Hassan-Bin-Thabit Centre for Research in Nat Literature

Hassan-Bin-Thabit Centre for Research in Nat Literature Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Hassan-Bin-Thabit Centre for Research in Nat Literature, Educational Research Center, Minhaj University, Lahore.

پانچویں بین الاقوامی ادبی نعت کانفرنس 2026 کے موقع پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری دامت برکاتہم العالیہ کا خصوصی ...
24/08/2026

پانچویں بین الاقوامی ادبی نعت کانفرنس 2026 کے موقع پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری دامت برکاتہم العالیہ کا خصوصی پیغام

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری دامت برکاتہم العالیہ نے برطانیہ میں منعقد ہونے والی پانچویں بین الاقوامی ادبی نعت کانفرنس 2026 کے انعقاد پر منہاج یونیورسٹی لاہور اور حسّان بن ثابت سنٹر فار ریسرچ اِن نعت لٹریچر (HCRN) کو مبارکباد پیش کی۔

شیخ الاسلام نے بالخصوص ڈاکٹر سرور حسین نقشبندی اور ان کی پوری ٹیم کی علمی، ادبی اور تحقیقی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ نعتیہ ادب کے فروغ، تحقیق اور تدوین کے لیے حسّان بن ثابت سنٹر فار ریسرچ اِن نعت لٹریچر کی خدمات قابلِ قدر اور لائقِ تحسین ہیں۔

آپ نے بتایا کہ نعت ریسرچ سینٹر کے زیرِ اہتمام گزشتہ چار سالوں کے دوران قومی سطح پر منعقد ہونے والی چار نعت کانفرنسوں میں 200 سے زائد تحقیقی مقالات پیش کیے گئے، جبکہ مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والے 400 سے زائد ماہرینِ علم و فن نے ان کانفرنسوں میں شرکت کی۔ ان کانفرنسوں میں نعتیہ ادب سے وابستہ محققین، اسکالرز، ادبا، نعتیہ مجلات کے مدیران، اہلِ قلم اور مختلف میڈیا ہاؤسز کے نمائندگان بھی شریک ہوتے رہے۔

شیخ الاسلام نے ان کانفرنسوں میں پیش کیے جانے والے تحقیقی مقالات کو نعتیہ تحقیق کے حوالے سے ایک وقیع اور قابلِ قدر علمی ذخیرہ قرار دیتے ہوئے HCRN اور منہاج یونیورسٹی کی اس کاوش کو سراہا کہ ان علمی و تحقیقی سرگرمیوں سے متعلق مواد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے عام استفادے کے لیے بھی پیش کیا جاتا ہے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری دامت برکاتہم العالیہ نے پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، ڈپٹی چیئرمین بورڈ آف گورنرز، منہاج یونیورسٹی لاہور، کی خصوصی دلچسپی اور توجہ کو بھی سراہا، جن کی سرپرستی اور علمی معاونت کے باعث مختصر عرصے میں نعت ریسرچ سینٹر نے علمی، ادبی اور نعتیہ تحقیق کے حلقوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔

آپ نے پانچویں بین الاقوامی ادبی نعت کانفرنس 2026 میں برطانیہ سمیت یورپ، امریکہ، کینیڈا، خلیجی ممالک اور جنوبی ایشیا سے شریک ہونے والے اہلِ علم، محققین، ادبا اور نعتیہ ادب سے وابستہ شخصیات کو خوش آمدید کہا اور انہیں اس عالمی علمی و ادبی تحریک کا حصہ بننے پر مبارکباد پیش کی۔

کانفرنس کے مرکزی موضوع ’’بین المذاہب ہم آہنگی میں نعت کا کردار‘‘ کو سراہتے ہوئے شیخ الاسلام نے دعا فرمائی کہ یہ کانفرنس بھی گزشتہ کانفرنسوں کی طرح کامیابی و برکت سے ہمکنار ہو اور اس کے ذریعے نعتِ رسولِ اکرم ﷺ سے متعلق جو علمی و تحقیقی لٹریچر تخلیق ہو رہا ہے، وہ دنیا بھر میں نسبتِ محمدی ﷺ کو مضبوط و مستحکم کرنے کا ذریعہ بنے۔

حسّان بن ثابت سنٹر فار ریسرچ اِن نعت لٹریچر (HCRN)، منہاج یونیورسٹی لاہور کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی پانچویں بین الا...
24/08/2026

حسّان بن ثابت سنٹر فار ریسرچ اِن نعت لٹریچر (HCRN)، منہاج یونیورسٹی لاہور کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی پانچویں بین الاقوامی ادبی نعت کانفرنس 2026 کی مرکزی تقریب میں مختلف نمائندہ کتب کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی، جس میں پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، چیئرمین سپریم کونسل، منہاج القرآن انٹرنیشنل بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔

اس موقع پر کانفرنس کے مرکزی موضوع ’’بین المذاہب ہم آہنگی میں نعت کا کردار‘‘ کے حوالے سے شائع ہونے والے ’’مدحت‘‘ کے خصوصی شمارے کی رونمائی کی گئی، جو 650 صفحات پر مشتمل ہے اور جس میں دنیا بھر سے نعتیہ محققین کے کانفرنس کے موضوع سے متعلق تحقیقی مقالات شامل ہیں۔

تقریب میں سمیعہ ناز کی کتاب ’’یورپ و برطانیہ میں نعت کی روایت‘‘، نیلما ناہید درانی کی کتاب ’’جمالِ جلالِ عشق‘‘، ہانگ کانگ سے قمر زمان منہاس کی غیر مسلم شعراء کے نعتیہ کلام پر مشتمل کتاب ’’ارمغانِ عقیدت‘‘، ڈاکٹر سرور حسین نقشبندی کی کتاب ’’حضور جانتے ہیں‘‘ کا محمد جواد شائق کے قلم سے کیا گیا انگریزی ترجمہ ’’The Beloved Master Knows‘‘ اور پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ ’’نعت: اسلوب و معنویت، تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ‘‘ بھی پیش کیا گیا۔

تقریبِ رونمائی میں پیر سید لخت حسنین، صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی، پروفیسر ڈاکٹر محمد طہٰ قریشی، بیرسٹر میاں وحید الرحمٰن، ڈاکٹر سرور حسین نقشبندی اور دیگر ممتاز اہلِ علم و ادب نے شرکت کی۔

اس موقع پر نعتیہ ادب کے فروغ، تحقیق و تصنیف اور عالمی سطح پر نعتیہ ادب کو متعارف کرانے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ رونمائی کی جانے والی ان کتب کو نعت کے علمی، ادبی، تحقیقی اور بین الاقوامی پہلوؤں کے حوالے سے اہم علمی کاوشیں قرار دیا گیا۔

عالمی نعتیہ مشاعرہ — پانچویں بین الاقوامی ادبی نعت کانفرنس 2026پانچویں بین الاقوامی ادبی نعت کانفرنس 2026 کے سلسلے میں ح...
22/08/2026

عالمی نعتیہ مشاعرہ — پانچویں بین الاقوامی ادبی نعت کانفرنس 2026

پانچویں بین الاقوامی ادبی نعت کانفرنس 2026 کے سلسلے میں حسّان بن ثابت سنٹر فار ریسرچ اِن نعت لٹریچر (HCRN)، منہاج یونیورسٹی لاہور، منہاج القرآن انٹرنیشنل برطانیہ اور نعت فورم انٹرنیشنل کے باہمی اشتراک سے منہاج القرآن انٹرنیشنل سنٹر، والسال، برطانیہ میں عالمی نعتیہ مشاعرہ منعقد ہوا، جس کی صدارت معروف شاعر و محقق ڈاکٹر سعادت سعید نے کی۔

مشاعرے میں برطانیہ، یورپ اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے ممتاز شعرائے کرام اور شاعرات نے شرکت کی اور بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت کے نذرانے پیش کرتے ہوئے اپنا نعتیہ کلام پیش کیا۔ مشاعرے میں ڈاکٹر سعادت سعید، ڈاکٹر نثار ترابی، ڈاکٹر نذر عابد، باصر کاظمی، نیلمہ ناہید درانی، صابر رضا، ڈاکٹر قیصر عباس زیدی، خواجہ محمد عارف، سمیعہ ناز، غزل انصاری، تسنیم حسن، نغمانہ کنول شیخ، فائقہ گل، ممتاز علی ممتاز، حسن فرذوق، علی عمران، مروت احمد، ڈاکٹر فصحہ قریشی اور ڈاکٹر سرور حسین نقشبندی نے اپنا نعتیہ کلام پیش کیا، جبکہ اشتیاق میر نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔

شعرائے کرام نے اپنے نعتیہ کلام کے ذریعے عشقِ مصطفیٰ ﷺ، محبت، رحمت، ادب و عقیدت اور انسانی احترام کے جذبات کو اجاگر کیا۔ مختلف ممالک اور ادبی حلقوں سے تعلق رکھنے والے شعراء کی شرکت نے مشاعرے کو ایک عالمی ادبی رنگ عطا کیا، جبکہ حاضرین نے پیش کیے گئے نعتیہ کلام کو بھرپور داد و تحسین سے نوازا۔

عالمی نعتیہ مشاعرہ پانچویں بین الاقوامی ادبی نعت کانفرنس 2026 کا ایک اہم اور یادگار حصہ ثابت ہوا، جس نے نعتیہ ادب کے فروغ، عالمی ادبی روابط اور محبت و احترام کے پیغام کو اجاگر کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

پانچویں بین الاقوامی ادبی نعت کانفرنس 2026 کے مرکزی سیشن میں پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، چیئرمین سپریم کونسل، منہ...
22/08/2026

پانچویں بین الاقوامی ادبی نعت کانفرنس 2026 کے مرکزی سیشن میں پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، چیئرمین سپریم کونسل، منہاج القرآن انٹرنیشنل نے نعتیہ ادب کے فروغ اور اس شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو نعت ایکسیلینس ایوارڈ 2026 سے نوازا۔ ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں اشتیاق میر (یارک شائر ادبی فورم، برطانیہ)، صاحبزادہ محمد خوشتر (انٹرنیشنل نعت ایسوسی ایشن، برطانیہ)، محمد ایوب MBE (اورینٹل سٹار ایجنسی، برطانیہ)، طلعت سلیم (برمنگھم)، محمد بلال نقشبندی (برمنگھم)، خواجہ محمد عارف (برمنگھم)، یاسر علی (سپین) اور محمد ضیاء الحق (وصال یار، یو اے ای) شامل ہیں۔ اسی موقع پر ممتاز شاعر و ادیب ڈاکٹر مختار الدین احمد مرحوم کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پیش کیا گیا، جو ان کی جانب سے چیئرپرسن یارک شائر ادبی فورم، تسنیم حسن نے وصول کیا۔

کانفرنس کے کامیاب انعقاد اور بہترین انتظامات کے اعتراف میں ڈائریکٹر حسّان بن ثابت سنٹر فار ریسرچ اِن نعت لٹریچر (HCRN)، منہاج یونیورسٹی لاہور، ڈاکٹر سرور حسین نقشبندی کو کاروانِ ادب برطانیہ اور امیگریشن ایکسپرٹس کی جانب سے خصوصی شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔

پانچویں بین الاقوامی ادبی نعت کانفرنس 2026 کے مرکزی سیشن میں پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، چیئرمین سپریم کونسل، منہ...
22/08/2026

پانچویں بین الاقوامی ادبی نعت کانفرنس 2026 کے مرکزی سیشن میں پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، چیئرمین سپریم کونسل، منہاج القرآن انٹرنیشنل کی آمد پر ڈائریکٹر حسّان بن ثابت سنٹر فار ریسرچ اِن نعت لٹریچر (HCRN)، منہاج یونیورسٹی لاہور، ڈاکٹر سرور حسین نقشبندی، صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل برطانیہ، سید علی عباس بخاری اور دیگر ذمہ داران نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے کانفرنس میں شریک معزز مہمانوں، اہلِ علم و ادب اور دیگر شرکاء سے ملاقات کی اور ان سے تبادلۂ خیال کیا۔

پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے پانچویں بین الاقوامی ادبی نعت کانفرنس 2026 کے مرکزی اور خصوصی سیشن کی صدارت کرتے ہو...
21/08/2026

پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے پانچویں بین الاقوامی ادبی نعت کانفرنس 2026 کے مرکزی اور خصوصی سیشن کی صدارت کرتے ہوئے نعت کے مفہوم، اس کی معنوی وسعت اور عصرِ حاضر میں اس کی عالمی اہمیت پر مدلل اور تحقیقی گفتگو کی۔

انہوں نے قرآن مجید میں مذکور الفاظ ’’قُل‘‘ اور ’’وَاذْکُر‘‘ کے تناظر میں نعت کے مفہوم، گہرائی اور وسعت پر مفصل تحقیقی مقالہ پیش کیا۔ ان کی گفتگو نے نعت کے اصل مفاہیم و معانی، اس کے قرآنی و فکری پس منظر اور عشقِ رسول ﷺ کے روحانی پہلوؤں کو نمایاں کیا۔

پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے اس امر پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی کہ نعت محض ایک ادبی صنف نہیں بلکہ حضور نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس، سیرتِ طیبہ، اخلاقِ عالیہ اور آفاقی پیغامِ اسلام کو دنیا تک پہنچانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے نعت کے ذریعے محبت، احترام، امن، سلامتی اور رواداری کے اسلامی پیغام کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے امکانات پر گفتگو کی۔

انہوں نے بالخصوص بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں نعت کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ نعتیہ ادب کے ذریعے دیگر مذاہب کے پیروکاروں تک اسلام کا مثبت، پُرامن اور انسان دوست پیغام مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکتا ہے۔ ان کی گفتگو میں نعت کے علمی، روحانی اور بین الاقوامی پہلوؤں کو خصوصی اہمیت حاصل رہی۔

انہوں نے نعتیہ ادب کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے محض تراجم تک محدود رہنے کے بجائے مختلف عالمی زبانوں، خصوصاً انگریزی میں براہِ راست نعت گوئی کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح نعت کے آفاقی پیغام کو دنیا کے وسیع تر حلقوں تک زیادہ مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکتا ہے۔

ان کی مدلل، علمی اور روحانی گفتگو کو شرکائے کانفرنس نے بھرپور انداز میں سراہا، جبکہ ان کے خیالات نے محفل کو عشقِ رسول ﷺ کی روحانی کیفیت سے سرشار کر دیا۔

کانفرنس میں ڈاکٹر سرور حسین نقشبندی، پیر سید لخت حسنین، صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی، بیرسٹر میاں وحید الرحمٰن، سید علی عباس بخاری، ڈاکٹر قیصر عباس زیدی، ڈاکٹر علی اکبر قادری، سمیعہ ناز، اشتیاق میر، قاری جاوید اختر، محمد جواد شائق، پروفیسر ڈاکٹر محمد طہٰ قریشی، علامہ محمد افضل سعیدی، ایم مسعود عالم، قاری محمد علی قادری، حسان احمد ہمدانی، نیلمہ ناہید درانی، قمر زمان منہاس، صاحبزادہ محمد خوشتر، محمد ایوب ایم بی ای، طلعت سلیم، محمد بلال نقشبندی، خواجہ محمد عارف، یاسر علی، محمد ضیاء الحق، ڈاکٹر مختار الدین احمد مرحوم، تسنیم حسن، سید مظہر عباس، مروت احمد، امام احسن امین، ڈاکٹر سعادت سعید، ڈاکٹر نثار ترابی، ڈاکٹر نذر عابد، باصر کاظمی، صابر رضا، غزل انصاری، نغمانہ کنول شیخ، فائقہ گل، ممتاز علی ممتاز، حسن فرذوق، علی عمران اور ڈاکٹر فصحہ قریشی سمیت دیگر ممتاز نعت گو، مصنفین، محققین، اسکالرز، معروف ثنا خواں، ادباء و شعراء اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔

پانچویں بین الاقوامی ادبی نعت کانفرنس 2026 حسّان بن ثابت سنٹر فار ریسرچ اِن نعت لٹریچر (HCRN)، منہاج یونیورسٹی لاہور، منہاج القرآن انٹرنیشنل برطانیہ اور نعت فورم انٹرنیشنل کے باہمی اشتراک سے منعقد ہوئی۔

بین المذاہب ہم آہنگی میں نعت محبت، رواداری اور امن کا مؤثر ذریعہ ہے: سید لخت حسنین شاہحسّان بن ثابت سنٹر فار ریسرچ اِن ن...
20/08/2026

بین المذاہب ہم آہنگی میں نعت محبت، رواداری اور امن کا مؤثر ذریعہ ہے: سید لخت حسنین شاہ

حسّان بن ثابت سنٹر فار ریسرچ اِن نعت لٹریچر (HCRN)، منہاج یونیورسٹی لاہور کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی پانچویں بین الاقوامی ادبی نعت کانفرنس 2026 کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرپرسن مسلم ہینڈز یوکے سید لخت حسنین شاہ نے معزز علماء، مشائخ، دینی و علمی شخصیات اور شرکائے کانفرنس کو سلام پیش کیا۔

سید لخت حسنین شاہ نے اپنے خطاب میں ڈاکٹر سرور حسین نقشبندی کی محبتِ رسول ﷺ اور نعت خوانی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی نعت خوانی میں محض فن کا اظہار نہیں بلکہ محبت و عقیدت کی کیفیت نمایاں ہوتی ہے جو محفل کے ماحول کو بدل دیتی ہے۔

کانفرنس کے مرکزی موضوع "بین المذاہب ہم آہنگی میں نعت کا کردار" پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ موضوع محض ادب و شاعری کا موضوع نہیں بلکہ موجودہ دور کی ایک اہم سماجی ضرورت ہے۔ برطانیہ اور یورپ جیسے معاشروں میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد ایک ہی تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور دیگر معاشرتی اداروں میں مل جل کر رہتے اور کام کرتے ہیں، اس لیے مذہبی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے احترام، انسانی وقار اور امن کو فروغ دینا ضروری ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بین المذاہب ہم آہنگی کا مطلب اپنے عقائد پر سمجھوتہ کرنا نہیں بلکہ اپنے ایمان پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کی عزت و تکریم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر توہین نہیں، اپنی مذہبی شناخت برقرار رکھی جا سکتی ہے مگر نفرت نہیں پھیلائی جانی چاہیے، بلکہ انسان کو دوسروں کے لیے امن اور خیر کا ذریعہ بننا چاہیے۔

انہوں نے قرآنِ مجید کے تصور "لِتَعَارَفُوا" اور حضور نبی اکرم ﷺ کے "رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ" ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی رحمت اور محبت پوری انسانیت کے لیے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو، سکھ، عیسائی اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے شعراء اور اہلِ فکر نے بھی آپ ﷺ کی عظمت، حسنِ اخلاق، رحمت اور انسان دوستی کو اپنی شاعری اور تحریروں میں اجاگر کیا ہے۔

سید لخت حسنین شاہ نے پنڈت جگن ناتھ آزاد، دیوان رام کوثری اور لبنانی عیسائی شاعر رشید سلیم الخوری سمیت مختلف غیر مسلم شعراء کی نعتیہ شاعری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نعت مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان محبت، مکالمے اور قربت کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔

اپنی گفتگو کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ اسلام کا پیغام صرف تقریروں اور بلند آواز دعووں کے ذریعے نہیں بلکہ عملی کردار کے ذریعے بھی مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے حضرت امام جعفر صادقؓ سے منسوب ایک نصیحت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام کی دعوت الفاظ سے زیادہ حسنِ کردار کے ذریعے مؤثر ہوتی ہے۔

نعت اختلافات کے بجائے محبت، رحمت اور انسانی احترام کو فروغ دینے کا ذریعہ ہے: صاحبزادہ محمد عاصم مہارویحسّان بن ثابت سنٹر...
20/08/2026

نعت اختلافات کے بجائے محبت، رحمت اور انسانی احترام کو فروغ دینے کا ذریعہ ہے: صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی

حسّان بن ثابت سنٹر فار ریسرچ اِن نعت لٹریچر (HCRN)، منہاج یونیورسٹی لاہور کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی پانچویں بین الاقوامی ادبی نعت کانفرنس 2026 کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی نے کہا کہ نعت کے ذریعے بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کا موضوع نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمومی طور پر نعت کو ایک شعری صنف یا مذہبی اجتماعات کے اہم حصے کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، تاہم اس کے اندر موجود اخلاقی، انسانی اور فکری پیغام کو بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے بھی مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ بین المذاہب ہم آہنگی کا مطلب اپنے مذہبی اختلافات کو نظرانداز کرنا نہیں بلکہ اختلافات کے باوجود دوسروں کے وجود، عزت، وقار اور حقوق کو تسلیم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب مذہبی شناخت کو صرف اختلاف اور دوسرے سے امتیاز کی بنیاد پر تشکیل دیا جاتا ہے تو اس سے نفرت، فاصلے اور تصادم پیدا ہونے لگتے ہیں، جبکہ نعت ہمیں ایک مختلف زبان فراہم کرتی ہے؛ یہ محبت، رحمت، تعلق، ادب اور احترام کی زبان ہے۔

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی نے کہا کہ اپنے مذہب اور نظریے سے محبت ایک فطری امر ہے، تاہم دوسروں کے لیے ہماری زبان دفاعی یا جارحانہ نہیں ہونی چاہیے۔ خصوصاً نعت کے ادبی اظہار میں حضور نبی اکرم ﷺ کی شخصیت کی نمایاں خصوصیت، یعنی نرمی اور محبت، بھی نمایاں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نئی نسل کے لیے نعت اس لیے بھی مؤثر ذریعہ ہے کہ شاعری اور منظوم کلام انسانی حافظے میں زیادہ دیر تک محفوظ رہتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں نعت اور شاعری نے صرف جذباتی وابستگی پیدا نہیں کی بلکہ اگلی نسلوں کی اخلاقی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس لیے نعت کے ذریعے حضور نبی اکرم ﷺ کے عدل، رحمت، شفقت، حفاظت، گفتگو اور حسنِ کردار کو نئی نسل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان مذہبی، فکری، نظریاتی اور روایتی اختلافات موجود ہو سکتے ہیں، لیکن حضور نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس سے محبت، عقیدت، احترام اور آپ ﷺ کا ذکر ایک ایسا مشترکہ نقطہ ہے جس کے ذریعے مختلف طبقات اور معاشروں کے درمیان محبت، احترام اور خیر خواہی کا پیغام پہنچایا جا سکتا ہے۔

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی نے نعت کو انگریزی زبان میں تخلیقی انداز میں پیش کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ انگریزی نعت کو محض ترجمے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے ایک باقاعدہ ادبی صنف کے طور پر تخلیق کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شاعری ایک فن ہے اور ہر زبان کے اپنے شعری و ادبی تقاضے ہوتے ہیں، اس لیے انگریزی نعت لکھتے وقت اس زبان کی ادبی روایت، شعری اسلوب اور مخاطب کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے نئی نسل کے ان نوجوانوں کو آگے لایا جائے جن کے دلوں میں محبتِ رسول ﷺ موجود ہے اور انہیں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دیا جائے، تاکہ محبتِ رسول ﷺ کا جذبہ خوبصورت ادبی تخلیقات کی صورت میں سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان شعراء، ادیبوں اور اہلِ علم کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کے ذریعے انگریزی زبان میں اصل اور تخلیقی نعتیہ ادب کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی نے کہا کہ اگر نعت کو صرف ایک مذہبی صنف کے بجائے محبت، رحمت، اخلاق اور انسانی احترام کے پیغام کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے تو یہ بین المذاہب ہم آہنگی اور عالمی امن کے فروغ میں نہایت مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔

نعت محبت، رحمت اور باہمی احترام کا پیغام عام کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے: پروفیسر ڈاکٹر طٰہٰ قریشی حسّان بن ثابت سنٹر فار ریسر...
20/08/2026

نعت محبت، رحمت اور باہمی احترام کا پیغام عام کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے: پروفیسر ڈاکٹر طٰہٰ قریشی

حسّان بن ثابت سنٹر فار ریسرچ اِن نعت لٹریچر (HCRN)، منہاج یونیورسٹی لاہور کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی پانچویں بین الاقوامی ادبی نعت کانفرنس 2026 کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر طٰہٰ قریشی (MBE)، چیئرمین FIRD، نے کہا کہ نعت کو محض ایک شعری صنف یا مذہبی تقریبات کے ایک حصے تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ اس کے ذریعے حضور نبی اکرم ﷺ کی رحمت، حسنِ اخلاق، محبت، شفقت، باہمی احترام اور اتحاد کا پیغام معاشرے اور دنیا تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہم نے ایک بڑی ذمہ داری اپنے اوپر لی ہے اور منہاج یونیورسٹی، منہاج القرآن، منہاج سے وابستہ تمام اداروں، ان کی سینئر و ایگزیکٹو مینجمنٹ اور تمام ڈائریکٹرز سمیت منہاج القرآن برطانیہ، لندن کی ٹیم اس اہم کام کے لیے مبارک باد کی مستحق ہے کہ وہ معاشرے میں ایک مثبت اور اہم تبدیلی کی طرف لوگوں کی رہنمائی کر رہی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر طٰہٰ قریشی نے کہا کہ یہ کوشش صرف مختلف مذاہب کے درمیان تعلقات تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ تمام انسانوں کے درمیان محبت، احترام اور باہمی تعلق کو فروغ دینا بھی اس کا مقصد ہونا چاہیے۔ حضور نبی اکرم ﷺ تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے، اس لیے ہمیں بھی نعت کے ذریعے اسی رحمت، محبت، حسنِ اخلاق، شفقت اور اتحاد کا پیغام عام کرنا چاہیے۔

انہوں نے نعتیہ ادب کو انگریزی زبان میں پیش کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خصوصاً برطانیہ میں رہتے ہوئے نعتِ رسولِ اکرم ﷺ کو انگریزی زبان میں منتقل کرنے اور تخلیق کرنے پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں بہت سے اہلِ علم و دانش موجود ہیں جو انگریزی زبان میں لکھتے ہیں، ان سے رابطہ کیا جائے اور انہیں نعتِ رسولِ اکرم ﷺ کو انگریزی زبان میں تحریر کرنے کی طرف متوجہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ نعت کے عالمی فروغ کے لیے صرف ترجمہ ہی نہیں بلکہ مختلف زبانوں میں نعتیہ ادب کی تخلیق بھی ضروری ہے تاکہ حضور نبی اکرم ﷺ کی رحمت اور حسنِ اخلاق کا پیغام زیادہ وسیع حلقوں تک پہنچ سکے۔

پروفیسر ڈاکٹر طٰہٰ قریشی نے منہاج یونیورسٹی لاہور اور منہاج القرآن کی قیادت و انتظامیہ، بالخصوص برطانیہ میں اس علمی و ادبی کاوش سے وابستہ تمام ذمہ داران کو مبارک باد پیش کی اور کانفرنس کے انعقاد کو ایک اہم اور مثبت پیش رفت قرار دیا۔

نعت کو بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے عالمی زبانوں میں پیش کرنے کی ضرورت ہے: بیرسٹر وحید الرحمن میاں (لندن)حسّان بن...
19/08/2026

نعت کو بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے عالمی زبانوں میں پیش کرنے کی ضرورت ہے: بیرسٹر وحید الرحمن میاں (لندن)

حسّان بن ثابت سنٹر فار ریسرچ اِن نعت لٹریچر (HCRN)، منہاج یونیورسٹی لاہور کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی پانچویں بین الاقوامی ادبی نعت کانفرنس 2026 کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر وحید الرحمن میاں (لندن) نے کہا کہ نعت کو بین الاقوامی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے مؤثر ذریعہ کے طور پر پیش کرنے کے لیے اسے مختلف عالمی زبانوں میں منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نعت کا عظیم علمی و ادبی سرمایہ عربی سے فارسی اور فارسی سے برصغیر کی مختلف زبانوں تک پہنچا، تاہم موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق نعتیہ ادب کو انگریزی سمیت دیگر عالمی زبانوں میں بھی پیش کیا جانا چاہیے تاکہ اس کا پیغامِ محبت، رحمت اور خیر خواہی دنیا کے وسیع تر حلقوں تک پہنچ سکے۔

انہوں نے کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے زبان بنیادی اہمیت رکھتی ہے، اس لیے نعتیہ ادب کو انگریزی زبان میں منتقل کرنے اور تخلیق کرنے کے لیے باقاعدہ علمی و تحقیقی کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ اس مقصد کے لیے موجودہ نعتیہ مواد کو انگریزی زبان میں منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ضروری تقاضوں کا بھی جائزہ لیا جائے۔

وحیدالرحمن میاں نے منہاج یونیورسٹی لاہور کی علمی و تحقیقی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی نے اس میدان میں ایک اہم اور قائدانہ کردار کا آغاز کیا ہے، اس لیے اسے نعتیہ ادب کے فروغ کے اس عالمی منصوبے میں بھی قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ برطانیہ میں منہاج یونیورسٹی کا ایک کیمپس، حتیٰ کہ آن لائن کیمپس کی صورت میں، قائم کیا جا سکتا ہے تاکہ ضروری ایکریڈیٹیشن حاصل کرتے ہوئے تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں کو مزید وسعت دی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ وہ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں، تاہم جذبے اور شوق کے اعتبار سے ماہرِ تعلیم ہیں اور اپنے تعلیمی ادارے بھی چلا رہے ہیں، اس لیے انہیں تعلیمی شعبے کے انتظام و انصرام کا تجربہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منہاج یونیورسٹی لاہور جیسا ادارہ اس میدان میں نمایاں اور قائدانہ کردار ادا کر سکتا ہے۔

بیرسٹر وحید الرحمن میاں نے منہاج یونیورسٹی لاہور، بالخصوص ڈاکٹر سرور حسین نقشبندی، اور کانفرنس کے منتظمین کو اس تاریخی علمی و ادبی کاوش پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ نعت کے ذریعے حضور نبی اکرم ﷺ کی رحمت، حسنِ اخلاق، محبت، باہمی احترام اور اتحاد کا پیغام دنیا تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بالخصوص برطانیہ کے تناظر میں نعتیہ ادب کو انگریزی زبان میں پیش کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس معاشرے میں مختلف طبقات تک نعت کا پیغام پہنچانے کے لیے انگریزی زبان میں نعتیہ مواد کی تیاری اہم ہے۔ اس مقصد کے لیے انگریزی زبان میں لکھنے والے اہلِ علم و ادب کو بھی اس علمی و ادبی کاوش کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔

ﷺ ﷺ ﷺ

Address

Minhaj University
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hassan-Bin-Thabit Centre for Research in Nat Literature posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share