BaBa HaSaa

BaBa HaSaa

Share

like this page for best poetry collection. like this page and injoy beautiful ,funny posts and videos ��

30/06/2024

Guess this Movie name?. today i upload this movie

07/12/2022

یہ ایک حقیقی واقعے کی تصویر ہے۔۔۔ اس لیے ہر انسان لازمی پڑھے
وہ خود ایک اعلیٰ عہدے پر فائز سرکاری ملازم تھا
اس کے تین بیٹے تھے ، تینوں سونے کا چمچ منہ میں لیے پیدا ہوئے اور شاہانہ زندگی گزرتی رہی
وقت تیزی سے گزرا
اور اس کے نام کے ساتھ (ریٹائرڈ ) لگ گیا‏عہدے کی مدت ختم ہوئی
ریٹائرڈ ہو گئے اور اب زندگی کا سفر انتہاء کی طرف چل پڑا۔۔۔۔
بیٹوں نے باپ کے عہدے سے خوب لطف اٹھایا..
کہتے تھے ہمیں کیا فکر ہے
ہمارا باپ 22 گریڈ کا افسر ہے
ہمارے کام خود بخود بنیں گے
اور بنتے بھی رہے.ایک ٹیلی فون کال پر سب کچھ قدموں میں حاضر ہو جاتا تھا‏پھر وہ دن آ گیا ۔۔۔۔۔
جب بیٹے یہ بھول گئے کہ یہ وہی باپ ہے
جس کے نام و عہدے کی وجہ سے لوگ ہمیں سر سر کہتے تھے
باپ کسی بیماری کی وجہ سے چلنے پھرنے اور بولنے سے معذور ہو گیا
بیٹے کہنے لگے اب تو باپ کی کمزوری دیکھی نہیں جاتی
ایک بیٹے نے کہا کہ ابا کی جائیداد و مال کی تقسیمکرتے ہیں
نہ جانے کب مر جائے
اب تو شرم آتی ہے بتاتے ہوئے کہ
لوگ کیا کہیں گے
جب دوست آتے ہیں
تو سامنے یہ بوڑھا پڑا ہوتا ہے
چلو ایک نوکر مستقل ان کے ساتھ رہنے کے لیے رکھ لیتے ہیں جو ان کا خیال رکھے. بیس ہزار ماہانہ دے دیں گےنوکر آ گیا اور اسی گھر کے ایک کمرے میں باپ کو فرش پر گدا لگا دیا گیا
نوکر کو کہا کہ اسکا پورا خیال رکھنا
ہمیں کوئی شکایت نہ ملے
بیٹوں کی شادیاں ہوئیں
ایک نے گرمی کی چھٹیاں گزارنے فرانس کا پروگرام بنایا
اور دوسرے نے لندن
اور تیسرے نے پیرس کااور ہر جگہ اپنا تعارف 22 گریڈ کے افسر کے بیٹے ہونے سے شروع کرتے
نوکر کو تاکید کی کہ ہماری 3 ماہ بعد واپسی ہوگی
تم بابا کا پورا خیال رکھنا اور وقت پر کھانا دینا
جی اچھا صاحب جی!
سب چلے گئے وہ باپ اکیلا گھر کے کمرے میں لیٹا سانس لیتا رہا
نہ چل سکتا تھا
نہ خود سے کچھ مانگ سکتانوکر گھر کو تالا لگا کر بازار سے بریڈ لینے گیا تو اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا لوگوں نے اسے ہاسپٹل پہنچایا
اور وہ قومے سے ہوش میں نہ آ سکا
بیٹوں نے نوکر کو صرف باپ کے کمرے کی چابی دے کر باقی سارے گھر کو تالے لگا کر چابیاں ساتھ لے گئے تھے
ملازم اس کمرے کو تالا لگا کر چابی ساتھ لےکر گیا تھا کہ ابھی واپس آ جاؤں گا
اب بوڑھا ریٹائرڈ سرکاری افسر کمرے میں لاک ہو چکا تھا.
اور وہ چل پھر نہیں سکتا تھا
کسی کو آواز نہیں دے سکتا تھا
لہذا
تین ماہ بعد جب بیٹے واپس آئے اور تالا توڑ کر کمرہ کھولا گیا
تو لاش کی حالت وہ ہو چکی تھی جو تصویر میں دکھائی دے رہی ہےمحترم خواتین و حضرات
عبرت کا مقام ہے یہ واقعہ
ہم کس طرح اپنی اولاد کے لئے حلال و حرام کی پرواہ کئے بغیر ان کا مستقبل سنوارنے کے لئے تن من دھن کھپاتے ہیں
اور زیادہ سے زیادہ دولت جائیدادیں بنا کر ان کا مستقبل محفوظ کرنے کی کوشش کرتے ہیں
اور سوچتے ہیں کہ یہ اولاد کل بڑھاپے میںمیری خدمت کرے گی. اعلیٰ ترین غیر ملکی سکولوں میں دنیاوی تعلیم دلواتے ہیں
اور دین اسلام کی تعلیم
دلوانے کو توہین سمجھتے ہیں جس میں سکھایا جاتا ہے کہ والدین کی خدمت میں عظمت ہے
ہر انسان جو بوتا ہے اسی کا ہی پھل پاتا ہےہمیں بھی سوچنے سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنی اولاد کو کیا تعلیم دلوا رہے ہیں
کہیں ہمارا حال بھی ایسا تو نہیں ہونے والا
سوچئے۔
اللہ تعالی رحم فرمایے۔ ٓامینcopied and pasted just for some learning

17/11/2022

*🪴دو تصویر دو تفکر۔🪴*

*🌿ایک عورت اپنے وجود کو دکھانا چاہتی ہے اور ایک چھپانا چاہتی ہے۔*

*🌿ایک اپنی معمولی چیزوں پر غرور کا شکار ہے دوسری سب کچھ ہونے کے باوجود تواضع سے پیش آرہی ہے۔*

*🌿ایک، لوگوں کی توجہ کا طلبگار ہے دوسری خدا کی خوشنودی کا طالب ہے۔*

*🌿ایک ،دنیا کی رعنائیوں کے دوکھے میں آئی ہے اور دوسری آخرت کے حصول کی فکر میں ہے۔*🌹................... التماس دعا

05/10/2022

وہ سکاٹ لینڈ کا ایک غریب کسان تھا. کھیتوں کی طرف جاتے اس نے چیخنے کی آواز سنی. آواز کی سمت جا کر دیکھا کہ ایک بچہ دلدل کے ایک جوہڑ میں ڈوب رہا ہے. دلدل میں آپ جتنا زیادہ نکلنے کی کوشش کرتے ہیں. زیادہ تیزی سے ڈوبتے ہیں. کسان نے اسے تسلی دی پرسکون کیا اور درخت کی ایک شاخ توڑ کر بچے سے کہا یہ پکڑ لو. میں تمہیں کھینچ لیتا ہوں. کچھ دیر بعد بچہ باہر تھا. کسان نے اسے کہا کہ چلو میرے گھر تمہارے کپڑے صاف کرا دیتا ہوں. لیکن بچے نے کہا میرے والد پریشان ہوں گے اور دوڑ لگا دی.
اگلی صبح ایک شاندار بگھی کسان کے گھر کے سامنے کھڑی ہوئی. ایک رعب دار شخصیت بگھی سے نکلی اور کسان کا شکریہ ادا کرنے کہ بعد کہا میں آپ کو کیا صلہ دوں کیونکہ آپ نے میرے بیٹے کی جان بچائے. غریب کسان نے کہا شکریہ جناب لیکن میری جگہ کوئی بھی ہوتا تو یہی کرتا. مجھے کسی صلے کی طلب نہیں. بہت اصرار کے بعد بھی جب کسان نے کچھ قبول نہ کیا تو جاتے جاتے اس رئیس کی نظر کسان کے بیٹے پر پڑھی. پوچھا کیا یہ آپکا بیٹا ہے.؟؟ کسان نے محبت سے بیٹے کا سر سہلاتے کہا جی جناب یہ میرا بیٹآ ہے.
رئیس نے کہا ایک کام کرتے ہیں. میں اسے اپنے ساتھ لندن لے جاتا ہوں. اسے پڑھاتا ہوں. بیٹے کی محبت میں اس پیشکش پر کسان راضی ہوگیا. اسکا بیٹا لندن چلا گیا. پڑھنے لگا اور اتنا پڑھا کہ آج دنیا اسے الیگزینڈر فلیمنگ کے نام سے جانتی ہے. وہ فلیمنگ جس نے پنسلین ایجاد کی. وہ پنسلین جس نے کروڑوں لوگوں کی زندگی بچائی. وہ رئیس جس کے بیٹے کو کسان نے دلدل سے نکالا تھا. وہی بیٹا جنگ عظیم سے پہلے ایک بار پھر ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا. اور اسی فلیمنگ کی پنسلین سے اس کی زندگی بچائی گئی. وہ رئیس روڈولف چرچل تھے. اور انکا بیٹا ونسٹن چرچل تھا. وہ چرچل جو جنگ عظیم میں برطانیہ کا وزیر اعظم تھا. اور جس نے کہا تھا.
بھلائی کا کام کریں کیونکہ بھلائی پلٹ کر آپ کے پاس ہی آتی ہے.😊🌺

04/10/2022


ایک عورت پیر صاحب کے پاس گئی اور کہا کہ۔
پیر صاحب مجھے کوئی ایسا ۔تعویذ دیں ۔کہ
میرا شوہر میری ہر بات مانے جو بھی میں کہوں وہ میرے تابع ہو جائے
پیر صاحب بھی دور اندیش انسان تھے انھوں نے اس عورت کی بات غور سے سنی اور کہا کہ۔
یہ عمل تو شیر کی گردن کے بال پر ہو گا۔
اور وہ بال بھی آپ خود شیر کی گردن سے اکھاڑ کر لائیں گیں تب اثر ہوگا*
ورنہ کوئی فائدہ نہ ہوگا
وہ عورت بہت پریشان ہو گئی اور مایوس ہو کر واپس آ گئی اور اپنی سہیلیوں کو بتایا
ایک سہیلی نے مشورہ دیا کہ کام تو مشکل ہے مگر ناممکن نہیں۔
تم ایسا کرو کہ ۔روزانہ پانچ کلو گوشت لے کر جنگل جایا کرو اور جہاں شیر آتا ہے وہاں ڈال کر چھپ جاؤ
کچھ عرصہ بعد شیر کے سامنے جا کر ڈالو وہ گوشت کا عادی ہو جائے گا۔
تم اس کے قریب جا کر گوشت ڈالنا شروع کر دینا اور اس کی گردن پر پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کر دینا اور جب شیر تم سے مانوس ہو جائے تو گردن سے بال اکھیڑ لینا۔
اس عورت کو بات پسند آئی
دوسرے دن ہی اس نے گوشت لیا اور جنگل گئی اور گوشت ڈال کے چھپ گئی، شیر آیا گوشت کھایا اور چلا گیا۔
اس عورت نے ایک ماہ تک ایسا ہی کیا۔
ایک ماہ بعد اس نے شیر کے سامنے جا کر گوشت ڈالنا شروع کر دیا تاکہ شیر کو پتہ چل سکے کہ اس کی خدمت کون کرتا ہے۔
کچھ عرصہ بعد شیر بھی عورت سے مانوس ہو گیا تھا، عورت نے شیر کی گردن پر آہستہ آہستہ پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا.
ایک دن عورت نے موقع دیکھ شیر کی گردن سے بال اکھیڑا۔
اور خوشی خوشی پیر صاحب کے پاس پہنچ گئی
بال پیر صاحب کو دیا اور کہا کہ۔
میں شیر کی گردن سے بال اکھیڑ کر لے آئی ہوں اب آپ عمل شروع کریں۔
*پیر صاحب نے پوچھا۔
کیسے لائی ہو ۔
تو عورت نے پوری تفصیل بتا دی۔
پیر صاحب مسکرائے اور کہا کہ کیا تمہارا شوہر اس جنگلی درندے سے بھی زیادہ خطرناک ہے جو کہ خونخوار ہوتا ہے۔
جس کی تم نے ۔چند دن خدمت کی اور وہ تم سے اتنا مانوس ہو گیا کہ تم نے اس کی گردن سے بال اکھیڑ لیا اور اس نے تمہیں کچھ بھی نہیں کہا
تمہارے شوہر کے ساتھ بھی پیٹ لگا ہوا ہے تم اس کی خدمت کرو جب جنگلی درندہ خدمت سے اتنا مانوس ہو سکتا ہے تو ایک باشعور انسان بھی آپ کے تابع ہو سکتا ہے...

16/05/2022

بہن کی شادی کو 6 سال ہو گئے ہیں
میں کبھی اس کے گھر نہیں گیا عید شب رات کبھی بھی ابو یا امی جاتے ہیں
میری بیوی ایک دن مجھے کہنے لگی
آپ کی بہن جب بھی آتی ہے
اس کے بچے گھر کا حال بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں
خرچ ڈبل ہو جاتا ہے
اور تمہاری ماں
ہم۔سے چھپ چھپا کر کبھی اس کو صابن کی پیٹی دیتی ہے کبھی کپڑے کبھی صرف کے ڈبے
اور کبھی کبھی تو چاول کا تھیلا بھر دیتی ہے
اپنی ماں کو بولو یہ ہمارا گھر ہے کوئی خیرات سینٹر نہیں

مجھے بہت غصہ آیا میں مشکل سے خرچ پورا کر رہا ہوں اور ماں سب کچھ بہن کو دے دیتی ہے
بہن ایک دن گھر آئی ہوئی تھی اس کے بیٹے نے ٹی وی کا ریموٹ توڑ دیا
میں ماں سے غصے میں کہہ رہا تھا
ماں بہن کو بولو یہاں عید پہ آیا کرے بس
اور یہ جو آپ صابن صرف اور چاول کا تھیلا بھر کر دیتی ہیں نا اس کو بند کریں سب
ماں چپ رہی
لیکن بہن نے ساری باتیں سن لی تھیں میری
بہن کچھ نہ بولی

4 بج رہے تھے اپنے بچوں کو تیار کیا اور کہنے لگی بھائی مجھے بس سٹاپ تک چھوڑ او
میں نے جھوٹے منہ کہا رہ لیتی کچھ دن
لیکن وہ مسکرائی نہیں بھائی بچوں کی چھٹیاں ختم ہونے والی ہیں

پھر جب ہم دونوں بھائیوں میں زمین کا بٹوارا ہو رہا تھا تو
میں نے صاف انکار کیا بھائی میں اپنی زمیں سے بہن کو حصہ نہیں دوں گا
بہن سامنے بیٹھی تھی
وہ خاموش تھی کچھ نہ بولی ماں نے کہا بیٹی کا بھی حق بنتا ہے لیکن میں نے گالی دے کر کہا کچھ بھی ہو جائے میں بہن کو حصہ نہیں دوں گا
میری بیوی بھی بہن کو برا بھلا کہنے لگی
وہ بیچاری خاموش تھی

بڑابھای علدہ ہوگیا کچھ وقت کے بعد
میرے بڑے بیٹے کو ٹی بی ہو گئی
میرے پاس اس کا علاج کروانے کے پیسے نہیں تھا
بہت پریشان تھا میں
قرض بھی لے لیا تھا لاکھ روپیہ

بھوک سر پہ تھی
میں بہت پریشان تھا کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا شاید رو رہا تھا حالات پہ
اس وقت وہی بہن گھر آگئی
میں نے غصے سے بولا اب یہ آ گئی ہے منحوس
میں نے بیوی کو کہا کچھ تیار کرو بہن کےلیے
بیوی میرے پاس آئی
کوئی ضرورت نہیں گوشت یا بریانی پکانے کی اس کے لیئے

پھر ایک گھنٹے بعد وہ میرے پاس آئی
بھائی پریشان ہو
بہن نے میرے سر پہ ہاتھ پھیرا بڑی بہن ہوں تمہاری
گود میں کھیلتے رہے ہو
اب دیکھو مجھ سے بھی بڑے لگتے ہو
پھر میرے قریب ہوئی
اپنے پرس سے سونے کے کنگن نکالے میرے ہاتھ میں رکھے
آہستہ سے بولی
پاگل توں اویں پریشان ہوتا ہے
بچے سکول تھے میں سوچا دوڑتے دوڑتے بھائی سے مل آؤں۔
یہ کنگن بیچ کر اپنا خرچہ کر
بیٹے کا علاج کروا
شکل تو دیکھ ذرا کیا حالت بنا رکھی تم۔نے
میں خاموش تھا بہن کی طرف دیکھے جا رہا تھا
وہ آہستہ سے بولی کسی کو نہ بتانا کنگن کے بارے میں تم۔کو میری قسم ہے
میرے ماتھے پہ بوسہ کیا اور ایک ہزار روپیہ مجھے دیا جو سو پچاس کے نوٹ تھے

شاید اس کی جمع پونجی تھی
میری جیب میں ڈال۔کر بولی بچوں کو گوشت لا دینا
پریشان نہ ہوا کر

جلدی سے اپنا ہاتھ میرے سر پہ رکھا دیکھ اس نے بال سفید ہو گئے

وہ جلدی سے جانے لگی
اس کے پیروں کی طرف میں دیکھا ٹوٹی ہوئی جوتی پہنی تھی
پرانا سا دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا جب بھی آتی تھی وہی دوپٹہ اوڑھ کر آتی

بہن کی اس محبت میں مر گیا تھا
ہم بھائی کتنے مطلب پرست ہوتے ہیں بہنوں کو پل بھر میں بیگانہ کر دیتے ہیں اور بہنیں
بھائیوں کا ذرا سا دکھ برداشت نہیں کر سکتیں
وہ ہاتھ میں کنگن پکڑے زور زور سے رو رہا تھا

اس کے ساتھ میری آنکھیں بھی نم تھیں
اپنے گھر میں خدا جانے کتنے دکھ سہہ رہی ہوتی ہیں
کچھ لمحے بہنوں کے پاس بیٹھ کر حال پوچھ لیا کریں
شاید کے ان کے چہرے پہ کچھ لمحوں کے لیئے ایک سکون آ جائے، ،،،

بہنیں ماں کا روپ ہوتی ہیں
اللّٰہ پاک آپکی اور میری بہنوں کی زندگی لمبی کرے ہر آزمائش اور مصیبت سے محفوظ فرمائے اور دلی سکون نصیب فرمائے آمین❤️❤️😢😢

15/03/2022

Amazing post .

05/02/2022

آج قبرستان دعا کرنے گیا تو یہ کیک ایک قبر کے پاس دیکھا جس پر لکھا تھا شادی کی سالگرہ مبارک ہو میری بیوی عنایہ۔ پتہ کرنے پر پتہ چلا ان کی بیوی شادی کے دو سال بعد فوت ہوگئی تھی

تب سے ان کا خاوند ہمیشہ سالگرہ ہو یا شادی کا دن بیوی کی قبر پر کیک لیکر آتا ہے اور دیوانہ وار روتا رہتا ہے اور بہت بار بے ہوش ہونے پر لوگ اس کو اٹھا کر اس کے گھر چھوڑ کر آتے ہیں ۔۔

ایسے محبت کرنے والے لوگ کم پائے جاتے ہیں۔😓

19/12/2021

ایک عورت نے ہمسائیوں کے دروازے پر دستک دی اور ان سے نمک مانگ لیا، اسکا بیٹا یہ منظر دیکھ رہا تھا کہنے لگا "امی جی! ابھی کل ہی تو میں نمک بازار سے لے آیا تھا پھر یہ ہمسائیوں سے مانگنے کی کیا ضرورت تھی؟"
ماں جی کہنے لگی، "بیٹا! ہمارے ہمسائے غریب ہیں وہ وقتاً فوقتاً ہم سے کچھ نہ کچھ مانگتے رہتے ہیں مجھے معلوم ہے کہ ہمارے کچن میں نمک موجود ہے لیکن میں نے ان سے نمک صرف اس لئے مانگ لیا تاکہ وہ ہم سے کچھ مانگتے ہوئے ہچکچاہٹ اور شرمندگی محسوس نہ کریں، بلکہ وہ یہ سمجھیں کہ ہمسائیوں سے حسب ضرورت چیزیں مانگی جا سکتی ہیں، یہ ہمسائیوں کے حقوق میں سے ہے۔"

*خوبصورت معاشرے ایسی ہی ماؤں سے تشکیل پاتے ہیں۔*

09/12/2021

Behad EtBaar Se Bachoo

01/10/2021

#جہنمی

وہ چار سال کی تھی۔ جب چھوٹا بھائی پیدا ہوا۔ اس کی خوشی کا ٹھکانا نہ تھا۔ چھوٹے بھائی سے بہت پیار کرتی۔ وقت گزرا۔ وہ 12 سال کی ہوئی۔ بھائی۔ آٹھ سال کا۔ ایک دن بھائ سے شیشے کا گلاس ٹوٹ گیا۔ ماں آئی اور اسے بہت مارا کہ گلاس کچن میں کیوں نہیں رکھا۔ لڑکیاں ہی گھر کی چیزیں سنبھالتی ہیں۔ پھر یہ صرف ایک واقعہ نہیں تھا۔ واقعات کی قطار در قطار تھی۔ وہ دیکھتی کہ ہر مرتبہ ماں اسے ہی ڈانٹتی یا مارتی۔ اس کی ہی غلطی نکالتی۔ آہستہ آہستہ بھائی بھی ہتھ چھٹ ہوگیا۔ بڑی بہن کو مارنے لگا۔ اور جب بھی وہ بڑی بہن کو مارتا۔ ماں کی زبان پر ایک ہی جملہ ہوتا۔ "نہ غصہ دلایا کر بھائی کو۔ اس کی ہر بات مان جایا کر۔ اور اس کے سامنے زیادہ زبان نہ چلایا کر۔" بس ماں کی تو یہی نصیحتیں ہوتیں۔
تھوڑا اور وقت گزرا۔ اس نے میٹرک کرلیا۔ نمبر بہت اچھے تھے۔ لیکن پھر بھی خدشہ تھا کہ کسی گورنمنٹ کالج میں داخلہ نہیں ہوسکے گا۔ پتہ نہیں میرٹ میں نام آئے کہ نہ آئے؟ ابا نے تسلی دی کہ "کوئی بات نہیں۔ میرٹ پر نام نہ بھی آیا تو میں اپنی بیٹی کو پرائویٹ کالج میں پڑھا دوں گا۔" ماں فوراً بولی۔ "نہیں پرائیویٹ میں نہیں پڑھے گی۔ پرائیویٹ کالج کی پتہ ہے کتنی فیسیں ہوتیں ہیں؟ ساتھ والے شیخ صاحب کی بیٹی پڑھتی ہے"۔ شکر ہے میرٹ لسٹ میں نام آگیا۔ اور اس نے ایف ایس سی اور پھر بی ایس سی کرلیا۔ بی ایس سی کے بعد اس کی شادی ہوگئی۔ لڑکے والوں کی شرط تھی کہ وہ جہیز نہیں لیں گے۔ شادی بھی سادگی سے کریں گے۔ مگر شادی کے بعد لڑکی نوکری کرے۔ ماں کو بھلا کیا اعتراض تھا۔ پیسے بچ رہے تھے۔ کہنے لگیں کہ یہ آج سے آپ کی بیٹی ہے۔ جو مرضی کروائیں۔
بھائی کے میٹرک میں بمشکل پاس ہوا تھا۔ اس کا کسی گورنمنٹ کالج کی میرٹ لسٹ میں نام نہیں آیا۔ ماں کی ضد تھی کہ آگے لازمی پڑھانا ہے۔ اسے پرائیوٹ کالج میں پڑھایا۔ لیکن وہ پاس نہیں ہوسکا۔ مختلف شارٹ کورس کروانے کی کوشش کی۔ وہ بھی نہیں کرسکا۔ پھر اسے ایک لڑکی سے پیار ہوگیا۔ ماں کو کیا اعتراض تھا؟ ماں خوشی خوشی لڑکی کے گھر گئیں۔ اور رشتہ پکا کر آئیں۔ ابا نے لاکھ کہا کہ پہلے بیٹے کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے دو۔ پھر شادی کی کہیں بات کرو۔ لیکن ماں تو خوش ہی بہت تھیں۔ ساری زندگی کی جمع پونجی بھائی کی شادی میں لگا دی اور خوب دھوم دھام سے شادی کی۔
پھر ایک حادثہ ہوگیا۔ ابا فوت ہوئے۔ اور کچھ مہینے بعد وہ بھی بیوہ ہوگئی۔ شکر ہے شوہر چھوٹا سہی، ایک مکان چھوڑ گیا۔ اور نوکری کی عادت ڈال گیا۔ وہ اس قابل تھی کہ اپنی اور اپنے تین بچوں کی جائز ضروریات اپنی تنخواہ سے پوری کر سکتی۔ کسی کی محتاج نہیں تھی۔ لیکن مصروفیات کی وجہ سے ماں سے ملنا کم ہی ہوتا۔ ایک دن ماں کے گھر گئی تو دیکھا کہ ماں پانی میں بھگو کر باسی روٹی کھا رہی ہے۔ ماں کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ بھابھی ماں کا بالکل خیال نہیں رکھتی۔ اور ماں کوئی شکایت کرے تو بھائی الٹا ماں سے ہی بدتمیزی کرتا ہے۔ اس نے بھابھی سے بات کی تو بھابھی نے انتہائی بدتمیزی سے کہا کہ اگر ماں کی اتنی پرواہ ہے تو اپنے ساتھ لے جاؤ۔ شام کو بھائی کام سے آیا تو رسمی علیک سلیک کے بعد اپنے کمرے میں چلا گیا۔ اس سے یہ سب دیکھا نہ گیا۔ اور ماں کو اپنے گھر لے آئی۔ کہ جہاں تین بچے کھاتے ہیں۔ وہاں ماں بھی کھا لیں گی۔ کیا فرق پڑتا ہے۔
اب بھائی کبھی کبھار ماں سے ملنے آتا۔ اور جب بھی آتا۔ ماں بہت خوش ہوجاتی۔ گھر کے پھل، اور دوسرے لوازمات اس کے آگے رکھتی۔ کھانا کھلائے بغیر جانے نہیں دیتی۔ گویا وہ دن عید کا دن ہوتا۔ ایک دن وہ دفتر سے واپس آئی تو پتہ چلا کہ بچے بھوکے ہیں۔ اور ماں کچن میں آلو پکا رہی ہے تاکہ بچے روٹی کھا سکیں۔ اس نے ماں سے کہا کہ "امی! سالن تھوڑا تھا۔ مگر اتنا تو تھا کہ آپ اور بچے دوپہر میں کھانا کھا لیں۔" ماں کہنے لگی "تمہارا بھائی آیا تھا۔ بھوکا تھا۔ میں نے سالن آگے رکھا۔ تو بڑے شوق سے کھایا۔ کہنے لگا کہ یہ سالن بہت مزیدار ہے۔ مجھے دے دیں۔ رات میں بھی اسی سے روٹی کھاؤں گا۔ سو میں نے باقی سالن پیک کر دیا"
"امی! وہ میرے یتیم بچوں کا حق تھا۔ جو آپ نے دے دیا۔ وہ میری محنت کی کمائی تھی"
"ارے بد بخت! تجھے پیدا کیا۔ پڑھایا، لکھایا۔ بڑا کیا۔ تیری شادی کی۔ تیری ساری ضرورتیں پوری کیں۔ آج ماں نے تیری کمائی سے زرا سا سالن کیا لے لیا؟ تو نے اتنی باتیں بنادیں؟ تو تو ہے ہی جہنمی، ہمیشہ جہنم میں جلے گی۔"

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Ashiyana Street Lahor
Lahore