18/08/2026
سلسلہ وار سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم
قسط نمبر 04
04 ربیع الاول
عہدِ شباب، اخلاقِ حسنہ اور اہم واقعات
تمہید:
حضور نبی کریم ﷺ کا دورِ جوانی عام انسانوں کے شباب سے بالکل مختلف، پاکیزہ اور وقار کا بہترین نمونہ تھا۔ مکہ کے جاہلی ماحول، عیاشی اور اخلاقی ابتری کے درمیان آپ ﷺ کی جوانی ایک پُرنور، شائستہ اور بے داغ آفتاب کی طرح چمک رہی تھی۔ قدرت نے آپ ﷺ کو نوجوانی ہی سے تمام انسانی اوصاف کا کامل نمونہ بنا دیا تھا، جس کی وجہ سے مکہ کا ہر فرد آپ ﷺ کو "الصادق" (سچا) اور "الامین" (امانت دار) کے لقب سے پکارتا تھا۔
تجارت اور پاکیزہ معاملے:
نوجوانی کے دور میں آپ ﷺ نے حلال روزی کے لیے تجارت کا پیشہ اختیار فرمایا۔ آپ ﷺ نے مکہ سے باہر بالخصوص شام کی طرف تجارتی اسفار فرمائے۔ آپ ﷺ کی تجارت میں سچائی، کھراپن اور انصاف اس قدر نمایاں تھا کہ لوگ اپنے قیمتی سامان اور امانتیں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے آپ ﷺ کے پاس رکھوا دیتے تھے۔ اسی راست بازی اور دیانت داری سے متاثر ہو کر سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو اپنے تجارتی مال کا نگران بنایا اور بعد میں آپ ﷺ کو نکاح کا پیغام بھیجا۔
حلف الفضول (مظلوموں کی امداد کا معاہدہ):
عرب میں روزمرہ کے جھگڑوں اور جنگِ فجار کی تباہ کاریوں کے بعد، مکہ کے کچھ صاحبِ حمیت لوگوں نے مظلوموں کی حمایت کے لیے ایک تاریخی معاہدہ کیا جسے "حلف الفضول" کہا جاتا ہے۔ ۲۰ سال کی عمر مبارک میں حضور ﷺ نے بھی اس معاہدے میں شرکت فرمائی۔ اس معاہدے کا مقصد مکہ میں ہر مظلوم کی مدد کرنا اور ظالم کا ہاتھ روکنا تھا۔ آپ ﷺ اعلانِ نبوت کے بعد بھی فرمایا کرتے تھے کہ اگر اسلام میں بھی مجھے ایسے معاہدے کے لیے بلایا جائے تو میں خوشی سے قبول کروں گا۔
نصبِ حجرِ اسود کا واقعہ:
آپ ﷺ کی عمر مبارک جب تقریباً ۳۵ سال ہوئی، تو سیلاب کی وجہ سے خانہ کعبہ کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ قریش نے کعبہ کی دوبارہ تعمیر کی۔ لیکن جب "حجرِ اسود" کو اس کے مقام پر رکھنے کا وقت آیا، تو تمام قبائل کے درمیان سخت اختلاف پیدا ہو گیا اور تلواریں نکل آئیں۔ طے یہ پایا کہ کل صبح جو شخص سب سے پہلے حرم میں داخل ہوگا، وہی فیصلہ کرے گا۔ اگلے دن سب سے پہلے داخل ہونے والی شخصیت حضور اکرم ﷺ تھے۔ آپ ﷺ کو دیکھ کر سب پکار اٹھے: "یہ امین ہیں، ہم ان کے فیصلے پر راضی ہیں۔" آپ ﷺ نے ایک چادر پر حجرِ اسود رکھا اور تمام قبائل کے سرداروں سے چادر کے کونے اٹھوا کر حجرِ اسود کو اس کی جگہ پر نصب فرما دیا اور ایک عظیم خونریز جنگ کو ٹال دیا۔
اوصافِ حمیدہ اور معاشرتی مقام:
عہدِ شباب میں آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی حلم، حیا، بردباری اور ہمدردی کا شاہکار تھی۔ آپ ﷺ غریبوں کی مدد فرماتے، مہمانوں کی خاطرداری کرتے، بے کسوں کا بوجھ اٹھاتے اور حق بات کے لیے ہمیشہ ڈٹ جاتے۔ مکہ کا پورا معاشرہ آپ ﷺ کی حکمت، تدبر اور اخلاقِ حسنہ کا معترف تھا۔
نتیجہ:
رسولِ اکرم ﷺ کا عہدِ شباب اس بات کی روشن دلیل ہے کہ بعثتِ مبارکہ سے قبل ہی آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی صداقت، امانت اور اخلاق حسنہ کی وہ معراج حاصل کر چکی تھی جس کی مثال تاریخِ عالم میں نہیں ملتی۔ آپ ﷺ کا یہ بے داغ اور مطہر شباب آئندہ آنے والے دورِ رسالت کے لیے ایک مستحکم بنیاد بن چکا تھا، جس نے دوست اور دشمن دونوں پر یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں کر دی کہ آپ ﷺ ہی کائنات کی ہدایت اور قیادت کے لیے منتخب کردہ آخری اور کامل ہستی ہیں۔
ترتیب و تدوین:
حافظ محمد عاصم نور
ڈائریکٹر:سیرت اکیڈمی انٹرنیشنل