الحمدللہ رب العالمین
My Student got World Distinction
Syed Rayan Jafri
Aitchison College
N E I S S Pakistan
It is an Islamic School system along with latest modern education.
We are promoting an educational institution in which we are trying to introduce and develop a now educational system which will hold the true Islamic teachings about maximum aspects of daily life and about all the fields as well as to provide the latest and most modern education according to the world wide systems.
ہم مجرم ہیں۔۔۔
ہم سب قومی مجرم ہیں
یقین کیجیے ہم سب سے بڑے مجرم ہیں
خصوصاً ہم اساتذہ تو انتہائی درجے کے مجرم ہیں
اگر کل ۱۱ ستمبر کو ہمارے بچے ہمارا مستقبل کرکٹ میچ کو لے کر اداس تھے اور ان کی یادداشت کے نہاں خانوں میں بھی کہیں یوم وفات قائد کاشائبہ نا تھا۔۔۔
تو مان لیجئے
تسلیم کر لیجیے کہ ہم کلیتاً ناکام ہو گئے ہیں
اپنی اگلی نسل کو اپنا گزرا ہوا کل بتانے میں
اپنی تاریخ ان تک منتقل کرنے میں
اپنی تڑپ کی حب الوطنی کی شمع سے ان کے دل کی لو کو جلانے میں
اپنے ورثے کا اثاثہ آگے بڑھانے میں ہم صد فی صد ناکام ہو چلے ہیں
اور اگر ایسا ہے
(بدقسمتی سے) جو کہ ہے۔۔۔ تو کم از کم یہ تسلیم کر لیں کہ ہم سیاست دانوں، دانشوروں ، سپاہیوں اور نوکرشاہی کے کرتادھرتاؤں سے بڑے مجرم ہیں۔ بس اب سزا کا انتظار کیجیے جو کہ بس آیا ہی چاہتی ہے
جان لیجیے،جان لیجیے۔۔۔
ہم سے ہمارے قرب و جوار میں موجود بے کسوں لاچاروں اور مجبوروں کے بارے میں سوال ہوگا
جس کی بیٹی گھرسےسکول کےلئےنکلےاورواپس مسخ شدہ لاش آئے۔جس کےہاتھ میں گوشت کےٹکڑے موجودہونےپراس کے اپنے ٹکڑےکردیےجائیں۔جس کوداخلہ محض اس لئےناملےکہ وہ “ملیچھ مسلہ”ہے۔جس کومحلےسمیت زندہ جلادیاجائے۔جومحض سانس کاحق لینےکےلئےمذہب نام سب کچھ بدلنے پر مجبور ہوجائے۔۔۔ اس سے پوچھ لینا کیا ہے آزادی!!!
شکر کرنا سیکھو!
پاکستان پائندہ باد
10/01/2017
01/03/2016
والدین ہمیشہ بچوں کا تحفظ کرتے ہیں۔۔۔
مختلف اقوام کے لوگ اپنی اپنی روایت کے مطابق بچوں کے نام رکھتے ہیں۔ چین ہی کو دیکھ لیجئے وہاں غالباً بچے کی پیدائش کے وقت بچے کے سرہانے پڑی ہوئی کوئی چیز نیچے پھینک دی جاتی ہے، اس کے گرنے سے جو آواز پیدا ہوتی ہے وہی بچے کا نام رکھ دیا جاتا ہے۔ مثلاً….اگر چمچ گرے تو "چھن چھنگ" اور اگر گلاس گرے تو۔ "پانگ ٹنگ"….خدانخواستہ اگر یہی طریقہ ہمارے ہاں بھی رائج ہوجائے تو کیا ہوگا۔ ہمارے ہاں تو بچے کے سرہانے چیزیں ہی بڑی عجیب رکھی ہوئی ہوتی ہیں۔ مثلاً لوہے کا ٹکڑا….کہ بچہ ڈر نہ جائے….چاولوں کی تھیلی….کہ بچے کا سر صحیح بنے….خدا گواہ ہے کہ اگر ان چیزوں میں سے کوئی چیز نیچے گرائی جائے تو بچے کا نام رکھنا پڑے گا…."چوہدری دھم ٹھک۔"
آج کل ہمارے ہاں بلکہ پوری دنیا میں اسلامی لوگ بچوں کا نام اسامہ رکھ رہے ہیں۔ میرے ایک دوست نے بھی اپنے نومولود کا نام اسامہ رکھا، عقیدت کی انتہا دیکھئے کہ بنا غور کیے ساتھ "بن لادن" بھی لگایا ہوا ہے۔ میں نے کہا۔ جناب آپ کا نام تو سرفراز ہے تو پھر آپ کا بچہ "بن لادن" کیسے ہوگیا۔ انہوں نے خوفزدہ ہوتے ہوئے فوراً بچے کا نام کردیا۔ "اسامہ بن لادن بن سرفراز"۔ میرا ایک دوست کہتا ہے کہ نام میں کیا رکھا ہے۔ میں نے کہا اگر نام میں کچھ نہیں رکھا تو تم گدھا کہنے پر مائنڈ کیوں کرتے ہو!
جناب قارئین جی! شادی کے بعد عورت اپنے نام کے بعد اپنے مرد کا نام لگاتی ہے خود ہی سوچئے کہ اگر عورت کا نام اور مرد کا نام ایک دوسرے کی ضد ہوں تو عورت کا نام کتنا برا لگے گا۔ مثلاً….مہہ جبین دتہ….شہلا ڈوایا….فریحہ بوٹا….یا یوں کہہ لیجئے کہ مسز دتہ، مسز ڈوایا، اور مسز بوٹا….لہذا نام فوراً بدل لیجئے۔ اس سے پہلے کہ دلہن سے پوچھا جائے کہ "مسمات گل بدن، ولد تن بدن، تمہیں حق مہر شرعی بتیس روپے کے عوض موجودگی چار گواہان مسمی بھلا مانس ولد بن مانس قبول ہے۔۔۔!" اور دلہن کی چیخ نکل جائے۔
نام کے حوالے سے مجھے اپنے نام کے بڑے فائدے ہیں، یونیورسٹی میں، میرے داخلہ فارم پر اکثر لڑکیوں والی کھڑکی میں بھی قابلٍ قبول سمجھے جاتے تھے۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ چند سال قبل مجھے روالپنڈی کے ایک شوقین مزاج کا خط موصول ہوا۔ موصوف نے میری کچھ تحریریں پڑھ رکھی تھیں۔ لیکن غالباً میری جنس سے ناواقف تھے۔ لہذا اپنے پہلے خط میں صرف میری اور میری تحریر کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے اور آخر میں سوال پوچھا کہ "کیا ہماری دوستی ہوسکتی ہے۔"
چونکہ ان کے خط میں کہیں بھی یہ ظاہر نہیں ہورہا تھا کہ انہوں نے مجھے صنفٍ نازک سمجھ کر خط لکھا ہے لہذا میں نے بھی سادہ سا جواب تحریر کردیا کہ "کیوں نہیں۔" پھر ان کے خطوط کا تانتا بندھ گیا میری طرف سے جواب میں تاخیر ہوئی تو ایک خط میں لکھا۔۔۔۔"تم نخرے بہت کرتی ہو۔" میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ میں نے فوراً اس وقت ایک تصویر انہیں ارسال کی جب میں "داڑھی شدہ" ہوتا تھا۔ جواب ارجنٹ میل سے آیا۔ لکھا تھا۔۔۔"صوفی، تیرا ککھ نہ رہے، میں نے تو ماں کو بھی راضی کرلیا تھا۔"۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
از گل نوخیز اختر
1987 ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﺑﺪﺣﻮﺍﺱ ﺗﮭﺎ
ﺟﺘﻨﺎﮨﺮﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔ﺑﺎﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﺳﻮ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ
ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﻮﻥ ﺍﯾﻠﯿﺎ ﻧﮯ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﯾﺎ " ﺟﺎﻧﯽ ﺭﯾﺌﺲ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺳﮯ
ﭘﻮﭼﮫ ،ﺍﻥ ﮐﮯ ﻗﺒﻀﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺎﺕ ﮨﯿﮟ " ﺭﯾﺌﺲ ﺍﻣﺮﻭﮨﻮﯼ ﻓﮑﺮ ﺳﺨﻦ ﻣﯿﮟ
ﻣﺤﻮ ﺗﮭﮯ۔ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﮯ ﺑﻮﻟﮯ " ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﺳﺐ ﮐﺮﺩﮮ ﮔﺎ۔۔ﻻﻟﻮ ﮐﮭﯿﺖ ﺳﭙﺮ
ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ " ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﺤﺮ ﺧﯿﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻏﻮﻃﮧ ﺯﻥ۔۔۔۔ﺑﮍﯼ
ﺣﯿﺮﺍﻧﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﺐ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺭﺍﮦ ﭼﻠﺘﮯﭘﮩﻠﮯﮨﯽ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺗﮏ
ﭘﮩﻨﭽﺎﺩﯾﺎ۔ﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﮯ ﺁﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﻧﺌﮯ ﺑﺎﻭﺭﭼﯿﻮﮞ ﮐﻮ
ﮈﺍﻧﭧ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ۔ﺍﻭﭘﺮ ﻟﭩﮭﮯ ﮐﯽ ﻭﺍﺳﮑﭧ ﻧﯿﭽﮯ ﭼﺎﺭﺧﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻟﻨﮕﯽ۔ﺳﺘﺮ
ﮐﮯ ﭘﯿﭩﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺑﺪﻥ ﺳﺮ ﺳﯿﺪ ﺧﺎﻥ ﻭﺍﻟﯽ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﻮﻧﺠﺘﯽ
ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺁﻭﺍﺯ۔ﻭﮨﯿﮟ ﭘﭩﯽ ﭘﺮ ﭨﮏ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﻣﺪﻋﺎ ﮐﯽ۔ﺭﯾﺌﺲ
ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮰ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺯﮦ ﻗﻄﻌﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﮯ
ﺑﻮﻟﮯ " ﮔﺮﻡ ﻣﺴﺎﻟﮧ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ﺁﺝ۔۔ﮐﮩﮧ ﺩﯾﻨﺎ ۔۔ﺧﯿﺮﻣﯿﺎﮞ۔۔۔ﮐﯿﺎ ﮐﮭﻼﻭﮔﮯ
ﺑﺎﺭﺍﺗﯿﻮﮞ ﮐﻮ۔ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﮐﺎ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻧﻔﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼﻧﮯ ﻟﮕﮯ "ﮔﺎﺟﺮ ﮐﺎ ﺣﻠﻮﺍ
ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﺎ " ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺍﻧﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺳﺐ ﺑﻨﺎﺭﮨﮯﮨﯿﮟ۔ﺧﻔﮕﯽ
ﺳﮯ ﺑﻮﻟﮯ " ﻣﯿﺎﮞ ﺳﺐ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔۔۔۔۔۔ﻧﺌﯽ ﮔﺎﺟﺮ ﮨﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻭﺍﻟﯽ۔۔
ﮐﮭﻮﮰ ﮐﯽ ﻣﺎﺭ ﺩﻭ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺫﺍﺋﻘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ۔ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺗﻮ ﺟﻮ
ﺭﮐﮭﻮﮔﮯ ﮐﮭﺎﻟﯿﮟ ﮔﮯ۔ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﺧﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﻣﻞ ﺟﺎﮰﯾﮧ ﮨﻤﯿﮟ
ﻣﻨﻈﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ " ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ۔ﺩﯾﮕﺮ ﺍﻣﻮﺭ ﻃﮯ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ
ﭼﻠﺘﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺑﯿﭩﮭﺎ " ﻣﯿﮟ ﺭﯾﺌﺲ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﭘﺮ ﺁ ﮔﯿﺎ۔ ﭘﺘﺎ
ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯿﺴﺎ ﭘﮑﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ " ۔ ﻧﺎﮔﻮﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺁﺛﺎﺭﺳﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ
ﺑﺎﺕ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﺮﯼ ﻟﮕﯽ۔۔۔ﺍﻭﺭ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﻟﮕﺘﯽ۔۔ﮐﻮﺋﯽ ﻣﮩﺪﯼ ﺣﺴﻦ ﺧﺎﻥ ﺳﮯ
ﮐﮩﺘﺎ ﮐﮧ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﺗﻮ ﻣﻞ ﺟﺎﮰ ﮔﺎ ﻣﮕﺮ ﭘﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮔﺎﺗﮯ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﯿﮟ۔۔ﺗﻮ
ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ۔ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﻧﮯ ﺭﯾﺌﺲ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺎ
ﻟﺤﺎﻅ ﮐﯿﺎ۔
ﺗﻘﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻗﺒﻞ ﺭﺍﺕ ﺑﺎﺭﮦ ﺑﺠﮯ ﮐﺎﻝ ﺑﯿﻞ ﭘﺮﻧﮑﻞ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ
ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﺧﻮﺍﻥ ﭘﻮﺵ ﺳﮯ ﮈﮬﮑﺎ ﺗﮭﺎﻝ ﻟﯿﺌﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩ۔۔ﮐﺴﯽ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﺳﮯ
ﻟﻮﭨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ۔ﺑﻮﻟﮯ " ﻟﻮ ﻣﯿﺎﮞ۔ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮨﻢ ﮐﯿﺴﺎ ﭘﮑﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ " ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺯﻭﮐﯽ ﻣﯿﮟ
ﺑﯿﭩﮫ ﯾﮧ ﺟﺎ ﻭﮦ ﺟﺎ۔۔ﯾﮧ ﮐﮩﻨﺎ ﻋﺒﺚ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻓﻨﮑﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺳﻨﺪ
ﺗﮭﺎ
ﺑﺎﺭﺍﺕ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻗﺒﻞ ﻃﻠﺐ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ " ﻣﯿﺎﮞ ﺑﻨﮍﮮ ﮐﯽ ﺩﯾﮓ ﮐﺎ
ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ " ۔ﻣﯿﮟ ﺳﭩﭙﭩﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ " ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ " ۔ ﻭﮦ ﮨﻨﺴﮯ
ﺍﻭﺭﺑﻮﻟﮯ " ﻣﯿﺎﮞ ﺩﻟﮩﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺟﺎﮰ ﮔﺎ۔۔ﺧﯿﺮﮐﺮ ﻟﯿﮟ
ﮔﮯﮨﻢ "
ﺗﻘﺮﯾﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮔﻮﭨﮯ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﻭﺍﻟﮯ ﺧﻮﺍﻥ ﭘﻮﺷﻮﮞ
ﺳﮯ ﮈﮬﮑﯽ ﺩﻭ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺩﯾﮕﯿﮟ ﺍﻟﮓ ﻻﮰ۔۔ ۔ﺧﻮﺩ ﺳﻨﮩﺮﮮ ﻃﺮﮮ ﻭﺍﻟﯽ
ﭘﮕﮍﯼ ﺍﻭﺭ ﺷﯿﺮﻭﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻋﺼﺎ ﺗﮭﺎﻣﮯ ﮐﺮﺳﯽ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺷﺎﮔﺮﺩﻭﮞ ﮐﻮ
ﮈﺍﻧﭧ ﮈﭘﭧ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺨﺸﺎ۔
ﺟﮩﺎﮞ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻓﺎﺭﻍ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮈﺍﻧﭧ ﻟﮕﺎﺗﮯ " ﻣﯿﺎﮞ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮨﻮ؟ ﺁﭖ ﮐﯽ
ﺑﮩﻦ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﺍﺕ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﺰﺑﺎﻥ ﮨﻮ ﺗﻢ۔۔ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻮﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ۔ﮐﺴﯽ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ
ﮐﭽﮫ ﮐﻢ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ "
ﺭﺧﺼﺘﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮﻭﮦ ﻏﺎﺋﺐ۔۔ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ۔۔ﮐﯿﺴﮯ ﭼﻠﮯ
ﮔﺌﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﻐﯿﺮ؟ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺍﺳﺒﺎﺏ ﺳﻤﯿﺖ ﺟﺎ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔ﺍﮔﻠﮯ
ﺩﻥ ﻭﻟﯿﻤﮧ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﭼﻮﺗﮭﯽ ﮐﯽ ﺭﺳﻢ۔۔ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﺩﻥ ﻓﺮﺻﺖ ﻣﻠﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ
ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮔﯿﺎ۔ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﮈﺍﻟﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﻣﻠﮯ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ
ﮔﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺳﺎﺭﺍ ﮐﺎﻡ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ۔ ﺧﺮﺍﺑﯽ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﯽ ﮐﮧ
ﭘﯿﺴﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﻐﯿﺮﭼﻠﮯ ﺁﮰ " ۔ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍﮰ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ " ﻣﯿﺎﮞ۔ﻟﮍﮐﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ
ﺳﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﮯﮨﻢ ﻧﮯ۔ﺍﻟﻠﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﮐﯿﺴﺎ ﻭﻗﺖ ﮨﻮ،
ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﺁﺳﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔ﻧﺼﯿﺐ ﮐﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺧﻮﺩﮨﯽ ﺩﮮ
ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ﺟﯿﺴﮯ ﺗﻢ ﺧﻮﺩ ﺁﮔﺌﮯ ﮨﻮ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺮﺗﮯ ﺩﻡ ﺗﮏ ﻧﮧ ﺁﺗﺎ "
ﻣﯿﮟ ﺩﻡ ﺑﺨﻮﺩ ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﮐﻮ،ﺍﺱ ﺑﺎﻭﺭﭼﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻃﺮﮦ
ﺩﺳﺘﺎﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞ ﯾﻘﯿﻦ ﻭﺿﻌﺪﺍﺭﯼ ﻓﺮﺍﺧﺪﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﮐﻞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ
ﻧﻈﺮﻣﯿﮟ ﻣﺎﻭﻧﭧ ﺍﯾﻮﺭﺳﭧ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﻧﭽﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔۔ ﯾﮧ ﺑﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ
ﺭﻭﭘﮯﮐﯽ ﺭﻗﻢ ﺗﮭﯽ۔ ﺁﺝ ﺳﮯ ﺳﺘﺎﺋﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮯ ﺑﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﺁﺝ ﮐﮯ ﮐﻢ
ﺳﮯ ﮐﻢ ﺑﮭﯽ ﺩﻭ ﻻﮐﮫ ﺗﻮ ﺗﮭﮯ ﺷﺎﯾﺪ۔ ﺟﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﻭ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ
ﭼﮭﻮﮌﺩﯾﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻧﺼﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﻧﮕﮯ ﺗﻮ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ
ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺮﻧﮯ ﺗﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﺭﮨﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻓﻮﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﮐﺎ
ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﯿﺰﺑﺎﻥ ﮨﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﮨﯿﮟ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﺏ ﯾﮧ ﻓﻘﺮﮦ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭼﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ
ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ
ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍﮰ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ " ﻣﯿﺎﮞ۔ﻟﮍﮐﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ
ﻣﺎﻧﮕﮯﮨﻢ ﻧﮯ۔ﺍﻟﻠﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﮐﯿﺴﺎ ﻭﻗﺖ ﮨﻮ، ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﺁﺳﺎﻥ
ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔ﻧﺼﯿﺐ ﮐﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺧﻮﺩﮨﯽ ﺩﮮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ﺟﯿﺴﮯ ﺗﻢ
ﺧﻮﺩ ﺁﮔﺌﮯ ﮨﻮ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺮﺗﮯ ﺩﻡ ﺗﮏ ﻧﮧ ﺁﺗﺎ "
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﮈﮬﻮﻧﮉﻭ ﮔﮯ ﮔﺮ ﻣﻠﮑﻮﮞ ﻣﻠﮑﻮﮞ ، ﻣﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﻧﮩﯿﮟ ، ﻧﺎﯾﺎﺏ ﮨﯿﮟ ﮨﻢ
ماخوز
احمد
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Lahore
54600