25/01/2023
https://www.facebook.com/photo/?fbid=216554650721783&set=a.203028672074381
نیکی کا تصور
ایک لبرل کے نزدیک نیکی کا تصور صرف مسجد تک محدود ہوتا ہے اور کلی طور پر وہ نیکی کو اجتماعیات سے نکال دیتے ہیں جس طرح آج یورپ کے اندر مسلمانوں کی حالت ہے لیکن لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ہمارے اندر کچھ اس قسم کے بھی مذہبی لوگ پائے جاتے ہیں کہ جنہوں نے چند محدود چیزوں تک اسلام کو مقید کر رکھا ہے مثلا رفع الیدین یا پھر فاتحہ خلف الامام کے مسئلہ کو لے کر آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں اگر کوئی خطیب ممبر پر کھڑے ہوکر اسلامی سیاست یا خلافت کا نام لے تو اسے لوگ کہتے ہیں مولوی کا کیا کام ان چیزوں سے یعنی ہم نے لوگوں کو اس سوچ پر کھڑا کردیا کہ وہ اسلام کا سیاست سے کوئی تعلق ہی نہیں سمجھتے بقول اقبال
٫٫جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی,,
جبکہ اجتماعیات کا شعور آج ہماری سب سے بڑی زمہ داری تھی جسے ہم نے پس پشت ڈال رکھا ہے اور یہ بات یاد رکھیں کہ جب تک یہ شعور پیدا نہیں ہوتا اس وقت تک اسلامی نظام یا پھر اسلامی قوانین کا نفاذ محال ہے۔
کاشف ضیاء
نیکی کا تصور
ایک لبرل کے نزدیک نیکی کا تصور صرف مسجد تک محدود ہوتا ہے اور کلی طور پر وہ نیکی کو اجتماعیات سے نکال دیتے ہیں جس طرح آج یورپ کے اندر مسلمانوں کی حالت ہے لیکن لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ہمارے اندر کچھ اس قسم کے بھی مذہبی لوگ پائے جاتے ہیں کہ جنہوں نے چند محدود چیزوں تک اسلام کو مقید کر رکھا ہے مثلا رفع الیدین یا پھر فاتحہ خلف الامام کے مسئلہ کو لے کر آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں اگر کوئی خطیب ممبر پر کھڑے ہوکر اسلامی سیاست یا خلافت کا نام لے تو اسے لوگ کہتے ہیں مولوی کا کیا کام ان چیزوں سے یعنی ہم نے لوگوں کو اس سوچ پر کھڑا کردیا کہ وہ اسلام کا سیاست سے کوئی تعلق ہی نہیں سمجھتے بقول اقبال
٫٫جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی,,
جبکہ اجتماعیات کا شعور آج ہماری سب سے بڑی زمہ داری تھی جسے ہم نے پس پشت ڈال رکھا ہے اور یہ بات یاد رکھیں کہ جب تک یہ شعور پیدا نہیں ہوتا اس وقت تک اسلامی نظام یا پھر اسلامی قوانین کا نفاذ محال ہے۔
کاشف ضیاء