04/12/2025
سوال: بلوم ٹیکسانومی اصل میں ہے کیا؟ اور ہمارے روایتی طریقہ تدریس میں اس کا عملی استعمال کیسے ہو سکتا ہے؟
جواب: بلوم ٹیکسانومی کو آسان لفظوں میں ایک سیڑھی سمجھ لیں جو بتاتی ہے کہ بچے کا ذہن سیکھنے کے کس درجے پر ہے۔ سب سے نیچے یاد رکھنا، پھر سمجھنا، پھر استعمال کرنا، پھر تجزیہ کرنا، پھر جانچنا اور سب سے اوپر نئی چیز پیدا کرنا آتا ہے۔ کتابیں اسے کبھی سیکھنے کے مقاصد کی درجہ بندی کہتی ہیں اور کبھی نصاب سازی کا بنیادی اصول، اصل میں دونوں باتیں درست ہیں۔ نصاب انہی ذہنی درجوں کو سامنے رکھ کر بنتا ہے، اور روزانہ کی کلاس میں استاد انہی درجوں پر کام کرتا ہے۔ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں تدریس لکھوانے اور رٹوانے پر رک جاتی ہے، جبکہ نصاب بنانے والے اوپر والے درجوں کی بھی توقع رکھتے ہیں۔
روایتی کلاس میں اس کا اطلاق مشکل نہیں۔ استاد سب کچھ وہی کرتا ہے جو پہلے کرتا ہے، صرف زاویہ بدل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سبق پڑھاتے ہوئے اگر صرف یاد کرانا مقصد ہو تو بچہ جلد بور ہو جاتا ہے۔ اگر اسی سبق پر دو جملوں میں پوچھ لیا کہ یہ کیوں ہوا یا اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر کیا ہوتا، تو بچہ اگلے درجے یعنی سمجھنے اور سوچنے تک چلا جاتا ہے۔ یہی بلوم کا عملی استعمال ہے۔ اس میں کسی نئے اے وی ایڈ یا ٹیب کی ضرورت نہیں، صرف سوال بدلنے کی ضرورت ہے۔
عملی طور پر یہ یوں کام آتا ہے کہ استاد پہلے یہ طے کر لے کہ آج سبق سے بچہ کون سے درجے تک پہنچے گا۔ اگر بنیادی کلاس ہے تو "یاد رکھنا" اور "سمجھنا" کافی ہوتا ہے۔ درمیانی جماعتوں میں "استعمال کرنا" اور "تجزیہ" آہستہ آہستہ شامل ہو جاتا ہے۔ سارے درجے ایک ہی دن میں پورے کرنا ضروری نہیں۔ اصل ہنر یہ ہے کہ استاد کم سے کم ایک سطح اوپر کا سوال ضرور پوچھے تاکہ بچوں میں سوچنے کی صلاحیت بڑھے۔
بچوں اور اساتذہ دونوں کو اس کا فائدہ فوراً محسوس ہوتا ہے۔ کلاس میں گفتگو بڑھتی ہے، بچوں کو سبق رٹا نہیں لگتا اور استاد کو سمجھ آ جاتی ہے کہ کون سا بچہ کس درجے پر ہے۔ اس سے تدریس میں وہ خود اپنے طریقے ٹھیک کر لیتا ہے۔ بلوم ٹیکسانومی کوئی پیچیدہ فلسفہ نہیں، یہ صرف استاد کو یاد دلاتی ہے کہ سیکھنا رٹنے کا نام نہیں بلکہ ذہنی سیڑھی پر قدم بہ قدم آگے بڑھنے کا عمل ہے۔ اگلے قدم پر سوچنا تدریس کی روح ہے، اور یہی اس سوال: بلوم ٹیکسانومی اصل میں ہے کیا؟ اور ہمارے روایتی طریقہ تدریس میں اس کا عملی استعمال کیسے ہو سکتا ہے؟
جواب: بلوم ٹیکسانومی کو آسان لفظوں میں ایک سیڑھی سمجھ لیں جو بتاتی ہے کہ بچے کا ذہن سیکھنے کے کس درجے پر ہے۔ سب سے نیچے یاد رکھنا، پھر سمجھنا، پھر استعمال کرنا، پھر تجزیہ کرنا، پھر جانچنا اور سب سے اوپر نئی چیز پیدا کرنا آتا ہے۔ کتابیں اسے کبھی سیکھنے کے مقاصد کی درجہ بندی کہتی ہیں اور کبھی نصاب سازی کا بنیادی اصول، اصل میں دونوں باتیں درست ہیں۔ نصاب انہی ذہنی درجوں کو سامنے رکھ کر بنتا ہے، اور روزانہ کی کلاس میں استاد انہی درجوں پر کام کرتا ہے۔ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں تدریس لکھوانے اور رٹوانے پر رک جاتی ہے، جبکہ نصاب بنانے والے اوپر والے درجوں کی بھی توقع رکھتے ہیں۔
روایتی کلاس میں اس کا اطلاق مشکل نہیں۔ استاد سب کچھ وہی کرتا ہے جو پہلے کرتا ہے، صرف زاویہ بدل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سبق پڑھاتے ہوئے اگر صرف یاد کرانا مقصد ہو تو بچہ جلد بور ہو جاتا ہے۔ اگر اسی سبق پر دو جملوں میں پوچھ لیا کہ یہ کیوں ہوا یا اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر کیا ہوتا، تو بچہ اگلے درجے یعنی سمجھنے اور سوچنے تک چلا جاتا ہے۔ یہی بلوم کا عملی استعمال ہے۔ اس میں کسی نئے اے وی ایڈ یا ٹیب کی ضرورت نہیں، صرف سوال بدلنے کی ضرورت ہے۔
عملی طور پر یہ یوں کام آتا ہے کہ استاد پہلے یہ طے کر لے کہ آج سبق سے بچہ کون سے درجے تک پہنچے گا۔ اگر بنیادی کلاس ہے تو "یاد رکھنا" اور "سمجھنا" کافی ہوتا ہے۔ درمیانی جماعتوں میں "استعمال کرنا" اور "تجزیہ" آہستہ آہستہ شامل ہو جاتا ہے۔ سارے درجے ایک ہی دن میں پورے کرنا ضروری نہیں۔ اصل ہنر یہ ہے کہ استاد کم سے کم ایک سطح اوپر کا سوال ضرور پوچھے تاکہ بچوں میں سوچنے کی صلاحیت بڑھے۔
بچوں اور اساتذہ دونوں کو اس کا فائدہ فوراً محسوس ہوتا ہے۔ کلاس میں گفتگو بڑھتی ہے، بچوں کو سبق رٹا نہیں لگتا اور استاد کو سمجھ آ جاتی ہے کہ کون سا بچہ کس درجے پر ہے۔ اس سے تدریس میں وہ خود اپنے طریقے ٹھیک کر لیتا ہے۔ بلوم ٹیکسانومی کوئی پیچیدہ فلسفہ نہیں، یہ صرف استاد کو یاد دلاتی ہے کہ سیکھنا رٹنے کا نام نہیں بلکہ ذہنی سیڑھی پر قدم بہ قدم آگے بڑھنے کا عمل ہے۔ اگلے قدم پر سوچنا تدریس کی روح ہے، اور یہی اس کا سب سے قابل عمل حل ہے۔
(منصور اختر غوری)
#منصوراخترغوری #تعلیم سب سے قابل عمل حل ہے۔
11/02/2025
08/02/2025
06/02/2025
02/02/2025
02/02/2025
31/01/2025