07/09/2025
سورج اور چاند گرہن کی حقیقت
Education, mannerism, research,articulation,
and work for ummah by institute
07/09/2025
سورج اور چاند گرہن کی حقیقت
07/09/2025
7 ستمبر 1974 یوم ختم نبوت
آئین پاکستان میں قادیانیوں کی حیثیت 7ستمبر 1974
کو قادیانیوں سے متعلق درج ذیل باتوں کو واضح طور پر آئین پاکستان کا حصہ بنا دیا گیا
✨الحکمة انٹر نیشنل لاہور پاکستان
,
19/07/2025
کیا قیامت قریب ہے ؟
10 روزہ آن لائن فری ورکشاپ
رجسٹریشن لنک 👇👇
https://docs.google.com/forms/d/1OT2kQSg8OYrHTeL_C7R_R8Y7cYGl4CivfSP61cctvvo/viewform
20/06/2025
*الحکمہ انٹرنیشنل کے زیر اہتمام*
🩷 **آن لائن سمر کورس* 🩷
*رجسٹریشن فارم*👇👇
https://docs.google.com/forms/d/1TPbE88C62rRU1jI-CgDXf3h7WqSDsoUxr5_KoNQQI-o/viewform
14/04/2025
✨ تفہیمِ قرآن و حدیث کورس ✨
(الحکمۃ انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
🌟 قرآن و سنت کو سمجھیں، زندگی کو بدلیں! 🌟
🌸 کورس کا تعارف:
الحکمۃ انٹرنیشنل قرآن و سنت کی تعلیم دے رہا ہے۔ رمضان کے بعد آپ کے لیے شریعت میں جہاد کی اہمیت جاننے کا نادر موقع… ✨
📅 کورس کی تفصیلات:
🗓 آغاز: 18 اپریل 2025
⏳ مدت: دو ماہ (خصوصی ویک اینڈ کلاسز)
📅 ایام: جمعہ، ہفتہ، اتوار
🕘 وقت: رات 9:00 تا 10:00 بجے
💻 پلیٹ فارم: Zoom
🌟 زیرِ سرپرستی:
قاری شفیق الرحمن زاہد صاحب
(ڈائریکٹر، الحکمۃ انٹرنیشنل)
🌟 زیرِ نگرانی:
شیخ ابو انس مختار مدنی صاحب
(نائب شیخ الحدیث، ستیانہ بنگلہ، فیصل آباد)
🌸 مدرسین:
حافظ اسرار عتیق
حافظ شعیب جبار
📜 نصاب میں شامل:
💟 سورۃ الانفال و سورۃ التوبہ
💟 نُخبۃُ الصّحیحین
💟 مسنون دعائیں و اذکار
💟 روزمرہ کے فقہی مسائل
✨ رجسٹریشن کروائیں! ✨
لنک پر کلک کریں 👇👇👇
https://docs.google.com/forms/d/1zKR42KjkzziLf2XKa-vG2f0ZthXE_9i8XxrU65Q2VWw/viewform
📞 مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں:
03075495199
03042618772
"اس کورس کو دوسروں تک پہنچائیں، تاکہ علم کا چراغ جلے اور آپ کا عمل صدقہ جاریہ بنے۔"
16/03/2025
رمضان المبارک کی برکتوں سے فیض یاب ہوں! 🌙✨
📖 الحکمہ انٹرنیشنل کے زیر اہتمام 18 رمضان سے 28 رمضان تک ایک آن لائن کورس منعقد کیا جا رہا ہے:
📚 پارہ نمبر 30 کا مکمل ترجمہ و تفسیر
💡 قرآن کو سمجھنے کا سنہری موقع
⏳ روزانہ صرف ایک گھنٹے کی کلاس
💰 بالکل مفت
📢 رابطہ کریں اور رجسٹریشن کروائیں:
📞 03075495199 – حافظ اسرار عتیق (ریسرچ اسکالر، الحکمہ انٹرنیشنل لاہور)
📞 03042618772 – حافظ شعیب جبار (ریسرچ اسکالر، الحکمہ انٹرنیشنل لاہور)
🔹 اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ آپ اور آپ کے عزیز اس بابرکت ساتوں میں قرآن کریم سے مستفید ہو سکیں۔
25/01/2023
https://www.facebook.com/photo/?fbid=216390707404844&set=a.203028672074381
احسان اللہ
اسلام میں عبادت کا مفہوم
ایک مسلمان کو مسلم بن جانے کے بعداپنی زندگی کو اللہ اور اس کےآخری رسول ﷺکے بتائے ہوئےنظام کےمطابق گزارنا ضروری ہوجاتاہے۔جسے ہم اصطلاح میں عبادت کہتے ہیں ۔انسانی زندگی کے دو پہلو ہیں ایک انفرادی دوسرا اجتماعی انفرادی مطلب جس کا تعلق ایک فرد سےیا انسان کی ذات سے ہے ۔اور اجتماعی کا مطلب جس کا تعلق ایک سےزائدانسانوں یا معاشرے سے ہے۔اگر ایک مسلمان اپنی انفرادی زندگی کو اللہ اور اس کے آخری رسولﷺ کے نظام کے مطابق گزارتاہے لیکن اپنی اجتماعی زندگی کو اللہ اور اس کے آخری رسولﷺ کےنظام کے مطابق نہیں گزار تا یا یہاں نظام کو ماننے سے انکار کر دیتاہے تو گویا اس نے زندگی کے ایک پہلو میں تو اللہ کی عبادت کی لیکن دوسرے پہلو میں اللہ کی عبادت کو چھوڑ دیا یا اس کا انکار کر دیا۔اس نے مسلم ہونے کو سمجھا ہی نہیں۔
ایک مسلمان جس طرح انفرادی زندگی میں اللہ کی بند گی کرتا ہے مثلا عقیدۃ میں وہ شرک نہیں کرتا اللہ کا حکم سمجھ کر وہ نماز،روزہ،حج ،زکاۃوصدکات ان احکام پر عمل کرتاہے اللہ کا حکم سمجھ کر وہ اپنے اخلاق کودرست کرتاہے تزکیہ کرتا ہے اللہ کا حکم سمجھ کر تو اسی طرح وہ اجتماعی زند گی میں بھی اللہ کی بند گی کرتا ہےوہ اپنے ہمسایوں اورخاندان سے اچھا تعلق رکھتا ہے اللہ کا حکم سمجھ کر وہ کاروبار میں ایمان داری اورعدل وانصاف کرتا ہے اللہ کا حکم سمجھ کروہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نازل کردہ اجتماعی نظام نافز کرتا ہے وہ سیاست کرتا ہے اللہ کے نظام کے مطابق، عدالت میں فیصلے کرتا ہے اللہ کے نظام کے مطابق ، فوج تیار کرتاہے اللہ کے نظام کے مطابق،غیر مسلموں سےتعلقات رکھتا ہے اللہ کے نظام کے مطابق الغرض وہ اپنی ساری زندگی کو اللہ اور اس کے آخری رسول ﷺکےبتائے ہوئے طریقے(نظام) کےمطابق گزارتاہے اسے کہتے ہیں عبادت کرنا بندگی کرنا اللہ کی غلامی کرنا۔
ایک مسلمان مسلم ہونے کے بعداپنےافکارونظریات ،عقائد،عبادات،رسومات،اخلاقیات،سیاسیات،معاشرت ،معیشت الغرض زندگی کےکسی پہلو میں بھی اپنی مرضی نہیں کرسکتا اپنی خواہشات کو اللہ اور اس کے آخری رسولﷺ کے تابع کرنے کے بعد ہی وہ صحیح معنوں میں مسلم بنتا ہےاور اللہ کی صحیح معنوں میں عبادت کرتاہے ۔ آج مسلمانوں کو مسلم کا معنی اور عبادت کا صحیح مفہوم سمجھا نے کی ضرورت ہے جس سے وہ مغربی الحادی فتنوں سے بچ کر صحیح معنوں میں اللہ کی بند گی کرسکیں ۔ See less
احسان اللہ
اسلام میں عبادت کا مفہوم
ایک مسلمان کو مسلم بن جانے کے بعداپنی زندگی کو اللہ اور اس کےآخری رسول ﷺکے بتائے ہوئےنظام کےمطابق گزارنا ضروری ہوجاتاہے۔جسے ہم اصطلاح میں عبادت کہتے ہیں ۔انسانی زندگی کے دو پہلو ہیں ایک انفرادی دوسرا اجتماعی انفرادی مطلب جس کا تعلق ایک فرد سےیا انسان کی ذات سے ہے ۔اور اجتماعی کا مطلب جس کا تعلق ایک سےزائدانسانوں یا معاشرے سے ہے۔اگر ایک مسلمان اپنی انفرادی زندگی کو اللہ اور اس کے آخری رسولﷺ کے نظام کے مطابق گزارتاہے لیکن اپنی اجتماعی زندگی کو اللہ اور اس کے آخری رسولﷺ کےنظام کے مطابق نہیں گزار تا یا یہاں نظام کو ماننے سے انکار کر دیتاہے تو گویا اس نے زندگی کے ایک پہلو میں تو اللہ کی عبادت کی لیکن دوسرے پہلو میں اللہ کی عبادت کو چھوڑ دیا یا اس کا انکار کر دیا۔اس نے مسلم ہونے کو سمجھا ہی نہیں۔
ایک مسلمان جس طرح انفرادی زندگی میں اللہ کی بند گی کرتا ہے مثلا عقیدۃ میں وہ شرک نہیں کرتا اللہ کا حکم سمجھ کر وہ نماز،روزہ،حج ،زکاۃوصدکات ان احکام پر عمل کرتاہے اللہ کا حکم سمجھ کر وہ اپنے اخلاق کودرست کرتاہے تزکیہ کرتا ہے اللہ کا حکم سمجھ کر تو اسی طرح وہ اجتماعی زند گی میں بھی اللہ کی بند گی کرتا ہےوہ اپنے ہمسایوں اورخاندان سے اچھا تعلق رکھتا ہے اللہ کا حکم سمجھ کر وہ کاروبار میں ایمان داری اورعدل وانصاف کرتا ہے اللہ کا حکم سمجھ کروہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نازل کردہ اجتماعی نظام نافز کرتا ہے وہ سیاست کرتا ہے اللہ کے نظام کے مطابق، عدالت میں فیصلے کرتا ہے اللہ کے نظام کے مطابق ، فوج تیار کرتاہے اللہ کے نظام کے مطابق،غیر مسلموں سےتعلقات رکھتا ہے اللہ کے نظام کے مطابق الغرض وہ اپنی ساری زندگی کو اللہ اور اس کے آخری رسول ﷺکےبتائے ہوئے طریقے(نظام) کےمطابق گزارتاہے اسے کہتے ہیں عبادت کرنا بندگی کرنا اللہ کی غلامی کرنا۔
ایک مسلمان مسلم ہونے کے بعداپنےافکارونظریات ،عقائد،عبادات،رسومات،اخلاقیات،سیاسیات،معاشرت ،معیشت الغرض زندگی کےکسی پہلو میں بھی اپنی مرضی نہیں کرسکتا اپنی خواہشات کو اللہ اور اس کے آخری رسولﷺ کے تابع کرنے کے بعد ہی وہ صحیح معنوں میں مسلم بنتا ہےاور اللہ کی صحیح معنوں میں عبادت کرتاہے ۔ آج مسلمانوں کو مسلم کا معنی اور عبادت کا صحیح مفہوم سمجھا نے کی ضرورت ہے جس سے وہ مغربی الحادی فتنوں سے بچ کر صحیح معنوں میں اللہ کی بند گی کرسکیں ۔
25/01/2023
https://www.facebook.com/photo/?fbid=216554650721783&set=a.203028672074381
نیکی کا تصور
ایک لبرل کے نزدیک نیکی کا تصور صرف مسجد تک محدود ہوتا ہے اور کلی طور پر وہ نیکی کو اجتماعیات سے نکال دیتے ہیں جس طرح آج یورپ کے اندر مسلمانوں کی حالت ہے لیکن لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ہمارے اندر کچھ اس قسم کے بھی مذہبی لوگ پائے جاتے ہیں کہ جنہوں نے چند محدود چیزوں تک اسلام کو مقید کر رکھا ہے مثلا رفع الیدین یا پھر فاتحہ خلف الامام کے مسئلہ کو لے کر آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں اگر کوئی خطیب ممبر پر کھڑے ہوکر اسلامی سیاست یا خلافت کا نام لے تو اسے لوگ کہتے ہیں مولوی کا کیا کام ان چیزوں سے یعنی ہم نے لوگوں کو اس سوچ پر کھڑا کردیا کہ وہ اسلام کا سیاست سے کوئی تعلق ہی نہیں سمجھتے بقول اقبال
٫٫جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی,,
جبکہ اجتماعیات کا شعور آج ہماری سب سے بڑی زمہ داری تھی جسے ہم نے پس پشت ڈال رکھا ہے اور یہ بات یاد رکھیں کہ جب تک یہ شعور پیدا نہیں ہوتا اس وقت تک اسلامی نظام یا پھر اسلامی قوانین کا نفاذ محال ہے۔
کاشف ضیاء
نیکی کا تصور
ایک لبرل کے نزدیک نیکی کا تصور صرف مسجد تک محدود ہوتا ہے اور کلی طور پر وہ نیکی کو اجتماعیات سے نکال دیتے ہیں جس طرح آج یورپ کے اندر مسلمانوں کی حالت ہے لیکن لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ہمارے اندر کچھ اس قسم کے بھی مذہبی لوگ پائے جاتے ہیں کہ جنہوں نے چند محدود چیزوں تک اسلام کو مقید کر رکھا ہے مثلا رفع الیدین یا پھر فاتحہ خلف الامام کے مسئلہ کو لے کر آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں اگر کوئی خطیب ممبر پر کھڑے ہوکر اسلامی سیاست یا خلافت کا نام لے تو اسے لوگ کہتے ہیں مولوی کا کیا کام ان چیزوں سے یعنی ہم نے لوگوں کو اس سوچ پر کھڑا کردیا کہ وہ اسلام کا سیاست سے کوئی تعلق ہی نہیں سمجھتے بقول اقبال
٫٫جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی,,
جبکہ اجتماعیات کا شعور آج ہماری سب سے بڑی زمہ داری تھی جسے ہم نے پس پشت ڈال رکھا ہے اور یہ بات یاد رکھیں کہ جب تک یہ شعور پیدا نہیں ہوتا اس وقت تک اسلامی نظام یا پھر اسلامی قوانین کا نفاذ محال ہے۔
کاشف ضیاء
04/01/2023
مثبت کلام کا شخصیت پر اثر
از قلم : خلیل الرحمٰن
لندن میں، آپریشن سے دو گھنٹے پہلے مریض کے کمرے میں ایک نرس داخل ہوئی اور وہاں کمرے میں رکھےہوئے گلدستے کو سنوارنے اور درست کرنے لگ گئی۔
ایسے میں جب کہ وہ اپنے پورے انہماک کے ساتھ اپنے اس کام میں مشغول تھی، اس نے اچانک ہ ی مریض سے پوچھ لیا:
سر کونسا ڈاکٹر آپ کا آپریشن کر رہا ہے؟مریض نے نقاہت کی حالت میں، نرس کو دیکھے بغیر ہی اچاٹ سے لہجے میں کہا: ڈاکٹر جِبسن۔
نرس نے حیرت کے ساتھ ڈاکٹر کا نام سنا اور اپنا کام چھوڑتےہوئے، مریض سے قریب ہوکر پوچھا: سر، کیا واقعی ڈاکٹر جِبسن نے آپ کا آپریشن کرنا قبول کر لیا ہے؟
مریض نے کہا: جی، میرا آپریشن وہ ہی کر رہے ہیں۔
*
نرس نے کہا: بہت ہی عجیب بات ہے، مجھے یقین نہیں آ رہا۔
مریض نے پریشان ہوتے ہوئے پوچھا: مگر اس میں ایسی کونسی عجیب بات ہے؟
نرس نے کہا: دراصل اس ڈاکٹر نے اب تک ہزاروں آپریشن کیے ہیں۔ان کے آپریشن میں کامیابی کا تناسب سو فیصد ہے۔ ان کی شدید مصروفیت کی بناء پر، ان سے وقت لینا انتہائی دشوار ہوتا ہے۔ میں اسی لئے حیران ہو رہی ہوں کہ آپ کو کس طرح ان سے وقت مل گیا ہے؟.
*
مریض نے ایک طمانیت کے ساتھ نرس سے کہا بہرحال، یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے ڈاکٹر جِبسن سے وقت ملا ہے اور وہی میرا آپریشن کر رہے ہیں۔
نرس نے ایک بار اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ: یقین جانیئے میری حیرت ابھی تک برقرار ھے کہ اس دنیا کا سب سے اچھا ڈاکٹر آپ کا آپریشن کرے گا!!
اس گفتگو کے بعدمریض کو آپریشن تھیٹر پہنچایا گیا، مریض کا کامیاب آپریشن ہوا اور اب مریض بخیروعافیت ہنسی خوشی اپنی زندگی گزار رہا ہے۔۔۔۔
*
ایک بات جو بتانے والی ہے وہ یہ کہ مریض کے کمرے میں آنے والی عورت کوئی عام نرس نہیں بلکہ اسی ہسپتال کی ایک ماہر نفسیات لیڈی ڈاکٹر تھی جس کا کام مریضوں کو ذہنی اور نفسیاتی طور پر آپریشن کے لیےے، کچھ ایسے طریقے سے تیار اور مطمیئن کرنا تھا جس کی طرف مریض کا شک بھی نہ جا سکے.
**
اس بار اس لیڈی ڈاکٹر نے اپنا کام نرس کی یونیفارم میں مریض کے کمرے میں رکھے گلدستے کو سنوارتے سنوارتے کر دیا تھا اور مریض کے دل و دماغ میں یہ بات بہت ہی خوبصورتی سے بٹھا دی تھی کہ جو ڈاکٹر اس کا آپریشن کرے گا وہ دنیا کا مشہور اور کامیاب ترین ڈاکٹر ہے جس کا ہر آپریشن ایک کامیاب آپریشن ہوتا ہے ۔ ان سب باتوں سے مریض بذات خود ایک مثبت انداز میں بہتری کی طرف لوٹ آیا۔
*
امید اور اچھا احساس دلانا اور مثبت سوچنے پر مجبور کرنےکے لیے آپ کا ماہر نفسیات ہونا ضروری نہیں
*
کسی مایوس شخص کو تسلی اور خوش امیدی کے دو بول جادوئی اثر اور وہ توانائی دیتے ہیں جو کسی دوا میں نہیں۔ اس لیے ہمیشہ اچھا بولیں۔ دوسروں کو نئی امید دلائیے۔۔۔
*
شاید آپکے چند خوبصورت الفاظ کسی کو دوبارہ زندگی کی طرف لوٹا دیں۔۔۔۔۔۔۔
04/01/2023
کرسمس میں شرکت کی شرعی حیثیت
ازقلم: زوہیب گلزار
کسی بھی مسلمان کے لئے کہیں بھی کسی بھی طرح کرسمس کا تہوار منانا یا اس کی کسی تقریب میں شرکت کرنا یا کسی طریقے سے اس کی مبارکباد دینا جائز نہیں ہے۔ سورۃ فرقان آیت نمبر 72 میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:
وَالَّـذِيْنَ لَا يَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَۙ وَاِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِـرَامًا
"وہ جھوٹ کی گواہی نہیں دیتے ، جب کسی لغو عمل سے ان کا گزر ہوتا ہے تو شرافت اور عزت وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔"
چوں کہ کرسمس کا تہوار بلا شبہ ایک جھوٹ ، باطل اور لغو عمل ہے۔لہذا مسلمانوں کا اس تہوار کو منانا یا اس کی تقریب میں شرکت کرنا یا اس کی مبارکباد دینا ، گویا کہ ایک جھوٹی بات کا اقرار اور گواہی دینا ہے ، ایک باطل رسم کو درست ٹھہرانا اور اس میں شریک ہونا ہے ، ایک لغو اور فضول کام میں شامل ہو کر ایمانی شان اور اسلامی وقار کو مجروح کرنا ہے۔
اس لئے کوئی بھی باغیرت مسلمان کہیں بھی کسی بھی طرح کرسمس کا تہوار نہیں منا سکتا اور نہ اس کی کسی تقریب میں شرکت کر سکتا ہے اور نہ کسی طریقے سے اس کی مبارکباد دے سکتا ہے۔امام ابن القيم رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ
”عیسائیوں کی عید پر انہیں مبارکباد پیش کرنا ایسے ہی ہے جیسے کسی کو صلیب کے آگے سجدہ کرنے پر مبارکباد پیش کرنا۔“|| أحكام أهل الذمة : ٢١١/٣ ]
اس لیے مسلمانوں کا عیسائیوں کے تہوار میں شرکت کرنا، ان کو تحائف دینا گویا کہ ان کے عقیدے کو اختیار کرنا ہے۔ ایک مسلمان ہونے کا تقاضہ یہ ہے کہ دین اسلام کو اختیار کیا جائے اور کفار کی مشابہت سے بچا جائے۔
04/01/2023
عیسائیت اور سائنس میں اختلاف کا تصور کب اور کیوں پیدا ہوا؟
از راقم ۔۔ اسحاق یوسف
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے تقریباً چار سو سال قبل یونان نے علم و حکمت میں خوب ترقی کی ۔ اس سر زمین میں افلاطون اور ارسطو جیسی نابغہ روزگار شخصیتوں نے جنم لیا۔ یہاں آ زادانہ غور وفکر اور تحقیق پر کوئی پابندی نہ تھی۔ چناچہ یونانی حکماء نے کائنات سے متعلق مختلف نظریات پیش کئے ۔ یہ لوگ اگرچہ اپنے فکر کو تجربی طریق سے ثابت کرنے کے عادی نہ تھے ۔جب قدیم یونانی سلطنت زوال پذیر ہوئی، تو سلطنت کے طول و عرض میں عیسائیت کے فروغ کے لیے راہ ہموار ہوگئی۔ مسیحی تحریک نے رفتہ رفتہ ایشیائے کوچک، قبرص، یونان، اٹلی، فرانس، اور برطانیہ وغیرہ ممالک پر بھی اپنا تسلط جما لیا۔ مسیحیوں نے مسیح کی تعلیمات کا حلیہ بگاڑ دیا۔ انہوں نے اپنی دنیاوی اغراض کی خاطر الہامی تعلیمات میں اپنی پسند نا پسند کے مطابق ترمیم و اضافہ بھی کیا۔
عیسائیت سازی کے دوران اہل کلیسا نے جہاں تحریف و اضافہ کیا وہاں یونانیوں کے بہت سے بے سرو یا تخیلات کو مذہبی تقدس کا رنگ دے کر انجیل کا حصہ بنا دیا ، پھر ان باتوں کو مسلمہ الہامی تعلیمات کے طور پر اپنے زیر اثر ممالک میں پھیلا یا گیا۔ کسی فرد کو ان تعلیمات پر بحث کرنے کی اجازت نہ تھی۔ وہ لوگ جو آزادانہ غور وفکر سے اپنے نظریات پیش کرتے جن میں مندرجہ باتیں انجیل کی تعلیمات سے متضاد ہوتیں ، ان کو سخت سزائیں دی جاتیں۔ جیسے جرمن سائنسدان کپلر کو خلاصہ نظام کو پر نیکس ، شائع کرنے کی پاداش میں کافر قرار دیا گیا۔ اٹلی کے مشہور فلسفی برو نوکو ، زندہ جلا دیا گیا۔
اہل کلیسا کے مظالم کے با وصف اہل سائنس نے اپنا کام جاری رکھا۔ بلا آخر مسیحیت نے سائنسدانوں کے بے پناہ عزم و اثبات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ۔ سائنس پورے طمطراق کے ساتھ میدان میں اتری اور مذہب کو علم و سائنس کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ تصور کرتے ہوئے مسترد کردیا گیا۔