Urdu Story Center

  • Home
  • Urdu Story Center

Urdu Story Center Assalam.o.Alaikom
Welcome to Urdu Story Center. We upload Urdu/Hindi moral stories for all ages.

Hit it Hard 🔥
25/06/2025

Hit it Hard 🔥

‏ایک شہنشاہ جب دنیا کو فتح کرنے کے ارادے سے نکلا تو اس کا گزر افریقہ کی ایک ایسی بستی سے ہوا جو دنیا کے ہنگاموں سے دور ا...
04/01/2025

‏ایک شہنشاہ جب دنیا کو فتح کرنے کے ارادے سے نکلا تو اس کا گزر افریقہ کی ایک ایسی بستی سے ہوا جو دنیا کے ہنگاموں سے دور اور بڑی پرسکون تھی۔ یہاں کے باشندوں نے جنگ کا نام تک نہ سنا تھا اور وہ فاتح

ور مفتوح کے معنی سے ناآشنا تھے‘ بستی کے باشندے شہنشاہ اعظم کو مہمان کی طرح ساتھ لے کر اپنے سردار کی جھونپڑی میں پہنچے۔ سردار نے اس کا بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا اور پھلوں سے شہنشاہ کی تواضع کی۔

کچھ دیر میں دو قبائلی فریق مدعی اور مدعا الیہ کی حیثیت سے اندر داخل ہوئے۔ سردار کی یہ جھونپڑی عدالت کا کام بھی دیتی تھی۔
‏مدعی نے کہا۔
”میں نے اس شخص سے زمین کا ایک ٹکڑا خریدا تھا۔ ہل چلانے کے دوران اس میں سے خزانہ برآمد ہوا میں نے یہ خزانہ اس شخص کو دینا چاہا لیکن یہ نہیں لیتا۔ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ خزانہ میرا نہیں ہے کیوں کہ میں نے اس سے صرف زمین خریدی تھی۔ اور اسے صرف زمین کی قیمت ادا کی تھی، خزانے کی نہیں“

مدعا الیہ نے جواب میں کہا۔
”میرا ضمیر ابھی زندہ ہے۔ میں یہ خزانہ اس سے کس طرح لے سکتا ہوں‘ میں نے تو اس کے ہاتھ زمین فروخت کردی تھی۔ اب اس میں سے جو کچھ بھی برآمد ہو یہ اس کی قسمت ہے اور یہی اس کا مالک ہے ، میرا اب اس زمین اور اس میں موجود اشیاء سے کوئی تعلق نہیں ہے “
‏سردار نے غور کرنے کے بعد مدعی سے دریافت کیا۔
”تمہارا کوئی لڑکا ہے؟“

”ہاں ہے!“

پھر مدعا الیہ سے پوچھا۔
”اور تمہاری کوئی لڑکی بھی ہے؟“

”جی ہاں....“ مدعا الیہ نے بھی اثبات میں گردن ہلا دی۔

”تو تم ان دونوں کی شادی کرکے یہ خزانہ ان کے حوالے کردو۔“

اس فیصلے نے شہنشاہ کو حیران کردیا ۔ وہ فکر مند ہوکر کچھ سوچنے لگا۔
‏سردار نے متردد شہنشاہ سے دریافت کیا۔ ”کیوں کیا میرے فیصلے سے آپ مطمئن نہیں ہیں؟“

”نہیں ایسی بات نہیں ہے۔“ شہنشاہ نے جواب دیا۔ ”لیکن تمہارا فیصلہ ہمارے نزدیک حیران کن ضرور ہے۔“

سردار نے سوال کیا۔ ”اگر یہ مقدمہ آپ کے رو برو پیش ہوتا تو آپ کیا فیصلہ سناتے؟“

شہنشاہ نے کہا کہ ۔ ” پہلی تو بات یہ ہے کہ اگر یہ مقدمہ ہمارے ملک میں ہوتا تو زمین خریدنے والے اور بیچنے والے کے درمیان کچھ اس طرح کا جھگڑا ہوتا کہ بیچنے والا کہتا کہ : میں نے اسے زمین بیچی ہے اور اس سے زمین کی قیمت وصول کی ہے ، اب جبکہ خزانہ نکل آیا ہے تو اس کی قیمت تو میں نے وصول ہی نہیں کی ، اس لیے یہ میرا ہے ۔
جبکہ خریدنے والا کہتا کہ:
میں نے اس سے زمین خریدلی ہے ، تو اب اس میں جو کچھ ہے وہ میری ملکیت ہے اور میری قسمت ہے ۔
‏سردار نے شہنشاہ سے پوچھا کہ ، پھر تم کیا فیصلہ سناتے؟

شہنشاہ نے اس کے ذہن میں موجود سوچ کے مطابق فورا جواب دیا کہ:
ہم فریقین کو حراست میں لے لیتے اور خزانہ حکومت کی ملکیت قرار دے کر شاہی خزانے میں داخل کردیا جاتا۔“

”بادشاہ کی ملکیت!“ سردار نے حیرت سے پوچھا۔ ”کیا آپ کے ملک میں سورج دکھائی دیتا ہے؟“

”جی ہاں کیوں نہیں؟“

”وہاں بارش بھی ہوتی ہے....“

”بالکل!“
‏”بہت خوب!“ سردار حیران تھا۔ ”لیکن ایک بات اور بتائیں کیا آپ کے ہاں جانور بھی پائے جاتے ہیں جو گھاس اور چارہ کھاتے ہیں؟“

”ہاں ایسے بے شمار جانور ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں۔“

”اوہ خوب‘ میں اب سمجھا۔“ سردار نے یوں گردن ہلائی جیسے کوئی مشکل ترین بات اس کی سمجھ میں آگئی ہو۔ ”تو اس ناانصافی کی سرزمین میں شاید ان ہی جانوروں کے طفیل سورج روشنی دے رہا ہے اور بارش کھیتوں کو سیراب کررہی ہے۔

پھوپھی اور بھتیجی کی عجیب و غریب کہانیدو عورتیں قاضی ابن ابی لیلی کی عدالت میں حاضر ہوئیں۔ وہ اپنے زمانے کے مشہور قاضی ت...
26/10/2024

پھوپھی اور بھتیجی کی عجیب و غریب کہانی

دو عورتیں قاضی ابن ابی لیلی کی عدالت میں حاضر ہوئیں۔ وہ اپنے زمانے کے مشہور قاضی تھے۔

قاضی نے پوچھا: "تم دونوں میں سے پہلے کون بات کرنا چاہتی ہے؟"

ان میں سے بڑی عمر والی خاتون نے دوسری کو کہا: "تم اپنی بات قاضی صاحب کے سامنے رکھو۔"

وہ کہنے لگی: "قاضی صاحب، یہ میری پھوپھی ہیں، مگر میں انہیں امی کہتی ہوں کیونکہ میرے والد کے انتقال کے بعد انہوں نے میری پرورش کی، یہاں تک کہ میں جوان ہوگئی۔"

قاضی نے پوچھا: "پھر کیا ہوا؟"

وہ کہنے لگی: "پھر میرے چچا کے بیٹے نے رشتہ بھیجا اور پھوپھی نے میری شادی کر دی۔ ہماری ازدواجی زندگی بہترین گزر رہی تھی۔ ایک دن میری پھوپھی میرے گھر آئیں اور میرے شوہر کو اپنی بیٹی سے دوسری شادی کی پیشکش کر دی۔ ساتھ یہ شرط رکھی کہ میرا معاملہ پھوپھی کے ہاتھ میں سونپ دیا جائے۔ میرے شوہر نے کنواری لڑکی سے شادی کے لالچ میں یہ شرط مان لی۔ ان کی دوسری شادی ہوئی، اور سہاگ رات کو پھوپھی میرے پاس آئیں اور کہا کہ تمہارے شوہر کا معاملہ میرے ہاتھ میں ہے، میں تمہیں طلاق دیتی ہوں۔"

جج صاحب، مجھے طلاق ہو گئی۔

کچھ عرصہ بعد پھوپھی کے شوہر جو شاعر اور حسن کے شوقین تھے، سفر سے لوٹے۔ میں بن سنور کر ان کے سامنے بیٹھ گئی اور کہا: "کیا آپ مجھ سے شادی کریں گے؟" انہوں نے خوشی سے فوراً ہاں کر دی۔ میں نے شرط رکھی کہ آپ اپنی پہلی بیوی (یعنی میری پھوپھی) کا معاملہ میرے حوالے کریں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا، اور میں نے ان سے شادی کر کے پھوپھی کو طلاق دے دی۔

قاضی حیران ہو کر بولا: "پھر؟"

وہ کہنے لگی: "قاضی صاحب، کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد میرے شاعر شوہر کا انتقال ہو گیا۔ میری پھوپھی وراثت کا مطالبہ کرنے آئیں، مگر میں نے کہا کہ شوہر نے انہیں زندگی میں ہی طلاق دے دی تھی، لہذا ان کا کوئی حق نہیں۔ جھگڑا بڑھتا گیا اور اسی دوران میری عدت بھی پوری ہو گئی۔ ایک دن پھوپھی اپنی بیٹی اور داماد (جو میرا سابق شوہر تھا) کو لے کر میرے پاس آئیں اور وراثت کے معاملے میں انہیں ثالث بنا دیا۔ میرے سابق شوہر نے جب مجھے دیکھا تو اپنی پہلی محبت یاد آ گئی۔ میں نے ان سے پوچھا: "کیا آپ مجھ سے دوبارہ شادی کریں گے؟" انہوں نے ہاں کر دی۔ میں نے شرط رکھی کہ اپنی بیوی (میری پھوپھی کی بیٹی) کا معاملہ میرے حوالے کریں۔ انہوں نے یہ شرط بھی مان لی، اور میں نے اپنے سابق شوہر سے دوبارہ شادی کر کے ان کی بیوی کو طلاق دے دی۔"

قاضی ابن ابی لیلی نے سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور پوچھا: "اب اس کیس میں کیا مسئلہ ہے؟"

پھوپھی بولی: "قاضی صاحب، کیا یہ حرام نہیں کہ یہ لڑکی میری اور میری بیٹی کی طلاق کروا چکی ہے؟ نہ صرف میرے شوہر کو لے اڑی بلکہ میری بیٹی کے شوہر کو بھی۔ یہاں تک کہ دونوں شوہروں کی وراثت بھی اپنے نام کر لی۔"

قاضی ابن ابی لیلی کہنے لگے: "مجھے اس کیس میں کہیں حرام نظر نہیں آیا۔ طلاق بھی جائز ہے، وکالت بھی جائز ہے، اور طلاق کے بعد بیوی سابق شوہر سے دوبارہ شادی کر سکتی ہے بشرطیکہ وہ کسی اور سے شادی کر کے طلاق یافتہ ہو یا شوہر فوت ہو چکا ہو۔ تمہاری کہانی میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔"

اس کے بعد قاضی نے خلیفہ منصور کو یہ واقعہ سنایا۔ خلیفہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے اور کہا: "جو اپنے بھائی کے لیے گڑھا کھودتا ہے، وہ خود اس میں گرتا ہے۔ یہ بڑھیا تو گڑھے کے بجائے گہرے سمندر میں جا گری۔"

24/11/2023

*نوجوان لڑکی اور موت کا فرشتہ*
🌷جاویداقبال🌷

ایک نوجوان لڑکی ایک سپر مارکیٹ میں اپنے جسم کی نمائش کرتے ہوئے فتنہ انگیز انداز میں جارہی تھی۔ اس کے انداز میں ایسی خود نمائی اور خود ستائی تھی جیسے دنیا اسی کیوجہ سے پیدا کی گئی ہو ۔
وہاں سے ایک نیک اور صالح نوجوان گزر رہا تھا اس نے ازراہِ ہمدردی کہا: میری بہن! اپنی اس روش سے باز آجاؤ ۔ اگر اسی حالت میں ملک الموت یعنی موت کا فرشتہ تمہارے پاس آپہنچا تو اللّٰہ کو کیا جواب دو گی؟‌‌ ‌‌
اس کے جواب میں وہ مغرور لڑکی کہنے لگی: اگر تم میں جرات ہے تو ابھی اپنا موبائل نکالو اور اپنے رب سے کال ملاؤ کہ وہ ملک الموت کو بھیجے۔
وہ نوجوان کہتا ہے کہ اس نے ایسی ہولناک بات کہی تھی کہ مجھے ڈر ہوا کہیں اس بازار کو ہی نہ ہم پر الٹا دیا جائے.......... میں ڈرتا ہوا جلدی سے وہاں سے نکلا۔ جب میں بازار کے کنارے پر پہنچا تو میں نے اپنے پیچھے چیخ وپکار اور آہ و بکا کی آوازیں سنیں
میں وآپس مڑا تو دیکھا کہ ایک جگہ لوگ اکھٹے ہیں، یہ وہی جگہ تھی جہاں میری اس لڑکی سے بات ہوئی تھی۔ میں وہ منظر دیکھ کر ٹھٹک گیا۔ وہ لڑکی ٹھیک اُسی جگہ پر مردہ حالت میں پڑی تھی، جہاں اس نے ملک الموت کو بلانے کا چیلنج کیا تھا۔ میں تو اس چیلنج کے بعد فوراً وہاں سے نکل گیا تھا، لیکن لڑکی اسی وقت منہ کے بل گری اور دم توڑ دیا۔کیونکہ ملک الموت آپہنچا تھا...! (آئین القلوب، مصطفیٰ کامل)
قارئین کرام! یہ واقعہ بالکل سچا ہے اور ایک عرب ملک میں پیش آیا تھا۔ اس واقعہ کو قریباً بارہ پندرہ سال گزرے ہونگے، جب یہ رونما ہوا تو اس کی بازگشت مقامی اخبارات اور مجالس میں سنائی دی تھی..!
بعض اوقات انسان تکبر اور جوانی کے نشے میں یا دولت واقتدار کے گھمنڈ میں بےحد غلط باتیں منہ سے نکال دیتا ہے، اسے معلوم نہیں ہوتا کہ عین ممکن ہے وہ قبولیت دعا کا وقت ہو۔
اور اس کے الفاظ پر رب کی طرف سے پکڑ بھی ممکن ہے، اس لئے ہمیشہ منہ سے اچھی بات نکالنی چاہئے...
دعاؤں کی قبولیت کے سنہرے واقعات سے ماخوذ

مختلف بیویاں اپنے شوہروں سے لڑتی ہوئیں۔... 😜😜😜🙈🙈😂😂پائلٹ کی بیوی:زیادہ مت اُڑو ! سمجھے ؟.ٹیچر کی بیوی:مجھے مت سکھاؤ ! یہ ...
08/08/2023

مختلف بیویاں اپنے شوہروں سے لڑتی ہوئیں۔... 😜😜😜🙈🙈😂😂
پائلٹ کی بیوی:
زیادہ مت اُڑو ! سمجھے ؟.
ٹیچر کی بیوی:
مجھے مت سکھاؤ ! یہ اسکول نہیں۔
ڈینٹسٹ کی بیوی:
دانت توڑ کر ہاتھ میں دے دوں گی.
حکیم کی بیوی:
نبض دیکھے بغیر طبیعت درست کر دوں گی.
ڈاکٹر کی بیوی:
تمہارا الٹرا ساؤنڈ تو میں ابھی کرتی ہوں۔
فوجی کی بیوی:
تم اپنے آپ کو بڑی توپ چیز سمجھتے ہو.
شاعر کی بیوی:
انجینئر کی بیوی:
میں تمہارا نقشہ بدل دونگی ۔۔
تمہاری ایسی تقطیع کروں گی کہ ساری بحریں اور نہریں بھول جاؤ گے.
ایم بی اے کی بیوی:
مائنڈ یور اون بزنس۔
وکیل کی بیوی:
تیرا فیصلہ تو میں کرتی ہوں.
ڈرائیور کی بیوی:
گئیر لگا اور نکل یہاں سے.
پولیس مین کی بیوی:
ایسی چھترول کرواؤنگی کہ نانی یاد آجائیگی.
اور مولوی کی بیوی:
ابھی پڑھتی ہوں ختم تمہارا😜😜😜😜😂😂😂😄😆😆😆😆

‏جب سيدنا عمرؓ پر حملہ کیا گیا تو ان کے لیے دودھ لایا گیا، جیسے ہی آپ نے دودھ پیا تو وہ آپ کی پسلیوں کے زخم سے بہہ نکلا۔...
20/07/2023

‏جب سيدنا عمرؓ پر حملہ کیا گیا تو ان کے لیے دودھ لایا گیا، جیسے ہی آپ نے دودھ پیا تو وہ آپ کی پسلیوں کے زخم سے بہہ نکلا۔ طبیب نے ان سے کہا: اے امیر المومنین وصیت فرما دیں، آپ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکیں گے۔

تو انہوں نے اپنے بیٹے عبداللہ کو بلایا اور کہا کہ حذیفہ بن الیمان کو میرے پاس بلاؤ۔ حذیفہ بن الیمان حاضر ہو گئے۔ یہ وہ صحابی ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ نے منافقین کے ناموں کی فہرست عطا کی تھی اور ان ناموں کے بارے میں اللّٰہ پاک اس کے رسول ﷺ اور حذیفہ بن الیمان کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا۔

حضرت عمرؓ نے پوچھا جبکہ خون ان کی پسلیوں سے بہہ رہا تھا، کہ اے حذیفہ بن الیمان میں آپ کو اللّٰہ کی قسم دے کر کہتا ہوں! کیا اللّٰہ کے رسول ﷺ نے میرا نام منافقین کے ناموں میں لیا ہے یا نہیں؟

یہ سن کر حذیفہ بن الیمان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور فرمایا! یہ میرے پاس رسول اللّٰہ ﷺ کا راز ہے جو کسی کو نہیں بتا سکتا۔ آپ نے پھر پوچھا! خدا کے لیے مجھے اتنا بتادیں،

اللّٰہ کے رسول ﷺ نے میرا نام شامل کیا ہے یا نہیں؟
حذیفہ بن الیمان کی ہچکی بندھ گئی اور کہتے ہیں اے عمرؓ! میں صرف آپ کو بتا رہا ہوں اگر آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو میں کبھی بھی اپنی زبان نہ کھولتا اور وہ بھی صرف اتنا بتاتا ہوں کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے اس میں آپ کا نام شامل نہیں کیا۔

حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے عبداللہ سے کہا کہ دنیا میں میرے لیے ایک چیز باقی رہ گئی ہے۔ حضرت عبداللہ نے پوچھا وہ کیا ہے ابا جان؟

حضرت عمرؓ نے فرمایا! بیٹا میں جوار رسول ﷺ میں دفن ہونا چاہتا ہوں۔ لہزا ام المؤمنين حضرت عائشہؓ کے پاس جاؤ، ان سے یہ مت کہنا کہ امیر المؤمنین عمر بلکہ کہنا کہ کیا آپ عمر کو اپنے ساتھیوں کے قدموں میں دفن ہونے کی اجازت دیتی ہیں؟

کیونکہ آپ اس گھر کی مالکن ہیں۔ تو ام المؤمنین نے جواب دیا کہ یہ جگہ تو میں نے اپنے لیے تیار کر رکھی تھی لیکن آج میں اسے عمر کے لیے ترک کرتی ہوں۔

عبداللہ ابنِ عمرؓ شاداں و فرحان واپس آئے اور عرض کی، اجازت مل گئی ہے۔ عبداللہ ابنِ عمرؓ نے دیکھا کہ حضرت عمرؓ کا رخسار مٹی پر پڑا ہے تو انہوں نے آپ کا چہرہ اٹھا کر اپنی گود میں لے لیا۔

حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ کیوں تم میرا چہرہ مٹی سے بچانا چاہتے ہو۔ عبداللہ ابنِ عمرؓ نے کہا ابا جان لیکن حضرت عمرؓ نے بات کاٹنے ہوئے فرمایا کہ اپنے باپ کا چہرہ مٹی سے لگنے دو۔ بربادی ہے عمر کے لیے اگر کل اللّٰہ پاک نے اسے نہ بخشا۔

حضرت عمرؓ اپنے بیٹے کو یہ وصیت فرما کر موت کی آغوش میں چلے گئے،،،

اے میرے بیٹے میری میت مسجد نبوی میں لے جانا اور میرا جنازہ پڑھنا اور حذیفہ بن یمان پر نظر رکھنا اگر وہ میرے جنازے میں شرکت کرے، تو میری میت روضہ رسول ﷺ کی طرف لے جانا۔

اور میرا جنازه روضة الرسول ﷺ کے دروازے پر رکھ کر دوباره اجازت طلب کرنا اور کہنا،،،

اے ام المؤمنین آپ کا بیٹا عمر یہ مت کہنا کہ امیر المؤمنين، ہو سکتا ہے میری زندگی میں مجھ سے حیا کی وجہ سے اجازت دی گئی ہو، اگر اجازت مرحمت فرما دیں تو دفن کرنا ورنہ مجھے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا۔

عبداللہ ابنِ عمرؓ کی نظریں حذیفہ بن الیمان پر تھیں. وہ
کہتے ہیں کہ میں حذیفہ بن یمان کو ابا جان کی نماز جنازہ پر دیکھ کر بہت خوش ہوا اور ہم جنازہ لے کر روضہ رسول ﷺ کی طرف چلے گئے۔ دروازے پر کھڑے ہو کر میں نے کہا۔ "اے ہماری ماں آپ کا بیٹا عمر دروازے پر
ہے، کیا آپ تدفین کی اجازت دیتی ہیں؟

ام المؤمنین نے جواب دیا! مرحبا یا عمر۔ عمر کو اپنے ساتھیوں کی ساتھ دفن ہونے پر مبارک ہو۔ ام المؤمنین نے اپنی چادر سمیٹی اور روضہ رسول ﷺ سے باہر نکل آئیں۔

اللّٰہ پاک راضی ہو حضرت عمرؓ سے زمین کا چپہ چپہ جن کے عدل کی گواہی دیتا ہے، جن کی موت سے اسلام یتیم ہو گیا، جن کو اللّٰہ کے رسول ﷺ نے زندگی میں جنت کی خوشخبری دی ہو پھر بھی اللّٰہ کے سامنے حساب دہی اتنا خوف ہمارا کیا بنے گا؟
Follow Urdu Story Center for more ❤️

15/07/2023

ترازو

یتیم بچہ تھا۔اس کا دادا اسے دکان پر لے کر آیا تھا دکان دادا کے دوست کی تھی۔بچّے نے چپس اٹھائے اور نہ جوس ۔ ترازو سے لپٹ گیا ۔ دونوں قہقہہ لگا کر ہنسے ۔ بچہ ترازو سے الگ ہونے کو تیار نہ تھا۔دادا کو اپنے یتیم پوتے سے بڑی محبت تھی ۔ وہ ترازو ہی اٹھا لایا۔

بچہ ہر وقت باٹ رکھ کر وزن برابر کرتا رہتا۔چھ برس کی عمر میں اس کے پاس کئی ترازوموجود تھے ۔انہی دنوں ایک ردی فروش اخبار خریدنے آیا۔ دادا نے آکر دیکھا توبچہ خاموشی سے رو رہا تھا۔ دادا کے کان میں بولا:
ترازو قائم نہیں کیا۔ سات کلو کافرق ہے ۔
دادا نے اپنی نگرانی میں تلوایا تو عین

سات کلو کا فرق نکلا ۔

حسابی کتابی بچہ بڑا ہو رہا تھا۔منڈیوں میں پھرتا رہتا۔ نو برس کی عمر میں اس نے پہلا سودا کرایا ۔جس منڈی میں قدم رکھتا ، ترازو قائم ہو جاتا۔

ایک سودا طے ہو چکا تھا ۔خریدار رقم لینے گاڑی تک گیا۔اتنے میں دوسرے گاہک نے بہتر پیشکش کی ۔

چراغ دین نے کہا:
سودا تُل چکا
وہ شخص ضد پہ اڑ گیا ۔اس نے دو گنا، تین گنا اور آخر پانچ گنا قیمت لگائی۔چراغ دین قہقہے لگاتا رہا۔اس کی زندگی ایک ہی چیز کے گرد گھومتی تھی ۔ صحیح قیمت کا تعین اور پھر سودا۔

اسکی شادی کا قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک یتیم لڑکی کی گاڑی اپنےچچازاد کو فروخت کی

آٹو میٹک گاڑی کو مینول سمجھتا رہا۔معلوم ہوا توپیروں تلے زمین نکل گئی۔بھاگم بھاگ چچازاد کے پاس گیا :
ایک لاکھ اور دو ۔
اس نے انکار کر دیا۔ اپنی جیب سے ایک لاکھ روپے لے کر لڑکی کے گھر پہنچا۔زمانے بھر کی ٹھوکریں کھاتی لڑکی اسے دیکھتی رہی ۔بولی :
مجھ سے شادی کرو گے ؟

چراغ دین نے آنکھ اٹھا کے دیکھا اور دیکھتا رہ گیا۔نجابت ، حسب نسب اور قیامت خیز حسن۔ کہنے لگا:
جتنا حق مہر تمہارا بنتا ہے ، میں فقیر کہاں دے سکتا ہوں ۔
لڑکی قہقہہ لگا کر ہنسی۔ بیوی سے بہت محبت تھی ۔حمل میں پیچیدگی ہوئی، زچہ بچہ دونوں جاں بحق ہو گئے۔

آخری واقعہ گاڑی میں پیش آیا

شدید سردی کے دن۔ ایک ننھا سا لڑکا انڈے بیچ رہا تھا ۔ ان کی طرف لپکااور پھسل کر گرا۔ انڈا پچک گیا۔ بچہ رو پڑا۔

گرم اور صاف انڈے کی قیمت تیس روپے تھی۔’’سات روپے ‘‘اس کے غیر معمولی دماغ نے قیمت لگائی۔چراغ دین نے جیب میں ہاتھ ڈالا ۔پھر آنکھ اٹھا کر اس نے بچے کی طرف دیکھا ۔

انتہائی خوبصورت ، گورا چٹا بچہ سردی سے ٹھٹھرر ہا تھا۔ اس کے ہونٹ نیلے پڑچکے تھے ۔ ’’نجانے کس کا لختِ جگر ہے ۔‘‘چراغ دین نے سوچا اور اسے اپنا بیٹا یاد آیا۔ چراغ دین کا ہاتھ کانپنے لگا۔ ترازو قائم کرنے کی طاقت نہ رہی۔ جیب بچے کے ہاتھ پہ خالی کردی

زندگی میں پہلی بار اس نے

گھاٹے کا سودا کیا تھا۔
اچانک اسے یوں محسوس ہوا کہ ریڑھ کی ہڈی تڑخ چکی ہے ۔جنوری کی سردی میں وہ پسینے میں نہا گیا۔گھر پہنچا تو بستر پہ گر گیا۔بھابھی نے کھانے کا پوچھا۔ بولا:
میرا آخری دم ہے ۔میری چارپائی لان میں رکھ دو

کچھ دیر پہلے بارش ہوئی تھی ۔ دفعتاً قوسِ قزح نمودار ہوئی

ایک مور اپنے رنگین پر پھیلا کر ناچنے لگا۔ادھررنگا رنگ پھول جیسے گلشن میں آگ لگا رہے تھے ۔چراغ دین کے حلق سے ایک چیخ نکلی ۔ زندگی میں پہلی بار رنگ اس سے باتیں کر رہے تھے ۔’’رنگوں کو تو تولاہی نہیں ‘‘ خوف زدہ سوداگر نے سوچا۔بھورے رنگ کی ایک بلی اپنے تین رنگوں کے بلونگڑوں کو

دودھ پلا رہی تھی ۔’’ممتا نہیں تولی ‘‘ چراغ دین چیخ اٹھا ۔قدرے اندھیرا ہوا تو جگنوجلنے بجھنے لگے ۔’’روشنی نہیں تولی ‘‘ چراغ دین تڑپتا رہا، چیختا رہا

چراغ دین سب اشارے سمجھ رہا تھا لیکن افسوس کہ بہت دیر ہو چکی تھی۔ اس کے چچازاد نے یاد کرایا کہ اگلے دن زمینوں کا ایک کروڑوں روپے

کا سودا ہے
’’ بھلا ٹوٹا ہوا ترازو بھی تولتا ہے ۔‘‘
اس نے قہقہہ لگایا

ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا چراغ دین سے اٹکھیلیاں کرنے لگا’’ہوا کو تولا ہی نہیں‘‘ غم زدہ سوداگر نے سوچا ۔ پانی کے چندقطرے گرے ’’بارش نہیں تولی ‘‘وہ رو پڑا ۔ اِدھرسورج نمودار ہوا۔اُدھراندر کوئی تلاوت کر رہا تھا

’’نور علیٰ نور ‘‘ ’’روشنی پہ روشنی ؟ ‘‘ غم زدہ تاجر سوچتا رہا، روتا رہا ۔حقیقت نہیں تولی، مجاز تولتا رہا

صبح انجمن تاجران بیمار پرسی کو آئے۔ سب حوصلہ دلاتے رہے ۔غم زدہ بیوپاری نے غم سے بلکتے ہوئے کہا :
ایک تاجرگھر سے ہیرا خریدنے نکلا تھا، کوئلہ خرید بیٹھا
ایک تاجر کہنے لگا :

سودے منسوخ بھی ہو جاتے ہیں ۔
اس نے قہقہہ لگایا اور یہ کہا
’’سودا تُل چکا اور منڈی ٹھنڈی ہو گئی ۔‘‘
یہ کہتے ہوئے اس کی روح پرواز کر گئی ۔

اسکے چچا زاد نے خواب دیکھا ۔چراغ دین حساب کیلئےکھڑا ہے، بالکل خالی ہاتھ۔ ’’اور تو سبھی سے سودا کیا ، ہم سے کبھی سودا نہ کیا‘‘ ایک گونجتی

ہوئی آواز نے کہا
وہ شرمندہ اور خاموش کھڑا رہا فرشتے اعمال تولنے لگے۔ چراغ دین پنجوں کے بل کھڑا ہو کر تول دیکھنے لگا
فرشتے حیران کہ اتنی اچھی فطرت کا بندہ لیکن اس کے پاس تو خدا کی یاد ہی نہیں گناہوں والا پلڑا بہت نیچے تھا

پروردگار نے پوچھا
کیا سبھی کچھ تُل گیا؟
فرشتہ کہنے لگا

ایک عمل باقی ہے
اس نے ایک تھیلی نیکیوں میں پھینکی
ترازو پہ لگا ہوا اخلاص کا بٹن جل اٹھا ۔نیکیوں والا پلڑا یوں نیچے گیا ، جیسے ٹنوں وزن ڈال دیا گیا ہواورگناہوں کو اٹھا کر اس نے ترازو سے باہر پھینک دیا۔ چراغ دین بخشا گیا

’’یا الٰہی تھیلی میں کیا ہے؟ چراغ دین نے روتے ہوئے پوچھا

’’ تھیلی میں ایک ٹوٹا ہوا انڈا ہے‘‘
مہربان رب نے اسے جواب دیا۔

’’انڈے کا کچھ زیادہ مول نہیں ڈال دیا؟‘‘
جب وہ چراغ دین کو لے کر جا رہے تھے تو ایک فرشتے سے چراغ دین نے سوال کیا !
’’یہاں ایسے ہی سودے ہوتے ہیں‘‘۔
اس نے جواب دیا۔

سردیوں میں آندھی یا بارش کے ساتھ ہی سب سے پہلی آواز یہ آتی کہ لالٹین کا تیل دیکھو، اگر نہیں تو بھاگ کر نکڑ والی دکان سے ...
07/07/2023

سردیوں میں آندھی یا بارش کے ساتھ ہی سب سے پہلی آواز یہ آتی کہ لالٹین کا تیل دیکھو، اگر نہیں تو بھاگ کر نکڑ والی دکان سے آٹھ آنے کا تیل ڈلوا لاؤ۔ بانس کی پرانی چھڑی کے ساتھ چلنے والے بابے موچی نے گھی والے کنستر میں مٹی کا تیل رکھا ہوتا تھا سردیوں میں لالٹین میں تیل ڈلواتا اور دوبارہ گھر کی طرف دوڑ لگا دیتا۔ ہم دو بھائی اور ایک بہن ایک کمرے میں سوتے تھےاکثر اس بات پر جھگڑا ہوتا کہ لالٹین کس کے قریب رکھی جائے گی کیونکہ سبھی اسکول جاتے تھے اور کسی نہ کسی کو اپنا ہوم ورک کرنا ہوتا تھا۔ ہماری لالٹین اسی چھوٹی شیلف پر رکھی جاتی تاکہ روشنی سارے کمرے میں جائے۔ میں کبھی کبھار لالٹین کا فیتہ زیادہ اوپر کر دیتا تو فوراً امی جی کی آواز آتی:’’نیچے کرو، ورنہ لالٹین کا شیشہ دھوئیں سے کالا ہو جائے گا۔‘‘ کبھی کبھار رات گئے لالٹین کا فیتہ ختم ہو جاتا تو ہم فوراً کسی پیالی یا چراغ میں سرسوں کا تیل ڈالتے، خود ہی روئی کا ایک فیتہ بناتے اور لالٹین کا متبادل تیار کر لیتے لیکن اس میں مسئلہ یہ تھا کہ سیاہ دھوئیں کے نشانات دیوار پر لگ جاتے اور یہ نشان تب تک رہتے جب تک دوبارہ چونے سے تیار ہونے والا رنگ (کلی) نہ اُس پر پھیر دیا جاتا۔ عید وغیرہ پر چونے میں نیل ڈال کر دیواروں پر رنگ کیا جاتا۔ اسی طرح پیتل کے برتنوں کو بھی خاص تہواروں کی مناسبت سے نئے سرے سے پالش کیا جاتا تھا۔ میں اکثر اپنی تختی سونے سے پہلے لکھتا تھا۔ آپی ہمیشہ اس وجہ سے ڈانٹتی کہ یہ بدتمیز اپنا اسکول کا کام صبح کے وقت کیوں نہیں کرتا۔ میں آپی کے ہر روز کے احتجاج کے باوجود لالٹین نیچے زمین پر رکھتا، تھیلے نما بستے میں سے قلم اور دوات نکالتا اور لکڑی سے بنی تختی پر سبق لکھنا شروع کر دیتا۔ اس وقت یہی کُل متاع ہوتی تھی: قلم، سیاہی، دوات، سلیٹ اور سکہ وغیرہ۔ مَیں تختی پر لائنیں لگانے کے لیے سکہ ہمیشہ کسی ریڈیو کی بیٹری توڑ کر ہی نکالا کرتا تھا۔ اس وقت موم بتیاں بھی تھیں لیکن مٹی کا تیل سستا ہونے کی وجہ سے ہم لالٹین اور دیا ہی استعمال کرتے رہتے۔ کبھی کبھار ہم موم بتی بھی لے آتے۔ جس دن بھی بارش تیز یا مسلسل ہوتی تو چھت سے پانی ٹپکنا شروع ہو جاتا۔ جہاں جہاں سے پانی ٹپکنا شروع ہوتا، ہم بہن بھائی اس کے نیچے برتن، بالٹی یا پرات وغیرہ رکھتے جاتے تاکہ پانی اس میں جمع ہو۔ میں رضائی سے منہ نکال کر یہ اندازہ لگاتا رہتا کہ چھت سے ٹپکنے والا اگلا قطرہ کس برتن میں گرے گا۔ لالٹین کی مدھم روشنی، تیز ہوا کی سرسراہٹ، لحاف کے اندر خود کو گرم رکھنے کی کوشش، بارش کی رم جھم، کچی چھت پر گرتی اور رقص کرتی بارش کی بوندوں کی آواز، بادلوں کی گھن گرج اور چھت سے ٹپکتے قطرے ایک جادوئی ماحول پیدا کر دیتے تھے۔ لیکن تب مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ میں آٹو ہیٹڈ کمروں، نرم گداز صوفوں، قالینوں اور جرمن میڈ رضائیوں کے ہوتے ہوئے بھی ان کی چاہت کروں گا، وہ کاغذ کی یاد کروں گا وہ بارش کا پانی یاد کروں گا۔ میں بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا اور ڈر بھی مجھے ہی سب سے زیادہ لگتا تھا۔ بھائی بہن بھی میری اس عادت سے تنگ تھے۔ کمرے کے باہر کھلا صحن تھا اور اس کے بعد ٹوائلٹس آتے تھے۔ سردیوں میں مَیں اکیلا وہاں تک جانے سے ڈرتا تھا اور جب تک کوئی لالٹین پکڑ کر دروازے تک ساتھ نہیں جاتا تھا، میں ضد لگا کر بیٹھا رہتا تھا۔ ہمارے گھر روئی ہمیشہ اس وجہ سے بھی رہتی کہ نانا جی نے آٹا پیسنے کی مشین کے ساتھ ساتھ روئی دھننے کی مشین ( پینجہ) بھی لگا رکھی تھی۔ ان کے گھر رضائیاں بھروانے والوں کا ہمیشہ تانتا بندھا رہتا تھا اور امی بھی دن کے وقت ادھر ہی رہتیں اور کرائے کے طور پر لی جانے والی روئی میں سے کچھ گھر لے آتیں۔ ہم چھوٹے چھوٹے تھے تو نانا جی کے گھر امی جی سوت خود کاتتی تھیں۔ میں بھی ایک باریک چھڑی (کانے) کی مدد سے روئی کی پونیاں بنا کر انہیں دیتا رہتا اور وہ اُسے چرخے کے کتلے پر چڑھا کر اس سے دھاگا بناتیں۔ مجھے سب سے زیادہ مزہ چرخہ چلانے میں آتا کیوں کہ وہ ٹائر کی طرح گھومتا جاتا اور ایک سیٹی کی سی مخصوص آواز پیدا ہوتی جاتی۔ جرمنی کی یخ بستہ راتوں میں جب بھی کبھی رات کو موسلا دھار بارش ہوتی ہے یا تیز ہوا مخصوص آوازیں پیدا کرتی ہے تو مجھے بے ساختہ اپنا ماضی، ٹپکتی ہوئی چھت، لالٹین، دیا، تختی، امی جی کا چرخہ اور کوہ قاف کی کہانیاں یاد آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ مجھے پہلی جماعت کا وہ قاعدہ یاد آ جاتا ہے، جس کی سب سے مشہور نظم بلبل کا بچہ تھی۔ اب مجھے لگتا ہے کہ وہ بلبل کا بچہ میں تھا، جو کھاتا تھا کھچڑی، پیتا تھا پانی، اک دن اڑایا، واپس نہ آیا۔۔۔
Follow Urdu Story Center for more ❤️

03/07/2023

وفات سے 3 روز قبل جبکہ
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
ام المومنین
حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر تشریف فرما تھے،

ارشاد فرمایا
کہ
"میری بیویوں کو جمع کرو۔"

تمام ازواج مطہرات
جمع ہو گئیں۔
تو
حضور اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم نے
دریافت فرمایا:
کیا
تم سب
مجھے اجازت دیتی ہو
کہ
بیماری کے دن
میں
عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے ہاں گزار لوں؟"

سب نے کہا
اے اللہ کے رسول
آپ کو اجازت ہے۔

پھر
اٹھنا چاہا
لیکن اٹھہ نہ پائے
تو
حضرت علی ابن ابی طالب
اور
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما آگے بڑھے
اور
نبی علیہ الصلوة والسلام کو
سہارے سے اٹھا کر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے سے
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے کی طرف لے جانے لگے۔

اس وقت
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو
اس (بیماری اور کمزوری کے) حال میں پہلی بار دیکھا تو
گھبرا کر
ایک دوسرے سے پوچھنے لگے

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟

چنانچہ
صحابہ مسجد میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور
مسجد نبوی میں
ایک رش لگ گیا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا
پسینہ شدت سے بہہ رہا تھا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ
میں نے اپنی زندگی میں
کسی کا
اتنا پسینہ بہتے نہیں دیکھا۔
اور
فرماتی ہیں:

"میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دست مبارک کو پکڑتی اور
اسی کو
چہرہ اقدس پر پھیرتی

کیونکہ
نبی علیہ الصلوة والسلام کا ہاتھ
میرے ہاتھ سے کہیں زیادہ
محترم اور پاکیزہ تھا۔"

مزید
فرماتی ہیں
کہ حبیب خدا
علیہ الصلوات والتسلیم
سے
بس یہی
ورد سنائی دے رہا تھا
کہ
"لا إله إلا الله،
بیشک موت کی بھی اپنی سختیاں ہیں۔"

اسی اثناء میں
مسجد کے اندر
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں خوف کی وجہ سے لوگوں کا شور بڑھنے لگا۔

نبی علیہ السلام نے دریافت فرمایا:
یہ
کیسی آوازیں ہیں؟

عرض کیا گیا
کہ
اے اللہ کے رسول!
یہ
لوگ آپ کی حالت سے خوف زدہ ہیں۔

ارشاد فرمایا کہ
مجھے ان کے پاس لے چلو۔
پھر
اٹھنے کا ارادہ فرمایا لیکن
اٹھہ نہ سکے
تو
آپ علیہ الصلوة و السلام پر
7 مشکیزے پانی کے بہائے گئے،
تب
کہیں جا کر کچھ افاقہ ہوا
تو
سہارے سے اٹھا کر ممبر پر لایا گیا۔

یہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا
آخری خطبہ تھا
اور
آپ علیہ السلام کے آخری کلمات تھے۔

فرمایا:
" اے لوگو۔۔۔! شاید
تمہیں
میری موت کا خوف ہے؟"
سب نے کہا:
"جی ہاں اے اللہ کے رسول"

ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔!
تم سے میری ملاقات کی جگہ دنیا نہیں،
تم سے
میری ملاقات کی جگہ حوض (کوثر) ہے،

اللہ کی قسم گویا کہ
میں یہیں سے
اسے (حوض کوثر کو) دیکھ رہا ہوں،

اے لوگو۔۔۔!
مجھے تم پر
تنگدستی کا خوف نہیں بلکہ مجھے تم پر
دنیا (کی فراوانی) کا خوف ہے،
کہ
تم اس (کے معاملے) میں
ایک دوسرے سے
مقابلے میں لگ جاؤ گے

جیسا کہ
تم سے پہلے
(پچھلی امتوں) والے لگ گئے،
اور
یہ (دنیا) تمہیں بھی ہلاک کر دے گی
جیسا کہ
انہیں ہلاک کر دیا۔"

پھر
مزید ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔!
نماز کے معاملے میں
اللہ سے ڈرو،
اللہ سےڈرو۔
نماز کے معاملے میں
اللہ سے ڈرو،

(یعنی عہد کرو
کہ نماز کی پابندی کرو گے،
اور
یہی بات بار بار دہراتے رہے۔)

پھر فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔!
عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو،
عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو،

میں تمہیں
عورتوں سے
نیک سلوک کی
وصیت کرتا ہوں۔"

مزید فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔!
ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا
کہ
دنیا کو چن لے
یا اسے چن لے
جو
اللہ کے پاس ہے،
تو
اس نے اسے پسند کیا جو
اللہ کے پاس ہے"

اس جملے سے
حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصد
کوئی نہ سمجھا حالانکہ
انکی اپنی ذات مراد تھی۔
جبکہ
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ
وہ
تنہا شخص تھے
جو
اس جملے کو سمجھے اور
زارو قطار رونے لگے
اور
بلند آواز سے
گریہ کرتے ہوئے
اٹھہ کھڑے ہوئے
اور
نبی علیہ السلام کی بات قطع کر کے پکارنے لگے۔۔۔۔

"ہمارے باپ دادا
آپ پر قربان،
ہماری
مائیں آپ پر قربان،
ہمارے بچے آپ پر قربان،
ہمارے مال و دولت
آپ پر قربان....."
روتے جاتے ہیں
اور
یہی الفاظ کہتے جاتے ہیں۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم (ناگواری سے)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنے لگے
کہ
انہوں نے
نبی علیہ السلام کی بات کیسے قطع کر دی؟

اس پر
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دفاع
ان الفاظ میں فرمایا:

"اے لوگو۔۔۔!
ابوبکر کو چھوڑ دو
کہ
تم میں سے ایسا کوئی نہیں
کہ جس نے
ہمارے ساتھ کوئی بھلائی کی ہو
اور
ہم نے
اس کا بدلہ نہ دے دیا ہو،
سوائے ابوبکر کے،
کہ
اس کا بدلہ
میں نہیں دے سکا۔
اس کا بدلہ
میں نے اللہ جل شانہ پر چھوڑ دیا۔

مسجد (نبوی) میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں،

سوائے ابوبکر کے دروازے کے کہ
جو کبھی بند نہ ہوگا۔"

آخر میں
اپنی وفات سے قبل مسلمانوں کے لیے
آخری دعا کے طور پر ارشاد فرمایا:
"اللہ تمہیں ٹھکانہ دے،
تمہاری حفاظت کرے، تمہاری مدد کرے، تمہاری تائید کرے۔

اور
آخری بات
جو ممبر سے اترنے سے پہلے
امت کو
مخاطب کر کے
ارشاد فرمائی
وہ
یہ کہ:"اے لوگو۔۔۔!
قیامت تک آنے والے میرے ہر ایک امتی کو
میرا سلام پہنچا دینا۔"

پھر
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو
دوبارہ سہارے سے
اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔

اسی اثناء میں
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے
اور
ان کے ہاتھ میں مسواک تھی،

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
مسواک کو دیکھنے لگے لیکن
شدت مرض کی وجہ سے
طلب نہ کر پائے۔

چنانچہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے سے سمجھ گئیں
اور
انہوں نے
حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مسواک لے کر
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے
دہن مبارک میں رکھ دی،

لیکن
حضور صلی اللہ علیہ و سلم
اسے استعمال نہ کر پائے
تو
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضوراکرم
صلی اللہ علیہ وسلم سے
مسواک لے کر
اپنے منہ سے نرم کی اور
پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو لوٹا دی
تاکہ دہن مبارک
اس سے تر رہے۔

فرماتی ہیں:
" آخری چیز جو
نبی کریم علیہ الصلوة والسلام کے
پیٹ میں گئی
وہ
میرا لعاب تھا،
اور
یہ اللہ تبارک و تعالٰی کا مجھ پر فضل ہی تھا
کہ
اس نے وصال سے قبل میرا
اور
نبی کریم علیہ السلام کا لعاب دہن یکجا کر دیا۔"

اُم المؤمنين
حضرت عائشہ
صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا
مزید ارشاد فرماتی ہیں:
"پھر
آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیٹی فاطمہ تشریف لائیں
اور
آتے ہی رو پڑیں
کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھہ نہ سکے، کیونکہ
نبی کریم علیہ السلام کا معمول تھا
کہ
جب بھی فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تشریف لاتیں
حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم
انکے ماتھے پر
بوسہ دیتے تھے۔

حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
اے فاطمہ! "
قریب آجاؤ۔۔۔"
پھر
حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے
ان کے کان میں
کوئی بات کہی
تو
حضرت فاطمہ
اور
زیادہ رونے لگیں،

انہیں اس طرح روتا دیکھ کر
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
پھر فرمایا
اے فاطمہ! "قریب آؤ۔۔۔"
دوبارہ انکے کان میں
کوئی بات ارشاد فرمائی
تو
وہ خوش ہونے لگیں

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد
میں نے
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا سے پوچھا تھا
کہ
وہ کیا بات تھی
جس پر روئیں
اور
پھر خوشی کا اظہار کیا تھا؟

سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کہنے لگیں
کہ
پہلی بار
(جب میں قریب ہوئی) تو فرمایا:
"فاطمہ! میں آج رات (اس دنیاسے) کوچ کرنے والا ہوں۔

جس پر میں رو دی۔۔۔۔"
جب
انہوں نے
مجھے بے تحاشا روتے دیکھا تو
فرمانے لگے: "فاطمہ!
میرے اہلِ خانہ میں سب سے پہلے
تم مجھ سے آ ملو گی۔۔۔"
جس پر
میں خوش ہوگئی۔۔۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں:
پھر
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے
سب کو
گھر سے باھر جانے کا حکم دیکر مجھے فرمایا:
"عائشہ!
میرے قریب آجاؤ۔۔۔"

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے
اپنی زوجۂ مطہرہ کے سینے پر ٹیک لگائی
اور
ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے فرمانے لگے:
مجھے
وہ اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے۔

(میں الله کی، انبیاء، صدیقین، شہداء
اور
صالحین کی رفاقت کو اختیار کرتا ہوں۔)

صدیقہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں:
"میں
سمجھ گئی
کہ
انہوں نے آخرت کو چن لیا ہے۔"

جبرئیل علیہ السلام خدمت اقدس میں حاضر ہو کر گویا ہوئے:
"یارسول الله!
ملَکُ الموت
دروازے پر کھڑے
شرف باریابی چاہتے ہیں۔
آپ سے پہلے
انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی۔"

آپ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا:
"جبریل! اسے آنے دو۔۔۔"

ملَکُ الموت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے،
اور کہا:
"السلام علیک یارسول الله!
مجھے اللہ نے
آپ کی چاہت جاننے کیلئے بھیجا ہے
کہ
آپ دنیا میں ہی رہنا چاہتے ہیں
یا
الله سبحانہ وتعالی کے پاس جانا پسند کرتے ہیں؟"

فرمایا:
"مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے،
مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے۔"

ملَکُ الموت
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے
سرہانے کھڑے ہوئے
اور
کہنے لگے:
"اے پاکیزہ روح۔۔۔!
اے محمد بن عبدالله کی روح۔۔۔!
الله کی رضا و خوشنودی کی طرف روانہ ہو۔۔۔!
راضی ہوجانے والے پروردگار کی طرف
جو
غضبناک نہیں۔۔۔!"

سیدہ عائشہ
رضی الله تعالی عنہا فرماتی ہیں:
پھر
نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہاتھ نیچے آن رہا،
اور
سر مبارک
میرے سینے پر
بھاری ہونے لگا،
میں
سمجھ گئی
کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔۔۔

مجھے اور تو
کچھ سمجھ نہیں آیا سو میں
اپنے حجرے سے نکلی اور
مسجد کی طرف کا دروازہ کھول کر کہا۔۔

"رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!
رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!"

مسجد آہوں
اور
نالوں سے گونجنے لگی۔
ادھر
علی کرم الله وجہہ
جہاں کھڑے تھے
وہیں بیٹھ گئے
پھر
ہلنے کی طاقت تک نہ رہی۔

ادھر
عثمان بن عفان رضی الله تعالی عنہ
معصوم بچوں کی طرح ہاتھ ملنے لگے۔

اور
سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ
تلوار بلند کرکے کہنے لگے:
"خبردار!
جو کسی نے کہا
رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں،
میں
ایسے شخص کی
گردن اڑا دوں گا۔۔۔!

میرے آقا تو
الله تعالی سے
ملاقات کرنے گئے ہیں
جیسے
موسی علیہ السلام
اپنے رب سے
ملاقات کوگئے تھے،

وہ لوٹ آئیں گے،
بہت جلد لوٹ آئیں گے۔۔۔۔!
اب جو
وفات کی خبر اڑائے گا، میں
اسے قتل کرڈالوں گا۔۔۔"

اس موقع پر
سب سے زیادہ ضبط، برداشت
اور صبر کرنے والی شخصیت
سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کی تھی۔۔۔
آپ حجرۂ نبوی میں داخل ہوئے،
رحمت دوعالَم
صلی الله علیہ وسلم کے سینۂ مبارک پر
سر رکھہ کر رو دیئے۔۔۔

کہہ رہے تھے:
وآآآ خليلاه، وآآآ صفياه، وآآآ حبيباه، وآآآ نبياه

(ہائے میرا پیارا دوست۔۔۔!
ہائے میرا مخلص ساتھی۔۔۔!
ہائے میرا محبوب۔۔۔!
ہائے میرا نبی۔۔۔!)
پھر
آنحضرت صلی علیہ وسلم کے ماتھے پر
بوسہ دیا
اور کہا:"یا رسول الله!
آپ پاکیزہ جئے
اور
پاکیزہ ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔"

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے
اور خطبہ دیا:
"جو
شخص محمد صلی الله علیہ وسلم کی
عبادت کرتا ہے سن رکھے

آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور
جو الله کی عبادت کرتا ہے
وہ جان لے
کہ الله تعالی شانہ کی ذات
ھمیشہ زندگی والی ہے جسے موت نہیں۔"

سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔۔۔

عمر رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
پھر
میں کوئی تنہائی کی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں
اکیلا بیٹھ کر روؤں۔۔۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تدفین کر دی گئی۔۔۔
سیدہ فاطمہ
رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"تم نے کیسے گوارا کر لیا کہ
نبی علیہ السلام کے چہرہ انور پر مٹی ڈالو۔۔۔؟"

پھر کہنے لگیں:
"يا أبتاه، أجاب ربا دعاه، يا أبتاه، جنة الفردوس مأواه، يا أبتاه، الى جبريل ننعاه."

(ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ
اپنے رب کے بلاوے پر چل دیے،
ہائے میرے پیارے بابا جان،
کہ
جنت الفردوس میں اپنے ٹھکانے کو پہنچ گئے،
ہائے میرے پیارے بابا جان،
کہ
ہم جبریل کو
ان کے آنے کی خبر دیتے ہیں۔)
اللھم صل علی محمد کما تحب وترضا۔

میں نے آج تک
اس سے اچّھا پیغا م کبھی پوسٹ نہیں کیا۔

اسلۓ
آپ سے گزارش ہے
کہ
آپ اسے پورا سکون
و اطمینان کے ساتھ پڑھۓ۔
ان شاء اللہ,
آپکا ایمان تازہ ہو جاۓ گا۔“
اور دوستوں کے ساتھ بھی شئیر ضرور کیجئے گا ۔ جزاک اللہ

Address


Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Story Center posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

  • Want your school to be the top-listed School/college?

Share