23/10/2023
You can also follow on Instagram to see more.
Explore the wonders of the cosmos and the fascinating World with us 🚀🦁🌠
📚 Edu, Ent, in between!
23/10/2023
You can also follow on Instagram to see more.
Snakes 🐍🦎, legless reptiles, are captivating in their own right. They come in various shapes, sizes, and colors, and many are venomous.
20/10/2023
Follow me on WhatsApp
Beautiful
15/10/2023
24/01/2021
تفسیر:
{اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں(نشانیاں ہیں )۔} کعبہ معظمہ کے گرد مشرکین کے تین سو ساٹھ بت تھے جنہیں وہ معبودمانتے تھے انہیں یہ سن کر بڑی حیرت ہوئی کہ معبود صرف ایک ہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔اس لیے انہوں نے حضور سید عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے ایسی آیت طلب کی جس سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ثابت ہو، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۶۴، ص۸۹، ملتقطاً)
اور انہیں یہ بتایا گیا کہ آسمان و زمین کی تخلیق، آسمان کی بلندی، اس میں چمکتے ہوئے ستارے، اس کا بغیر ستونوں کے قائم ہونا، سورج چاند، ستاروں کے ذریعے اس کی زینت سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔یونہی زمین اور اس کی وسعت، اس میں موجود پہاڑ، معدنیات، جواہرات، اس میں رواں سمندر، دریا، چشمے ، اس سے اگنے والے درخت، سبزہ، پھل، پھول، نباتات، شب و روز کا آنا جانا، دن رات کا چھوٹا بڑا ہونا، سمندر میں بھاری بوجھ کے باوجود کشتیوں کا تیرنا، لوگوں کا اس میں سوار ہونا، سمندری عجائبات، ہواؤں کا چلنا،سمندر کے ذریعے مشرق و مغرب میں تجارت کرنا، سمندر سے بخارات کا اٹھنا، بارش کی صورت میں برسنا، بارش سے خشک اورمردہ زمین کا سر سبزوشاداب ہوجانا، اس پانی اور اس کے ثمرات سے زندگی میں باغ و بہار آنا، زمین میں کروڑوں قسم کے حیوانات کا ہونا ،ہواؤں کی گردش، ان کے خواص و عجائبات ،یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت اور اس کی قدرت و وحدانیت پر عظیم دلیلیں ہیں۔یہ سارا تو ایک قسم کا اجمالی بیان ہے۔ مذکورہ بالا چیزوں میں ہر ایک پر جداگانہ غور و فکر کریں تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ایسے حیرت انگیز کرشمے نظر آتے ہیں کہ عقلِ انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔ کائنات میں انتہائی کثرت سے پائی جانے والی ہوا پر ہی غور کرلیں تو اس میں نجانے کتنی گیسیں، کتنی تاثیرات اور ضروریات انسانی کی کتنی بنیادی چیزیں ہیں۔ صرف یہی دیکھ لیں کہ اگر ہوا نہ ہو تو تمام انسان دس منٹ کے اندر اندر مرجائیں ، زمین کے اوپر اور ہوا میں پائے جانے والے جانوروں کی حیات ختم ہوجائے۔ یہ تو قدرت ِ الہٰی کی ایک قسم کی صرف ایک تاثیر ہے جبکہ قدرت الہٰی کی کھربوں سے زائد قسموں میں ایک ایک چیز میں کروڑوں عجائبات ہیں۔ کسی زمانے میں آنکھ کو صرف دیکھنے کا ایک آلہ سمجھا جاتا تھا اور علمی ترقی کے ساتھ ساتھ آنکھ کے ایسے ایسے ظاہری و باطنی، جسمانی و روحانی عجائبات سامنے آرہے ہیں کہ اب صرف آنکھ سے متعلقہ علوم کی اقسام نہ جانے کتنی ہیں اور لاکھوں لوگ اس علم کے ماہر ہونے کے باوجوداس بات کا دعویٰ نہیں کرسکتے کہ ہم نے آنکھ سے متعلق ہر چیز کا علم حاصل کرلیا ہے۔
سائنسی علوم بھی اللہ تعالیٰ کی معرفت کا ذریعہ بنتے ہیں :
اس آیت مبارکہ اور اس کی تفسیر سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سائنسی علوم بھی معرفت ِ الہٰی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جتنا سائنسی علم زیادہ ہوگا اتنی ہی اللہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت کی پہچان زیادہ ہوگی، لہٰذا اگر کوئی دینِ اسلام کی خدمت اور اللہ تعالیٰ کی معرفت کی نیت سے سائنسی علوم سیکھتا ہے تو یہ بھی عظیم عبادت ہوگی نیز اللہ تعالیٰ نے جو کائنات میں غور و فکر کا حکم دیا ہے یہ اس حکم کی تعمیل بھی قرار پائے گی۔
21/01/2021
وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ ﳲ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا٘-وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا٘-وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ(۱۷۹)ترجمہ: اور بے شک ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیے بہت جن اور آدمی وہ دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں اور وہ کان جن سے سنتے نہیں وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ وہی غفلت میں پڑے ہیں
تفسیر: صراط الجنان
{مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ:جسے اللہ ہدایت دے ۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ہدایت اور گمراہی دونوں کو پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جبکہ ان میں سے کسی کو اختیار کرنا بندے کی طرف سے ہے ،لہٰذا بندہ اگر ہدایت اختیار کرتا ہے تو اللہتعالیٰ اس میں ہدایت پیدا فرما دیتا ہے اور اگر وہ گمراہی اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس میں گمراہی پیدا فرما دیتا ہے۔ (روح البیان، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۸، ۳ / ۲۷۹)
}وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ:اور بیشک ہم نے جہنم کے لیے پیدا کئے۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ بہت سے جِنّات اور انسانوں کا انجام جہنم میں داخلہ ہوگا۔ جنوں اور انسانوں کو پیدا کرنے کا اصل مقصد تواللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت ہے جیسا کہ اِس آیت میں ہے :
’’ وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ‘‘ (الذاریات:۵۶)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں۔
لیکن ان میں سے بہت کا انجامِ کار جہنم ہے۔اس آیت کے لفظ ’’ لِجَہَنَّمَ‘‘ کی ابتداء میں مذکور لام’’ لامِ عاقبت‘‘ ہے۔ عربی سے واقف حضرات اسے آسانی سے سمجھ لیں گے۔
{لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا: ان کے ایسے دل ہیں جن کے ذریعے وہ سمجھتے نہیں۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے ہولناک انجام کی وجہ بیان فرمائی کہ یہ جہنم کا ایندھن اس لئے بنے کہ ان کے ایسے دل ہیں جن کے ذریعے وہ حق سے اِعراض کرکے آیاتِ اِلٰہیہ میں تَدَبُّر کرنے سے محروم ہوگئے حالانکہ یہی دل کا خاص کام تھا۔ ان کی ایسی آنکھیں ہیں کہ جن کے ساتھ وہ حق و ہدایت کا راستہ، اللہتعالیٰ کی روشن نشانیاں اور توحید کے دلائل نہیں دیکھتے۔ ان کے ایسے کان ہیں جن کے ذریعے وہ قرآن کی آیات اور اس کی نصیحتیں قبول کرنے کیلئے نہیں سنتے اور قلب و حواس رکھنے کے باوجود وہ اُمورِ ِدین میں اُن سے نفع نہیں اٹھاتے لہٰذا یہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۹، ۲ / ۱۶۲)
کافروں کو جانوروں سے بد تر فرمائے جانے کی وجوہات:
کفار کو جانوروں سے بد تر فرمانے کی متعدد وُجوہات ہیں :
(1)…جانوروں میں اللہ تعالیٰ کی آیات سمجھنے، دیکھنے اور سننے کی قوت ہی نہیں لہٰذا اگر وہ نہ سمجھیں تو معذور ہیں لیکن کفار کے اعضا میں یہ قوت ہے، پھر بھی وہ اس سے کام نہیں لیتے لہٰذا وہ جانوروں سے بد تر ہیں۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۹، ۲ / ۱۶۲)
(2)…چوپایہ بھی اپنے نفع کی طرف بڑھتا ہے اور ضَرر سے بچتا اور اس سے پیچھے ہٹتا ہے لیکن کافر جہنم کی راہ پر چل کر اپنا ضرر اختیار کرتا ہے تو اس سے بدتر ہوا۔ (مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۹، ص۳۹۶)
(3)…جانور اپنے مالک کے کہنے پر چلتے ہیں جبکہ کافر نافرمان ہیں کہ اپنے مالک ِ حقیقی خداوند ِ قُدوس کے احکام کی مخالفت کرتے ہیں ا س لئے جانوروں سے بد تر ہیں۔ امام عبداللہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’آدمی روحانی ، شَہوانی، سَماوی، اَرضی ہے جب اس کی روح شہوت پر غالب ہوجاتی ہے تو ملائکہ سے فائق ہوجاتا ہے اور جب شہوات روح پر غلبہ پاجاتی ہیں تو زمین کے جانوروں سے بدتر ہوجاتا ہے۔ (مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۹، ص۳۹۶)
Surah Maryam Verse 17 To 30
وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَۘ-اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ(۱۶)
اور کتاب میں مریم کو یاد کرو جب وہ اپنے گھر والوں سے مشرق کی طرف ایک جگہ الگ ہوگئی۔
فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا ﱏ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا(۱۷)
تو ان (لوگوں ) سے ادھر ایک پردہ کرلیا تو اس کی طرف ہم نے اپنا روحانی (جبرئیل) بھیجا تووہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کی صورت بن گیا۔
قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا(۱۸)
مریم بولی: میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تجھے خدا کا ڈر ہے۔
قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ ﳓ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا(۱۹)
کہا: میں توتیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں تا کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروں ۔
قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا(۲۰)
مریم نے کہا: میرے لڑکا کہاں سے ہوگا؟ حالانکہ مجھے تو کسی آدمی نے چھوا تک نہیں اور نہ ہی میں بدکار ہوں ۔
قَالَ كَذٰلِكِۚ-قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌۚ-وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّاۚ-وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا(۲۱)
جبرئیل نے کہا : ایسا ہی ہے۔ تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ میرے اوپر بہت آسان ہے اور تاکہ ہم اسے لوگوں کیلئے نشانی بنادیں اور اپنی طرف سے ایک رحمت (بنادیں ) اور یہ ایسا کام ہے جس کا فیصلہ ہوچکا ہے۔
فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا(۲۲)
پھر مریم حاملہ ہوگئیں تواسے لے کر ایک دور کی جگہ چلی گئی۔
فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِۚ-قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا(۲۳)
پھر بچے کی پیدائش کا درد اسے ایک کھجور کے تنے کی طرف لے آیا تو اس نے کہا: اے کاش کہ میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی اور میں کوئی بھولی بسری ہوجاتی۔
فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا(۲۴)
تو اسے اس کھجورکے درخت کے نیچے سے پکارا کہ غم نہ کھا بیشک تیرے رب نے تیرے نیچے ایک نہر بنا دی ہے۔
وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘(۲۵)
اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلاؤ، وہ تم پر عمدہ تازہ کھجوریں گرائے گا۔
فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًاۚ-فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًاۙ-فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ(۲۶)
تو کھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی رکھ پھر اگر تو کسی آدمی کو دیکھے تو (اشارے سے) کہہ دینا کہ میں نے آج رحمٰن کیلئے روزہ کی نذر مانی ہے تو آج ہرگز میں کسی آدمی سے بات نہیں کروں گی۔
فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗؕ-قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْــٴًـا فَرِیًّا(۲۷)
پھر عیسیٰ کو اُٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں تو لوگ کہنے لگے : اے مریم! بیشک تو بہت ہی عجیب و غریب چیز لائی ہے۔
یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ(۲۸)
اے ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں بدکارتھی۔
فَاَشَارَتْ اِلَیْهِؕ-قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا(۲۹)
اس پر مریم نے بچے کی طرف اشارہ کردیا ۔ وہ بولے :ہم اس سے کیسے بات کریں ؟جو ابھی ماں کی گود میں بچہ ہے۔
قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ ﳴ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ(۳۰)
بچے نے فرمایا: بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں ، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔