25/05/2026
*کل بروز منگل 9 ذی الحجہ کی فجر سے بروز ہفتہ 13 ذی الحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد تکبیر تشریق ایک مرتبہ پڑھنا واجب ہے مردوں کی طرح عورتوں کے لیے بھی ہر فرض نماز کے بعد کم از کم ایک مرتبہ تکبیرِ تشریق کہنا واجب ہے۔ البتہ مرد بلند آواز سے کہتے ہیں، جبکہ عورتیں آہستہ آواز میں پڑھتی ہیں۔ چونکہ اکثر عورتیں بھول جاتی ہیں، اس لیے یاد دہانی کے طور پر اگر ایک پرچی جائے نماز پر لگا دی جائے تو اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وقت پر تکبیر یاد آ جائے گی۔
*الله أكبر ، اللہ أكبر،*
*لا إله إلا الله, والله أكبر,*
*الله أكبر, ولله الحمد*
#2026
..
09/05/2026
*’’شادی کے بعد عورت کا عملی میدان‘‘*
*خواتین توجہ کریں پلیز*
✿۔ معروف مصنفہ و داعیہ محترمہ ام عبدِ منیب حفظہا اللہ فرماتی ہیں :
’’عورت کی دعوتی نشاطات کے اعتبار سے تین حالتیں ہیں :
١) شادی سے قبل:
وہ کسی با اعتماد تعلیمی ادارے سے وابستہ ہو کر علم حاصل کر سکتی ہے، کوئی حرج نہیں ہے۔
٢) شادی کے بعد :
پندرہ سے بیس سال تک خاتون کو ہر قسم کی بیرونی سرگرمی سے کنارہ کر لینا چاہیے اور خاوند کی اطاعت، بچوں کی تربیت اور گھر داری میں اپنے آپ کو کھپا دینا چاہیے۔ بعض خواتین ہی خواتین کو طعنہ دیتی ہیں کہ اتنا پڑھ کر بھی گھر ہی بیٹھنا تھا تو پڑھا کیوں؟ حالانکہ یہ طعنہ مردوں کیلیے درست ہے کہ اتنا پڑھ کر بھی کاروبار یا کوئی دوسرا کام ہی کرنا تھا تو پڑھا کیوں؟ عورت تو پڑھتی ہی اس لیے ہے کہ بچوں کی صحیح تربیت کر سکے۔
٣) بچوں کے بڑے ہو جانے کے بعد :
جب بچے بڑے ہو جائیں، اور ان کی شادیاں ہو جائیں، اب عورت اپنی ذمہ داریوں سے آزاد ہے۔ سو خاوند کی اجازت سے علمی و دعوتی مصروفیت اپنا سکتی ہے۔‘‘ (گھروں میں کام کرنے والی خواتین کے مسائل اور ان کے حقوق)
⇚ یہاں دوسری (یعنی شادی کے بعد کی) حالت نہایت اہم اور قابلِ غور ہے، بالخصوص خواتین کے بعض اداروں کی طرف سے دینی تعلم وتعلم یا درس و تدریس سے وابستہ بچیوں کو نہایت غلط سبق پڑھا دیا گیا ہے کہ ’’شادی کے بعد خاوند اور بچوں میں مصروف ہو کر پڑھنا لکھنا نہ چھوڑ دینا، کلاسز و کورسز میں بھرپور شامل رہنا۔‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ یہ عجیب وغریب فکر اَپنا کر ہماری یہ بہنیں خاوند کی خدمت اور بچوں کی تربیت کو بوجھ سمجھتے ہوئے خیال کرتی ہیں کہ شاید ہمارا وقت ضائع ہو رہا ہے، پھر وہ فرائض میں سستی وکاہلی کا شکار ہوتی ہیں۔ کتنے ہی گھریلو مسائل کا باعث یہی غلط سوچ بنی ہے۔
کتاب وسنت کے بے شمار دلائل کی رو سے علماء نے صراحت کی ہے کہ شادی کے بعد عورت کے لیے اپنے خاوند کی خدمت اور بچوں کی دیکھ بھال اس کے لیے تمام نفلی عبادات سے افضل ہے۔ **گروپ میں ایڈ ھونے کیلیے اس چینل کو فالو کیجئے*
اب اس کے عمل کا میدان دن رات کلاسز لینا اور دروس و پروگرام سننا سنانا وغيرہ سب خانہ دادی کے مقابلے میں امور ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔
یاد رکھیں! جس طرح خاوند کے لیے نہایت معیوب ہے کہ وہ بیوی، بچوں کی ذمہ داری اٹھانے اور ان کے اَخرجات کا بندوبست کرنے کے بجائے ’’ویہلڑ‘‘ بن کر ثانوی امور میں جُت جائے، بالکل اسی طرح بیوی کے لیے نہایت عیب اور پھوہڑ پن کی علامت ہے کہ وہ معلمہ وداعیہ بن کر گھریلو ذمہ داریوں سے نظریں چرائے۔
اگرچہ اپنی اصلاح وعمل کے لیے وقت نکال کر گاہے بگاہے دروس ومواعظ میں شرکت میں کوئی حرج نہیں، لیکن اصل یہی ہے کہ بیوی کو عمر کا یہ حصہ پوری طرح خاوند اور بچوں میں کھپا دینا چاہیے۔ یہی مُسلِمات کا ہمیشہ سے شیوہ رہا ہے۔
✿۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! عورت اس وقت تک اپنے رب کا حق ادا نہیں کر سکتی، جب تک کہ اپنے خاوند کا حق ادا نہیں کرتی۔‘‘ (سنن ابن ماجه : ١٨٥٣، حسن)