IMM MD/MS UHS Lahore

IMM MD/MS UHS Lahore

Share

this group is for MD MS IME/FINAL past paper discussion AND MDMS EXAM UPDATE

19/06/2026

حکومتِ پنجاب سے ایک دردمندانہ اپیل: طبی امتحانات میں شفافیت کا تقاضا
​"وزیرِ اعلیٰ اور محکمہ صحت پنجاب سے پرزور گزارش ہے کہ صوبے میں طبی امتحانات اور اعلیٰ ڈگریوں (جیسے MD، اور MS FCPS) کے موجودہ نظام کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر ایک اعلیٰ اختیاراتی، آزاد اور غیر جانبدار انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے۔ یہ کمیٹی گزشتہ چند برسوں کے دوران ان امتحانات کو پاس کرنے والے پروفیسرز اور سینیئر ڈاکٹرز کے بچوں کے تعلیمی ریکارڈ، امتحانی پرچوں اور انٹرویو کی کارکردگی کا ازسرنو گہرائی سے جائزہ لے۔ آج میرٹ پر پورا اترنے والے عام اور غریب گھرانوں کے باصلاحیت ڈاکٹرز پسِ پشت دھکیل دیے جاتے ہیں، جبکہ دوسری طرف جہاں دیکھو، مبینہ طور پر سینیئر پروفیسرز کے بچے ہی ان اعلیٰ ترین ڈگریوں کے حقدار بنتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی اجارہ داری اور اقربا پروری کے تاثر کو ختم کرنے کے لیے ایک 'فری اینڈ فیئر' انکوائری ناگزیر ہو چکی ہے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کیا یہ افراد واقعی اپنی قابلیت کی بنیاد پر ان سیٹوں پر براجمان ہیں یا انہیں خاندانی اثر و رسوخ کا ناجائز فائدہ پہنچایا گیا ہے۔ اگر میرٹ کا خون اسی طرح ہوتا رہا تو غریب کا ٹیلنٹ دم توڑ جائے گا اور ہمارا پورا طبی نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا

19/06/2026

تبادلوں اور چھٹیوں کے نام پر فراڈ کا انکشاف، محکمہ صحت پنجاب کا ہائی الرٹ جاری.
https://e.thenews.pk/detail/?id=489101

حکومتِ پنجاب کے اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن (SHC&ME) ڈیپارٹمنٹ نے صوبے بھر کے تدریسی اسپتالوں، میڈیکل یونیورسٹیوں، میڈیکل کالجز اور نرسنگ اداروں کو فراڈ عناصر سے محتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے ایک اہم سرکلر جاری کر دیا ہے۔ محکمہ کے مطابق بعض نامعلوم افراد خود کو بااثر سرکاری شخصیات یا محکمانہ نمائندے ظاہر کر کے چارج نرسز کو فون کالز کر رہے ہیں اور تبادلوں، رخصتوں، استعفوں اور دیگر سروس معاملات میں سہولت فراہم کرنے کے نام پر غیر قانونی مالی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سپیشلائزڈ ہیلتھ کیر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ
کی جانب سے جاری کردہ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ مجاز اتھارٹی کے نوٹس میں آیا ہے کہ مختلف جعلی موبائل نمبروں سے چارج نرسز کو کالز کی جا رہی ہیں۔ کال کرنے والے افراد سرکاری اختیارات کا جھوٹا تاثر دے کر ملازمین کو دھوکہ دینے اور رشوت طلب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سرکلر میں جن مشتبہ موبائل نمبروں کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں 03019035958، 03274137844، 03226406151، 03234352882، 03151029547 اور 03064269929 شامل ہیں، جبکہ ایک نمبر 03274137844 کا اندراج دو مرتبہ کیا گیا ہے۔ محکمہ نے واضح کیا ہے کہ یہ فہرست صرف نشاندہی شدہ نمبروں تک محدود نہیں اور دیگر نمبروں سے بھی ایسی جعلی کالز کی جا سکتی ہیں۔
اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے تمام میڈیکل سپرنٹنڈنٹس، وائس چانسلرز، پرنسپلز، ڈینز، نرسنگ کالجز کے سربراہان اور ڈائریکٹر جنرل نرسنگ پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ وہ مذکورہ معلومات فوری طور پر اپنے زیر انتظام تمام چارج نرسز اور نرسنگ اسٹاف تک پہنچائیں اور انہیں کسی بھی غیر مصدقہ فون کال، پیشکش یا یقین دہانی پر اعتماد نہ کرنے کی تلقین کریں۔
سرکلر کے مطابق نرسنگ عملہ کسی بھی شخص کو رقم منتقل نہ کرے، نہ ہی اپنی ذاتی، سرکاری یا مالی معلومات شیئر کرے۔ محکمہ نے زور دیا ہے کہ تبادلے، چھٹیوں کی منظوری، استعفوں یا دیگر سروس معاملات سے متعلق تمام امور صرف متعلقہ مجاز فورمز اور سرکاری طریقہ کار کے تحت ہی انجام دیے جاتے ہیں۔

19/06/2026
19/06/2026

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں غریب اور متوسط طبقے کے نوجوانوں کے لیے سرکاری ملازمت کا حصول ایک خواب بن چکا ہے، لیکن اس خواب کی تعبیر پانے سے پہلے ہی انہیں بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے۔ حکومت اور مختلف امتحانی ادارے (جیسے PPSC، FPSC، NTS وغیرہ) ہر سال مختلف اسامیوں کے نام پر اشتہارات جاری کرتے ہیں، جہاں چند سو سیٹوں کے لیے لاکھوں بیروزگار نوجوان اپلائی کرتے ہیں۔

​ان امتحانات کی فیسیں سینکڑوں سے ہزاروں روپے تک ہوتی ہیں۔ اب ذرا سوچیے:

​لاکھوں امیدوار: جب ایک چھوٹی سی نوکری کے لیے بھی لاکھوں لوگ فارم جمع کرواتے ہیں، تو یہ فیسیں مل کر اربوں روپے بن جاتی ہیں۔

​بیروزگاری کا فائدہ: ایک ایسا نوجوان جو پہلے ہی نوکری کی تلاش میں قرض لے کر یا اپنی ضروریات کاٹ کر زندگی گزار رہا ہے، وہ اس امید پر فیس جمع کرواتا ہے کہ شاید اس کی تقدیر بدل جائے۔

​نتیجہ؟ اکثر اوقات ان امتحانات کے نتائج مہینوں نہیں آتے، یا پھر بھرتیاں کسی نہ کسی وجہ سے منسوخ ہو جاتی ہیں، لیکن عوام کا پیسہ واپس نہیں ملتا۔

​ستم ظریفی یہ ہے کہ ریاست کا کام اپنے شہریوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہوتا ہے، نہ کہ ان کی مجبوری اور بیروزگاری کو کمائی کا ذریعہ بنانا۔ یہ نظام غریب عوام کی جیبوں پر ایک ایسا بوجھ ہے جس کا فوری خاتمہ ہونا چاہیے، یا کم از کم ان فیسوں کو بالکل ختم یا برائے نام ہونا چاہیے۔

19/06/2026

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (UHS) لاہور کی جانب سے چوتھے کانووکیشن 2026ء کا انعقاد بلاشبہ ایک انتہائی اہم اور خوش آئند اقدام ہے۔ یہ فیصلہ خاص طور پر MD اور MS جیسے پوسٹ گریجویٹ ڈگری ہولڈرز کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، کیونکہ یونیورسٹی کی سطح پر اعلیٰ طبی تعلیم حاصل کرنے والے ڈاکٹرز طویل عرصے سے اس قسم کی باقاعدہ اور باوقار پذیرائی کے مستحق تھے۔ مارچ 2022ء سے جون 2026ء کے درمیان فارغ التحصیل ہونے والے تمام پوسٹ گریجویٹس کو اس کانووکیشن میں شامل کرنا ایک بہترین فیصلہ ہے، جس سے نہ صرف ڈگری ہولڈرز کی حوصلہ افزائی ہوگی بلکہ میڈیکل ایجوکیشن کے شعبے میں یونیورسٹی ڈگریز کا وقار اور ساکھ بھی مزید مضبوط ہوگی۔ یہ اقدام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یونیورسٹی بیسڈ کلینیکل ڈگریاں اپنی جگہ ایک مسلمہ حیثیت رکھتی ہیں اور ان کے ڈاکٹرز ملک کے طبی نظام کا ایک اہم اور قابلِ فخر سرمایہ ہیں۔

18/06/2026

کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) کے سیکرٹری کی جانب سے پرائیویٹ ہسپتالوں میں ٹرینی ڈاکٹروں کو کم تنخواہوں اور وظائف (stipends) کی ادائیگی پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ واضح رہے کہ پی ایم ڈی سی (PMDC) کے قوانین کے مطابق تمام طبی اداروں کے لیے یہ قانونی طور پر لازم ہے کہ وہ ٹرینی ڈاکٹروں کو حکومت کے مقرر کردہ نوٹیفائیڈ اسکیل کے برابر مراعات اور وظائف ادا کریں۔ اس ضمن میں سخت تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت جو پرائیویٹ میڈیکل کالجز یا ہسپتال ڈاکٹروں کو سرکاری پیکیج کے مساوی ادائگیاں کرنے میں ناکام رہیں گے، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) اگلے تعلیمی سیشن میں ان کے ہاں ایم بی بی ایس (MBBS) کے طلبہ کے داخلوں (intake) پر فوری پابندی عائد کر دے گی۔ تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس پالیسی پر سو فیصد عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کیونکہ کسی بھی قسم کی عدم تعمیل (non-compliance) کی صورت میں ادارے کی رجسٹریشن کی منسوخی اور داخلوں کی بندش جیسے سخت ترین اقدامات فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے

18/06/2026

حکومتِ پنجاب کی جانب سے پیش کیے جانے والے نئے بجٹ (2026-27) نے ایک بار پھر "تختِ لاہور" کی جنوبی پنجاب کے ساتھ کھلی ناانصافی اور سوتیلی ماں جیسے سلوک کو عیاں کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف لاہور اور اس کے قریبی اضلاع کے لیے 'نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ' جیسے منصوبوں پر 169 ارب روپے کی خطیر رقم پانی کی طرح بہائی جا رہی ہے، وہاں دوسری طرف کروڑوں کی آبادی پر مشتمل پورے جنوبی پنجاب کو بہاولپور چلڈرن ہسپتال اور ڈی جی خان کینسر ہسپتال جیسے منصوبوں کے نام پر محض چند ارب روپے (تقریباً 23 سے 25 ارب روپے) کا لالی پاپ دے کر ٹرخا دیا گیا ہے۔ جنوبی پنجاب کے عوام، جو پہلے ہی نشتر 2، ڈی جی خان اور رحیم یار خان میڈیکل کالجز میں سینئر فیکلٹی اور ڈاکٹروں کی شدید کمی کا سامنا کر رہے ہیں، ان کے لیے یہ بجٹ زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ کیا جنوبی پنجاب کے ٹیکس دہندگان اور وہاں کے معصوم مریض اس بجٹ اور وسائل پر برابر کا حق نہیں رکھتے؟ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ترقی صرف لاہور کا نام نہیں، جب تک جنوبی پنجاب کو اس کا پورا حق نہیں ملے گا، صوبے کی حقیقی ترقی کا دعویٰ محض ایک دھوکہ رہے گا۔

18/06/2026

جنوبی پنجاب کے ہسپتالوں اور میڈیکل کالجز کی صورتحال پر ایک اہم اور فکر انگیز تحریر:

​جنوبی پنجاب کے عوام طویل عرصے سے صحت کی بنیادی اور اعلیٰ سہولیات سے محروم چلے آ رہے ہیں، اور اب وہاں کے بڑے ہسپتالوں بالخصوص نشتر 2 (ملتان)، بہاولپور میڈیکل کالج، ڈی جی خان میڈیکل کالج اور رحیم یار خان میڈیکل کالج میں فیکلٹی کی سینکڑوں سیٹوں کا خالی پڑا ہونا ایک انتہائی تشویشناک امر ہے۔ "تختِ لاہور" (صوبائی حکومت) کی جانب سے جنوبی پنجاب کے ان اضلاع میں سینئر رجسٹرار، اسسٹنٹ پروفیسر، ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پروفیسر کی خالی اسامیوں کو نہ بھرنا اور وہاں کام کرنے والے ڈاکٹروں کی بروقت پروموشن (ترقیاں) نہ کرنا سراسر زیادتی اور سوتیلی ماں جیسا سلوک ہے۔ ان اہم ترین تدریسی اور علاجی سیٹوں کے خالی ہونے کی وجہ سے نہ صرف غریب مریض خوار ہو رہے ہیں بلکہ میڈیکل کے طلبہ کی تعلیم و تربیت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ حکومتِ پنجاب کو چاہیے کہ وہ زبانی جمع خرچ اور دعووں سے نکل کر فوراً ان ہسپتالوں میں سینئر فیکلٹی کا مستقل تعیناتیوں اور میرٹ پر ترقیاں کر کے یہاں کے عوام کا احساسِ محرومی ختم کرے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


NMU Multan
Lahore
4200