تو کبھی اس قوم کی تہذیب کا گہوارہ تھا
حُسنِ عالم سوز جس کا آتشِ نظارہ تھا
معانی: اس قوم: مراد عرب مسلمان ۔ حسن عالم سوز: دنیا کو جلانے والا حسن، مراد دلوں میں عشق کی آگ بھڑکانے والا حسن ۔ آتشِ نظارہ: مراد جسے دیکھ کر آنکھیں چکا چوند ہو جائیں ۔
مطلب: اے سسلی! یہ مت بھول کہ تو کبھی اس قوم کی تہذیب سے ہم آہنگ تھا جس کے طنطنے سے ساری دنیا لرزتی تھی ۔ مراد یہ ہے کہ مسلمان حکمرانوں کے زیر تسلط تیری شان و شوکت انتہائی عروج پر رہی ۔ آج وہ موجود نہیں پھر بھی تو دنیا کو اپنے وجود کا احساس دلاتا ہے ۔
Poetry of Allama Iqbal
فکر شیخ الہند رحمہ اللّٰہ
اک جہانِ تازہ کا پیغام تھا جن کا ظہور
کھا گئی عصرِ کہن کو جن کی تیغِ ناصبور
معانی: جہانِ تازہ کا پیغام: مراد اسلامی تہذیب و تمدن ۔ ظہور: ظاہر ہونا، مراد وہاں حکومت ہونا ۔ عصرِ کہن: پرانا زمانہ ۔ تیغِ ناصبور: بے چین تلوار ۔
مطلب: ان مجاہدین کا وجودفرسودہ روایات کا خاتمہ کر کے ایک نئی تہذیب کو جنم دینے کا سبب بنا کرتا تھا ۔ ان کی تلوارں نے ماضی کی فرسودہ روایات کو فنا کر کے رکھ دیا تھا ۔
زلزلے جن سے شہنشاہوں کے درباروں میں تھے
بجلیوں کے آشیانے جن کی تلواروں میں تھے
معانی: تلواروں میں بجلیوں کے آشیانے: مراد تلواریں آسمانی بجلی کی طرح چمکدار اور فنا کرنے والی تھیں ۔
مطلب: جن کے خوف سے بڑے بڑے شہنشاہوں کے درباروں میں لرزہ آ جاتا تھا ۔ اور جن کی تلواروں میں بجلیاں پوشیدہ تھیں ۔ جو دشمنوں کو خاک و خون میں ملا کر رکھ دیتی تھیں ۔
تھا یہاں ہنگامہ ان صحرا نشینوں کا کبھی
بحر بازی گاہ تھا جن کے سفینوں کا کبھی
معانی: ہنگامہ: رونق، چہل پہل ۔ صحرا نشینوں : مراد عرب مسلمان جو ریگستانوں میں رہا کرتے تھے ۔ بازی گاہ: کھیلنے کی جگہ ۔ سفینوں : جمع سفینہ، کشتیاں ۔
مطلب: کبھی یہ جزیرہ ان عرب صحرا نشینوں کے اقتدار کا مظہر ہوا کرتا تھا جن کے لیے سمندر ایک تماشے کی حیثیت رکھتا تھا ۔
رو لے اب دل کھول کر اے دیدہَ خوں نابہ بار
وہ نظر آتا ہے تہذیبِ حجازی کا مزار
معانی: صقلیہ: سسلی، بحیرہ روم کا مشہور جزیرہ جہاں مسلمانوں نے زوردار حکومت کی ۔ دیدہَ خوننابہ بار: خالص خون برسانے، رونے والی آنکھ ۔ تہذیب حجازی: مراد اسلامی تہذیب و تمدن ۔ مزار: مسلمانوں کی وہاں حکومت ختم ہونے کے سبب سے مزار کہا ۔
مطلب: ہسپانیہ کا مشہور جزیرہ صقلیہ جسے سسلی کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے ۔ خلفائے عثمانیہ کے عہد میں بڑی اہمیت کا حامل تھا ۔ یہ وہ دور تھا جب پورا ہسپانیہ مسلمانوں کے زیر نگیں تھا ۔ اقبال جب بحری جہاز کے ذریعے یورپ سے ہندوستان واپس آ رہے تھے تو ان کا جہاز صقلیہ کے جزیرے سے بھی گزرا جسے دیکھ کر اقبال کہتے ہیں کہ وہ سامنے عرب مسلمانوں کی شان و شوکت اور تہذیب کا مزار نظر آ رہا ہے اس کے باقیات کو دیدہَ عبرت نگاہ سے دیکھ اور پھر خون کے آنسو بہا لے ۔
07/05/2025
شکوہ
کیوں زیاں کار بنوں ، سُود فراموش رہوں
فکرِ فردا نہ کروں ، محوِ غمِ دوش رہوں
معانی: شکوہ: گلہ ۔ زیاں کار: نقصان، گھاٹا اٹھانے والا ۔ سود فراموش: فائدہ بھلانے والا ۔ فردا: آنے والا کل ۔ محو: مصروف ۔ غمِ دوش: گزرے ہوئے کل، ماضی کا غم ۔
مطلب: اس نظم میں اقبال مکالمہ تو رب ذوالجلال سے کرتے ہیں لیکن ان کا لہجہ معمول سے بھی زیادہ تند و تیز ہے ۔ شکوہ ہی وہ نظم ہے جس کے حوالے سے اقبال پر کفر کے فتوے بھی عائد کیے گئے اور بیسویں صدی کے آغاز میں اس کی اشاعت پر بھی خاصی لے دے ہوئی ۔ یہاں تک کہ انہیں اپنے دفاع میں جواب شکوہ جیسی نظم لکھنا پڑی ۔ شکوہ فکری سطح پر ہی نہیں تکنیکی بنیاد پر بھی ایک بلند پایہ نظم ہے ۔ نظم کا آغاز خاصے تند و تیز لہجے میں کرتے ہوئے اقبال کہتے ہیں کہ مجھے کیا ضرورت پڑی ہے کہ زندگی میں نقصان اٹھاؤں اور فوائد حاصل نہ کروں ۔ یہ بھی بے معنی بات ہے کہ عصر موجود کی فکر میں تو گھلتا رہوں اور مستقبل کی طرف دھیان نہ دوں ۔
سیو غزہ کمپین لاہور کے زیر اہتمام
راؤنڈ ٹیبل کانفرنس برائے فلسطین میں تلاوت کلام پاک پیش کرتے ہوئے
Contact us to teach your children Quran and Islam in the best language
Hafiz Arslan Tahir
اپنے بچوں کو بہترین لہجے میں قرآن مجید اور اسلامیات پڑھانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں ، مناسب فیس کے ساتھ
حافظ ارسلان طاہر
*پی ایس ایل کے میچز کے دوران فلسطین کا جھنڈا لہرانے پر پابندی اب کس منہ سے کشمیر کے لیے آواز اٹھائیں گے؟*
مکمل ڈاکو مینٹری ویڈیو دیکھیں
#دفاع مسجد اقصیٰ وفلسطین مارچ رائےونڈ
Click here to claim your Sponsored Listing.