یا اللہ کفر کی چالوں سے تمام عالم اسلام کی حفاظت فرمااور عالم اسلام کو کفر کےمقابلے میں متحد فرما۔آمین
Online Quran Teacher
Noor e Quran online islamic institute
21/06/2025
انڈیا پا کستان اور ایران اسرائیل جنگ کا کریڈٹ لینے والا غرہ میں جنگ رکوانے کا کریڈٹ کب لے گا۔۔۔۔حقیت یہ ہے کہ جب دم پر پاؤں آتا ہے تب جنگ رکوانے کے لۓ بھاگتا ہے۔
مرنے کے بعد انسان افسوس کرتے ہوۓ کہے گا
یاویلتی لیتنی لم اتخذفلاناخلیلا
(سورۃالفرقان #28)
اے کاش!میں فلاں کو دوست نہ بناتا
20/06/2025
جہاد چھوڑنے پر وعید۔۔۔۔
یا اللہ امت مسلمہ کے حکمرانوں کو متحد فرما اور یہود وہنود کے خلاف متفقہ اور مضبود لائحہ عمل بنانے کی توفیق عطا فرما۔
۔۔۔۔۔۔آج کے حالات حدیث نبوی کی روشنی میں۔۔۔۔۔۔
ثعبان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ گمراہ قومیں تمہارے خلاف دوسری قوموں کو بلائیں جس طرح کھانے والے دوسروں کو کھانے کے برتن کی طرف بلاتےہیں
کسی نے عرض کیا !اس روز ہماری تعداد کم ہونے کی وجہ سے ایسا ہوگا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کیا: نہیں بلکہ اس روز تم زیادہ ہوں گے تعداد میں لیکن سیلاب کی جھاگ کی طرح ہوں گے اللہ تعالی تمہارے دشمنوں کے دلوں میں سے تمہاری ہیبت نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں وہن ڈال دے گا کسی نے پوچھا وہن کیا چیز ہے
اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
حب الدنیا وکراہیۃ الموت
دنیا سے محبت اور موت سے نفرت
18/06/2025
18/06/2025
چھٹیاں ہیں دماغ کی ٹیوننگ ہو جاۓ۔۔۔۔۔
تندئ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہےتجھے اونچا اڑانےکےلئے
سوال
میسجز پر اگر ان شاء اللّٰہ لکھنا ہوتو کس طرح لکھا جاۓ:
1- ان شاء اللّٰہ 2- انشاء اللّٰہ
دونوں میں سے کون سا لکھنا درست ہے؟
جواب
’’ان شاء اللہ‘‘ عربی زبان کا جملہ ہے جو کہ تین الفاظ پر مشتمل ہے، ایک "اِن" حرفِ شرط، "شاء" فعلِ ماضی، اور تیسرا کلمہ لفظِ "اللہ، اس پورے جملے کا معنٰی ہے: اگر اللہ نے چاہا (تو یوں ہوگا)۔ اور یہ مکمل جملہ ہے۔ جب کہ ’’انشاء اللہ‘‘ بھی عربی زبان میں مرکب ہے، "انشاء" اور لفظِ "اللہ" سے، جس کا معنٰی ہے: "اللہ کا پیدا کرنا/ وجود دینا"۔ اور یہ مرکبِ غیر مفید ہے، یعنی ناقص جملہ ہے۔ عربی زبان میں دونوں جملے اپنا مستقل معنٰی و مفہوم رکھتے ہیں، لہٰذا عربی میں اس کے لکھنے کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ تینوں الفاظ (1- ان ، 2- شاء ، 3- اللہ ) کو الگ الگ لکھا جائے یعنی ’’ان شاء اللہ‘‘۔
البتہ اردو تحریر میں اگر "انشاء اللہ" لکھ دیا جائے تو اس کی گنجائش ہوگی، کیوں کہ اردو میں لکھنے والوں کا مقصود وہی ہوتاہے جو "ان شاء اللہ" کا معنٰی ہے، اور زبان کی تبدیلی اور عرف کے ابتلا کی وجہ سے معروف غلطی کی گنجائش نکل آتی ہے، بہرحال بہتر یہ ہے کہ اردو میں بھی اسے الگ الگ کرکے "ان شاء اللہ" لکھا جائے۔ فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144110200529
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
Click here to claim your Sponsored Listing.