26/08/2022
قرآن کے بارے میں ایک ادب:
وعن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بئس مالأحدهم أن يقول : نسيت آية كيت وكيت بل نسي واستذكروا القرآن فإنه أشد تفصيا من صدور الرجال من النعم . متفق عليه . وزاد مسلم : بعقلها
ترجمہ:
حضرت ابن مسعود (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ کسی شخص کے لئے یہ بات بری ہے کہ وہ یوں کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں بلکہ وہ اس طرح کہے کہ بھلایا گیا اور قرآن کریم برابر یاد کرتے رہا کرو کیونکہ وہ لوگوں کے دل سے جانوروں سے بھی جلد نکل جاتا ہے (بخاری ومسلم) مسلم کی روایت میں لفظ بعقلہا بھی ہے یعنی ان جانوروں سے بھی جلد جو اپنی رسی جلد اپنی میں بندھے ہوئے ہوں۔
تشریح:
یہاں ایک ادب سکھایا جا رہا ہے اگر کسی شخص کو قرآن کریم کی کوئی سورت یا آیت یاد نہ رہے تو وہ اس کا اظہار کیونکہ کرے ؟ ایسے موقع پر یہ کہنا کہ میں بھول گیا ہوں اس لئے منع ہے کہ اس طرح کہنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس نے قران پڑھنا چھوڑ دیا اور بےپروائی کے سبب بھول گیا جو ظاہر ہے کہ قرآن کی شان عظمت کے منافی اس طرح کہنا کہ بھولایا گیا ہوں گویا اس سعادت ونعمت کے حصول میں اپنی تقصیر و کوتاہی اور حسرت کا اظہار ہے جو صحیح ہے۔
23/08/2022
حضرت عمر بن حطاب (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا یقیناً اللہ تعالیٰ اس کتاب یعنی کلام اللہ کے ذریعہ کتنے لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اس کے ذریعہ کتنے لوگوں کو پست کرتا ہے۔ (مسلم)
تشریح:
مطلب یہ ہے کہ جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کا درجہ بلند کرتا ہے بایں طور کہ دنیا میں تو اسے عزت و وقار کی زندگی عطا فرماتا ہے اور عقبی میں ان لوگوں کے ساتھ رکھتا ہے جن پر اس نے اپنا انعام کیا ہے اس طرح جو شخص نہ قرآن پڑھتا ہے اور نہ اس پر عمل کرتا ہے اس کا درجہ پست کردیتا ہے۔
19/08/2022
جمعہ کی فضیلت اور ساعت قبولیت
وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلْتَمِسُوْ السَّاعَۃَ الَّتِیْ تُرْجٰی فِی یَوْمِ الْجُمُعَۃِ بَعْدَ الْعَصْرِ اِلٰی غَیْبُوْبَۃِ الشَّمْسِ ۔ (رواہ الترمذی)
ترجمہ:
حضرت انس راوی ہیں کہ سر تاج دو عالم ﷺ نے فرمایا جمعے کے دن کی اس ساعت کو کہ جس میں قبولیت دعا کی امید ہے عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک تلاش کرو۔ (جامع ترمذی )
16/08/2022
سورۃ الاخلاص کی فضیلت:
وعن أبي الدرداء قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيعجز أحدكم أن يقرأ في ليلة ثلث القرآن ؟ قالوا : وكيف يقرأ ثلث القرآن ؟ قال : قل هو الله أحد يعدل ثلث القرآن . رواه مسلم
ترجمہ:
حضرت ابودرداء (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی شخص ایک رات میں تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ تہائی قرآن کیسے پڑھا جائے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا آیت (قل ھو اللہ احد) تہائی قرآن کے برابر ہے۔ (جس شخص نے رات میں یہ سورت پڑھ لی گویا اس نے تہائی قرآن پڑھ لیا) (مسلم) امام بخاری نے اس روایت کو ابوسعید (رض) سے نقل کیا ہے۔
تشریح:
قرآن کریم میں بنیادی طور پر تین قسم کے مضمون مذکور ہیں (١) قصص۔ (٢) احکام (٣) تو حید، چونکہ سورت آیت (قل ھو اللہ احد) میں باری تعالیٰ کی توحید نہایت اونچے اور بلیغ انداز میں بیان ہے یا یوں کہئے کہ پورے قرآن مجید میں توحید کے بارے میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے سورت آیت (قل ھو اللہ احد) اس کا خلاصہ اور حاصل ہے اس لئے سورت قل ہو اللہ پڑھنا تہائی قرآن پڑھنے کے برابر ہے۔ اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اس ارشاد گرامی کا حاصل یہ ہے کہ آیت (قل ہو اللہ احد) کا ثواب تہائی قرآن کے اصل ثواب کے بقدر مضاعف کیا جاتا ہے (یعنی بڑھایا جاتا ہے) اس طرح ان دونوں اقوال میں ایک لطیف فرق پیدا ہوگیا ہے پہلے قول اور پہلی وضاحت کا مطلب تو یہ ہوا کہ اگر کوئی شخص سورت قل ھو اللہ تین مرتبہ پڑھے تو یہ لازم نہیں آتا کہ اسے پورے قرآن کا ثواب ملے جب کہ دوسرے قول کے مطابق قل ہو اللہ تین مرتبہ پڑھنے سے ایک پورے قرآن کا اصل ثواب حاصل ہوجاتا ہے۔
12/08/2022
مشکوٰۃ شریف
کتاب: جمعہ کا بیان
باب: جمعہ کی فضیلت اور ساعت قبولیت
وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلْتَمِسُوْ السَّاعَۃَ الَّتِیْ تُرْجٰی فِی یَوْمِ الْجُمُعَۃِ بَعْدَ الْعَصْرِ اِلٰی غَیْبُوْبَۃِ الشَّمْسِ ۔ (رواہ الترمذی)
ترجمہ:
حضرت انس راوی ہیں کہ سر تاج دو عالم ﷺ نے فرمایا جمعے کے دن کی اس ساعت کو کہ جس میں قبولیت دعا کی امید ہے عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک تلاش کرو۔ (جامع ترمذی )
10/08/2022
مشکوٰۃ شریف
کتاب: فضائل قرآن کا بیان
باب: سورت بقرہ کی فضیلت
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تجعلوا بيوتكم مقابر إن الشيطان ينفر من البيت الذي يقرأ فيه سورة البقرة . رواه مسلم
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اپنے گھروں کو مقبرے نہ بناؤ (یاد رکھو) شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورت بقرہ پڑھی جاتی ہے۔ (مسلم)
تشریح:
مقبرے نہ بناؤ کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح مقبرے ذکر اللہ عبادت اور تلاوت قرآن سے خالی ہوتے ہیں اس طرح اپنے گھروں کو ان چیزوں سے خالی نہ رکھو کہ ان میں مردوں کی مانند پڑے رہو اور ذکر اللہ وغیرہ نہ کرو بلکہ اپنے گھروں میں نماز بھی پڑھو اور ذکر اللہ میں بھی مشغول رہو اور تلاوت قرآن بھی کرتے رہو، چناچہ آپ ﷺ نے اس چیز کی طرف بھی راہنمائی فرمائی جو ذکر و شغل میں افضل اور گھر و گھر والوں کے لئے بہت فائدہ مند ہے کہ وہ تلاوت قرآن کریم ہے۔ فرمایا شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورت بقرہ پڑھی جاتی ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ تلاوت قرآن کریم خصوصا سورت بقرہ کی تلاوت نہ صرف یہ کہ گھر میں رحمت و برکت کے دروازے کھلنے کا باعث ہے بلکہ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ایسا گھر شیطان کی نحوست اور اس کے مکر و فریب کے سایہ سے محفوظ رہتا ہے ویسے تو عمومی طور پر تلاوت قرآن کریم باعث رحمت و برکت ہے، مگر اس موقع پر سورت بقرہ کو بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا کہ اس سورت میں اللہ رب العزت کے اسماء اور احکام بہت مذکور ہیں۔
03/08/2022
مشکوٰۃ شریف
کتاب: فضائل قرآن کا بیان
باب: ماہر قرآن کی فضیلت
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الماهر بالقرآن مع السفرة الكرام البررة والذي يقرأ القرآن ويتتعتع فيه وهو عليه شاق له أجران
ترجمہ:
حضرت عائشہ (رض) راویہ ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ماہر قرآن ان فرشتوں کے ساتھ ہے جو لکھنے والے اور بزرگ و نیکوکار ہیں اور وہ شخص کہ جو قرآن کو اٹک اٹک کر پڑھتا ہے اور قرآن پڑھنا اس کے لئے مشکل ہوتا ہے تو اس کے لئے دو ثواب ہیں۔ (بخاری ومسلم)
تشریح:
ماہر قرآن وہ شخص ہے جس کو قرآن خوب یاد ہو، اٹکے بغیر پوری روانی سے پڑھتا ہو اور اس کے لئے قرآن پڑھنا کوئی مشکل اور دشوار امر نہ ہو۔ اسی طرح فرشتوں سے وہ فرشتے مراد ہیں جو لوح محفوظ سے اللہ تعالیٰ کی کتابیں نقل کرتے ہیں یا وہ فرشتے بھی مراد ہوسکتے ہیں جو بندوں کے اعمال لکھنے پر مامور ہیں۔ اس ارشاد گرامی کا حاصل یہ ہے کہ ماہر قرآن ان عظیم فرشتوں کے ساتھ ہے بایں طور کہ وہ دنیا میں ان ہی جیسا عمل کرتا ہے اور آخرت میں اسے جو منازل اور درجات عالیہ حاصل ہوں گے ان میں وہ فرشتوں کا رفیق ہوگا۔ جس شخص کو قرآن اچھی طرح یاد نہ ہو اور اٹک اٹک کر پڑھتا ہو تو اسے دو ثواب کی بشارت دی گئی ہے ایک ثواب تو پڑھنے کا اور دوسرا ثواب اس مشقت کا جو اسے قرآن پڑھنے میں ہوتی ہے اس طرح گویا قرآن شریف پڑھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو شخص قرآن اٹک اٹک کر پڑھتا ہے وہ ماہر قرآن سے زیادہ ثواب پاتا ہے ! کیونکہ ماہر قرآن کو تو بہت زیادہ ثواب ملتا ہے بایں طور کہ ملائکہ مذکورین کی رفاقت جیسی عظیم سعادت کی بشارت دی گئی ہے بہرحال حاصل یہ کہ افضل تو ماہر قرآن ہے لیکن اٹک اٹک کر پڑھنے والے کے لئے بھی باعتبار مشقت ایک طرح کی فضیلت اور ثواب ثابت ہے۔
02/08/2022
مشکوٰۃ شریف
کتاب: فضائل قرآن کا بیان
حضرت انس (رضی اللہ عنہ) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہر چیز کا دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل سورت یٰسین ہے جو شخص یس پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے پڑھنے کی وجہ سے (اس کے نامہ اعمال میں) دس مرتبہ قرآن پڑھنے کا ثواب لکھتا ہے۔ (ترمذی، دارمی)
تشریح:
قرآن کا دل سورت یٰس ہے یعنی قرآن کے علوم و معارف کا خلاصہ اور اس کا حاصل سورت یٰس ہے بایں طور کہ اس سورت میں قیامت کے احوال اور قرآن کے مقاصد اعلیٰ مذکور ہیں۔
26/07/2022
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلَاثَةٌ تَحْتَ الْعَرْشِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْقُرْآنُ يُحَاجُّ الْعِبَادَ لَهُ ظَهْرٌ وَبَطْنٌ وَالْأَمَانَةُ وَالرَّحِمُ تُنَادِي: أَلَا مَنْ وَصَلَنِي وَصَلَهُ اللَّهُ وَمَنْ قَطَعَنِي قَطَعَهُ اللَّهُ. رَوَاهُ فِي شرح السّنة
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں روز قیامت عرش کے نیچے ہوں گی، قرآن بندوں کی طرف سے جھگڑا کرے گا، اس کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی، اور امانت بھی، جبکہ رحم آواز دے گا، سن لو! جس نے مجھے ملایا، اللہ اسے ملائے اور جس نے مجھے قطع کیا اللہ اسے قطع کرے۔ “ امام بغوی ؒ نے اسے شرح السنہ میں روایت کیا ہے۔ اسنادہ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2133]