12/08/2025
تو کبھی اس قوم کی تہذیب کا گہوارہ تھا
حُسنِ عالم سوز جس کا آتشِ نظارہ تھا
معانی: اس قوم: مراد عرب مسلمان ۔ حسن عالم سوز: دنیا کو جلانے والا حسن، مراد دلوں میں عشق کی آگ بھڑکانے والا حسن ۔ آتشِ نظارہ: مراد جسے دیکھ کر آنکھیں چکا چوند ہو جائیں ۔
مطلب: اے سسلی! یہ مت بھول کہ تو کبھی اس قوم کی تہذیب سے ہم آہنگ تھا جس کے طنطنے سے ساری دنیا لرزتی تھی ۔ مراد یہ ہے کہ مسلمان حکمرانوں کے زیر تسلط تیری شان و شوکت انتہائی عروج پر رہی ۔ آج وہ موجود نہیں پھر بھی تو دنیا کو اپنے وجود کا احساس دلاتا ہے ۔