NexGen Educators

NexGen Educators

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from NexGen Educators, Tutor/Teacher, Johar Town, Punjab, Lahore.

🌟 Welcome to NexGen Educators: Code the Future, Teach the Unseen! 🌟

Calling all educators who believe teaching is more than a syllabus—it’s about preparing minds for the unpredictable!

#TeachTheUnseen #FutureBuilders #BeyondTheCurriculum

04/12/2025

سوال: بلوم ٹیکسانومی اصل میں ہے کیا؟ اور ہمارے روایتی طریقہ تدریس میں اس کا عملی استعمال کیسے ہو سکتا ہے؟

جواب: بلوم ٹیکسانومی کو آسان لفظوں میں ایک سیڑھی سمجھ لیں جو بتاتی ہے کہ بچے کا ذہن سیکھنے کے کس درجے پر ہے۔ سب سے نیچے یاد رکھنا، پھر سمجھنا، پھر استعمال کرنا، پھر تجزیہ کرنا، پھر جانچنا اور سب سے اوپر نئی چیز پیدا کرنا آتا ہے۔ کتابیں اسے کبھی سیکھنے کے مقاصد کی درجہ بندی کہتی ہیں اور کبھی نصاب سازی کا بنیادی اصول، اصل میں دونوں باتیں درست ہیں۔ نصاب انہی ذہنی درجوں کو سامنے رکھ کر بنتا ہے، اور روزانہ کی کلاس میں استاد انہی درجوں پر کام کرتا ہے۔ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں تدریس لکھوانے اور رٹوانے پر رک جاتی ہے، جبکہ نصاب بنانے والے اوپر والے درجوں کی بھی توقع رکھتے ہیں۔
روایتی کلاس میں اس کا اطلاق مشکل نہیں۔ استاد سب کچھ وہی کرتا ہے جو پہلے کرتا ہے، صرف زاویہ بدل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سبق پڑھاتے ہوئے اگر صرف یاد کرانا مقصد ہو تو بچہ جلد بور ہو جاتا ہے۔ اگر اسی سبق پر دو جملوں میں پوچھ لیا کہ یہ کیوں ہوا یا اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر کیا ہوتا، تو بچہ اگلے درجے یعنی سمجھنے اور سوچنے تک چلا جاتا ہے۔ یہی بلوم کا عملی استعمال ہے۔ اس میں کسی نئے اے وی ایڈ یا ٹیب کی ضرورت نہیں، صرف سوال بدلنے کی ضرورت ہے۔
عملی طور پر یہ یوں کام آتا ہے کہ استاد پہلے یہ طے کر لے کہ آج سبق سے بچہ کون سے درجے تک پہنچے گا۔ اگر بنیادی کلاس ہے تو "یاد رکھنا" اور "سمجھنا" کافی ہوتا ہے۔ درمیانی جماعتوں میں "استعمال کرنا" اور "تجزیہ" آہستہ آہستہ شامل ہو جاتا ہے۔ سارے درجے ایک ہی دن میں پورے کرنا ضروری نہیں۔ اصل ہنر یہ ہے کہ استاد کم سے کم ایک سطح اوپر کا سوال ضرور پوچھے تاکہ بچوں میں سوچنے کی صلاحیت بڑھے۔
بچوں اور اساتذہ دونوں کو اس کا فائدہ فوراً محسوس ہوتا ہے۔ کلاس میں گفتگو بڑھتی ہے، بچوں کو سبق رٹا نہیں لگتا اور استاد کو سمجھ آ جاتی ہے کہ کون سا بچہ کس درجے پر ہے۔ اس سے تدریس میں وہ خود اپنے طریقے ٹھیک کر لیتا ہے۔ بلوم ٹیکسانومی کوئی پیچیدہ فلسفہ نہیں، یہ صرف استاد کو یاد دلاتی ہے کہ سیکھنا رٹنے کا نام نہیں بلکہ ذہنی سیڑھی پر قدم بہ قدم آگے بڑھنے کا عمل ہے۔ اگلے قدم پر سوچنا تدریس کی روح ہے، اور یہی اس سوال: بلوم ٹیکسانومی اصل میں ہے کیا؟ اور ہمارے روایتی طریقہ تدریس میں اس کا عملی استعمال کیسے ہو سکتا ہے؟

جواب: بلوم ٹیکسانومی کو آسان لفظوں میں ایک سیڑھی سمجھ لیں جو بتاتی ہے کہ بچے کا ذہن سیکھنے کے کس درجے پر ہے۔ سب سے نیچے یاد رکھنا، پھر سمجھنا، پھر استعمال کرنا، پھر تجزیہ کرنا، پھر جانچنا اور سب سے اوپر نئی چیز پیدا کرنا آتا ہے۔ کتابیں اسے کبھی سیکھنے کے مقاصد کی درجہ بندی کہتی ہیں اور کبھی نصاب سازی کا بنیادی اصول، اصل میں دونوں باتیں درست ہیں۔ نصاب انہی ذہنی درجوں کو سامنے رکھ کر بنتا ہے، اور روزانہ کی کلاس میں استاد انہی درجوں پر کام کرتا ہے۔ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں تدریس لکھوانے اور رٹوانے پر رک جاتی ہے، جبکہ نصاب بنانے والے اوپر والے درجوں کی بھی توقع رکھتے ہیں۔
روایتی کلاس میں اس کا اطلاق مشکل نہیں۔ استاد سب کچھ وہی کرتا ہے جو پہلے کرتا ہے، صرف زاویہ بدل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سبق پڑھاتے ہوئے اگر صرف یاد کرانا مقصد ہو تو بچہ جلد بور ہو جاتا ہے۔ اگر اسی سبق پر دو جملوں میں پوچھ لیا کہ یہ کیوں ہوا یا اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر کیا ہوتا، تو بچہ اگلے درجے یعنی سمجھنے اور سوچنے تک چلا جاتا ہے۔ یہی بلوم کا عملی استعمال ہے۔ اس میں کسی نئے اے وی ایڈ یا ٹیب کی ضرورت نہیں، صرف سوال بدلنے کی ضرورت ہے۔
عملی طور پر یہ یوں کام آتا ہے کہ استاد پہلے یہ طے کر لے کہ آج سبق سے بچہ کون سے درجے تک پہنچے گا۔ اگر بنیادی کلاس ہے تو "یاد رکھنا" اور "سمجھنا" کافی ہوتا ہے۔ درمیانی جماعتوں میں "استعمال کرنا" اور "تجزیہ" آہستہ آہستہ شامل ہو جاتا ہے۔ سارے درجے ایک ہی دن میں پورے کرنا ضروری نہیں۔ اصل ہنر یہ ہے کہ استاد کم سے کم ایک سطح اوپر کا سوال ضرور پوچھے تاکہ بچوں میں سوچنے کی صلاحیت بڑھے۔
بچوں اور اساتذہ دونوں کو اس کا فائدہ فوراً محسوس ہوتا ہے۔ کلاس میں گفتگو بڑھتی ہے، بچوں کو سبق رٹا نہیں لگتا اور استاد کو سمجھ آ جاتی ہے کہ کون سا بچہ کس درجے پر ہے۔ اس سے تدریس میں وہ خود اپنے طریقے ٹھیک کر لیتا ہے۔ بلوم ٹیکسانومی کوئی پیچیدہ فلسفہ نہیں، یہ صرف استاد کو یاد دلاتی ہے کہ سیکھنا رٹنے کا نام نہیں بلکہ ذہنی سیڑھی پر قدم بہ قدم آگے بڑھنے کا عمل ہے۔ اگلے قدم پر سوچنا تدریس کی روح ہے، اور یہی اس کا سب سے قابل عمل حل ہے۔
(منصور اختر غوری)

#منصوراخترغوری #تعلیم سب سے قابل عمل حل ہے۔

Photos from NexGen Educators's post 11/02/2025

Alhamdolillah
Yesterday I had a wonderful "Item Development and Marking Session" with the faculty of LGS Group of Colleges LGS Group of Colleges at LGS College Township Lahore.
This session covered:
-Paper settings essentials
-Bloom's Taxonomy
-Cognitive Levels of Questions
-Difficulty Levels
-SLOs Based Teaching
-Assessment Framework
-Paper Presentation
-Paper Marking Essentials
-Marking Rubrics
-Marking Key
-Common Mistakes etc.
I am very grateful to the Principal Ma'am Asma Ali, and and Sir Hassan Ansari for coordinating this beautiful session.

Photos from NexGen Educators's post 08/02/2025

السلام علیکم
اگر ہمیں اپنی نسل کو آنے والے دور کے مطابق تیار کرنا ہے تو پہلے ہمیں خود کو آنے والے دور کے لئے تیار کرنا ہوگا۔ جدت کو اپنانا ہوگا، تبدیلی کو قبول کرنا ہوگا۔ گزشتہ شام برطانیہ اور ویتنام کے ادارے کی طرف سے ایک ورکشاب میں آن لائن شمولیت اختیار کی۔ سوچا آپ سے شیر کردوں۔
NexGen Educators EduVerse

Photos from NexGen Educators's post 02/02/2025

🌟 Successful Completion of "Paper Making & Marking Techniques 2025" Workshop! 🌟

Alhamdulillah! Today, I had the privilege of conducting a highly engaging Zoom training session on Paper Making & Marking Techniques 2025 for Islamic Studies & Tarjuma Tul Quran, specifically for Matric and Intermediate levels as per the Punjab Boards.

📚 Highlights:
✅ Training focused on essential skills like SLO-based paper design, Bloom’s Taxonomy application, rubrics, and error-free evaluation techniques.
✅ AI tools and efficient paper-making methods were shared for streamlined assessments.
✅ Full-length paper samples and critical analysis of previous board papers were part of the training.

👥 Participation:
We were joined by 24 esteemed teachers from across Pakistan, including representatives from renowned institutions such as PGC, KIPS, and Unique.

💡 Let's strive together to revolutionize assessment methods and enhance learning outcomes for students!

Photos from NexGen Educators's post 02/02/2025

Attended Meeting organized by for Global Expantion in Asia, It was very informative session by Corey and Tuan here from the hashtag Leadership Team

31/01/2025
Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

Johar Town, Punjab
Lahore
54000