Rai Ghulam Qadir

Rai Ghulam Qadir

Share

Homer Institute for Competitive Exams

13/07/2024

*New Sessions by sir Mian Ghulam Qadir*
*for CSS-2025, PMS-2024*
1. General Science: 18 July
2. ⁠General Knowledge: 22 July
3. ⁠General Ability: 22 July
4. ⁠English (basic grammar): 29 July
5. ⁠English Précis & Composition): 30 July
6. ⁠English Essay: 05 August

Registration is Open for on campus/ online
Why to join us!:
conceptual study, regular evaluation, past papers analysis, content based preparation, access to reliable data sources
Enrol now:
0300 8406482
0301 4588158
*Al Amin Academy*
Address:
*307, Shadman 1, Lahore*

For further information contact
0300 8406482
0301 4588158














29/02/2024

یہ ایک Netflix سیریز ہے جو ڈرگ یعنی منشیات کے ٹاپک پر بنائی گئی اس ٹاپک پر اس سے بہترین سیریز میں نے نہیں دیکھی دو دفعہ دیکھ چکا ہوں تیسری دفعہ پھر شروع کر دی ہے

اس میں کیمسٹری کا ایک استاد جسے کینسر بھی ہوتا ہے وہ اپنے نوجوان شاگرد کے ساتھ مل کر ایک ڈرگ بناتا ہے تاکہ اپنی فیملی کیلئے بڑی رقم چھوڑ کر جائے جو انتہائی اعلی کوالٹی کی ہوتی ہے بار بار ارادہ کرتا ہے کہ اس کام کو چھوڑ دے لیکن ڈرگ مافیا کی وجہ سے اس میں پھنستا چلا جاتا ہے اس کام کی وجہ سے بیوی سے تعلقات خراب ہوتے ہیں غلط کام جو بیوی سے چھپا کر کیا گیا اس سے میاں بیوی کے تعلقات میں کیسے تبدیلی آئی وہ بھی اس فلم میں اپنی مثال آپ دکھایا گیا ہے پھر ایک موقع آتا ہے کہ جب اس کی پروڈکٹ یعنی ڈرگ مارکیٹ میں مشہور ہو جاتی ہے اور اس کا فرضی نام ڈرگ سے وابسطہ لوگوں اور اینٹی ڈرگ ایجنسی کے سرکاری لوگوں میں گونجنے لگتا ہے تو اسے فخر محسوس ہونے لگتا ہے وہ پس پردہ رہ کر کام کرتا ہے اور اپنے فرضی نام سے باہر کی دنیا میں مشہور ہو جاتا ہے وہ شروع ہی سے کیمسٹری کا genius تھا اس لئے اب اسے فیلنگ آنے لگی کہ وہ اپنے شعبے کی بہت بڑی بلا ہے اور ایسا زندگی میں ہوتا ہے جب آپ سے کم لائق لوگ آپ سے آگے نکل جائیں اور آپ پیچھے رہ جائیں تو پھر چاہے منفی کام ہی کیوں نہ ہو آپ منفی کام میں بھی ٹآپ پر پہنچ جائیں تو آپ کو Sense of achievement ملتی ہے اس آدمی کا بہنوئی اینٹی ڈرگ ایجنسی کا بندہ ہوتا ہے اسے بھی لمبے عرصے تک اس کا پتہ نہیں چلتا یعنی یہ بھی زبردست سسپنس ڈالا گیا ہے۔

29/02/2024

چارپائی اور کلچر
یوسفی صاحب کی تحریر سے اقتباس

چارپائی ایک ایسی خود کفیل تہذیب کی آخری نشانی ہے جو نئے تقاضوں اور ضرورتوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے نئی چیزیں ایجاد کرنے کی قائل نہ تھی، بلکہ ایسے نازک مواقع پر پرانی چیزوں میں نت نئی خوبیاں دریافت کر کے مسکرا دیتی تھی۔
اس عہد کی رنگا رنگ مجلسی زندگی کا تصور چارپائی کے بغیر ممکن نہیں، اس کا خیال آتے ہی ذہن کے افق پر بہت سے سہانے منظر ابھر آتے ہیں، اجلی اجلی ٹھنڈی چادریں، خس کے پنکھے، کچی مٹی کی سن سن کرتی کوری صراحیاں، چھڑکاؤ سے بھیگی زمین کی سوندھی سوندھی لپٹ اور آم کے لدے پھندے درخت جن میں آموں کے بجائے لڑکے لٹکے رہتے ہیں اور ان کی چھاؤں میں جوان جسم کی طرح کسی کسائی ایک چارپائی، جس پر دن بھر شطرنج کی بساط یا رمی کی پھڑ جمی اور جو شام کو دسترخوان بچھا کر کھانے کے لیے لیے میز بنا لی گئی-

لیکن چارپائی کی سب سے خطرناک قسم وہ ہے جس کے بچے کھچے اور ٹوٹے ادھڑے بانوں میں اللّٰہ کے برگزیدہ بندے محض اپنے قوت ایمانی کے زور سے اٹکے رہتے ہیں، اس قسم کے جھلنگے کو بچے بطور جھولا اور بڑے بوڑھے آلہ تزکیہ نفس کی طرح استعمال کرتے ہیں، اونچے گھرانوں میں اب ایسی چارپائیوں کو غریب رشتہ داروں کی طرح کونے کھدروں میں آڑے وقت کے لیے چھپا کر رکھا جاتا ہے۔ خود مجھے مرزا عبدالودود بیگ کے ہاں ایک رات ایسی ہی چارپائی پر گزارنے کا اتفاق ہوا جس پر لیٹتے ہی اچھا بھلا آدمی نون غنہ (ں) بن جاتا ہے

اس میں داخل ہو کر میں ابھی اپنے اعمال کا جائزہ لے ہی رہا تھا کہ یکایک اندھیرا ہو گیا جس کی وجہ غالباً یہ ہوگی کہ ایک دوسرا ملازم اوپر ایک دری اور بچھا گیا، اس خوف سے کہ دوسری منزل پر کوئی اور سواری نہ آجائے میں نے سر سے دری پھینک کر اٹھنے کی کوشش کی تو گھٹنے بڑھ کر پیشانی کی بلائیں لینے لگے، کھڑ بڑ سن کر مرزا خود آئے اور چینخ کر پوچھنے لگے کہ بھائی آپ ہیں کہاں؟ میں نے مختصراً اپنے محل وقوع سے آگاہ کیا تو انہوں نے ہاتھ پکڑ کر مجھے کھینچا، انہیں کافی زور لگانا پڑا اس لیے کہ میرا سر اور پاؤں بانوں میں بری طرح الجھے ہوئے تھے اور بان سر سے زیادہ مضبوط ثابت ہوئے بمشکل تمام انہوں نے مجھے کھڑا کیا
اور میرے ساتھ بھی بلکہ مجھ سے کچھ پہلے چارپائی بھی کھڑی ہو گئی
کہنے لگے کیا بات ہے آپ کچھ بے قرار سے ہیں، معدے کا فعل درست معلوم نہیں ہوتا، میرے جواب کا انتظار کیے بغیر وہ دوڑ کر اپنا تیار کرتا چورن لے آئے اور اپنے ہاتھ سے میرے منہ میں ڈالا، پھنکی منہ میں بھر کر شکریہ کے دو چار لفظ ہی کہہ پایا ہوں گا کہ معا نظر ان کے مظلوم منہ پر پڑ گئی جو حیرت سے کھلا ہوا تھا، میں بہت نادم ہوا لیکن قبل اس کے کہ کچھ اور کہوں انہوں نے اپنا ہاتھ میرے منہ پر رکھ دیا، پھر مجھے ارام کی تلقین کر کے منہ دھونے چلے گئے

28/02/2024

خوابِ راحت تو میسر ہے مگر اس کے بغیر.!!
سکھ وہ چادر ہے جسے تان کے دکھ ہوتا ہے.!!

جو بھی ملتا ہے وہ ملتا ہے بچھڑنے کیلیے.!!
زندگی تجھ کو سفر مان کے دکھ ہوتا ہے.!!🙂

28/02/2024

یاد ہے رُستم و سُہراب ھوا کرتے تھے
عشق اور جنگ کے آداب ھوا کرتے تھے
یاد ھے لوگ قَناعت کی قبا اوڑھے ھوئے
زرد موسم میں بھی شاداب ھوا کرتے تھے
یاد ھے خستہ مکانوں میں فرشتوں جیسے
لوگ وہ گوھرِ نایاب ھوا کرتے تھے
یاد ھے طرزِ تخاطِب میں بزرگوں کے لئے
قبلہ و کعبہ کے اَلقاب ھوا کرتے تھے
کاش دنیا میں مَحَبت کے سِوا کچھ بھی نہ ھو
یاد ھے آنکھ میں کیا خواب ھوا کرتے تھے
وہ تو ساحِل کی طرح آپ مِلے تھے ورنہ
میری قسمت میں تو گرداب ھوا کرتے تھے
سو گئے اوڑھ کے مِٹی کے لِبادے وہ بھی
‌جو کبھی حُسن کے مَہتاب ھوا کرتے تھے
فاتِحہ پڑھ کے مبارک میں بہت رویا آج
آہ کیا پھول سے احباب ھوا کرتے تھے
(مبارک صدیقی)

28/02/2024

اخلاقیات قوموں کی تعمیر کرتی ہیں
دوڑ کے مقابلوں میں فنش لائن سے چند فٹ کے فاصلے پر کینیا کا ایتھلیٹ عبدالمطیع سب سے آگے تھا، مگر اس نے سمجھا کہ وہ دوڑ جیت چکا ہے۔
اس کے بالکل پیچھے سپین کا رنر ایون فرنینڈز دوڑ رہا تھا- اس نے جب دیکھا کہ مطیع غلط فہمی کی بنیاد پر رک رہا ہے تو اس نے اسے آواز دی "دوڑو ابھی فنش لائن کراس نہیں ھوئی"
عبدالمطیع اس کی لینگوئج نہیں سمجھتا تھا اس لئیے وہ بالکل سمجھ نہیں سکا۔ یہ بہترین موقع تھا کہ فرنینڈز اس سے آگے نکل کے دوڑ جیت لیتا مگر اس نے عجیب فیصلہ کیا اس نے عبدالمطیع کو دھکا دے کے فنش لائن سے پار کروا دیا۔
تماشائی اس اسپورٹس مین اسپرٹ پر دنگ رہ گئے، فرنینڈز ہار کے بھی ہیرو بن چکا تھا۔
ایک صحافی نے بعد میں فرنینڈز سے پوچھا تم نے یہ کیوں کیا؟
فرنینڈز نے جواب دیا
"میرا خواب ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ قائم کریں جہاں کوئی دوسرے کو اس لئے دھکا دے تاکہ وہ جیت سکے۔"
صحافی نے پھر پوچھا "مگر تم نے کینیا کے ایتھلیٹ کو کیوں جیتنے دیا؟"
فرنینڈز نے جواب دیا
"میں نے اسے جیتے نہیں دیا، وہ ویسے ہی جیت رہا تھا، یہ دوڑ اسی کی تھی"
صحافی نے اصرار کیا" مگر تم یہ دوڑ جیت سکتے تھے؟"
فرنینڈز نے اس کی طرف دیکھا اور بولا
" اس جیت کا کیا میرٹ ہوتا؟ اس میڈل کی کیا عزت ہوتی؟ میری قوم میرے بارے میں کیا سوچتی؟"

28/02/2024

ایک صاحب کہنے لگے،
"یار ساری عمر ڈرتے ڈرتے ھی گزر گئ ، پہلے والدین سے ، پھر اساتذہ سے ، پھر افسران سے ، پھر موت سے اور پھر موت کے بعد والے حساب کتاب سے"۔
میں نے پوچھا ، "أپ نے بیوی کا ذکر نہیں کیا"؟

کہنے لگے،
"ڈر کے مارے نہیں کیا"۔

(مشتاق احمد یوسفی)

28/02/2024

واردات کا طریقہ چیک کیجئے گا۔
کراچی کے علاقے منگھو پیر میں 4 روز قبل 15 سالہ طالبعلم بچہ اغوا ہوا۔اغوا کاروں نے رہائی کیلئے 5 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ والدین غریب تھے۔ پیسے ادا نہیں کر سکتے تھے۔ بچہ جہاں پڑھتا تھا اسی اسکول کے ہیڈ ماسٹر نے خدا ترسی کی ٹھانی۔ تاوان کی رقم اس نے دینے کا اعلان کر دیا کہ غریب والدین کو ان کا بیٹا واپس ملے جائے اس سے بڑی نیکی کیا ہو گی دنیا میں۔ والدین خوشی سے نہال ہو گئے کہ ہیڈماسٹر کو خدا نے فرشتہ بنا کر بھیجا ہے۔ وہ اس کی نیکی کا بدلہ کبھی بھی نہیں چکا سکیں گے۔
یہ معاملہ کسی طرح پولیس تک بھی پہنچ چکا تھا۔ والدین اغوا کی درخواست دے چکے تھے لیکن اب اس پر کارروائی نہیں کروانا چاہتے تھے کہ ہیڈماسٹر صاحب کی وجہ سے انہیں ان کا بیٹا واپس مل رہا ہے تو پولیس کی مداخلت سے کہیں معاملہ بگڑ ہی نہ جائے۔ان کے بیٹے کی زندگی کو ہی خطرہ نہ لاحق ہو جائے۔ ہیڈ ماسٹر صاحب کی صائب رائے بھی یہی تھی کہ اگر وہ خود پیسے دے رہے ہیں اور والدین کو ان کا بیٹا بھی واپس مل رہا ہے تو بہتر یہی ہے کہ پولیس کو انوالو نہ کریں۔ آج کل کے حالات کا تو پتہ ہی ہے۔ یہ نہ ہو اغوا کاروں کو اس کی بھنک پڑے اور وہ غصے میں کوئی انتہائی قدم نہ اٹھا لیں۔ والدین نے پولیس کو منع کر دیا۔
درخواست واپس ہونے کے باوجود پولیس نے اپنے طور پر کارروائی جاری رکھی۔ اینٹی وائلنٹ کرائم سیل اور سٹیزن پولیس لائزن کمیٹی نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے دو دن قبل ہیڈ ماسٹر کو ہی گرفتار کر لیا۔
کہانی کیا تھی؟
ہیڈ ماسٹر صاحب اپنے اسکول کے اس طالبعلم بچے کی بہن سے شادی کے خواہاں تھے۔ بچے کو اپنے ایک ساتھی کی مدد سے اغوا کروایا۔ خود ہی تاوان کا مطالبہ کیا اور خود ہی خود کو تاوان کی رقم ادا کرنے پر بھی تیار ہو گئے۔
رشتہ بھجوانے سے پہلے اپنے سسرال والوں کے دل میں اپنے لئے نرم گوشہ اور نیک جذبات پیدا کرنا چاہتے تھے۔ یہ طریقہ سوجھا۔
ہیرو کا رشتہ آیا ہے۔
ماسٹر مائنڈ ہیڈ ماسٹر فضل صاحب اور انکے دوست ارسلان صاحب اب پولیس کے مہمان ہیں۔

27/02/2024

ایک دلچسپ تحقیق سامنے آئی ہے، چرنوبل جس کے بارے میں سبھی جانتے ہونگے اٹامک پاور پلانٹ پھٹنے سے ہر طرف ریڈیشن پھیل گئی تھی جو کینسر کا باعث بنتی ہے اس لئے انسانوں کے لئے وہ نا قابل رہائش جگہ بن گئی تھی لیکن جانوروں اور پودوں کو وہاں انسانوں کی غیر موجودگی میں اچھی طرح پھلنے پھولنے کا موقع ملا، وہاں اب بھیڑئیے، ہرن، ریچھ اور جنگلی گھوڑے وغیرہ پائے جاتے ہیں اس کے علاؤہ اس ایریا میں 60 سے زیادہ بالکل نئی قسم کے پودے بھی دریافت ہوئے ہیں
چند دنوں سے جو خبریں چل رہی ہیں وہ یہ ہیں کہ اس ایریا میں رہنے والے بھیڑیوں کی جینز میں میوٹیشن ہونے کے بعد انہوں نے کینسر کے خلاف قدرتی طور پر مدافعت حاصل کر لی ہے، ان بھیڑیوں کو ایسے علاقوں میں دیکھا گیا جہاں ریڈیشن محفوظ شدت سے چھے گنا زیادہ تھی لیکن اس ریڈیشن کے باوجود وہ کینسر سے محفوظ رہے

ایک اور دلچسپ بات یہ ایکس مین موویز ہے جس میں دکھایا جاتا ہے کہ نیو کلئیر ریڈیشن سے میوٹیشن ہونے کی وجہ سے انسان میوٹنٹ بن جاتے ہیں اور ان میں مختلف قسم کی پاورز آ جاتی ہیں جس کی وجہ سے وہ میوٹنٹ سپر ہیومن سمجھے جاتے ہیں جو ظاہر ہے فکشن ہے لیکن اگر کسی انسان میں واقعی ہی نیوکلئیر ریڈیشن میں ایکسپوز ہونے کے بعد بھی کینسر کی خلاف مدافعت موجود ہوئی تو سائنسدانوں کے نزدیک وہ سپر ہیومن ہی ہو گا

26/02/2024

بابا جی فرماتے ہیں پتر ہمیشہ
دو باتوں کا خیال ركهنا
نمبر 1
کبھی کسی کو مكمل بات مت بتانا
نمبر 2 یہ ہے کہ ....see more

26/02/2024

الحمدللّٰہ 💕
For the first time in Pakistan, Eastern Highway Company introduces Korean Road Safety Technology, with the installation of the Roller Barrier Guard Rail System along the Islamabad-Murree Dual Carriageway, enhancing road safety standards


Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

*50 A, Kacha Lawrence Road, Jubilee Town, Near Bagh-e-Jinnah, Lahore*
Lahore