17/05/2026
پروگرام ہیلتھ زون میں ڈاکٹر عدیل مسعود بچوں کی صحت سے متعلق ماہرانہ رائے دیتے ہوئے
پروگرام لاہور رنگ چینل پر نشر کیا گیا
Bachon mein gandum allergy khatarnak had tak barh gayi! Kya is ka Ilaj mumkin hai? | Lahore Zone
Bachon mein gandum allergy khatarnak had tak barh gayi! Kya yeh bim...
09/02/2026
آٹھ سال کی عمر میں ’پیڈ‘ سنبھالتی ہوئی آپ کی بیٹی
یہ ترقی ہے یا زوال؟
کل ہی کی بات ہے۔ او پی ڈی میں ایک ماں باپ اپنی آٹھ سالہ بیٹی کو لے کر آئے۔ بچی کے ایک ہاتھ میں اب بھی اس کی پسندیدہ گڑیا تھی اور دوسری طرف ماں کی آنکھوں میں آنسو۔
شکایت کیا تھی؟
“ڈاکٹر صاحب، اسے ماہواری (Periods) شروع ہو گئی ہے۔”
یہ پڑھ کر آپ کا دل دہل گیا نا؟
میرا نہیں دہلا، کیونکہ اب میرے کلینک میں یہ روز کا معاملہ بن چکا ہے۔ جس عمر میں بچیوں کو رسّی کودنی چاہیے، اس عمر میں ان ننھے وجودوں کو سینیٹری پیڈز اور پیٹ کے درد سنبھالنے پڑ رہے ہیں۔
“امی، مجھے خون کیوں آ رہا ہے؟”
۸ سال کی بچی کا یہ سوال سن کر اس ماں کا کلیجہ پھٹ گیا تھا… اور ایک ڈاکٹر کے طور پر میرا دماغ سُن ہو گیا تھا۔
کیا یہ بچپن چھین لینا نہیں ہے تو اور کیا ہے؟
ایک ماہرِ اطفال (Pediatrician) کے طور پر میں آپ کو ایک نہایت تلخ سچ بتا رہا ہوں، جو ہضم کرنا مشکل ہوگا:
ہم اپنے بچوں کو پال نہیں رہے، ہم انہیں پھلا رہے ہیں۔
جس طرح پولٹری فارم میں انجیکشن دے کر ۴۰ دن میں ’برائلر مرغی‘ تیار کی جاتی ہے، کچھ ویسی ہی حالت آج ہم نے اپنی اولاد کی کر دی ہے۔ یہ نشوونما نہیں، یہ جسم کی سوجن ہے!
اس کا ذمہ دار کون ہے؟
ہماری ’ماڈرن‘ لائف اسٹائل اور والدین کی سہل پسند سوچ!
دیکھیں ہم لاشعوری طور پر ان کی زندگی سے کیسے کھیل رہے ہیں:
۵۰۰ روپے کا پیزا یا زندگی کی ہولی؟
ویک اینڈ پر مال میں ۵۰۰–۸۰۰ روپے کا پیزا/برگر کھاتے ہوئے آپ تصویر کھینچ کر انسٹاگرام پر ڈالتے ہیں… “فیملی ٹائم!”
ارے، یہ فیملی ٹائم نہیں، یہ آپ کے بچوں کی صحت کی ہولی ہے! ربڑ جیسے میدے اور پروسیسڈ چیز کا یہ کھانا ہارمونل عدم توازن کی فیکٹری ہے۔
جسم میں جتنی زیادہ چربی، اتنا ہی زیادہ ایسٹروجن بنتا ہے۔ اور یہی اضافی ہارمون اس ۸ سالہ بچی کے نازک دماغ کو پیغام دیتا ہے:
“بچی، تمہارا بچپن ختم، اب تم عورت ہو!”
گرم کھانے کے لیے پلاسٹک کا ڈبہ؟
اسٹیل کا ڈبہ بھاری لگتا ہے اور پلاسٹک کا فینسی، اس لیے وہی بچوں کو دے رہے ہو؟
جب آپ اس میں بھاپ اڑاتی گرم سبزی رکھتے ہیں تو اس میں موجود زینو-ایسٹروجنز (Xenoestrogens) کھانے میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ کیمیکل جسم میں جا کر بہروپئے کی طرح کام کرتے ہیں۔ جسم کو لگتا ہے کہ یہ ایسٹروجن ہے، اور جسم قبل از وقت بالغ ہونے لگتا ہے۔
آپ کی ’فینسی‘ عادت نے قدرتی گھڑی ہی بگاڑ دی ہے!
دودھ-چکن یا ’ہارمونل بم‘؟
“ڈاکٹر، بچی بہت دبلی ہے، نان ویج دیں؟ دودھ کتنا پلائیں؟”
کھلائیں ضرور، مگر بازار کا وہ ۴۰ دن میں پھولا ہوا برائلر چکن اور تھیلی کا ’کیمیائی‘ دودھ دیتے وقت سو بار سوچیں۔
چکن: مرغی کو جلدی بڑا کرنے کے لیے گروتھ ہارمونز کے بھاری ڈوز دیے جاتے ہیں۔ وہی ہارمون بچی کے پیٹ میں جاتے ہیں۔ اسی لیے آج کل چوتھی جماعت کی بچیوں کے ہونٹوں پر بال (Facial Hair) آ رہے ہیں۔ یہ PCOD کی پہلی علامت ہے!
دودھ: گائے-بھینس کو زیادہ دودھ کے لیے دیے گئے آکسیٹوسن کے انجیکشن دودھ کے ذریعے آپ کی بچی کے ننھے سے رحم کو “بڑا ہونے” کے غلط سگنل دیتے ہیں۔
جن چیزوں کو آپ ’پروٹین‘ سمجھ کر کھلا رہے ہیں، وہ دراصل ہارمونل بم ہیں!
💉 سب سے خوفناک حقیقت:
اس عمر میں ماہواری شروع ہو جائے تو ہڈیاں جلدی جُڑ جاتی ہیں اور قد ہمیشہ کے لیے رک جاتا ہے۔ اسے روکنے کے لیے پھر کیا کرنا پڑتا ہے؟
“ہارمون سپریشن تھراپی!”
ذرا تصور کریں…
اس ۸ سالہ نازک پھول کو، اپنی ماہواری روکنے کے لیے اگلے ۳–۴ سال تک ہر مہینے ایک تکلیف دہ، موٹے انجیکشن کی سوئی لگوانی پڑے گی!
آپ کی لاڈلی بیٹی ہر مہینے اس سوئی کے خوف سے کانپے گی، اور آپ بے بس ہو کر یہ سب دیکھیں گے۔
سوچیے والدینو…
۱۰ سال بعد جب وہ آپ سے پوچھے گی:
“امی، ابو، تب کیوں دھیان نہیں دیا؟ کیا وہ پیزا-برگر میری زندگی سے زیادہ اہم تھے؟”
تو آپ کے پاس کیا جواب ہوگا؟
ابھی بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا… سدھر جاؤ!
1۔ کچن سے ’سفید زہر‘ (میدہ، چینی) باہر پھینک دیں۔
2 پلاسٹک کے ڈبوں کو آگ لگا دیں: صرف اسٹیل استعمال کریں۔
3 بچوں کو ’برائلر‘ نہ بنائیں: انہیں مٹی میں کھیلنے دیں، دھوپ میں دوڑنے دیں۔
4 لاڈ پیار کا مطلب زہر کھلانا نہیں، یہ بے حسی اب بند کریں!
اس مضمون کو پڑھ کر بھول مت جانا۔ یہ معلومات ہر فیملی گروپ تک پہنچانا آپ کا اخلاقی فرض ہے۔
اپنی بیٹیوں کا بچپن بچانے کے لیے یہ قدم اٹھانا ہی ہوگا۔
کیا آپ کے آس پاس بھی ایسی صورتحال نظر آتی ہے؟
اپنے تجربات نیچے ضرور شیئر کریں۔
16/07/2025
ہر نوزائیدہ بچے کو پیداٸیش پر چائلڈ اسپیشلسٹ سے چیک کروانابےحد ضروری ہے۔
ڈاکٹر کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ یہ چیک کریں کہ بچہ صحت مند ہے یا نہیں، بچے میں کوٸ پیداٸیشی نقص تو نہیں اور نئے والدین کو بچوں کی خوراک اور معمول کی دیکھ بھال کے بارے میں رہنمائی کریں۔
معاٸنے کے شروع میں بچے کے وائٹلز جن میں دل کی دھڑکن سانس کی شرح اور درجہ حرارت چیک کیاجاتایے ۔ پھر وزن، لمبائی اور سر کے سائز کی پیماٸیش ہوتی ہے۔ ان میں سے ہر ایک چیز کا پیداٸیش پر ریکارڈ انتہائی اہم ہے اور ساتھ ہی یہ ریکارڈ ہمیں اگلے مہینوں اور سالوں میں مدد کرے گا کہ بچہ صحیح طریقے سے بڑھ رہا ہے یا نہیں۔
اس کے بعد سر سے لے کر پاٶں تک تفصیلی معاٸنہ کیا جاتا ہے۔
سر کودیکھا جاتا ہے کہ پیدائش کے عمل کے دوران سر کی ہڈیوں پر کوئی چوٹ تو نہیں آٸ ہے، ہڈیاں آپس میں جڑی ہوٸ تو نہیں ہیں اور سر کے نرم دھبے مناسب سائز کے ہیں۔ آنکھوں کے معاٸنے میں بیناٸ، سفید موتیا، کالا موتیا یا آنکھ کے پردے کی رسولیکو چیک کیا جاتا ہے۔ناک کو دیکھا جاتا ہے کہ مکمل دونوں ساٸڈز کھلی ہوٸ ہیں .منہ کو پیداٸیشی دانتوں اور کٹے ہوۓ دانتوں کے لیے چیک کیا جاتا ہے . کانوں کا معائنہ کیا جاتا ہے۔
گردن پر پیداٸشی رسولیوں کے لیے چیک کیا جاتا ہے۔ ہنسلی کی ہڈی اور کندھے کی ہڈیوں کو فریکچر کے لیے دیکھاجاتا ہے۔ دل کی کسی بھی پیدائشی بیماری جیسے دل میں سوراخ یا خون کی نالیوں کا کھلا ر جاناچیک کیاجاتا ہے۔ کسی بھی پیدائشی نمونیا یا سانس لینے میں دشواری کے لیے پھیپھڑوں کی جانچ کی جاتی ہے۔ جگر، تلی گردے یا پیدائشی ٹیومر جیسے کسی بھی مسئلے کے لیے پیٹ کی جانچ کی جاتی ہے۔ کوہلے کے جوائنٹ چیک کیا جاتا ہے کہ اس کی پوزیشن نارمل ہے یا نہیں۔ پاخانہ کے راستے کو چیک کیا جاتا ہےکہ مکمل طور پر کھلا ہے ۔ بچے کے جنسی اعضاء کو دیکھا جاتا ہے کہ آیا وہ بچے کی جنس کے مطابق نارمل ہیں یا نہیں۔ جلد کو کسی بھی نقائص، رنگت کی تبدیلی یا دیگر مسائل کے لیے چیک کیا جاتا ہے۔ کلب فٹ یا ٹھیڑے پاٶں جیسے کسی بھی نقص کے لیے ہاتھ اور پاؤں کی جانچ کی جاتی ہے۔ ہڈیوں کے کسی بھی مسائل یا ریڑھ کی ہڈی سے متعلق مسائل کے لیے کمر کی جانچ کی جاتی ہے۔
یہ سب اتنی تفصیل سے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ڈاکٹر ان تمام مسائل کا جائزہ لیتے ہیں اور اگر اس مرحلے پر بچے میں کوئی مسئلہ سامنے آجائے تواس کا حل آسان ہوتا ہے بہ نسبت اسکے کہ اسکا علاج اور تشخیص دیر سے ہو۔
اگر بچہ صحت مند ہوتو ڈاکٹر کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کو دودھ پلانے ,صفاٸ رکھنے ،حفاظتی ٹیکوں اور نوزائیدہ بچوں کے حوالے سے ہمارے معاشرے میں رائج خرافات کو ختم کرنے کے بارے میں رہنمائی کریں .
اس سب کا مصصد نوزاٸیدہ بچے کو محفوظ ہاتھوں میں دینا ہوتا ہے۔جزاك الله
19/06/2025
منگول بچے، ڈاؤن سنڈروم، سائیں۔
اگر آپ لڑکی ہیں۔ آپ کی عمر 35 سال ہو چکی ہے۔ آپ کی ابھی شادی نہیں ہو سکی۔ یا ابھی آپ کسی وجہ سے ماں نہیں بن سکیں۔ تو یہ تحریر آپ کے لیے بڑی کارآمد ہے۔
کیا آپ جانتی ہیں؟ کہ 35 سال کی عمر اور جدید ریسرچز میں 33 سال کی عمر میں اگر کوئی لڑکی ماں بنتی ہے۔ تو ہیں کہ اسکا بچہ ڈاؤن سنڈروم پیدا ہوگا۔ کتنے چانسز ہیں آئیے دیکھتے ہیں۔
ماں کی عمر 20-24 سال 1/5000
ماں کی عمر 25-32 سال 1/1200
ماں کی عمر 33-35 سال 1/350
ماں کی عمر 40-36 سال 1/100
ماں کی عمر 45-41 سال 1/30
دنیا بھر میں 90 فیصد موجود ڈاؤن سنڈروم کی پیدائش کے وقت انکی ماں کی عمر 33 سال سے اوپر تھی۔ اس سے معاملہ کی سنگینی کا خود اندازہ لگا لیں۔ میری اب تک کی دس سالہ ذاتی فیلڈ ریسرچ میں 100 فیصد ڈاؤن سنڈروم بچوں کی مائیں 35 سے اوپر کی تھیں جب انہوں نے یہ بچہ پیدا کیا۔
زیر نظر تصویر میں موجود بچے کی شکل کا بچہ سو فیصد آپکی فزیکل آنکھ نے اپنے گلی محلے گاؤں میں دیکھا ہوگا۔ کیوں نہ دیکھا ہو؟ ان کی ریشو پیدا ہونے والے ہر 700 میں سے 1 بچہ ہے۔ پاکستان کی کل آبادی 21 کروڑ مان لیں۔ تو اس حساب سے تقریباً 30 ہزار ڈاؤن سنڈروم پاکستان میں موجود ہیں۔ ان کی شکل منگولوں سے ملتی ہے اس لیے انکو منگول بچے بھی کہا جاتا ہے۔
میں انہیں گولو مولو کہتا ہوں۔ بڑا پیار مجھے ان بچوں سے۔ سکول کے بچوں کے علاوہ بھی کوئی بچہ کہیں راستے میں یا دوران سفر مل جائے۔ میری کوشش ہوتی اسکی ایک پپی لے لوں یا اسکی گال پر پیار سے چٹکی کاٹ لوں اسے ممکن ہو تو اٹھا کر گلے لگا لوں۔ اور والدین کو اگر نہیں معلوم تو اسکی تعلیم کے بارے بتاؤں۔
ڈاؤن سنڈروم ہے کیا؟
جیسے ہی انسانی ماں کے رحم میں یا IVF کے ذریعے نطفے اور بیضے کا ملاپ ہوتا ہے۔ تو یک خلوی جاندار وجود میں آتا ہے۔ والد کی طرف سے ایک سپرم جو بیضے سے ملاپ کرتا ہے میں ننھی منھی سی 23 چیزیں یا معلومات کے کوڈ ہوتے ہیں۔ یہی 23 معلومات کے کوڈ ماں کی اووری سے نکلے بیضے میں بھی ہوتی ہیں۔ ان 23 ننھی منھی چیزوں کو کروموسوم کہتے ہیں۔ نطفے و بیضے کے ملاپ سے دونوں طرف سے آنے والے کروموسوم ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر 23 جوڑے بناتے ہیں۔ زائیگوٹ میں 46 کروموسوم ہونا نارمل ہے۔ مگر ڈاؤن سنڈروم میں کروموسوم نمبر 21 جب اپنے مخالف سمت سے آنے والے دوست نمبر 21 سے ملتا ہے۔ تو جنیٹک میوٹیشن (تنوع) کی وجہ سے یہ دو کی بجائے 3 کروموسوم بن جاتے ہیں۔ اسے ٹرائی سومی یا T21 بھی کہتے ہیں۔
اب زندگی کے ابتدائی واحد سیل یا خلیے میں 46 کی بجائے 47 کروموسوم ہو گئے۔ یہ سیل سٹیم سیل یا بنیادی خلیہ ہوتا ہے۔ جو آگے تقسیم در تقسیم ہو کر دیگر سیل بناتا ہے۔ ہر بننے والے سیل میں یہ کروموسوم 47 ہی بنتے چلے جاتے ہیں۔ اور نتیجتاً پیدا ہونے والا بچہ کچھ مختلف جسمانی شکل و ساخت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ جو آپ پوسٹ کے ساتھ لگی تصویر میں دیکھ سکتے ہیں۔
ان بچوں کی پہچان کیا ہے؟
ناک چپٹی جسے پنجابی میں پھینی ناک کہتے ہیں۔
کان چھوٹے مگر کھڑے ہوئے۔
آنکھیں ابھری ہوئی اور باریک سی مگر بیرونی کناروں سے اوپر کو اٹھتی ہوئیں۔
گردن چھوٹی اور کافی موٹی۔
سر عموماً عام بچوں سے بڑا۔
مسکراتا ہوا چہرہ۔
عموماً یہ بچے نارمل سے قد میں چھوٹے اور موٹے ہوتے ہیں۔
ذہنی صلاحیت کتنی ہوتی ہے؟ دیگر مسائل کیا ہیں؟
دانشورانہ صلاحیت یا پسماندگی کی بات کریں تو انکا آئی کیو اکثریت میں 50-70 اور کچھ بچوں کا 35-50 تک ہو سکتا ہے۔ جو ایورج یعنی کم سے کم 70 اور زیادہ ہو تو عموماً 120 سے کم ہے۔ ان بچوں کو غور و خوض/فکر، منطق، ادراک میں کمی کے مسائل ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ بولنے کے مسائل، دل کی دھڑکن کا تیز یا کم ہونا، دل میں سوراخ ہونا، والوز کا تنگ ہونا وغیرہ ان کے مشترکہ مسائل ہیں۔
یوں سمجھیے کہ ڈاؤن سنڈروم میں سے 50 فیصد کو دل کے مسائل ہوتے ہیں۔ مگر ان میں سے صرف 10 سے 15 فیصد کو کارڈیالوجسٹ یعنی دل کے ڈاکٹر سے علاج کی مد میں مدد درکار ہوتی ہے۔
اسکے علاوہ ان کو بے خوابی یعنی نیند کا بہت کم ہونا، الزائیمر، ڈیمینشیا، تھائی رائیڈ اور اسکن پر جلدی بڑھاپے کے آثار نمایاں ہونے کے مسائل ہوتے ہیں۔ ان کے دانت بھی بہت چھوٹے سے رہ جاتے ہیں۔ کچھ بچوں کو سخت چیزیں چبانے میں مسئلہ پیش آتا ہے۔
تشخیص کیسے ہوتی ہے؟
حمل کے پندرہویں سے بیسویں ہفتے کے کسی ماہر ریڈیالوجسٹ سے کروائے گئے الٹرا ساؤنڈ سکین میں ڈاؤن سنڈروم کی شناخت ہو جاتی ہے۔ اگر اس سے پہلے شناخت کرنا چاہیں تو حمل کے 11 ہفتے سے 14 ہفتے میں ہی Chorionic villus sampling (CVS) ٹیسٹ سے ڈاؤن سنڈروم کا پتا لگایا جاسکتا ہے۔ اس میں ایک الٹرا سونک سوئی ماں کے پیٹ میں داخل کی جاتی ہے۔ اور خوراک و آکسیجن کی نالی پلاسینٹا سے بلڈ سیلز کا سامپل لیا جاتا ہے۔ اس کا کوئی درد نہیں ہوتا عموماً 20 منٹ کا کام ہے۔ اس سے حمل کو بھی کوئی نقصان نہیں ہوتا۔
اگر وقت زیادہ گزر چکا ہو تو حمل کے 15 سے 18 ہفتے میں ایک اور ٹیسٹ Amniocentesis کیا جاتا ہے۔ اس میں بھی الٹرا ساؤنک سوئی رحم میں جاتی ہے۔ بچے کے گرد جھلی میں موجود پانی جسے لائیکر یا امنیاٹک فلیوڈ کہتے سے پانی کا ایک قطرہ نکالا جاتا ہے۔ اس میں بھی 20 منٹ لگتے کوئی درد نہیں ہوتا۔ حمل کو بھی کچھ نہیں ہوتا۔ بس یہ ٹیسٹ کسی قابل گائناکالوجسٹ سے کروائیں۔
ڈاؤن سنڈروم کی کنفرم تشخیص ہوجانے پر آپ اپنے مذہب عقائد فرقے کی تعلیمات کے مطابق اس حمل کو ختم بھی سکتے ہیں۔ یا جاری رکھ کر ڈاؤن سنڈروم بچے کو پیدا کر سکتے ہیں۔ بحثیت مسلمان میرے علم و مطالعہ کے مطابق گوشت کے لوتھڑے میں روح پھونکے جانے سے قبل ڈاکٹروں کے مشورے اور علماء سے رائے لیکر حمل ختم کرنے کی کچھ گنجائش موجود ہے۔ قرآنی و احادیث کی تعلیمات میں روح پھونکے جانے کی عمر حمل ٹھہر جانے کے بعد 4 ماہ یعنی 16 ہفتوں کا دورانیہ ہے۔ پہلے ٹیسٹ CVS گیارہویں سے چودہویں ہفتے تک تشخیص ہو جائے۔ اور اگر آپ حمل ختم کرنا چاہیں تو اپنے مذہب و عقائد کی بنیاد پر فیصلہ کر کے فتویٰ لے کر ایسا سکتے ہیں۔
دنیا بھر میں 30 سے 40 فیصد ڈاؤن سنڈروم کی تشخیص ہوجانے پر حمل ختم کر دیا جاتا ہے۔ اس میں تمام مذاہب اور کسی مذہب کو نا ماننے والے لوگ شامل ہیں۔
ان بچوں کی اوسط عمر 50 سے 60 سال ہے۔
ان کا عالمی دن 21 مارچ ہے۔
بچہ پیدا ہوگیا۔ یا پتہ تھا ڈاؤن سنڈروم ہے مرضی و خوشی سے پیدا کیا۔ اب کیا کریں؟
سب سے پہلا کام جو کریں۔ اس بچے کی پیدائش پر ویسی ہی خوشی منائیں ویسے ہی مٹھائی بانٹیں ویسا ہی عقیقہ کریں جیسے عام بچوں کی پیدائش پر کرتے ہیں۔ روئیں پیٹیں بلکل نہیں ناں اس سے کچھ ہوگا۔ بچے کے جسم کے اربوں کھربوں سیلز میں سے ہر ایک سیل میں موجود 47 کروموسوم کو آپ دنیا بھر کی طاقت لگا کر بھی 46 نہیں کر سکتے۔ یعنی بچے کی جسمانی ساخت اور ذہنی استعداد جو بن چکی ساری عمر وہی رہے گی۔ آپ اسے پہلے دن سے توجہ دے کر بہت بہتر کر سکتے ہیں۔
اسکا کوئی علاج نہیں ہے۔ اس سچ کو قبول کریں۔ لوگ اس سچ کو کئی سال بعد مانتے ہیں۔ علاج دم درود کرواتے رہتے ہیں۔ تب تک بچے کا مکمل بیڑہ غرق ہو چکا ہوتا۔
ان بچوں کی زندگی کے پہلے 1000 دن انتہائی اہم ہوتے ہیں۔
پیدائش سے فوراً بعد سماعت اور بصارت کا ٹیسٹ کروائیں۔ فوراً دل کی دھڑکن چیک کروائیں۔ اسکا ریگولر ریکارڈ رکھیں۔ پہلے چھ ماہ کی عمر میں کارڈیالوجسٹ سے ملیں اور دل کے ممکنہ امراض کی تشخیص کروائیں۔ سماعت میں مسئلہ ہونے پر ضرورت ہو تو ایک ماہ کی عمر میں ہی اچھی کوالٹی کا سرٹیفائیڈ پروفیشنل سے آلہ سماعت لگوا لیں۔ بچہ ماں کی آواز سنے اور رسپانس کرے۔ جو سنے گا وہی بچہ بولے گا۔ ورنہ بہت لیٹ بولے گا۔
یہ ایک ڈیویلپمنٹل ڈس ابیلیٹی ہے۔ میرا ایم فل اسی میں ہے۔ اور یہ میری سب سے پسندیدہ ڈس ابیلیٹی تھی۔
ارلی انٹروینشن جتنی جلدی دینی شروع کریں گے۔ اتنا ہی فائدہ ہوگا۔ اگر ارلی انٹروینشن نہ دی جائے تو یہ بچے تین سال تک کی عمر تک پہنچ کر نہ ٹھیک سے بولتے ہیں نہ ٹھیک سے چلتے ہیں۔ اگر انٹروینشن دے دی جائے تو تین سال کی عمر تک لکھنا پڑھنا بھی ماشاءاللہ شروع کر دیتے ہیں۔
ارلی انٹروینشن میں کیا کرنا ہے؟
ایک سال کی عمر سے پہلے آلہ سماعت اگر ضرورت ہو تو ہر صورت لگوائیں۔
ایک سال کی عمر سے ہی پانچوں حسیات کا استعمال کرنا سکھائیں۔ آکو پیشنل تھراپسٹ سے مدد لیں۔
ان بچوں کے مسلز اور ہڈیاں و جوڑ کمزور ہوتے ہیں۔ فزیوتھراپسٹ سے مشورہ کرکے جتنی جلدی ممکن ہو فزیوتھراپی شروع کروائیں۔ اور چند سال تک حسب ضرورت جاری رکھیں۔ بعد میں اسکی روٹین میں ریگولر سیر ورزش یا جم جانا یا کوئی گیم کھیلنا شامل کریں۔ ورنہ بچہ بہت موٹا ہوجائے گا۔ یا بہت کمزور ہوجائے گا۔
غذا ڈاکٹر کے مشورے سے دیں۔ ہر بچے کے مسائل مختلف ہو سکتے ہیں۔ نظام انہضام بھی کئی بچوں کا متاثر ہوتا۔
سکول میں انکی سوشل اسکلز، سیلف ہیلف سکلز یعنی اپنے کام آپ کرنا جیسے کپڑے پہننا، شوز بیلٹ پہننا تسمے بند کرنا برش کرنا بٹن بند کرنا وغیرہ سب سے پہلے سکھایا جاتا ہے۔
اسکے ساتھ بچے کی موٹر اسکلز، زبان دانی اور Cognitive پراسیسنگ کو بہتر کرنے پر کام کیا جاتا ہے۔
یہ بچے سپیشل ایجوکیشن یا جنرل مین اسٹریم ایجوکیشن جس میں ارلی انٹروینشن کے بعد نارمل بچوں کے ساتھ ہی پڑھ سکتے ہیں۔ کچھ بچے ایجوکیبل ہوتے ہیں اور کچھ ٹرین ایبل۔ ان بچوں پر اگر دل سے محنت کی جائے تو ماسٹرز تک تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ ابتدائی تین سے چار سالوں میں ارلی انٹروینشن دے کر انکو نارمل سکول میں پڑھایا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں شعور کی کمی، اداروں کی کمی یا معلومات نا ہونے کیوجہ سے ان بچوں کی زندگی کے ابتدائی کئی سال ضائع ہوجاتے ہیں۔ تو وہ نقصان کبھی بھی پورا نہیں ہوسکتا۔ نتیجتاً یہ بچے گلیوں محلوں میں سائیں بنے پھر رہے ہوتے۔ لوگ ان سے ٹھٹھہ مذاق کرتے انہیں چھیڑتے یہ ان کو گالیاں دیتے یا انکے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ یوں ہی انکی عمر بیت جاتی۔
پہلے دن سے بچے کو دل سے قبول کریں۔ جو میں نے اوپر لکھا ہے اس پر عمل کریں انشاء اللہ بچہ نارمل کے قریب ترین زندگی گزارے گا۔ پنجاب کے ہر ضلع ہر تحصیل ہر ٹاؤن میں موجود سرکاری سپیشل ایجوکیشن سنٹر میں ان بچوں کی تعلیم و تربیت کا بندوست کیا گیا ہے۔ مگر دیکھا یہی گیا ہے کہ ان بچوں کو حرام کی اولاد سمجھ کر والدین کی طرف سے ہی ایسا غیر منصفانہ سلوک ملتا ہے۔ کہ رہے رب کا نام۔ والدین ایک تو آتے ان بچوں کو 6 سے 8 سال کی عمر میں لیکر ہیں۔ اور پھر سمجھتے اب یہ بچے سکول والوں کی ذمہ داری ہیں۔۔ہم آزاد ہیں۔ باقی بچوں پر پیسے بھی لگاتے ان کو توجہ بھی دیتے مگر انکی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ داخلے کے بعد کبھی دوبارہ سکول نہیں آتے۔ اور اکثر ٹیچرز بھی پھر توجہ دینا چھوڑ دیتے ہیں۔ اور دوسری طرف کہیں والدین دل سے توجہ دے رہے ہوتے تو ٹیچر نالائق یا ہڈ حرام ہوتا۔ یا توجہ نہیں دیتا یا اسکے پاس بچے بہت زیادہ ہوتے تو بچے کی زندگی برباد کر دیتا۔
ایک پوری ٹیم ان بچوں کو فعال کرنے میں کردار ادا کرتی ہے۔ جن میں سائیکالوجسٹ سپیچ تھراپسٹ، میوزک ٹیچر، کلاس ٹیچر، ہر سکول میں موجود ہوتے ہیں۔ اگر آپ سرکاری سپیشل سکول کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ سوجھ بوجھ رکھتے ہیں کہ بچے کو کچھ نہیں کروایا جا رہا۔۔اسکا آئی ای پی IEP) Individualized Education plan) نہیں بنایا یا آپکو نہیں دیا گیا۔ نہ آپکو پتا ہے سکول والے کیا کروا رہے تو سکول جائیں۔ احترام سے پوچھیں کیا کروا رہے ہیں۔۔ہم کیا کریں گھر میں بچے کے ساتھ؟ سکول پرنسپل سے ملیں اپنا معاملہ ڈسکس کریں۔ اور سکول والوں سے ملکر بچے کی تعلیم و تربیت پر توجہ دیں۔
یہ بچے فوٹوگرافی، سٹیج پرفارمنسز، ڈانس، ماڈلنگ، کشتی پہلوانی وغیرہ, پیرا اولمپکس گیمز میں بہت اچھا مقام حاصل کر سکتے ہیں۔۔کسی بھی دفتر جنرل سپر سٹور میں انڈر سپر ویژن کامیابی سے ملازمت کر سکتے ہیں۔ اپنی ایجوکیشن اور خصوصیات کے مطابق سرکاری محکموں میں ملازمت بھی حاصل کر سکتے ہیں۔
اچھا ایک آخری بات۔ ڈاؤن سنڈروم لڑکیوں کی شادی کر دی جائے تو انکے ماں بننے کے 50 فیصد چانسز ہوتے ہیں۔ اور 50 فیصد ہی چانس ہوتے انکا بچہ بھی ڈاؤن سنڈروم ہی ہوگا۔
ڈاؤن سنڈروم مردوں۔میں باپ بننے کی صلاحیت بہت ہی کم ہے۔۔آپ اس بات کا اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں۔ کہ دنیا بھر میں اب تک معلوم کیسز میں صرف تین ڈاؤن سنڈروم مرد باپ بن سکے ہیں۔ شادیاں تو ہزاروں کی ہوئی ہیں۔
لڑکی کی شادی اگر ممکن ہو تو کسی دوسری مائنر ڈس ابیلیٹی کے ساتھ یا کوئی قبول کرے تو نارمل شخص سے کریں۔ کوشش کریں لڑکی بچہ نہ پیدا کرے۔ بس اپنے سسرال چلی جائے۔ جہاں بچوں کی ضرورت نہ ہو۔
میں والدین سے کہوں گا۔ بچیوں کی شادیوں میں غیر ضروری تاخیر نہ کریں۔ گولی ماریں جہیز کو وہ بعد میں بنتا رہے گا۔ اور شاید دینے کی نوبت ہی نہ پیش آئے لوگ ہی اچھے مل جائیں۔ یہ واحد ڈس ابیلیٹی ہے جسکا ماں کی زیادہ عمر کے ساتھ ڈائریکٹ تعلق ہے۔ باقی بھی کئی ذہنی و جسمانی معذوریاں ماں کی عمر 33 سے 35 سال کے بعد حمل ہونے پر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اگر 33 سال کی عمر میں ماں بننے کا پلان کریں تو ضرور جنیٹک کاونسلنگ کروائیں۔
06/07/2024
Certified as Assessor in BFHI by UNICEF