26/08/2026
حضرت مولانا الشیخ جہانگیر محمود حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
"حضور ﷺ کی آمد یقیناً خوشی اور شکر کا عظیم موقع ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس نعمتِ عظمیٰ کا حقیقی شکر کیا ہے؟ کیا صرف زبان سے محبت اور عقیدت کا اظہار کافی ہے، یا پھر ہماری زندگی بھی تعلیماتِ نبوی ﷺ کی گواہی دیتی ہے؟"
آپ ﷺ کی آمد پر خوشی کا اظہار اپنی جگہ، اور ہر معاشرے کا اپنا ثقافتی انداز بھی ہو سکتا ہے، بشرطیکہ وہ شریعت کی بنیادی تعلیمات کے خلاف نہ ہو۔ تاہم افراط و تفریط سے بچنا بھی ضروری ہے۔
"اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی صورت میں قیامت تک کے لیے مکمل رہنمائی عطا فرمائی ہے۔ اگر ہم محبت کے دعوے تو خوب کریں ، مگر اپنے والدین، شریکِ حیات، اولاد، معاشرے اور وطن کے ساتھ اپنے نبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق زندگی نہ گزاریں، تو ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے کہ ہم نے اس عظیم نعمت کا عملی شکر کس حد تک ادا کیا؟"
حقیقی محبت صرف دعووں کا نام نہیں، بلکہ اتباع، اطاعت اور عمل کا نام ہے۔ محبتِ رسول ﷺ کا سب سے خوبصورت اظہار یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔