17/08/2023
جڑانوالہ میں جو ہوا اس کا مقامی جہالت سے تو کوئی تعلق ہو گا اسلام سے کوئی نہیں ۔ اسلام تو یہ ہے کہ
اھل حیرہ کے لیے حضرت خالد بن ولید رض نے حضرت ابو بکر رض کے حکم سے جو عہد نامہ لکھا تھا اس کی چند دفعات یوں تھیں ۔
١.ان کا کوئی عبادت خانہ نہ گرایا جاۓ گا
٢.ناقوس (گھنٹیاں)بجانے سے نہیں روکا جایے گا
٣.تہوار کے موقع پر صلیب کا جلوس نکالنے سے نہیں روکا جاۓ گا
٤.ان کے پادری کو ٹیکس معاف ھو گا
اسلام سے زیادہ اقلیتوں کے حقوق کا محافظ کون ہے ؟
کہ فاتح جب شہروں میں داخل ہوتے ہیں تو عزتیں لٹ جاتی ہیں ، سہاگ کٹ جاتے ہیں اور سیدنا عمر جب بیت المقدس میں داخل ہوتے ہیں اور پادری سے ملنے بڑے گرجے میں جاتے ہیں اور نماز کا وقت ہو جاتا ہے ۔ پادری کہتے ہیں کہ ادھر ہی پڑھ لیجیے ۔ فرماتے ہیں کہ:
"کل کو کوئی مسلمان یہ دعویٰ نہ کر دے کہ ہمارے خلیفہ نے یہاں نماز پڑھی تھی سو یہ جگہ ہماری ہوئی ۔"
یہ تو تھا اسلام ۔
اب جڑانوالہ سے خبر ہے کہ مبینہ طور پر قران کی توہین ہوئی ، اس حوالے سے اصولی بات یہ ہے کہ پہلے تحقیق کی جاتی کہ جرم ہوا تھا یا نہیں ۔۔
جب تک عدالت میں ثابت نہ جاتا تب تک یہ محض الزام تھا اور الزام کبھی جرم نہیں ہوتا ۔۔
اور بالفرض توہین ہوئی بھی تھی تو وہ ایک شخص کا جرم تھا ، پوری کمیونٹی اور آبادی کا کوئی جرم نہ تھا کہ ان کی عبادت گاہ کو جلایا جاتا ۔
حکومت کا فرض ہے کہ اصل مجرموں کو تلاش کرے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دے ۔
جڑانوالہ کی مقامی مذہبی تنظیموں کا فرض ہے کہ عیسائیوں کے گھروں کے آگے کھڑے ہوں اور اُنہیں تحفظ کا احساس دیں ۔
اسی طرح پاکستان کے عیسائی مذہبی رہنماؤں کا بھی فرض ہے کہ اپنی نوجوان نسل اور جوشیلے نوجوانوں کی حساس مذہبی موضوعات بارے تربیت کریں انہیں بتائیں کہ مسلمانوں کے ہاں عصمت رسول و قران کا تصور دوسرے ادیان سے فرق ہے اور اس کی حساسیت بھی الگ ہے ۔ اس عدم آگاہی کے سبب ایسے تلخ واقعات پیش آتے ہیں کہ عیسائی برادری کے بعض افراد توہین کا ارتکاب کرتے ہیں اور اشتعال پیدا ہوتا ہے جیسا کہ آج ہوا ۔جڑانوالہ واقعہ ہرگز یکطرفہ معاملہ نہیں ہے ۔
اور ساتھ ساتھ حکومت کا یہ بھی فرض ہے کہ بین الاقوامی دباؤ کے سبب کسی بےگناہ کے ساتھ ظلم نہ کیا جائے ، جو واقعتاً مجرم ہیں انہیں پکڑا جائے ۔
اور یہاں یہ پاکستان کے نام نہاد روشن خیال طبقے کو یہ یاد دلانا چاہوں گا کہ اسی اصول کی بنیاد پر تماتر اہل دین بارے ان کی لایعنی گفتگو مظلوموں کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں ہو گی بلکہ ان کی مظلومیت کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہو گا ، کیونکہ اس ںےہودگی کے سبب اصل جرم پس منظر میں چلا جائے گا اور موضوع بحث کچھ اور عنوان ہو جائیں گے
ابوبکر قدوسی