Tajweed Ma Amsila

Tajweed Ma Amsila

Share

learn Noorani Qaida with easy English guidance, step-by-step Tajweed practice, and printable worksheets.

Structured, simple, and trusted Quran reading support for students

03/06/2026

محترم حجاجِ کرام متوجہ ہوں! 🌙🤍

وطن واپسی پر جب گھر والوں، عزیز و اقارب اور دوستوں کو اپنا سفرِ حج سنائیں تو الفاظ کے چناؤ میں احتیاط فرمائیے…
کیونکہ حرمین شریفین کی ہر مشقت بھی رحمت اور ہر تھکن بھی عبادت ہوتی ہے۔ ✨

جملوں کے استعمال میں احتیاط کیجیئے!

❌ سیڑھیوں پر اتنا رش تھا کہ نکلنا "مصیبت" ہوگئی!!
✅ یوں کہیں کہ سیڑھیوں پر اتنا رش تھا کہ نکلنے میں "مشقت" ہوگئی!!

❌ طواف و سعی میں اتنا ازدحام تھا کہ "رُل" گئے!!
✅ یوں کہیں کہ طواف و سعی میں اتنا ازدحام تھا کہ "تھک" گئے!!

❌ لوگ راستوں میں ایسے بیٹھے تھے کہ چلنا "عذاب" ہوگیا!!
✅ یوں کہیں کہ لوگ راستوں میں ایسے بیٹھے تھے کہ چلنا "دشوار" ہوگیا!!

❌ ہر طرف سے راستے بند ملے کہ "ذلیل و خوار" ہوگئے!!
✅ یوں کہیں کہ ہر طرف سے راستے بند ملے کہ "راستہ لمبا" ہوگیا!!

❌ یہاں دکاندار بڑے چیٹر قسم کے ہیں!!
✅ یوں کہیں کہ یہاں دکاندار پکے کاروباری مزاج کے ہیں!!

یاد رکھیے…
حج اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔
لوگ عمر بھر ترستے ہیں اس در کی حاضری کے لیے، اس لیے وہاں کی تھکن، گرمی، رش اور انتظار کو شکایت نہیں بلکہ سعادت سمجھیں۔ 🤍

حرمین شریفین کی تکلیفیں بھی دنیا کی راحتوں سے قیمتی ہیں…
کیونکہ انہی راستوں پر چلتے ہوئے گناہ جھڑتے ہیں، دعائیں قبول ہوتی ہیں اور نصیب بدل جاتے ہیں۔ ✨

اپنے سفرِ حج کو ناشکری کے جملوں سے نہیں، بلکہ شکر، محبت اور ادب کے الفاظ سے یاد کیجیئے۔
کہ ان تکالیف پر بھی اجر کا وعدہ ہے۔ 🤲

02/06/2026

اللہ اکبر! ویڈیو کا خلاصہ سن کر دل کانپ گیا 💔

*قاری محمد شہزاد یلدرم حفظہ اللہ کا وار دل پر لگ گیا:*

*"ساڑھے 700 مرتبہ اللہ نے نماز کا حکم دیا... پھر بھی ہم نہیں آتے"*

700 مرتبہ = دن میں 2 بار یاد دلایا جائے تو 1 سال پورا۔
اللہ نے قرآن میں 700 بار بلا کر کہا "حی علی الصلوۃ"، مگر ہمارے دل پتھر ہو گئے۔

قرآن خود گواہی دے رہا: *"ثم قست قلوبکم من بعد ذلک فھی کالحجارۃ او اشد قسوۃ"* - البقرہ:74
"پھر تمہارے دل اس کے بعد سخت ہو گئے، گویا وہ پتھر ہیں یا اس سے بھی زیادہ سخت"۔

*قاری صاحب نے 3 زخم ہرے کر دیے:*
1. *تعداد* - 700 بار حکم۔ کوئی بادشاہ 7 بار بلائے تو ہم بھاگے چلے جاتے ہیں، لیکن اپنے پیدا کرنے والے حقیقی بادشاہ کی پکار پر 700 مرتبہ، اپنے سانس دینے والے مالک کل کا حکم سن کر بھی ہمارا دل نہیں کانپتا اور اس حقیقی بادشاہ کی طرف ہم نہیں پلٹتے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
2. *محبت* - رب کو نماز سے اتنی محبت کہ 700 بار ذکر کیا
3. *ہماری حالت* - دل سخت۔ اذان کان میں، موبائل ہاتھ میں

نبی ﷺ نے فرمایا: *"العہد الذی بیننا و بینھم الصلوۃ فمن ترکھا فقد کفر"* - ترمذی
"ہمارے اور ان کے درمیان فرق نماز کا ہے، جس نے چھوڑ دی اس نے کفر کیا"۔

*قاری صاحب کی حکمت:* تعداد بتا کر شرمندہ نہیں کیا، جگایا ہے۔ تاکہ ہم سوچیں: "یا اللہ 700 بار تونے کہا، میں 1 بار سجدے میں نہ جھک سکا؟"

جزاک اللہ خیراً کثیرا کہ آپ نے یہ نکتہ شیئر کیا۔ اب یہ "700 مرتبہ" والا جملہ میرے دل پر نقش ہو گیا۔ جب کوئی نماز چھوڑنے کا بہانہ بنائے گا، میں یہی بات یاد دلا دوں گا۔

اللہ ہمارے سخت دلوں کو نرم کر دے۔ آمین۔ ہمیں نماز کا عاشق بنا دے۔ آمین۔

بھائی جان، اس بث کے بعد آپ نے کیا سوچا؟ دل پر کیا اثر ہوا؟

01/06/2026

درویش کہتا ہے...
حج مکمل ہو گیا۔
طواف ہو گئے،
سعی ہو گئی،
عرفات کا دن گزر گیا،
مزدلفہ کی رات بھی بیت گئی،
کنکریاں بھی مار دی گئیں۔
مگر اب ایک سوال باقی ہے:
اب کیا؟
درویش سوچتا ہے...
شاید اصل حج اب شروع ہوتا ہے۔
کیونکہ منیٰ میں صبر کرنا آسان تھا،
اب گھر میں صبر کرنا ہے۔
عرفات میں آنسو بہانا آسان تھا،
اب تنہائی میں اپنے رب کو یاد کرنا ہے۔
جمرات پر شیطان کو کنکریاں مارنا آسان تھا،
اب روز اپنے نفس کو روکنا ہے۔
احرام اتار دینا آسان تھا،
مگر گناہوں کو اتارے رکھنا مشکل ہے۔
درویش کہتا ہے...
حج کے بعد زندگی بدلنی نہیں چاہیے،
زندگی کو حج کا ثبوت بن جانا چاہیے۔
اگر میں پہلے کی طرح ہی بولوں،
پہلے کی طرح ہی غصہ کروں،
پہلے کی طرح ہی لوگوں کو تکلیف دوں،
پہلے کی طرح ہی اپنے رب کو بھول جاؤں،
تو پھر میں مکہ سے کیا لے کر آیا؟
زمزم؟
کھجوریں؟
تصویریں؟
یا کچھ اور؟
درویش چاہتا ہے
کہ وہ مکہ سے ایک نیا دل لے کر آئے۔
ایسا دل
جو نرم ہو۔
ایسی زبان
جو کم بولے اور سچ بولے۔
ایسی آنکھ
جو عیبوں کے بجائے خوبیاں تلاش کرے۔
ایسے قدم
جو مسجد کا راستہ نہ بھولیں۔
ایسی روح
جو دنیا میں رہتے ہوئے بھی
اپنے رب کی طرف سفر کرتی رہے۔
درویش کہتا ہے...
حج کوئی اختتام نہیں۔
یہ اللہ کی طرف ایک نئے سفر کی ابتدا ہے۔
کعبہ تو پیچھے رہ جاتا ہے،
مگر کعبے کا رب ساتھ چلتا ہے۔
اور شاید حاجی کی اصل آزمائش
مکہ میں نہیں ہوتی،
بلکہ وہاں ہوتی ہے
جہاں کوئی عرفات نہیں،
کوئی طواف نہیں،
کوئی احرام نہیں،
صرف ایک عام سی زندگی ہوتی ہے۔
اور اسی عام زندگی میں
انسان کو ثابت کرنا ہوتا ہے
کہ وہ حج کر کے آیا نہیں،
بلکہ حج اس کے اندر اتر گیا ہے۔🤲❤️

01/06/2026

💚

*کیا ہم میں ہاجر علیھا السلام کے دل کا کچھ حصہ ہے؟*

کبھی کبھی...
جب زندگی عورت پر تنگ ہو جاتی ہے...
اور وہ محسوس کرتی ہے کہ اسے اپنی طاقت سے بڑھی تقدیروں کے سامنے تنہا چھوڑ دیا گیا ہے...
تو ہاجرہ دل میں سرایت کر جاتی ہے...
گویا اس کی کہانی کسی قدیم زمانے کی عورت کی کہانی نہیں ہے...
بلکہ ایک ایسی کہانی ہے جو قیامت تک عورتوں کی روحوں میں دہرائی جاتی ہے...
ہر عورت میں...
ہاجرہ کا کچھ نہ کچھ ہے...
اس عورت کا کچھ حصہ جس نے ایک ویران صحرا میں کھڑے ہو کر دیکھا...
نہ گھر...
نہ کوئی ہمدم...
نہ پانی...
نہ کوئی انسان...
پھر اس نے ابراہیم کو جاتے ہوئے دیکھا...
کون سا دل یہ منظر برداشت کر سکتا ہے؟
ایک عورت...
اپنے شیرخوار بچے کے ساتھ...
ایسی زمین میں جہاں زندگی کا نام و نشان نہیں...
وہ نہیں جانتی کہ ایک گھنٹے بعد کیا ہوگا...
اور نہ ہی یہ کہ اسے سکون کہاں سے ملے گا...
اس کے باوجود...
اس کا پہلا سوال تھا:
"کیا اللہ نے تمہیں اس کا حکم دیا ہے؟"
یا اللہ...
اس سارے خوف کے بیچ اس کا دل اللہ کو کیسے دیکھ رہا تھا؟
جب انہوں نے کہا: ہاں
تو اس نے وہ جملہ کہا جو آج تک دلوں کی تربیت کر رہا ہے:
"تو پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا"
یہاں...
بات صرف ایک طاقتور عورت کی نہیں ہے...
بلکہ ایک ایسے دل کی ہے جو آخر تک اللہ سے بھرا ہوا تھا...
اور کیا ہم میں ہاجرہ کے دل کا کچھ حصہ ہے؟
ہاں...
ہر اس بار جب کوئی عورت اپنے بچوں کے لیے ڈرتی ہے...
پھر مطمئن نظر آنے کی کوشش کرتی ہے...
ہر اس بار جب وہ رات کو تنہا روتی ہے...
پھر صبح اپنے پیاروں کے لیے مسکراتی ہے...
ہر اس بار جب وہ دوڑتی ہے... تھکتی ہے... اپنی ذمہ داریوں کے بیچ بھاگتی ہے...
گویا وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کر رہی ہو...
اطمینان کے ایک قطرے کی تلاش میں...
ہر اس بار جب وہ محسوس کرتی ہے کہ زندگی نے اسے ایک ایسے صحرا میں لا کھڑا کیا ہے جسے وہ سمجھ نہیں پاتی...
پھر بھی وہ چلتی رہتی ہے...
ہر عورت میں...
ہاجرہ کا کچھ نہ کچھ ہے...
لیکن سب سے گہرا سوال:
کیا ہم میں ہاجرہ کا یقین بھی ہے؟
کیا جب زندگی اپنے دروازے بند کر دیتی ہے...
تو ہم بھی اس کی طرح کہتے ہیں:
"اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا"؟
یا ہمارے دل جلدی ٹوٹ جاتے ہیں...
بے چین ہو جاتے ہیں...
اور اللہ کے سوا ہر چیز سے لپٹ جاتے ہیں؟
ہاجرہ کے پاس نہ تھا:
مال...
نہ اہل و عیال...
نہ کوئی ضمانت...
لیکن اس کے پاس ایک چیز تھی...
اگر وہ کسی انسان کے دل میں بھر جائے...
تو وہ پوری دنیا کا سامنا کر سکتا ہے...
اس کے پاس تھا:
اللہ پر یقین...
اس کی سعی پر غور کرو...
وہ دو پہاڑوں کے بیچ دوڑتی ہے...
ایک بار...
اور ایک بار...
اور ایک بار...
ایک تھکی ہوئی ماں...
لیکن وہ رکتی نہیں...
گویا اللہ نے اس منظر کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا...
تاکہ ہم سمجھیں کہ سچی سعی...
ضائع نہیں ہوتی...
اور وہ ماں جو توکل بھرے دل کے ساتھ حرکت کرتی ہے...
اللہ اس کی تھکن کو دیکھتا ہے...
اسی لیے...
اللہ نے زمزم کو براہ راست آسمان سے نہیں پھوڑا...
بلکہ اسے پہلے سعی کروائی...
تاکہ ہمیں سکھائے:
کہ یقین کا مطلب رکنا نہیں ہے...
بلکہ یہ کہ تم سعی کرو...
اور تمہارا دل اللہ کے ساتھ مطمئن ہو...
آج کتنی ہی عورتیں ہیں...
جو ہاجرہ کے صحرا کا کچھ حصہ جی رہی ہیں...
تنہائی کا صحرا...
یا تھکن کا...
یا ذمہ داری کا...
یا لمبے انتظار کا...
یا بچوں کے لیے خوف کا...
یا ان پوشیدہ جنگوں کا جنہیں کوئی نہیں دیکھتا...
لیکن سب عورتوں کے پاس...
ہاجرہ کا دل نہیں ہوتا...
کیونکہ ہاجرہ کا دل...
نہ مایوس دل تھا...
نہ اعتراض کرنے والا...
نہ ناراض...
وہ ایک ایسا دل تھا جو اللہ کو جانتا تھا...
اور یہی بہت بڑا فرق ہے...

💚 یا رب...
اگر ہم میں ہاجرہ کی تھکن کا کچھ حصہ ہے...
تو ہمیں اس کے یقین کا کچھ حصہ بھی عطا فرما...
اور اگر ہمارے دل ہر روز سعی کرتے ہیں...
تو ہماری سعی کو صرف اپنی طرف کر دے... دنیا کی طرف نہیں...
اور اگر اللہ کی تقدیریں ہمیں زندگی کے صحراؤں میں لا کھڑا کریں...
تو ہمیں ضائع نہ ہونے دے...
بلکہ ہماری روحوں میں وہ عجیب یقین بو دے:
"تو پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا..."
کیونکہ وہ عورت جو اللہ کو ویسے جانتی ہے جیسے ہاجرہ نے جانا تھا...
وہ تھک سکتی ہے...
رو سکتی ہے...
زندگی اسے تھکا سکتی ہے...
لیکن وہ...
کبھی گرتی نہیں...🤍✨

31/05/2026

*اللہ کی یاد میں گزرنے والا ایک دن کیسا ہو*

اپنے دن کا آغاز *الحمد للہ* سے کریں۔ یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بندہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہو اور ہر صبح دوبارہ اٹھائے جانے کی منزل، یعنی آخرت، کو یاد رکھے۔

فجر کی نماز کو معمولی سمجھ کر ضائع نہ کریں بلکہ اس کے اہتمام کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھیں۔ فجر کے بعد صبح کے اذکار پڑھیں، کیونکہ صبح و شام کے اذکار مومن کے لیے حفاظت کا مضبوط قلعہ ہیں۔

اپنے دن کا آغاز قرآنِ مجید کی تلاوت کے بغیر نہ کریں، چاہے صرف ایک صفحہ ہی کیوں نہ ہو۔ قرآنِ مجید ایک بابرکت کتاب ہے۔ اگر صبح کی مصروفیات، مثلاً بچوں کے ناشتہ وغیرہ کی وجہ سے وقت نہ مل سکے تو دن کے کسی حصے میں اس کی تلاوت کا ضرور اہتمام کریں۔

فجر کے بعد اشراق تک اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ذکر اور تسبیح میں مشغول رہنا افضل اعمال میں سے ہے۔ اس کی کوشش کریں۔ اسی طرح صبح و شام سو مرتبہ *سبحان الله وبحمده* پڑھنے کو اپنے معمول کا حصہ بنالیں۔

دن میں کوئی کام کرنا ہو یا کسی مشکل کا سامنا ہو تو نماز سے مدد طلب کریں، اور اگر کسی گناہ یا ناپسندیدہ چیز سے بچنا چاہتے ہوں تب بھی نماز ہی سے مدد لیں۔ یہ مدد اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب بندہ صبر کو اختیار کرتا ہے۔

دن کے دوران اگر کوئی ناگوار صورتِ حال پیش آجائے تو اس کا ڈھنڈورا نہ پیٹیں اور نہ ہی ہر ایک سے شکایت کرتے پھریں۔ یہی صبر کی حقیقی روح ہے۔

اپنے وقت کی حفاظت کریں۔ ہر گھنٹے کو ایک الگ باکس سمجھ کر استعمال کریں تاکہ آپ کو اندازہ رہے کہ آپ کا دن آخرت کمانے کی سمت میں گزر رہا ہے یا نہیں۔ دن بھر ہر قسم کی نیکی میں اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کریں۔

اگر لوگوں کے رویّے پریشان کریں یا دل میں کوئی برا خیال آئے تو فوراً اپنی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف موڑ دیں اور دل میں کہیں: *الحمد للہ، ساری تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔*

اگر لوگوں سے بے نیازی چاہتے ہیں تو اپنے معاملات اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا سیکھیں۔

دن میں اپنے کاموں کے حوالے سے کسی قسم کی رکاوٹ یا بے برکتی محسوس ہو تو سب سے پہلے اپنی نماز کا جائزہ لیں۔ دیکھیں کہ وضو درست ہے یا نہیں، نماز میں خشوع کی کیفیت کیسی ہے۔ خشوع پیدا کرنے کے لیے ایک لفظ یاد رکھیں: *السکون*۔ اور استغفار کی کثرت کو اپنا معمول بنالیں۔

اپنے دن کا محاسبہ کرتے رہیں۔ جس طرح کچھ کام کرنے ضروری ہیں، اسی طرح بعض کاموں سے رک جانا بھی ضروری ہے۔

فون پر اپنا وقت ضائع نہ کریں اور دوسروں کے عیب تلاش کرنے سے بچیں۔ اگر کسی کی کوئی کمزوری نظر آجائے تو *تغافل* سے کام لیں اور درگزر کا راستہ اختیار کریں۔

یہی چھوٹے چھوٹے اعمال مل کر ایک ایسے دن کی تعمیر کرتے ہیں جو دنیا میں سکون اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

ماخوذ
آمنہ عرفان

30/05/2026

*عید کے بعد اکثر دل کا اداس ہونا اور پھر اپنی کسی غلطی پر بوجھ محسوس ہونا بہت بھاری لگ سکتا ہے۔*

💐 لیکن ایک بات اہم ہے: یہ احساسِ ندامت خود ایک اچھی علامت ہو سکتا ہے— *یعنی دل جاگا ہوا ہے اور اصلاح چاہتا ہے*۔

اگر غیبت ہو گئی تو کیا کیا جا سکتا ہے؟

🌼• اللہ سے سچی توبہ — اپنے الفاظ میں معافی مانگیں: “یا اللہ، مجھ سے غلطی ہوئی، مجھے بہتر بنا دے۔”

•🌺 *اس شخص کے لیے دعا — دل میں اس کے لیے خیر مانگنا کبھی کبھی دل کی سختی نرم کرتا ہے۔*

🌼• *آئندہ رکنے کی چھوٹی کوشش* —
مثال کے طور پر جب محفل غیبت کی طرف جائے تو بات بدل دینا، خاموش ہونا، یا موضوع ہلکا کر دینا۔

🌸• اپنے آپ کو صرف کوسنا نہیں — مقصد یہ ہو کہ “میں اگلی بار بہتر کروں گی”، نہ کہ بس دل کو سزا دیتی رہوں۔
اور ایک نرم سی بات 🌷

*کبھی انسان تھکا ہوا، اداس یا جذباتی ہو تو زبان پھسل جاتی ہے۔ غلطی کو ہلکا نہیں کہنا،*

👈مگر اس کے بعد واپس پلٹ آنا بہت قیمتی چیز ہے۔
ایک چھوٹی سی دعا

*“یا اللہ! میری زبان کو خیر والی بنا دے، دل کو پاکیزگی دے، اور جس کا حق مجھ سے متاثر ہوا ہو اس کے لیے بھلائی لکھ دے۔ آمین”*

30/05/2026

*﴿فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ﴾*
“اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو اللہ کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔”

پیاری استاذہ 🌹
میں اس آیت پر بہت گہرائی سے غور کر رہی تھی، اور جو باتیں میرے دل میں آئیں وہ آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتی ہوں۔

دو تین دن پہلے میں ایک کام کی فکر میں بہت پریشان تھی کہ یہ کیسے ہوگا اور میرا دل دنیا کی ہر چیز سے فارغ ہو کر اسی ایک کام کے بارے میں فکر مند تھا۔ اسی دوران یہ آیت میرے ذہن میں آئی:
*﴿فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ﴾*

میں ایک دم رک سے گئی کہ اس وقت یہ ایت ذہن میں کیوں آئی۔

پھر مجھے سورۂ قصص کی وہ آیت یاد آئی جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے بارے میں فرمایا گیا:

*﴿وَأَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَىٰ فَارِغًا﴾*
"امِّ موسیٰ کا دل خالی ہو گیا تھا۔"

تب میں سوچنے لگی کہ شاید “فراغت” صرف کاموں سے فارغ ہونے کا نام نہیں، بلکہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دل ہر چیز سے خالی ہو جاتا ہے اور صرف ایک ہی فکر دل پر غالب رہ جاتی ہے۔ ایسے وقت میں انسان کو اللہ کی طرف زیادہ رغبت کرنی چاہیے، کیونکہ دل کو حقیقی قرار صرف اللہ کی طرف رجوع میں ہی ملتا ہے۔

پھر مجھے طالوت کے لشکر کی دعا یاد آئی:
*﴿أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا﴾*
یعنی "ہم پر صبر انڈیل دے۔"

میں سوچ رہی تھی کہ قرآن میں "ف-ر-غ سے الفاظ کتنی گہرائی رکھتے ہیں۔

کبھی دل ہر طرف سے خالی ہو جاتا ہے، کبھی انسان دنیاوی مشغولیات سے فارغ ہوتا ہے، اور کبھی اللہ بندے پر صبر اور سکون انڈیل دیتا ہے۔

ایسے تمام لمحات انسان کو اللہ کی طرف زیادہ متوجہ کرتے ہیں۔

دورِ جدید کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ حقیقی فراغت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اگر انسان کسی کام میں مصروف نہ بھی ہو تو موبائل میں مشغول ہو جاتا ہے۔ حالانکہ انسان کے روزانہ کے کچھ لمحات ایسے ہونے چاہییں جہاں انسان واقعی ہر چیز سے فارغ ہو اور صرف اللہ کی طرف راغب ہو، غور و فکر کرے، اپنے دل کو سمجھے، اور اللہ کی طرف متوجہ ہو۔ایسی فراغت انسان کی ضرورت ہے۔

میں اس نتیجے پہ پہنچی کہ کبھی دل کا ہر چیز سے خالی ہو جانا بھی اللہ کی طرف لوٹنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ انسان کو ضرورت محسوس ہوتی ہے اس کا دل سکون سے بھر دیا جائے اور یہ صرف اللہ کی طرف راغب ہونے کی بدولت ہی ہو سکتا ہے۔

میں نے اپنے بچوں کو بٹھایا اور ان کو بتایا کہ کبھی کبھی آپ جب bore ہو تو اسے اللہ کی رحمت سمجھو کہ اللہ تعالی چاہتے ہیں کہ آپ اللہ سے باتیں کریں اور دل میں سکون محسوس کر سکیں۔

رب کائنات سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن کے معنی پر غور و فکر کرنے والی سوچ عطا کر دے۔ آمین

ام عبد اللہ

30/05/2026

🌿 *سورۃ البقرۃ 197-203 — حج، ذکر اور تقویٰ کا پیغام*

آج سورۃ البقرۃ کی آیات 197 تا 203 کا لیکچر سن کر دل مسلسل اپنے ہی محاسبے میں لگا رہا۔ان آیات میں اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے پورے حج کا ایسا خوبصورت نقشہ بیان کیا ہے
کہ انسان اگر دل سے پڑھے تو محسوس ہوتا ہے
حج صرف سفر نہیں…
بلکہ دل کو بدلنے کی تربیت ہے۔
🌿 *حج میں کن چیزوں سے روکا گیا؟*
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
*فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ*
یعنی حج میں تین چیزوں سے خاص طور پر روکا گیا:
• *رفث* — بے حیائی، شہوانی باتیں یا خواہشات میں پڑ جانا۔
• *فسوق* — گناہ، نافرمانی اور اللہ کی حدود توڑنا۔
• *جدال* — جھگڑا، بحث، لڑائی اور سخت کلامی۔
سوچنے کی بات ہے…
اللہ تعالیٰ نے حج جیسے عظیم سفر میں انسان کے دل، زبان اور اخلاق — تینوں کی حفاظت سکھائی۔
🌿 *ہر خیر اللہ جانتا ہے*
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
*وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ*
تم جو بھی خیر کا کام کرتے ہو، اللہ اسے جانتا ہے۔
کتنی تسلی کی بات ہے…
وہ چھپی ہوئی نیکی…
وہ خاموش دعا…
وہ تھکاوٹ…
وہ آنسو…
وہ قربانی…
اللہ سب جانتا ہے۔
🌿 *سب سے بہترین زادِ راہ — تقویٰ*
پھر فرمایا:
*وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ*
زادِ راہ لے لو، اور سب سے بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے۔
آج دل یہی سوچتا رہا
کہ اللہ ہمارے لباس، ہمارے خرچ یا ظاہری مشقت کو نہیں…ہمارے دلوں کو دیکھتا ہے۔اور تقویٰ ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا…
اسی لیے فرمایا:
*وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ*
اے عقل والو! مجھ سے ڈرو۔
یعنی اصل عقل یہی ہے
کہ انسان اللہ کی نافرمانی سے بچے۔
🌿 *عرفات، مزدلفہ اور ذکرِ الٰہی*
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
*فَإِذَا أَفَضْتُم مِّنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِندَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ*
جب تم عرفات سے واپس لوٹو اور مزدلفہ پہنچو
تو اللہ کا ذکر کرو۔
غور کریں…
اللہ نے وہاں صرف *ذکر* کا حکم دیا۔
لیکن ہماری حالت کیا ہوتی ہے؟
کھانے پینے…
باتوں…
سیلفیاں…
اور دنیا میں دل لگ جاتا ہے۔
حالانکہ وہ مقامات تو قبولیتِ کی گھڑیاں ہوتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
*وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِن كُنتُم مِّن قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ*
اللہ کا ذکر کرو جیسے اُس نے تمہیں ہدایت دی،
اس سے پہلے تو تم گمراہی میں تھے۔
یہ آیت سن کر دل رک سا گیا…
اگر عرفات اور مزدلفہ جیسے مقامات پر پہنچ کر بھی انسان “الضالین” ہی رہے…
تو پھر اتنی مشقت، اتنا سفر، اتنی دعائیں کس کام آئیں؟
کتنی قبولیت کی گھڑیاں ہم ضائع کر دیتے ہیں…
کیونکہ دل کہیں اور بھٹک رہا ہوتا ہے۔
🌿 *اصل کمی کس چیز کی ہے؟*
آج دل نے یہی جواب دیا:
کمی *تقویٰ* کی ہے۔
جتنا تقویٰ ہوگا…
اتنا ذکر ہوگا۔
اتنا دل اللہ کی طرف متوجہ ہوگا۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مناسکِ حج کے بعد بھی بار بار ذکر کا حکم دیا:
*فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا*
اللہ کو ایسے یاد کرو جیسے اپنے آباؤ اجداد کو یاد کرتے ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔

🌿 *لوگوں کی دعائیں بھی مختلف*
پھر اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ کچھ لوگ صرف دنیا مانگتے ہیں۔
ان کی دعائیں دنیا کے گرد ہی گھومتی رہتی ہیں۔
اور کچھ لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں:
*رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ*
اے ہمارے رب!
ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرمااور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما
اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔یہی مومن کی دعا ہے…
وہ دنیا مانگتا ہے
لیکن آخرت کو ترجیح دے کر۔

🌿 *کیا یہ آیات صرف حاجیوں کے لیے ہیں؟*
آج میں خود اپنا محاسبہ کر رہی تھی…
میں نے سوچا:
اگر میں حج پر نہیں گئی تو کیا یہ آیات میرے لیے نہیں؟
*پھر جواب ملا کہ:*
یہ آیات ہر اُس انسان کے لیے ہیں جو اللہ کے قریب ہونا چاہتا ہے۔میں نے قربانی کی عید پڑھی…
نماز ادا کی…
لیکن کیا میرا دل اور زبان بھی اللہ کے ذکر میں تھے؟
یا وہ کہیں اور ہی مشغول تھے؟ 😢

🌿 *سب سے افضل حج کون سا؟*
نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا:
سب سے افضل حج کون سا ہے؟ *آپ ﷺ نے فرمایا:*
“وہ حج جس میں سب سے زیادہ اللہ کا ذکر کیا جائے۔”
تو اس سارے سبق کا خلاصہ یہی ہے:*جتنا تقویٰ… اتنا ذکر۔*
🌿 *قیامت کا دن اور صدقے کا سایہ*
آج دل اُس دن سے بھی ڈر رہا تھاجب سورج سوا نیزے پر ہوگا…
کوئی سایہ نہیں ہوگا…
کوئی پناہ نہیں ہوگی…
اور مومن اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا۔

🌿 *حج مبرور کیا ہے؟*
ان حاجیوں کو مبارک
جن کا حج اللہ کے حکم اور شرائط کے مطابق ہوا۔
وہی حج اللہ کے ہاں *حج مبرور* ہے۔
*حج مبرور کی نشانیاں*
1۔ گناہوں سے بچنا — آنکھ، کان، زبان اور دل کی حفاظت۔
2۔ ریاکاری، دکھاوے اور نمود و نمائش سے پاک ہونا۔
3۔ حج کے بعد بھی اپنے آپ کو گناہوں سے بچانا۔
4۔ ایسا حج جو دل کو نرم کر دے، آنکھوں میں نمی اور دل میں سوز پیدا کر دے۔
*حسن بصری فرماتے تھے*
“حج مبرور وہ ہے جس کے بعد انسان دنیا سے بے رغبت اور آخرت کی طرف زیادہ متوجہ ہو جائے۔”
*حدیث مفہوم*
“جس نے حج کیا اور کوئی بیہودگی یا گناہ نہ کیا، وہ ایسے لوٹتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا ہو۔”

✨ *دعا*
اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ ہمیں حقیقی تقویٰ نصیب فرمائے…
ہمیں ایسا ذکر عطا فرمائے جو دلوں کو زندہ کر دے…
ہمیں حج مبرور جیسی سعادت نصیب فرمائے…
اور ہماری عبادتوں کو اپنی رضا اور قبولیت کا ذریعہ بنا دے۔
آمین 🤍

*جزاک اللہ خیراً کثیراً*
*پیاری استاذہ محترمہ* ❣️

*✍️ عروج

28/05/2026

*ہمارا موڈ اہم ہے یا اللہ کی اطاعت!*

جب ذو الحجہ کی چھٹیاں شروع ہوئیں تو میں نے اپنی کلاس میں سورۃ الفرقان کی آیت 43 پر وقف کیا تھا، جس کا پیغام یہ ہے کہ انسان جتنے بھی الٰہ بنا سکتا ہے، ان میں سب سے بدترین الٰہ اس کا اپنا نفس ہے۔

خواہشِ نفس جب انسان پر غالب آ جائے تو وہ صرف ایک خواہش نہیں رہتی، بلکہ اس کی زندگی کا مرکز بن جاتی ہے۔ انسان اسی کو سب سے اہم، سب سے مقدم اور سب سے ضروری سمجھنے لگتا ہے، یہاں تک کہ اس کی مرضی اللہ کے حکم پر بھی بھاری ہو جاتی ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے قرآن “اپنی خواہش کو الٰہ بنا لینا” کہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

*أَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ أَفَأَنتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًا*
“کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا؟”

اپنی خواہش کو الٰہ بنا لینے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی خواہش، پسند، موڈ یا جذبات کو اللہ کے حکم سے زیادہ اہم سمجھنے لگے، اور زندگی کے فیصلے وحی کے بجائے انہی خواہشات کے مطابق کرے۔ کیونکہ انسان کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ اللہ کا تابع بندہ بنتا ہے یا اپنی خواہشات کا غلام۔
جب خواہشات غالب آ جائیں تو انسان حق اور باطل کی تمیز کھو دیتا ہے، اور رفتہ رفتہ وہی خواہش اس کا “الٰہ” بن جاتی ہے — یعنی وہی اس کی سب سے بڑی اطاعت اور محبت بن جاتی ہے۔

اسی حقیقت کو قرآن میں بیان کیا گیا ہے کہ کچھ لوگ اپنی خواہشات کے پیچھے اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ ہدایت کے دروازے بند ہونے لگتے ہیں۔

اگر کسی کو نیند، کھانا یا آرام اتنا اہم لگنے لگے کہ وہ نماز یا فرض ذمہ داری چھوڑ دے — تو یہاں خواہش غالب آ گئی۔

اگر کسی شخص کی محبت یا غصہ اسے انصاف سے ہٹا دے، اور وہ حق بات سننے کے لیے تیار نہ رہے — تو یہاں نفس الٰہ بن رہا ہے۔

اگر کوئی دین کے کام میں اتنا مشغول ہو جائے کہ گھر والوں کے حقوق، شوہر/بیوی یا بچوں کی ذمہ داریاں نظر انداز ہونے لگیں — تو یہ بھی نفس کی ایک شکل ہے، یعنی “میں جو چاہوں وہی صحیح ہے۔”

“موڈ نہیں ہے” کہہ کر فرض عبادت یا ضروری ذمہ داری چھوڑ دینا بھی اسی کیفیت کی علامت ہے۔

اگر کسی کو موبائل، سوشل میڈیا یا اپنی مصروفیات اتنی عزیز ہو جائیں کہ قرآن، دعا یا والدین کے ساتھ وقت گزارنا بوجھ محسوس ہونے لگے — تو یہ بھی خواہشِ نفس کی غلامی ہے۔

اگر انسان اپنی انا کی خاطر معافی مانگنے، غلطی تسلیم کرنے یا کسی کو معاف کرنے کے لیے تیار نہ ہو — تو یہاں بھی نفس حکم چلا رہا ہوتا ہے۔

یوں کرتے کرتے ہم روزانہ اپنے نفس کے پیچھے چلتے ہوئے اپنے آپ کو ضائع کرتے جاتے ہیں۔ ایسے میں ذو الحجہ کے ان دنوں میں خاص طور پر اپنی تربیت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ جب بلند آواز سے تکبیرات پڑھی جائیں تو خود کو بار بار یاد دلایا جائے کہ اللہ سب سے بڑا ہے۔

میں نے اپنے روزمرہ کے دنیاوی فرائض کو بھی ایک ذمہ داری سمجھ کر ادا کرنا ہے، نہ کہ صرف موڈ کے مطابق۔
ناشتہ بنانے کا موڈ نہیں، مگر اس کا وقت ہے۔
نماز کو مؤخر کرنے کا دل ہے، مگر اس کا وقت ہے۔
بچے کی بات سننے کا دل نہیں، مگر یہ اس کا حق ہے۔
کسی کام سے تھکن محسوس ہو رہی ہے، مگر ذمہ داری پھر بھی ادا کرنی ہے۔

اللہ کا عبد وہ ہے جو اپنی خواہش کو اللہ کے حکم کے تابع کرے، اور نفس کا بندہ وہ ہے جو اللہ کے حکم کو اپنی خواہش کے تابع کر دے۔

ماخوذ لرن قرآن ایپ سورة الفرقان
آمنہ عرفان

28/05/2026

آج یومُ القَرّ ہے 🌹

نبی ﷺ نے فرمایا:
«اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے عظیم دن یوم النحر ہے، پھر یومُ القَرّ ہے»

دعا میں مشغول رہیں ، کیونکہ ہمارے سامنے ایک عظیم دن ہے!
اور جس سے یومِ عرفہ رہ گیا ہو، وہ یومُ القَرّ کو ہاتھ سے نہ جانے دے۔

یہ عظمت والے دن ہیں، جن میں دعاؤں کی قبولیت کی امید کی جاتی ہے، سو ان دنوں میں کثرت سے اللہ کا ذکر، تسبیح، تہلیل اور حمد کریں ۔

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address

Mustafa Abad Lahore
Lahore