ضرورت ہے بصورت دیگر دشمنی اور رنجشوں کے چکر میں کئی افراد اس طرح کے ایپس کی بھینٹ چڑھ سکتے ہیں۔
اپنی اولاد اور اپنی تربیت پر ہمیشہ ٹرسٹ کریں۔ غیروں کے بچھائے جال میں مت آئیں اور کبھی کسی دوسرے فرد کے inbox کے sms کو حقیقی مت مانیں کیونکہ یہ اس موبائل پر انسٹال شدہ کسی app کا شعبدہ بھی ہوسکتا ہے۔

09/06/2018

دنیا کا سب سے چھوٹا انجن بنالیا گیا
کراچی: نینو مشین کا تصور کئی عشرے قبل پیش کیا گیا تھا، اس سے مراد ایسی مشین ہےجس کی جسامت ایک یا چند ایٹموں کی جسامت کے برابر ہوتی ہے۔

نینو مشین کو انسان کے نظامِ دوران خون سے منسلک کرکے سرطان جیسی مہلک بیماریوں کے علاج کا تصور بھی پیش کیا جاچکا ہے۔ نینوٹیکنالوجی کی دریافت اور اس کے ارتقا کے بعد سائنس داں نینو مشینوں کے تصور کو حقیقت میں بدلنے کی جانب پیش رفت کررہے ہیں۔

اس ضمن میں انھوں نے خردبینی نینو انجن کی ایجاد کی صورت میں بہت اہم کام یابی حاصل کی ہے۔ یہ کارنامہ برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے انجام دیا ہے۔ ان کا ڈیزائن کردہ نینو انجن کتنا چھوٹا ہے؟َ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر ایک میٹر کے کئی کھرب حصے کرلیے جائیں تو پھر ایک حصہ نینوانجن کی لمبائی کے مساوی ہوگا۔
انجن کی معیاری تعریف کے مطابق یہ ایک ایسی مشین ہوتی ہے جو توانائی کی کسی بھی شکل کو میکانی توانائی میں تبدیل کردیتی ہے۔ دنیا کا یہ سب سے چھوٹا انجن روشنی سے توانائی حاصل کرتے ہوئے مطلوبہ نتائج دے سکتا ہے۔ اس کی جسامت کسی انسانی خلیے سے بھی کہیں کم ہے، چناں چہ اسے خلیے میں داخل کر کے بھی مطلوبہ کام لیا جاسکتا ہے۔

مختصر ترین اور سادہ سی یہ ڈیوائس سونے کے باردار ذرات پر مشتمل ہے جنھیں ایک رال یا پولیمر جیل کے ذریعے باہم جوڑا گیا ہے۔ سائنس دانوں نے اس مشین کو actuating nano-transducers ( ANTs) کا نام دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ڈیوائس موجودہ انجنوں یا عضلاتی خلیوں کے مقابلے میں اکائی وزن کی نسبت سو گنا زیادہ قوت فراہم کرسکتی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق جب اس انجن کو لیزر کی مدد سے گرم کیا جائے تو پولیمر جیل پھیلتا ہے اور پانی خارج کرنے کے بعد سُکڑ جاتا ہے۔ پھیلنے اور سُکڑنے کے اس عمل کی وجہ سے طلائی نینوذرات گچھے کے شکل میں جُڑے رہتے ہیں۔ لیزر لائٹ سے دور کرنے پر انجن فوراً ٹھنڈا پڑجاتا ہے، اور پانی بھی اس میں ازسر نو جذب ہوجاتا ہے۔ اس حالت میں سونے کے ذرات پھیلتے ہیں اور توانائی خارج کرتے ہیں جسے کام میں لایا جاسکتا ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی سے وابستہ سائنس داں اور نینو انجن کے تخلیق کاروں میں شامل ڈاکٹر وینسسلا والیف کہتے ہیں کہ ہمیں یہ معلوم ہے روشنی پانی کو گرم کرسکتی ہے، اب ہم اسے نینواسکیل کی سطح پر ایک پسٹن انجن کو چلانے کے لیے کام میں لاسکتے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ نینو انجن کی ایجاد میں کام یابی نینومشینوں اور روبوٹوں کے برسوں پرانے تصور کو حقیقت میں بدل سکتی ہے، اور یہ مشینیں سائنسی کہانیوں اور سائنس فکشن فلموں سے نکل کر مادّی روپ اختیار کرسکتی ہیں۔ نینو انجن کے موجدین کا دعویٰ ہے کہ یہ مشین کم لاگت سے تیار ہوسکتی ہے اور اس میں توانائی کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔

نینوانجن کے استعمال کے حوالے سے ڈاکٹر وینسسلا والیف اور ان کے دیگر ساتھی کہتے ہیں کہ یہ انجن نینومشینوں کی بنیاد بن سکتا ہے جو ایک زندہ جسم کے اندر آبی ماحول میں حرکت پذیر ہوں، اور اپنے اطراف کا جائزہ لے سکیں اور معلومات اکٹھی کرسکیں۔

بہ الفاظ دیگر نینوانجن ان مشینوں کا حصہ بن سکتا ہے جو انسانی رگوں اور خلیات کے اندر داخل ہوکر مختلف بیماریوں کا سبب بننے والے جراثیم اور ان سے متأثرہ خلیوں کو ختم کرنے کا کام انجام کرسکتی ہوں۔ ان مشینوں کی تیاری سرطان جیسے مہلک امراض سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں انقلاب برپا کرسکتی ہیں۔

09/06/2018

*ہماری جاسوسی کیسے کی جاتی ہے؟*

کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ جب آپ gmailمیں اپنی ای میل (email)پڑھ رہے ہوتے ہیں تو سایئڈ بار (sidebar)میں چلنے والے اشتہار آپکی ای میل میں موجود مواد(content) کے مطابق ہی کیوں ہوتے ہیں۔ کیونکے آپکی ساری ای میلز خودساختہ سافٹ وئر سے سکین اور محفوظ بھی ہو رہی ہوتیں ہیں۔

یا پھر کبھی غور کیجئے گاآپکو کبھی کسی ایسے دوست کی فون کال یا ایس ایم ایس آئے جو آپکے پاس فیس بک پر ایڈ نہیں ہے تو آپ کچھ دن بعد ہی فیس بک پر اُسکو ریکمنڈڈ فرینڈ لیسٹ (recommended friend list)میں دیکھیں گے۔ کیونکہ فیس بک آپ کے موبائل پر ہونے والی تمام کالز،ایس ایم ایس کو پروسیس کر رہا ہوتا ہے۔

کیا کبھی آپ نے سوچا کہ واٹس ایپ اور اس طرح کی باقی ایڈ فری ایپس فری کیوں ہوتی ہیں؟ کیا انکو بنانے میں ، چلائے رکھنے میں لاکھوں ڈالر کی ضرورت نہیں ہوتی اور وہ کہاں سے آتے ہیں؟

یقینا ڈونرز دیتے ہیں مگر انکے مقاصد کیا ہوتے ہیں؟

شاید آپکو یہ بھی معلوم ہو کہ ایپل اور گوگل کو دنیا کے ہروائی فائی (wifi)کا پاس ورڈ معلوم ہے ، ان دونوں کے پاس دنیا میں موجود ہر موبائل کی call logs, contact list, sms history, location history, image gallery غرض کہ جو کچھ بھی آپکے موبائل میں موجود ہے وہ انکی پہنچ میں ہے۔

جب بھی ہم کوئی ایپ انسٹال کرتے ہیں تو وہ بھی ہمارا دیٹا مختلف سرورز کو بھیج رہی ہوتی ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ۳۵ فیصد ایپس دیٹا چوری کرتیں ہیں، ایک مثال فلیش لایٹ (flash light)ایپ کی ہے جس کا مقصد اندھیرے میں موبایل کو ٹارچ بنانا ہے مگر یہ آپکی کانٹکیٹ لسٹ(contact list) کو چوری کرتی ہے۔ یہاں پر بیسیوں مثالیں دی جا سکتی ہیں۔

دنیا میں ہر روز ۱۸ وائرس یا ٹروجن بنائے جاتے ہیں جو میرے اور آپکے لیے ہی ہوتے ہیں۔ جن کا کام آپکے ڈیجیٹل ڈیٹا تک رسائی ہے۔

انٹرنیٹ پر موجود ہر شخص کی ڈیجیٹل پروفائلنگ (digital profiling)ہو رہی ہوتی ہے آپ جو کچھ بھی سرچ کرتے ہیں جو کچھ بھی براوز کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر جو کچھ شئر کرتے ہیں ، جوکچھ لائک کرتے ہیں اسکی بنیاد پر سافٹ ویر خودساختہ طور پر آپکو معمولی سے انتہائی خطرات کے درجات میں رکھتا ہے اور ایک ڈیٹا بیس میں مسلسل ریکارڈ کیا جاتا ہے ۔ آپ جب بھی بین اقوامی سفر کرتے ہیں تب بھی اسی سنٹرل ڈیٹا بیس میں آپکے سفر کی معلومات کا اندراج ہو جاتا ہے ، ہمارے کریڈٹ کارڈز اور بینک اکاونٹ تک کی تفصیلات بھی اس میں محفوظ کر لی جاتی ہیں۔
آپکی شخصیت ، آپکی سوچ، آپکے خیالات، آپکے پیسوں کے لین دین کو مسلسل اس ڈیٹا بیس میں رکھا جاتا ہے ۔ جب بھی کسی شخص کے بارے میں معلومات کی ضرورت ہوتی ہے تو اس ڈیٹا بیس سے ایک کلک سے حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ سافٹ ویر آپکے جذبات کے اتارچڑھاو کا حساب رکھتے ہوے مستقبل میں آپکے بارے میں پیشن گوئی بھی کرسکتا ہے۔

*کون؟*
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ کرتا کون ہے گوگل، فیس بک اور بہت ساری ایسی سروسز کی مالی، اخلاقی اور تیکنیکی مدد کون کرتا ہے؟ انکو مختلف قسم کے پروجیکٹ اور ٹارگٹ کون دیتا ہے

طوالت سے بچنے کے لیے یہاں صرف پانچ آنکھیں اتحاد (five eyes alliance) کا ذکر کیا جا رہا ہے جو دنیا میں ہونے والی کم و بیش تمام ڈیجٹل جاسوسی کا منبہ ہیں

۱؎ امریکہ کی نیشنل سیکورٹی ایجنسی(NSA)

۲؎ برطانیہ کی گورنمنٹ کمیونیکشن ہیڈکوارٹرز (GSHQ) ایڈورڈ سنوڈن نے انکے بارے میں انکشاف کیا تھا کہ اس ایجنسی کوپاکستان میں ہونے والی کروڑں فون کالز تک رسائی ہے اور یہ ریکارڈ بھی کرتی ہے۔

۳؎ کینیڈا کی کمیونیکشن سیکورٹی اسٹبلشمنٹ (CSEC)

۴؎ آسٹریلیا کی سگنلز دائریکٹوریٹ(ASD)

۵؎ نیوزی لینڈ کی گورنمنٹ کمیونیکشن سیکورٹی بیورو (GCSB)

اور سب سے اہم بات ان سب کی جاسوسی اسرائیلی موساد کرتی ہے۔

ابھی اس کو پھیلا کر وسیع اتحاد بنانے کی تیاریاں ہو رہیں ہیں، اسکے علاوہ انکی آلہ کار سینکڑوں این جی اوز، ٹیکنالوجی فرمیں اور مختلف فرموں میں موجود ، اس عالمی نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔

27/04/2018

وہ حسینا جسکی مدد سے وائی فائی، بلیو ٹوتھ اور جی پی ایس جیسی ایجادات ممکن ہوسکیں
آجکل ہم میں سے ہر کوئی وائی فائی کنیکشن لگوانے کی خواہش رکھتا ہے یا پھر ہمسائیوں کا وائی فائی پاسورڈ چرانے کی، تاکہ وہ انٹرنیٹ ایک بہترین سپیڈ اور ڈیٹا لمٹ کے بغیر اور محفوظ ہوکر چلا سکے اسکے علاوہ وہ بلیوٹوتھ کے ذریعے فائل شئرنگ کرنا بھی پسند کرتا ہے اور جی پی ایس کیساتھ نیویگیشن کرکے منزل پہ پہنچنا چاہتا ہے مگر اس سب کے دوران وہ یہ سب جاننابھول جاتا ہے کہ ان تمام عظیم ایجادات و سہولیات کے منظرعام پر آنے میں کس کس موجد کا بنیادی کردار تھا
گو ان سب کو ایجاد کرنے میں مدد دینے والے خوبرو چہرے کو یو ایس نیوی نے اتنا کریڈٹ لینے نہیں دیا پھر بھی آج دنیا کو پتا چل گیا ہے کہ Wifi,GPS اور Bluetooth کی ایجادات میں اپنے وقت کی ایک حسینہ ہیڈی لیمر کا بنیادی حصہ شامل ہے گو یہ حسینہ اپنی ہالی وڈ بلاک بسٹر فلموں اور اپنی متنازعہ لائف اسٹوریز جن میں چھ شادیاں اور طلاقیں تھی کی وجہ سے خبروں میں اِن رہی مگر حال ہی میں اسکی زندگی پر بنی ڈاکومینٹری 'بومب شیل' بتاتی ہے کہ وہ فقط ایک خوبرو حسینہ ہی نہیں تھی بلکہ ایک بڑے دماغ کی مالک موجد بھی تھی
بقول جسکے 'لوگ اپنی Looks سے نہیں نہیں اپنے دماغ سے خوبصورت ہوتے ہیں'
جیسا کہ آپکو معلوم ہوگا کہ پہلے وقتوں میں وائرلیس ڈیوائسز کی کمیونیکیشن اتنی محفوظ نا ہوا کرتی مگر ہیڈی کا شکریہ ادا کیجۓ جس نے Frequency Hopping کے عمل پہ چلنے والی اپنی ایک خفیہ ڈیوائس بنائی جو کہ ریڈیو کنٹرول میزائیلوں کو دشمن کو پتا چلاۓ بغیر Secure communication کرکے ٹارگٹ تک پہنچانے میں مدد کرتی تھی،ہیڈی نے یہ ڈیوائس اپنے دوست موجد جارج اینتھل(جوکہ تیز ترین طیارے بنانے کا اعزاز رکھتا ہے اور بقول جارج ہیڈی ایک جنئیس تھی) کیساتھ ملکر ایجاد کی اور پھر یہ یوایس نیوی کو دوسری جنگ عظیم میں استعمال کے واسطے عطیہ کر دی تھی مگر یو ایس نیوی نے ہیڈی کو اس ڈیوائس کے دینے پر اسکا شکریہ ادا کرنے اور کریڈٹ دینے کی بجاۓ اسکو چپ رہنے اور جنگ کے دوران سپاہیوں کا مورال بڑھانے واسطے دورے کرنے کا حکم دیا اور سپاہیوں کو فری کسسز دینے کا کہا،
(گو بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ یہ ہیڈی کی اپنی ایجاد نہیں بلکہ اس نے اسکی ڈایا گرام اپنے سابقہ شوہر جوکہ آسٹریلین اسلحہ ڈیلر تھا کے آفس سے چرائی تھیں مگر پھر بھی انکے پاس کوئی واضح ثبوت نہیں)
فریکونسی ہوپنگ (جوکہ آگے بڑھ کر GPS,Wifi اور Bluetooth کی ایجاد کا محرک بنا) کے Phenomenon کے علاوہ ہیڈی نے ٹریفک سگنل لآئٹس کا بہتر ڈیزائن بھی تجویز کیا اور ایسی گولی بھی بنائی جو کہ سوڈا میں مکس ہوسکتی تھی(یہ ایک ناکام تجربہ گنا جاتا ہے)
گو اسکی زندگی میں دنیا اسکی ان خفیہ ایجادات کو نہیں جان سکی مگر اب دنیا اسکی لائف بائیوگرافی کی مدد سے جان جاۓ گی کہ وہ فقط ایک خوبرو حسینہ ہی نہیں تھی بلکہ وہ ایک عظیم موجد بھی تھی جس نے دنیا کی اس بات کوغلط ثابت کردیا کہ 'خوبصورت عورت ذہین نہیں ہوسکتی' بقول ہیڈی
’ایجادات میرے لیے بہت آسان ہیں ان پر مجھے کام نہیں کرنا پڑتا بلکہ یہ میرے ذہن میں خوبخود آجاتیں ہیں‘
تحریر ضیغم قدیر

25/12/2017
21/11/2017

گوگل کا کروم براؤزر اس وقت دنیا کے مقبول ترین انٹرنیٹ براؤزرز میں سے ایک ہے لیکن نئے فائر فوکس براؤزر نے اپنی حیرت انگیز رفتار اور بہترین کارکردگی سے نا صرف انٹرنیٹ صارفین کو حیران کر دیا ہے بلکہ گوگل کے کروم براؤزر کیلئے بھی ایک بڑا چیلنج کھڑا کردیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق نیا ’فائر فوکس کوانٹم‘ براؤزر گوگل کے کروم براؤزر سے 30فیصد تیز ہے جبکہ سست رفتار نیٹ ورکس استعمال کرنے والوں کے لئے بھی یہ ایک بڑی خوشخبری ہے کیونکہ ان نیٹ ورکس پر بھی اس کی رفتار عام براؤز کی نسبت تقریباً دو گنا زیادہ ہے۔

اگرچہ فائر فوکس براؤزر پہلے بھی کافی مقبول تھا لیکن گزشتہ چھ سال کی تحقیق اور پھر ڈیڑھ سال کے انجینئرنگ ورک کے بعد فائر فوکس میں اب تک کی سب سے بڑی تبدیلیاں کی جاچکی ہیں۔ اب اس کا تازہ ترین ورژن ’فائر فوکس کوانٹم‘ میدان میں آچکا ہے جو کہ گوگل کروم سے 30 فیصد زیادہ تیز ہے۔فائر فوکس کوانٹم کو گزشتہ رات ہی لانچ کیا گیا ہے ۔ اس کا کور انجن کلی طور پر نئے سرے سے بنایا گیا ہے جو اس کی تیز رفتاری کا بنیادی ترین عنصر ہے۔اس میں ایڈوانسڈ بک مارکنگ فیچر ’پاکٹ‘ بھی شامل ہے جبکہ کلاؤڈ سنکنگ ایپ، سکرین شاٹ ٹول، تازہ ترین نیو ٹیب لک اور درجنوں دیگر نئے فیچر شامل ہیں۔

چونکہ فائر فوکس اوپن سورس پراجیکٹ ہے لہٰذا دنیا بھر سے 80 سے زائد افراد نے اس کے یوزر انٹرفیس کو ڈیزائن کرنے میں حصہ لیا ہے جبکہ اس کی کوڈنگ میں دنیا بھر سے 700 سے زائد ماہرین نے حصہ ڈالا ہے۔ یہ پرسنل کمپیوٹر سے لے کر لینکس، میک، ایڈرائیڈ اور iOS تک ہر ڈیوائس کے لئے دستیاب ہے۔

اگر آپ معلوماتی اور مزاحیہ تحاریر پڑھنے کے شوقین ہیں تو میری پروفائل وزٹ کریں. اگر id پسند ائے تو follow کا بٹن پریس کریں اور see first کریں.سب پوسٹ آپ کو ملتی گی

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Din Colony College Road
Lahore
53000