Online teaching The Holy Quraan

Online teaching The Holy Quraan

Share

skander

05/04/2024

Inshaallah is bar final apne name kren ghe .

07/10/2023

5 ستمبر کو dha لاہور میں مقابلہ ہوا
تلاوت، آذان اور نعت رسول کا

06/10/2023

وہ بچہ جو حاتم طائی کا باپ نکلا

ایک آدمی نے حاتم طائی سے پوچھا:
اے حاتم! کیا سخاوت میں کوئی تم سے آگے بڑھا ہے؟
حاتم نے جواب دیا:
ہاں!… قبیلہ طے کا ایک یتیم بچہ مجھ سے زیادہ سخی نکلا جس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ دوران سفر میں شب بسری کیلیے ان کے گھر گیا، اس کے پاس دس بکریاں تھیں، اس نے ایک ذبح کی، اس کا گوشت تیار کیا اور کھانے کیلئے مجھے پیش کر دیا
اس نے کھانے کیلیے مجھے جو چیزیں دیں ان میں مغز بھی تھا، میں نے اسے کھایا تو مجھے پسند آیا
میں نے کہا: واہ سبحان اللہ! کیا خوب ذائقہ ہے!
یتیم بچہ فوراً باہر نکل گیا اور ایک ایک کر کے تمام بکریاں میری لا علمی میں اس نے ذبح کر ڈالیں اور سب کے مغز مجھے پیش کیے
جب میں کوچ کرنے لگا تو کیا دیکھا کہ گھر کے ارد گرد ہر طرف خون ہی خون بکھرا پڑا ہے
میں نے اس سے کہا: آپ نے تمام بکریاں کیوں ذبح کیں؟
اس نے کہا: واہ، سبحان اللہ! … آپ کو میری کوئی چیز اچھی لگے اور میں اس پر بخل کروں، یہ عربوں کیلئے بدترین گالی ہے
حاتم سے پوچھا گیا: بدلے میں آپ نے اسے کیا دیا؟…
انہوں نے کہا: تین سو سرخ اونٹھنیاں اور پانچ سو بکریاں!
ان سے کہا گیا: تو پھر آپ اس سے بڑے سخی ہوئے!
حاتم طائی نے جواب دیا: نہیں ..........! وہ مجھ سے زیادہ سخی ہے، کیونکہ اس نے اپنا سب کچھ لٹا کر سخاوت کی جبکہ میں نے تو اپنے بہت سے مال میں سے تھوڑا سا خرچ کر کے سخاوت کی ہے
۔
منقول
۔
۔
۔

28/09/2023

خسر الدنیا و الآخرۃ: ایک عبرت انگیز واقعہ

ایک دوست لندن میں تھے، وہ ملازمت کیلئے ایک جگہ انٹرویو دینے کے لیے گئے، اس وقت ان کے چہرہ پر داڑھی تھی، جو شخص انٹرویو لے رہا تھا اس نے کہا کہ داڑھی کے ساتھ یہاں کام کرنا مشکل ہے اس لیے یہ داڑھی ختم کرنی ہوگی
اب یہ بڑے پریشان ہوئے کہ میں اپنی داڑھی ختم کروں یا نہ کروں؟
اس وقت تو وہ واپس چلے آئے اور دو تین دن تک دوسری جگہوں پر ملازمت تلاش کرتے رہیے لیکن دوسری جگہ ملازمت نہیں ملی اس لیے پریشان تھے، بالآخر انہوں نے فیصلہ کرلیا کہ چلو داڑھی کٹوا دیتے ہیں تاکہ ملازمت مل سکے، چنانچہ اس شخص نے داڑھی کٹوا دی اور اسی جگہ ملازمت کیلئے پہنچ گیا
جب وہاں پہنچا تو انہوں نے پوچھا کیسے آنا ہوا؟
اس نے جواب دیا کہ آپ نے کہا تھا کہ داڑھی کٹوا دو تو تمہیں ملازمت مل جائی گی اس لیے میں داڑھی کٹوا آیا ہوں
اس نے پوچھا کہ آپ مسلمان ہیں؟
اس نے کہا جی ہاں میں مسلمان ہوں!
اس نے پوچھا کہ آپ داڑھی کو ضروری سمجھتے تھے یا غیری ضروری؟
اس نے کہا ضروری سمجھتا تھا اور اسی وجہ سے رکھی تھی
اس نے کہا کہ جب آپ جانتے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت داڑھی رکھی تھی، مگر اب آپ نے صرف میرے کہنے پر اللہ تعالیٰ کے حکم کو توڑ دیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے وفادار نہیں اور جو شخص اپنے رب کا وفادار نہ ہو وہ اپنے افسر کا بھی وفادار بھی نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔۔ لہذا اب ہم آپ کو ملازمت پر رکھنے سے معذور ہیں.......... خسر الدنیا والآخرۃ
۔
منقول
۔
۔
۔

27/09/2023

Insha allah 1 din aysa bhi hogha kh same lebas ho gha madene pak ki ser zameen ho ghi.

27/09/2023

گوشت کا ٹکڑا

ایک استاد نے اپنے شاگرد سے پوچھا کہ الجھن کسے کہتے ہیں؟
شاگرد: دانت میں پھنس جانے والا گوشت کا ٹکڑا جب باوجود کوشش کے بھی نہ نکلے اسے الجھن کہتے ہیں!
استاد: اور خوشی؟
شاگرد: جب دانت میں پھسا وہ ٹکڑا اچانک نکل آئے جبکہ آپ ناامید ہوچکے ھوں اس حالت کا نام خوشی ہے!
استاد: اور غم وغصہ کی ملی جلی کیفیت؟
شاگرد: ایک دانت سے گوشت کا ٹکڑا نکلنے کے بعد اچانک آپ کو معلوم ہو کہ دوسری طرف بھی پھنسا ہے!
استاد: اور جد و جہد ؟
شاگرد: جب آپ دوسرے دانت سے ٹکڑا نکالنے کے لئے خلال یا ماچس کی تیلی اٹھا کر آپریشن شروع کرتے ہیں

استاد نے ایک زور کی چپیڑ لگائی اور کہا: ابے او قصائی کی اولاد!.......... یہ دانت اور گوشت سے نکلے گا یا نہیں؟
۔
۔
# مسکرائیے
۔
۔

25/09/2023

میں موسیقی چھوڑ کر دین کی طرف کیسے آئی؟

جنید جمشید نے مجھ سے کیا کہا؟ ۔۔۔۔۔
میرے مولا! تیری بندی وہ دنیا چھوڑ آئی ہے۔۔۔
وہ شازیہ خشک تھیں۔۔۔
دو روز قبل معمول کے ہفتہ وار درس کی محفل تھی ۔
ایک خاتون نے دو تین بار ہاتھ آٹھایا کہ مجھے بھی کچھ بات کرنا ہے۔
میں نے کہا پروگرام کے آخری حصے میں آپ کو موقع دیا جائے گا۔
وہ سامنے شرکاء کے ہمراہ فرشی نشست پر تھیں۔
درس کے بعد میں نے سمٹتے ہوئے اپنے برابر صوفے پر ان کے لیےجگہ بنائی وہ جھجک رہی تھیں۔اصرار پر آگئیں۔
درمیانہ عمر کی سرخ وسفید باحجاب خاتون نے تین نصیحتیں کیں۔۔نماز کی پابندی۔۔
غیبت نہ کریں۔۔اور
استغفار کو لازم پکڑ لیں۔
پھر انھوں نے استغفار کی برکت بتاتے ہوئے اپنا تعارف کرایا کہ۔۔
"میرا نام شازیہ خشک ہے۔۔
میں ہر کنسرٹ میں اسٹیج پر جانے سے پہلے استغفار ضرور پڑھتی تھی۔
دل تو کہتا تھا کہ گانا بجانا گناہ ہے مگر مجبوری تھی کہ یہ میرا پیشہ بھی تھا۔
جب جنید جمشید تبلیغ سے وابستہ ہوئے تو دل مضطرب رہتا تھا کہ مسلمان ہونے کا کوئی تو حق ادا کر جاؤں۔۔
ایک دن وہ تذکیر کا پروگرام کرکے نکل رہے تھے میں نے راستے میں روک کر سلام کیا۔
ان سے کہا "مجھے بھی دین کی طرف آنا ہے۔"
بولے۔"میری بہن ! وہ وقت آئے گا ,ابھی کچھ وقت ہے۔"
بس میرا اضطرار بڑھتا گیا کہ وہ وقت کب آئے گا؟؟
پھر میں نے حتمی فیصلہ کرلیا کہ اس گناہ کی زندگی کی طرف اب پلٹ کر نہیں دیکھنا۔"
خواتین دم بخود انکی آب بیتی سن رہی تھیں۔
ان کے جذبات چہرے سے عیاں تھے۔
بولیں" ایمان اپنے ساتھ اتنی بڑی آزمائش لاتا ہے مجھے اس راستے پر آکر اندازہ ہوا۔۔سورۂ عصر میں اسی لیے حق کے ساتھ صبر کا ذکر ہے۔۔
میں وہ دنیا چھوڑ آئی۔۔اپنا سب کچھ چھوڑ کر اس راستے پر نکل کھڑی ہوئی ہوں۔
سب کشتیاں جلا چکی۔
آپ سب میرے لیے استقامت کی دعا کریں۔۔
کثرت سے پڑھتی ہوں۔۔ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا۔۔۔
میں ہر ہفتہ کئی لاکھ روپے کماتی تھی۔
میرے کنسرٹس بہت کامیاب ہوتے تھے۔
میں نے بے نظیر کے ذاتی طیارے میں ان کے ساتھ ازبکستان کا سفر کیا ہے۔۔
دنیا کے پچاس ملکوں میں میں نے پرفارم کیا مگر ۔۔۔۔
مجھے سکون اس راستے پر آکر ملا ہے۔۔میں نے جاہ و حشمت سب چیزوں کو ٹھوکر مار دی ہے۔رشتوں ناطوں سمیت بہت کچھ چھوڑنا پڑا ہے۔
شائد دنیا والوں کی نظر میں میں نے خسارے کا سودا کیا ہے مگر مجھے جو آسودگی نصیب ہوئی ہے اس پر شوبز کی شازیہ خشک جیسی پچاس گلوکارائیں قربان۔۔
اپنی باقی زندگی سے سابقہ زندگی کے گناہوں کی تلافی کی کوشش کرونگی۔۔"
شرکاء مجلس دل کی سماعتوں سے انھیں سن رہے تھے اور میرے تصور میں وہ شازیہ خشک تھیں جو محفل لوٹ لیا کرتی تھیں۔
انکے اسٹیج پر آتے ہی مجمع چارج ہوجاتا تھا۔
وہ لوک فنکارہ کی حیثیت سے دلوں پر راج کرتی تھیں۔انکی موجوگی کامیابی کی ضمانت ہوتی تھی۔۔
قلب کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ الٹتا پلٹتا رہتا ہے۔۔
خواتین انکو گلے لگا رہی تھیں۔مبارکباد دے رہی تھیں۔
میں نے کہا آپ کی آپ بیتی میں لکھ سکتی ہوں؟؟
بولیں: ضرور.......... جماعت اسلامی کی بہنیں بہت خوش ہونگی۔۔
جب انھوں نے فرمائش پر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور حمد پڑھنا شروع کی کہ:
میرا دل بدل دے۔۔مولا دل بدل دے
تو خواتین کے لیے جذبات پر قابو پانا مشکل ہوگیا۔۔
کمرہ سسکیوں سے گونجنے لگا کیونکہ آج انھوں نے ایک بدلا ہوا دل اپنے درمیان جو دیکھا تھا۔۔
افشاں نوید
27 صفر المظفر 1444

24/09/2023

واقعات انیک، اور سبق ایک

اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔
جب میں پرائمری اسکول میں تھا تو ہمارے گھر کام کیلئے ایک ماسی (ماں سی) آیا کرتی تھیں. ان کی جھونپڑی ہمارے گھر کے پیچھے دیوار سے لگی ہوئی تھی. ان کے بیٹے بیٹیاں جو مجھ جتنے یا مجھ سے چھوٹے تھے سارا دن یہاں سے وہاں آوارہ گھومتے رہتے. میری والدہ اکثر انہیں میرے ساتھ پڑھنے کے لئے کبھی پیار سے اور کبھی ڈانٹ سے بیٹھا دیا کرتیں تاکہ وہ بھی کچھ پڑھ لیں. ان میں سے صرف ایک لڑکا جو عمر میں مجھ سے کچھ زیادہ تھا، پڑھنے میں دلچسپی دیکھانے لگا تو اس کا ایڈمیشن اسکول میں کروا دیا گیا. اس کی فیس کبھی ہمارے گھر سے جایا کرتی تو کبھی کسی اور گھر سے. کبھی کوئی یونیفارم دلا دیتا تو کبھی کوئی اپنی پرانی کورس کی کتابیں اسے دے دیتا. انتہائی ناموافق حالات کے باوجود وہ بچہ خوشی خوشی پڑھتا رہا اور میری والدہ اس کی والدہ کی ہمت بڑھاتی رہیں. یوں ہی پڑھتے پڑھتے ایک روز اس نے میٹرک پاس کرلیا. شاید میرے والد نے یا کسی اور صاحب نے اس کو کلرک کی نوکری دلا دی جہاں وہ اپنی محنت سے آگے بڑھتا گیا. کچھ ہی دنوں میں ان کے حالات سدھرنے لگے تو اس نے اپنی والدہ کو گھر گھر جاکر جھاڑو پونچھے کی تکلیف سے نجات دلادی. اب اس کی نسل الحمدللہ اچھے اسکولوں سے تعلیم حاصل کر رہی ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔
جب میں سیکنڈری اسکول میں پہنچا تو محلے کا ایک گھر معاشی تنگدستی کا شکار نظر آتا تھا. وہ لوگ گھر پر اچار اور چٹنی تیار کرکے اسے بیچا کرتے تھے. ان کے بیٹے اور بیٹیاں اسکول جاتے تھے مگر ایک روز ان کے والد کی طبیعت بگڑی اور وہ انتقال کرگئے. بڑا بیٹا جو مجھ سے کافی چھوٹا تھا ، اسے اسکول چھوڑنا پڑا اور وہ کبھی پرچون کی دکان اور کبھی میڈیکل اسٹور پر دن رات کام کرنے لگا. مجھے اس کے اسکول چھوڑ جانے کا بہت صدمہ تھا اور میں بہانے بہانے اس کے چہرے پر کرب ڈھونڈھتا رہتا تھا مگر وہ بناء شکایت خاموشی سے اسی خوش مزاجی سے کام کرتا رہا جو اسے پہلے حاصل تھی. صاف نظر آتا تھا کہ وہ اپنا کام دیگر ملازمین سے زیادہ تندہی سے کرتا ہے. ساتھ ہی اس نے اپنی تعلیم کے سلسلے کو جوڑ لیا اور معلوم نہیں کتنا پڑھ پایا؟ جو بات معلوم ہے وہ یہ کہ آج اسی کی محنت کے صدقے اللہ نے ان کے گھر کو خوشحال کردیا ہے. بہنوں کی شادی اور چھوٹے بھائی کی تعلیم کے پیچھے بھی ضرور اسی بھائی کی محنت پوشیدہ ہوگی.
۔۔۔۔۔۔۔۔
جب میں کالج پہنچا تو ایک دوست میرا جگری بن گیا. نوجوانی کی ہر تفریح ہم نے ساتھ ساتھ کی. اس کے گھریلو حالات معاشی اعتبار سے تنگ تھے. میرے اس دوست کا چہرہ ماشاللہ اتنا مسکراتا ہوا تھا کہ کبھی شک ہوتا کہ کہیں سوتے میں بھی تو مسکراتا نہیں رہتا؟ مسکراہٹ کے ساتھ ساتھ دوسری نمائندہ صفت اس میں خودداری کی تھی. یہ خودداری کا ایسا پہاڑ تھا کہ دو پیسے کی مدد لینا تو دور اس سے کوئی ایسی بات کرتے ہوئے بھی میری جان نکلتی تھی کہ لامحالہ کہیں برا ہی نہ مان جائے. ہم دونوں کا ایک دوسرے کے ساتھ خوب دل لگتا تھا اور مستقبل میں کچھ بننے کے خواب ہم ساتھ ہی دیکھا کرتے تھے. پھر انٹر کے امتحانات ہوئے تو اس نے اپنی روایتی مسکراہٹ کے ساتھ بتایا کہ اب وہ تعلیم جاری نہیں رکھ پائے گا. والد کے جانے کے بعد گھر کی ساری ذمہ داری اس کے کندھوں پر ہے. اسلئے وہ درزی بن رہا ہے اور اگر اللہ نے چاہا تو مستقبل میں تعلیم حاصل کرے گا. میں دھک سے رہ گیا لیکن اس نے میری کوئی مدد نہ لی اور ایک جانب درزی بن کر کپڑے سیتا رہا تو دوسری جانب بچوں کو ٹیوشن پڑھاتا رہا. وقت کا پہیہ تیز چلا تو رابطہ ٹوٹ گیا مگر دونوں ایک دوسرے کو کبھی نہیں بھولے. کچھ سال پہلے میری اس سے ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ اس نے تعلیم کا سلسلہ اپنے دم پر پورا کرلیا تھا اور اب ایک معروف کمپنی میں مینجر ہے. ساتھ ہی کراچی میں ایک بزنس بھی کر رہا ہے اور ملایشیا میں ایک ریسٹورنٹ کا بھی مالک ہے. گاہے بگاہے وہاں جاتا رہتا ہے. بجا طور پر معاشی اعتبار سے آج وہ مجھ سے کہیں زیادہ کامیاب ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔
یونیورسٹی میں جب مجھے انجینئرنگ کے لئے داخلہ ملا تو ایک ایسا دوست بھی ملا جو ہم عمر ہونے کے باوجود ہم سے ایک سال جونیئر تھا. شاید مالی تنگدستی کی وجہ سے اس کا سال ضائع ہوچکا تھا. کمپیوٹر انجینئرنگ کیلئے کمپیوٹر کا گھر پر ہونا قریب قریب لازمی ہوتا ہے مگر ہمارے اس دوست کے پاس اتنے پیسے نہ تھے کہ کمپیوٹر خرید سکتا لہٰذا ساری ساری رات اور دن ایک دوست کے گھر منڈلاتا رہتا. جہاں اگر کمپیوٹر فارغ مل جائے تو اسے استعمال کرپاتا. یہ غیر معمولی ذہانت کا حامل انسان تھا جو نہ صرف اپنے امتحانات میں نمائندہ نمبروں سے پاس ہوتا بلکہ مجھ سمیت اپنے دیگر سینئر دوستوں کو بھی ان کے امتحان کی تیاری کروادیتا. یونیورسٹی کے چار سالوں میں سے کچھ سال اسے اسکالر شپ مل گئی اور یوں شدید مشکلات سے لڑتا ہوا وہ اپنی انجینرنگ مکمل کرگیا. آج الحمدللہ وہ ایک عرب ملک میں نہایت اچھی نوکری پر فائز ہے اور مجھ جیسے اکثر دوستوں سے آگے ہے.
دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ پاک اسے اور ان دیگر دوستوں کو جن کا ذکر اپر ہوا مزید سے مزید کامیابیاں عطا کریں آمین.

آپ جانتے ہیں کہ ان سب دوستوں میں تنگی و تنگدستی کے علاوہ کیا قدر مشترک تھی؟ وہ قدر یہ تھی کہ یہ مشکلات کا سامنا مسکرا کر کرنا جانتے تھے. انہوں نے نامناسب حالات پر واویلا نہیں کیا اور تکلیف دہ واقعات پر شکوہ زبان پر نہ لائے. انہوں نے حقیقت کو خوش دلی سے قبول کیا اور محنت سے اپنے راستے کو متعین کئے رکھا. وہ زبان حال سے دنیا کو اس شعر کی عملی تفسیر سمجھاتے رہے کہ
اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے؟
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے؟

====عظیم

23/09/2023

شاہد آفریدی کی بیٹی کا نکاح اور ہمارے لیے سبق

کروڑ پتی شاہین آفریدی کا نکاح ارب پتی شاہد آفریدی کی بیٹی کے ساتھ ہوا اور وہ بھی مسجد میں...
یہ لوگ اگر چاہتے تو کسی فائیو سٹار ہوٹل میں نکاح کا پروگرام رکھ سکتے تھے مگر انہوں نے نکاح کیلئے مسجد کا انتخاب کیا...
ان امیر گھرانوں کی ناک نہیں کٹی مسجد میں نکاح کرانے سے لیکن ہمارے غریب قرض اٹھاکر شادی کرنے والے صرف ناک اونچی کرنے کے چکر میں مہنگی شادیاں کرتے اور مہنگے کلب بک کرواتے ہیں...
شاہد آفریدی ٹرسٹ سے زکوة لینے والے اور صدقہ کے مستحق آدمی کی بیٹی کا نکاح اس سے زیادہ پر تعیش اور مہنگا ہوتا ہے... دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ غریب کو پھوت پھات اور نام و نمود کا چسکا زیادہ ہوتا ہے...
سادگی اپنانے سے اگر عزت کم ہوتی تو شاہد آفریدی اور شاہین افریدی کی کم ہوتی... اگر ان کی عزت کم نہیں ہوئی تو یقین جانیں غریب کی عزت بھی کم نہ ہوگی بلکہ عزت میں اضافہ ہوگا اور پیسہ بھی بچے گا جس کی غریب کو امیر سے زیادہ ضرورت ہے...
گھروں میں کنواری لڑکیاں بیٹھی ہیں مگر نام نہاد رسومات، ناک اونچی رکھنے کے مہنگے شوق ان کے نکاح کے آگے رکاوٹ ہیں... جیسے ذات سے باہر شادی نہیں کرتے ایسے اوقات سے باہر بھی شادی نہیں کرنی چاہئے...
۔
منقول
۔
۔

23/09/2023

خدا کے ہوتے ہوئے زمین پر خدا نہ بنیں

ایک سبق آموز واقعہ ۔۔۔۔۔۔
وہ تین بیٹیوں کی ماں تھی،اور بیوہ اس نے ایک ایسے شخص سے شادی کرلی جو چار بچوں کا باپ تھا۔
شادی خفیہ رکھی گئ دونوں ایک دوسرے سے مخلص تھے اور وہ خاتون سوکن کو سر آنکھوں پر بٹھانے کے لیے تیار۔
پھر اس شخص کی پہلی بیوی کو پتا چل گیا وہ برسرِ روزگار خاتون تھی اس نے طوفان اٹھا دیا۔
شوہر نے جب دیکھا معاملہ کھل چکا ہے تو اس نے تسلیم کرلیا کہ اس نے شادی کی ہے پہلی بیوی نے مطالبہ کیا کہ دوسری کو طلاق دے دو شوہر نے انکار کردیا کہ میں یہ ظلم نہیں کرسکتا۔
پہلی بیوی نے شوہر کے بھائیوں اور بہن کے سامنے معاملہ اٹھایا چونکہ ان کا بھائی خاندان میں ہیرو کے طور پر جانا جاتا تھا ان کو خوف ہوا کہ خاندان میں عزت نہیں رہے گی وہ بھی اسے مجبور کرنے لگے کہ بات خاندان میں پھیلنے سے پہلے طلاق دو مگر مرد ڈٹا رہا۔
بالآخر اس شخص کا بہنوئی جو وکالت پڑھ چکا تھا میدان میں آیا اس نے نجانے کیا اور کیسے کیا سالے کو قائل کر لیا طلاق کے لیے۔۔۔
اس شخص نے ایک شرط پر ہاں کی کہ وہ اس کو خرچہ دیتا رہے گا اور بچییوں کا سہارا بھی بنے گا۔
طلاق نامہ تیار کروایا گیا ۔
اس شخص کے بہنوئی نے سالے کی دوسری بیوی سے بات کی اور بتایا وہ ملنا چاہتا ہے اور اسے خاندان میں لانا چاہتا ہے۔
خاتون کی خوشی کی انتہا نہ رہی جس دن وہ بہنوئی اس عورت کے گھر گیا۔ اس نے کئ طرح کے کھانے بنائے۔ خوب آؤ بھگت کی۔ بچییوں سے ملایا ۔
اس شخص کے بہنوئی نے اسے شیشے میں اتارا اور کہا یہ کچھ کاغذات ہیں دستخط کردو یہ راضی نامہ ہے دونوں سوکنوں کے درمیان الخ۔
خاتون نے دستخط کردیے اور وہ گھر آگیا اور بعد میں پتا چلا وہ طلاق نامے پر سائن تھے۔
خاتون نے روتے ہوئے اس شخص کے بہنوئی سے کال پر بات کی اور کہا تم نے میری بچیوں سے سہارا چھینا خدا تمہیں تمہاری بیٹی کی صورت اس تکلیف سے دوچار کرے جس سے تم نے مجھے کیا۔
مرد نے قہقہ لگایا اور پھر عرصہ دراز تک وہ مرد اپنی اس چالاکی کی کہانی اپنے دوسرے سالوں کے گھر بیٹھ کر سناتا اور داد سمیٹتا رہا۔
اس کی بیٹی کی تعلیم مکمل ہوئی،اچھے خاصے پڑھے لکھے شخص سے شادی ہوئی سب کچھ کامل اکمل ہی نہیں قابلِ رشک تھا۔
بددعائیں سننے والے سوچ رہے تھے کہ اس شخص کو مکافات عمل سے کیوں سامنا نہیں کرنا پڑا؟
اور اب اس شخص کو پتا چلا ہے اس کی بیٹی کو برین ٹیومر ہے
اکلوتی بیٹی کو تکلیف میں دیکھنا نجانے اس کے لیے کتنا اذیت ناک ہوگا اور وہ کیسے اس دکھ کو جھیلے گا
شاید اسے اس بیوہ عورت کی سسکیوں کی گونج سنائی دے اور وہ توبہ کرکے اس سے معافی مانگ لے تو اس کی یہ سزاکچھ کم ہو
جی ہاں آپ کہیں گے کیا یہ ممکن ہے باپ کی سزا بیٹی کو ملے کیا اسی کا نام مکافات عمل ہے؟
آپ درست ہیں مگر میں بھی غلط نہیں ہوں
خدا نے عقل اور شعور انسان کو انسان کی فلاح و بہبود کے لیے دیا ہے اور جب یہ شعور آپ کسی کی تباہی و بربادی کے لیے استعمال کرتے ہیں پھر آپ کو نتائج بھگتنا پڑتے ہیں
واحد لاشریک خدا کے ہوتے ہوئے زمین پر خدا نہ بنیں۔ اپنے شر کو اپنی فتح اور کامیابی نہ سمجھیں ۔۔
یہ شر جب آپ کی طرف لوٹے گا آپ اس کا مقابلہ کرنے کی سکت خود میں نہیں پائیں گے
اللہ کے بندے بن کر رہیں یہی ہمارا پیغام ہے اس پیغام کو پلو سے باندھیں
خیر ہوگی ان شاءاللہ
تحریر: کرن سلطان ڈھلوں

22/09/2023

اللہ کا غیبی ہاتھ اور میرا بیٹا

ننھا سَعد بار بار چارپائی سے اُترنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن زمین پہ پاؤں نہ لگنے کی وجہ سے پھر چارپائی پہ چڑھ جاتا، مَیں چارپائی کے ساتھ دیوار کی ٹیک لگے یہ سب منظر دیکھ رہا تھا، جب اُس نے ایک بار پھر اُترنے کی کوشش کی تاکہ چارپائی کی قید سے نکلے، تو مجھ سے رہا نہ گیا، مَیں نے اِس دفعہ اُس کی پشت پہ ہاتھ رکھا تو وہ بلا خوف و خطر کود پڑا.......... اُس کے ذہن میں یہ بات آ گئی ہوگی کہ جس کی پشت پہ اَبَّا کا ہاتھ آجائے تو اَبَّا گِرنے نہیں دیتے، سَعد کے اِس عمل نے میری آنکھیں کھول دیں اور سوچ کو جِلا بخشی، نمناک آنکھوں سے میرے لبوں پہ یہ دعا مچلنے لگی
یاکریم اللہ...! سَعد کی پُشت پہ ضعیف اَبَّا کے ہاتھوں نے گرنے سے بچا لیا، میرے رَبَّا...! میری پُشت پہ گَر تیرا قدرت کا ہاتھ آجائے تو مَیں گناہوں کی ذلَّت کی اتھاہ گہرائیوں میں گِرنے سے بچ جاؤں گا
میرے کریم مولٰی...! میری پشت پناہی کر لے تاکہ میں بھی خواری سے بچ جاؤں اور تیری تابع داری میں آجاؤں...!!!

20/09/2023

گمنام مگر کردار والے لوگ

ایک سبق آموز پوسٹ......
گھڑی میں تین سوئیاں ہوتی ہیں جن میں ایک سوئی سیکنڈ والی سوئی کے نام سے مشہور ہے۔
یہ سیکنڈ والی سوئی اپنا وجود تو رکھتی ہے پر اس کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ سب یہی کہتے ہیں دس بج کر پندرہ منٹ ہو گئے ہیں۔ کبھی کسی نے یوں نہیں کہا دس بج کر پندرہ منٹ اور چار سیکنڈ ہوئے ہیں۔
جب کہ یہ سیکنڈ والی سوئی باقی دونوں سوئیوں سے زیادہ محنت و مشقت کرتی ہے اور اُن دونوں کو بھی آگے بڑھنے میں مدد کرتی ہے۔
ہماری زندگی میں بھی بہت سے لوگ اسی سیکنڈ والی سوئی کی مانند ہوتے ہیں جن کا ذکر تو کہیں نہیں ہوتا لیکن ہمارے آگے بڑھنے میں ان کا کردار ضرور ہوتا ہے
۔
منقول
۔
۔
۔

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Lahor. Cant Dfens Mour Street. 5
Lahore