Raah-e-Islaam

Raah-e-Islaam

Share

پیارے بہن بھائیوں مجھے ساتھ ساتھ فولو کرو مجھے اچھے نیک لوگوں کی ضرورت ہے ۔۔
Follow 👍🏻 Like 👍🏻

30/01/2025

Maaa

22/06/2024

بسم الله الرحمن الرحیم!!!
💥۔مولوی ہرگز نہ شُد مولائے روؔم
تا غلام ِ شمس تبریزی نہ شد!

💥۔مولوی کبھی بھی مولائے روؔم نہ ہوتا
اگر حضرت شمس الدین تبریزی کا مرید نہ ہوتا

حضرت شاہ شمس تبریز رح مولانا جلال الدین رومی رح کے پیر و مرشد تھے.. یہ ان دنوں کا واقعہ ھے جب مولانا رومی شاہ شمس سے واقف کار نہ تھے،
ایک دن شاہ شمس تبریز مولانا رومی کے مکتب جا پہنچے، وھاں مولانا رومی بیٹھے کچھ کتابوں کا مطالعہ کررھے تھے تو شاہ شمس نے ان سے پوچھا "ایں چیست..؟" (یہ کیا ھے..)مولانا رومی نے ان کو کوئی عام ملنگ سمجھ کر جواب دیا " ایں آں علم است کہ تو نمی دانی" ( یہ وہ علم ھے جسکو تو نہیں جانتا)
شاہ شمس یہ جواب سن کر چپ رھے
تھوڑی دیر بعد مولانا رومی کسی کام سے اندر کسی جگہ گئے، واپس آۓ تو اپنی وہ نادر و نایاب کتابیں غائب پائیں، چونکہ شاہ شمس وھیں بیٹھے تھے تو ان سے پوچھا، شاہ شمس نے مکتب کے اندر کے پانی کے تالاب کی طرف اشارہ کیا اور کہا " میں نے اس میں ڈال دیں "یہ سن کر مولانا رومی حیران و پریشان رہ گئے، جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں، اتنی قیمتی کتابوں کے ضائع ھونے کا احساس انکو مارے جارھا تھا، تب کتابیں کچی سیاھی سے ھاتھ سے لکھی جاتی تھیں، پانی میں ڈلنے سے ان کی سب سیاھی دھل جاتی تھی، شاہ شمس سے دکھ زدہ لہجے میں بولے، میرے اتنے قیمتی نسخے ضائع کردیٸے،
شاہ شمس انکی حالت دیکھ کر مسکراۓ اور بولے، اتنا کیوں گبھرا گئے ھو ابھی نکال دیتا ھوں یہ کہہ کر شاہ شمس اٹھے اور تالاب سے ساری کتابیں نکال کر مولانا رومی کے آگے ڈھیر کردیں، یہ دیکھ کر مولانا رومی کی حیرت کی انتہا نہ رھی کہ سب کتابیں بلکل خشک ھیں،
مولانا چلا اٹھے ”ایں چیست..؟“ (یہ کیا ھے..)
شاہ شمس نے جواب دیا " ایں آں علم است کہ تو نمی دانی"( یہ وہ علم ھے جسکو تو نہیں جانتا)
یہ کہ کر شاہ شمس چل پڑے ادھر مولانا رومی کے اندر کی دنیا جیسے الٹ پلٹ چکی تھی اپنی دستار پھینک کر شاہ شمس تبریز کے پیچھے بھاگے اور جا کر ان کے پاؤں میں گرپڑے کہ خدا کے لیٸے مجھے معاف کردیجیٸے اور مجھے اپنے قدموں میں جگہ دیجیے“
شاہ شمس نے انہیں اٹھا کر سینے سے لگایا اور کہا ”میں تو خود ایک عرصے سے تیری تلاش میں تھا...🙏

18/06/2024

السلام علیکم ورحمتہ اللّٰہ وبرکاتہ
صلی اللّٰہ علی محمد
صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم
آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو میری طرف سے دل سے عید مبارک اللہ پاک ایسی خوشیوں سے ہزاروں عیدیں آپ کی زندگی میں لاۓ آپ ہمیشہ مسکراتے رہے کبھی کوئی غم آپ کی زندگی میں نہ آۓ ❤️
اللہ پاک آپ کو زیارت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مرشد کریم کے ساتھ چل مدینہ کی سعادت نصیب فرمائے آمین آمین آمین اللھم آمین 🤲🤲🤲

27/05/2024

وہ کون سے صحابی ؓ ہیں
جن کا آج بھی مدینہ منورہ میں بینک اکاؤنٹ
موجود ہے؟
تفصیل اگلی پوسٹ میں

27/05/2024

یہ جان کر آپ کو حیرت ہو گی کہ مدینہ منورہ کی میونسپلٹی میں تیسرے خلیفہ راشد سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر باقاعدہ جائیداد رجسٹرڈ ہے اور آج بھی ان کے نام پر بجلی اور پانی کا بل آتا ہے، اب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی ملکیت میں ایک ہوٹل قائم کیا جارہا ہے ، یہ انتہائی دلچسپ کہانی ہے جسے سنانے سے پہلے آپ کو اس کا بیک گراونڈ بتانا ضروری ہے۔
آپ نے درسی کتابوں میں بھی مدینہ منورہ میں حضرت عثمان کی جانب سے ایک یہودی سے پانی کا کنواں خریدنے کے بارے میں سن رکھا ہوگا۔ اس کی کہانی کچھ یوں ہے کہ نبوت کے تیرہوں سال میں جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے تو وہاں پینے کے پانی کی بہت قلت تھی ،مدینہ منورہ میں ایک یہودی کا کنواں تھا جو مسلمانوں کو پانی مہنگے داموں فروخت کرتا۔۔ اس کنویں کا نام "بئرِ رومہ" یعنی رومہ کا کنواں تھااور پریشانی کے عالم میں مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی ، اللہ کے نبی نے فرمایا "کون ہے جو یہ کنواں خریدے اور مسلمانوں کے لیے وقف کر دے؟ ایسا کرنے پر اللہ تعالیٰ اسے جنت میں چشمہ عطاءکرے گا۔
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اس یہودی کے پاس گئے اور کنواں خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا، کنواں چونکہ منافع بخش آمدنی کا ذریعہ تھا اس لیے یہودی نے اسے فروخت کرنے سے انکار کر دیا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ تدبیر کی کہ پورا کنواں نہ سہی، آدھا فروخت کر دو۔۔۔ آدھا کنواں فروخت کرنے پر ایک دن کنویں کا پانی تمہارا ہو گا اور دوسرے دن میرا ہو گا۔۔یہودی ان کی اس پیشکش پر لالچ میں آ گیا۔۔۔ اس نے سوچا کہ حضرت عثمان اپنے دن میں پانی مہنگے داموں فرخت کریں گے، اس طرح اسے بھی زیادہ منافع کمانے کا موقع مل جائے گا۔۔ چنانچہ اس نے آدھا کنواں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فروخت کر دیا۔
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے وہ کنواں اللہ کی رضا کے لئے وقف کر کے اپنے دن مسلمانوں کو کنویں سے مفت پانی حاصل کرنے کی اجازت دے دی، لوگ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دن مفت پانی حاصل کرتے اور اگلے دن کے لئے بھی ذخیرہ کر لیتے۔۔ یہودی کے دن کوئی بھی شخص پانی خریدنے نہ جاتا۔یہودی نے دیکھا کہ اس کی تجارت ماند پڑ گئی ہے تو اس نے حضرت عثمان سے باقی آدھا کنواں بھی خریدنے کی پیشکش کر دی جس پر حضرت عثمان راضی ہو گئے اور کم و بیش پینتیس ہزار درہم میں پورا کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا۔
اس دوران ایک مالدار آدمی نے عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو کنواں دوگنا قیمت پر خریدنے کی پیش کش کی، حضرت عثمان نے فرمایا کہ "مجھے اس سے کہیں زیادہ کی پیش کش ہے"تو وہ شخص بھی اپنی پیشکش بڑھاتاچلاگیااور حضرت عثمان یہی جواب دیتے رہے۔یہاں تک اس آدمی نے کہا کہ "حضرت آخر کون ہے جو آپ کو دس گنا دینے کی پیش کش کر رہا ہے؟"سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ’میرا رب مجھے ایک نیکی پر دس گنا اجر دینے کی پیش کش کرتا ہے۔
وقت گزرتا گیا اور یہ کنواں مسلمانوں کو سیراب کرتا رہا یہاں تک کہ عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں اس کنویں کے اردگرد کھجوروں کا باغ بن گیا اور اسی دور میں ہی اس باغ کی دیکھ بھال ہوئی۔بعد ازاں آلِ سعود کے عہد میں اس باغ میں کھجور کے درختوں کی تعداد تقریباً پندرہ سو پچاس ہو گئی۔حکومتِ وقت نے اس باغ کے گرد چاردیواری بنوائی اور یہ جگہ میونسپلٹی میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر رجسٹرڈ کر دی۔وزارتِ زراعت یہاں کی کھجوریں بازار میں فروخت کرتی اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کچھ آمدنی غریبوں میں اور کچھ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر بینک میں جمع کرواتی رہی۔ یہ سلسلہ سالوں تک جاری رہا اورچلتے چلتے اس اکاونٹ میں اتنی رقم جمع ہو گئی کہ مدینہ منورہ کے مرکزی علاقہ میں اس باغ کی آمدنی سے ایک کشادہ پلاٹ لیا گیا جہاں فندق عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام سے ایک رہائشی ہوٹل تعمیر کیا جارہا ہے۔ یہ ایک لگژری ہوٹل ہے جس پر گزشتہ کچھ برسوں سے تعمیراتی کام کا سلسلہ جاری ہے اور آنے والے کچھ وقت میں اس کی تعمیر مکمل ہوجائے گی اور اسے عوام کیلئے کھول دیا جائے گا۔ اس رہائشی ہوٹل سے سالانہ پچاس ملین ریال آمدنی متوقع ہے جس کا آدھا حصہ غریبوں اور مسکینوں کی کفالت اور باقی آدھا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بینک اکاونٹ میں جمع ہوگا۔
ذوالنورین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے اس عمل اور خلوصِ نیت کو اللہ رب العزت نے اپنی بارگاہ میں ایسے قبول فرمایا اور اس میں اتنی برکت عطا فرمائی کہ قیامت تک ان کے لیے صدقہ جاریہ بنا دیا۔حضرت عثمان کا اکاوٗنٹ یہاں بھی موجود ہے اور وہاں بھی موجود ہے جہاں ہم سب کو بالآخر جانا ہی ہے ، یہی وہ لوگ ہیں جن کی جانیں اور مال اللہ تعالیٰ نے اپنی جنتوں کے بدلے خرید لئے،یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ تجارت کی،جنہوں نے اللہ عزوجل کو قرض دیا، اچھا قرض اور پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں کئی گنا بڑھا کر لوٹایا۔

27/05/2024

جس وقت یورپ میں عورت کےلیے انجیل کو ہاتھ لگانا حرام تھا اور یورپ عورت کو نجس سمجھتا تھا اس وقت قرطبہ کے صرف ایک محلے میں 170 خواتین قرآن کی کاپیاں لکھ رہی تھیں.
علامہ امام حافظ بن عساکر(متوفی 571ہجری)نے اپنے علم حاصل کرنے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے 80 سے زیادہ خواتین سے علم حاصل کیا.
حدیث روایت کرنے والی صحابیات کی تعداد 216 ہے، جبکہ صحاح ستہ میں 2764 خواتین راویوں کا ذکر ہے.
جس وقت عالم اسلام میں خواتین تفسیر حدیث اور فقہ میں شاندار کتابیں لکھ رہیں تھیں، درس تدریس کر رہیں تھیں یورپ میں عورتوں کو جادوگرنی کہہ کر زندہ جلایا جا تا تھا، کم از کم 6 لاکھ عورتوں کو یورپ میں زندہ جلایا گیا.
اب یورپ عورت کے حقوق کی بات کرتا ہے اور مسلمانوں کو عورت کے حقوق کا درس دیتا ہے!!

12/05/2024

Maali halat se preshan na hon | Ajmal Raza Qadri best bayan | Ajmal Raza Qadri

12/05/2024

Maldar Shakhs Aur Ek Nagin Ka Waqia | peer ajmal raza qadri

10/05/2024

Khwaja Moinuddin Chishti Ajmeri Aur Ek Isai Nujawan Ka Waqia.by Peer Ajmal Raza Qadri

09/05/2024

Hazrat Junaid Baghdadi Ka Waqia | Ajmal Raza Qadri | Emotional Bayan 2024

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Lahore
54000