H.I Quran teacher online Academy

H.I Quran teacher online Academy

Share

AOA.This is online Quran acadmey.I am online Quran teacher.we provide our service on Skype.we have f

Photos from H.I Quran teacher online Academy's post 09/01/2022

🔔I am a graphics designer
Its Logo design make for client .!
If u want a professional logo u can contact us on whatsapp
03074091623



06/01/2022

Assalam o alaikm.This is online Quran acadmey we teacher from Pakistan we provide our service through Skype zoom Whatsapp.We provide our online quran teaching service all world of the Muslims.
We have 2 year+experience.we have females teacher available.
*we also offering you* :
*Basic norani with tajweed
*Nazra Quran with tajweed
*Translation of Quran
*Tajweed
*Namaz
*Method of wazzo
*Islamic Education
*Dua /prayers
*Ahadees
*Hifz
*Islamic history
*Facilities*
*Professional Teacher
*Time of your choice
*With Affortable fee
*One to one class
*Group study also
*Save your time in online learning
*For females and kids.
*Female Teacher Available
If you are interested to admit your children or any female in our Acadmey So please contact us direct on WhatsApp number
+923074091623
Email:[email protected]
Skype:Quran Teacher Online Academy


Tajweed kia hy
*تجوید کی ضرورت و اہمیت :
تجوید کے معنی ہیں ، عمدہ بنانا، خوبصورت بنانا
تجویدِ قرآن کا معنی ہوگا قرآن مجید کو عمدہ اور خوبصورت کر کے بنا سنوار کر پڑھنا۔ بنا سنوار کر عمدہ بنانے کا طریقہ پیچھے ہم جان چکے کہ ماھرین کے مقرر کردہ "مخارج" سے "تمام صفات کے ساتھ" حرف کو ادا کرنے کو تجوید کہتے ہیں۔
*لحجے اور ادائگی کی ضرورت:*
اس علم کی سب سے زیادہ اہمیت یہ ہے کہ دنیا کی ہر زبان یہ خصوصیت رکھتی ہے کہ اس کا طرز ادا لہجہٴ بیان دوسرى زبانوں سے مختلف ہو تا ہے اور یہی لہجہ اس زبان کی شیرینی، چاشنی اور اسکی لطافت کا پتہ دیتا ہے۔
جب تک لہجہ و انداز باقی رہتا ہے زبان دلچسپ اور شیرین معلوم ہوتی ہے، اور جب وہ لہجہٴ ادا بدل جاتا ہے تو زبان کا حسب ختم ہو جاتا ہے۔ ضرورت ہے کہ کسی زبان کو سیکھتے اور اس میں تکلم کرتے وقت اس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ اس کے الفاظ اس شان سے ادا ہوں جس انداز سے اہل زبان ادا کرتے ہیں اور اس میں حتی الامکان وہ لہجہ باقی رکھا جائے جو اہل زبان کا لہجہ ہے اس لئے بغیر تجوید، زبان تو وہی رہے گی لیکن اہل زبان اسے زبان کی بربادی ہی کہیں گے۔اور نا ہی کسی کا بیان کردہ کلام دوسرے کے دل پر اثر انداز ہو سکے گا۔مثلا کوئی انگریز اگر "کراچی" کا نام لے تو وہ اپنی زبان کے R کی وجہ سے "کراچی" کو "کڑاچی" پڑھے گا، جبکہ ہمارا کوئی عرب بھائی ہو تو وہ کراچی کا چ نہیں ادا کر سکتا، وہ اسکو "کراتشی" پڑھے گا۔تو ان دونوں الفاظ کو اردو جاننے والے اچھا محسوس نہیں کریں گے۔بلکل اسی طرح عربی زبان کا بھی اپنا تلفظ اور انداز بیان ہے۔اسکو سیکھنا نہایت ضروری ہے۔تاکہ جیسے قرآن کریم نازل ہوا، ہم اسکو ویسے ہی (عربی) انداز میں تلاوت کر سکیں۔اس طرح پڑھا ہوا قرآن دلوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔

*حروف کے معنی کا برقرار رہنا:*
ہر زبان کو اس وقت ہی صحیح بولنا کہا جائے گا جب وہ اہل زبان کے طریقے کے مطابق ہو،قرآن مجید عربی میں ہے، تو اسکو عربوں کے طریقے کے مطابق پڑھا جانا ضروری ہے۔اگر اہل زبان کے طریقے کے مطابق حروف ادا نا ہوئے تو قران کی "عربّیت" باقی نا رہے گی ، یا اللہ تعالی کی مرضی کے مخالف معنی پیدا ہو جائے گا
مثلا اگر ہم اردو میں "ثواب" کو "سواب" پڑھ دیں، یعنی ث کو باریک پڑھنے کے بجائے سین کی طرح سخت پڑھ دیں توبھی ہمارے ہاں معنی میں فرق پیدا نہیں ہوتا۔یا ہم انگلش کے "سوڑی" کو "سوری" پڑھ دیں ، یعنی سوری کے "ڑ" کو صرف "ر" پڑھ دیں تو بھی معنی میں فرق نہیں آتا (واضح ہو کہ انگریز "سوری" میں موجود R کو اصل تلفظ کے مطابق "ڑ" پڑھتے ہیں)، لیکن عربی عربی حروف کا تلفظ بدلنے سے اکثر اوقات معنی بھی بدل جاتے ہیں،جسکی وجہ سے عربی کو اسکے صحیح تلفظ سے ادا کرنا نہایت ضروری ہے۔
مثلا "قل ہوا اللہ احد" کا معنی ہے: کہو ، وہ اللہ ایک ہے
اس میں موجود "قل" کا معنی ہے "کہو" Say
لیکن اگر اس "ق" کو باریک پڑھ کر ہم نے "کل" پڑھ دیا، تو "کل"کا معنی ہے "کھاو"
جیسے کہ آیت ہے ، کلوا واشربوا۔ کھاو اور پیو ۔ تو اس آیت میں "کلوا" استعمال ہوا ہے ۔۔۔۔۔ یعنی "ک" سے پڑھا جانے والا لفظ ۔ تو اسکا معنی "کھاو" ہے، لیکن اگر ہم نے سورت اخلاص میں "قل" کے بجائے "کل" پڑھا، جیسا کہ ہمارے ہاں اکثر لوگ تلفظ غلط ہونے کی وجہ سے "کل" ہی پڑھتے ہیں، تو آیت کا مطلب بن جائے گا : کھاو ، وہ اللہ ایک ہے (نعوذبااللہ)
اسی طرح "قلب" موٹے قاف سے، اسکے معنی "دل" ہے، لیکن اگر ق کے بجائے "ک" باریک پڑھا تو "کلب" کا معنی "کتا" ہے۔ تو آیت کا معنی ہی بدل جائے گا۔
اسی طرح "نصر" کا معنی مدد ، اور "نسر" کا معنی "گدھ (پرندہ)" ہے ۔ یعنی عربی زبان میں تلفظ بدلنے سے معنی ہی بدل جاتے ہیں۔اور یہ گناہ کی بات ہے۔قران کو درست کرنا ھر مسلمان پر اپنی پوری کوشش اور استطاعت تک "فرض" ہے۔ جب کوئی مجبور ہو اور اس سے زبان کی لکنت یا کسی اور وجہ سے حروف ٹھیک ادا نا ہوتے ہوں اور وہ کوشش کر چکا ہو، پھر اسکو اللہ تعالی معاف فرما دیں گے، لیکن ہم جیسے بلکل صحیح سالم مسلمانوں کیلئے قرآن کی درست تلاوت فرض ہے۔اسکی کوشش کرنی چاہئے۔اور اس کو سیکھنے کیلئے ہی تجوید کا علم ضروری ہے۔
اسی مقصد کومدنظر رکھتےہوئے ہم نے آپ لوگوں کی آسانی کےلیے گھربیٹھے "نورانی قاعدہ ،ناظرہ ،حفظ ،مسنون دعائیں ،چالیس احادیث ،بچوں اوربچیوں کونمازکاطریقہ،نمازجنازہ ونماز عیدین سکھانےکی بنیاد رکھی ہے!
*آئیے اپنے اوراپنےبچوں کا مستقبل سنواریں ،مناسب فیس میں تعلیم دلوائیں
واٹس ایپ رابطہ 03074091623
H.i Quran Teacher Online Academy*

Kindle Follow this links 🎗️
H.I Quran Teacher Online Academy
👉🏻Facebook group join
https://www.facebook.com/groups/2807785742869842/?ref=share
👉🏻page
https://www.facebook.com/Quran1096/
👉🏻YouTube channel subscribe
https://youtube.com/channel/UC72x2IU4-YWBITpqZsgCuTQ

H.I Quran teacher online academy

06/01/2022

If anyone intrested in quran learning for your kids so.
Contact for more information
03074091623

01/01/2022

تجوید کی ضرورت و اہمیت :
تجوید کے معنی ہیں ، عمدہ بنانا، خوبصورت بنانا
تجویدِ قرآن کا معنی ہوگا قرآن مجید کو عمدہ اور خوبصورت کر کے بنا سنوار کر پڑھنا۔ بنا سنوار کر عمدہ بنانے کا طریقہ پیچھے ہم جان چکے کہ ماھرین کے مقرر کردہ "مخارج" سے "تمام صفات کے ساتھ" حرف کو ادا کرنے کو تجوید کہتے ہیں۔
لحجے اور ادائگی کی ضرورت:
اس علم کی سب سے زیادہ اہمیت یہ ہے کہ دنیا کی ہر زبان یہ خصوصیت رکھتی ہے کہ اس کا طرز ادا لہجہٴ بیان دوسرى زبانوں سے مختلف ہو تا ہے اور یہی لہجہ اس زبان کی شیرینی، چاشنی اور اسکی لطافت کا پتہ دیتا ہے۔
جب تک لہجہ و انداز باقی رہتا ہے زبان دلچسپ اور شیرین معلوم ہوتی ہے، اور جب وہ لہجہٴ ادا بدل جاتا ہے تو زبان کا حسب ختم ہو جاتا ہے۔ ضرورت ہے کہ کسی زبان کو سیکھتے اور اس میں تکلم کرتے وقت اس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ اس کے الفاظ اس شان سے ادا ہوں جس انداز سے اہل زبان ادا کرتے ہیں اور اس میں حتی الامکان وہ لہجہ باقی رکھا جائے جو اہل زبان کا لہجہ ہے اس لئے بغیر تجوید، زبان تو وہی رہے گی لیکن اہل زبان اسے زبان کی بربادی ہی کہیں گے۔اور نا ہی کسی کا بیان کردہ کلام دوسرے کے دل پر اثر انداز ہو سکے گا۔مثلا کوئی انگریز اگر "کراچی" کا نام لے تو وہ اپنی زبان کے R کی وجہ سے "کراچی" کو "کڑاچی" پڑھے گا، جبکہ ہمارا کوئی عرب بھائی ہو تو وہ کراچی کا چ نہیں ادا کر سکتا، وہ اسکو "کراتشی" پڑھے گا۔تو ان دونوں الفاظ کو اردو جاننے والے اچھا محسوس نہیں کریں گے۔بلکل اسی طرح عربی زبان کا بھی اپنا تلفظ اور انداز بیان ہے۔اسکو سیکھنا نہایت ضروری ہے۔تاکہ جیسے قرآن کریم نازل ہوا، ہم اسکو ویسے ہی (عربی) انداز میں تلاوت کر سکیں۔اس طرح پڑھا ہوا قرآن دلوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔

حروف کے معنی کا برقرار رہنا:
ہر زبان کو اس وقت ہی صحیح بولنا کہا جائے گا جب وہ اہل زبان کے طریقے کے مطابق ہو،قرآن مجید عربی میں ہے، تو اسکو عربوں کے طریقے کے مطابق پڑھا جانا ضروری ہے۔اگر اہل زبان کے طریقے کے مطابق حروف ادا نا ہوئے تو قران کی "عربّیت" باقی نا رہے گی ، یا اللہ تعالی کی مرضی کے مخالف معنی پیدا ہو جائے گا
مثلا اگر ہم اردو میں "ثواب" کو "سواب" پڑھ دیں، یعنی ث کو باریک پڑھنے کے بجائے سین کی طرح سخت پڑھ دیں توبھی ہمارے ہاں معنی میں فرق پیدا نہیں ہوتا۔یا ہم انگلش کے "سوڑی" کو "سوری" پڑھ دیں ، یعنی سوری کے "ڑ" کو صرف "ر" پڑھ دیں تو بھی معنی میں فرق نہیں آتا (واضح ہو کہ انگریز "سوری" میں موجود R کو اصل تلفظ کے مطابق "ڑ" پڑھتے ہیں)، لیکن عربی عربی حروف کا تلفظ بدلنے سے اکثر اوقات معنی بھی بدل جاتے ہیں،جسکی وجہ سے عربی کو اسکے صحیح تلفظ سے ادا کرنا نہایت ضروری ہے۔
مثلا "قل ہوا اللہ احد" کا معنی ہے: کہو ، وہ اللہ ایک ہے
اس میں موجود "قل" کا معنی ہے "کہو" Say
لیکن اگر اس "ق" کو باریک پڑھ کر ہم نے "کل" پڑھ دیا، تو "کل"کا معنی ہے "کھاو"
جیسے کہ آیت ہے ، کلوا واشربوا۔ کھاو اور پیو ۔ تو اس آیت میں "کلوا" استعمال ہوا ہے ۔۔۔۔۔ یعنی "ک" سے پڑھا جانے والا لفظ ۔ تو اسکا معنی "کھاو" ہے، لیکن اگر ہم نے سورت اخلاص میں "قل" کے بجائے "کل" پڑھا، جیسا کہ ہمارے ہاں اکثر لوگ تلفظ غلط ہونے کی وجہ سے "کل" ہی پڑھتے ہیں، تو آیت کا مطلب بن جائے گا : کھاو ، وہ اللہ ایک ہے (نعوذبااللہ)
اسی طرح "قلب" موٹے قاف سے، اسکے معنی "دل" ہے، لیکن اگر ق کے بجائے "ک" باریک پڑھا تو "کلب" کا معنی "کتا" ہے۔ تو آیت کا معنی ہی بدل جائے گا۔
اسی طرح "نصر" کا معنی مدد ، اور "نسر" کا معنی "گدھ (پرندہ)" ہے ۔ یعنی عربی زبان میں تلفظ بدلنے سے معنی ہی بدل جاتے ہیں۔اور یہ گناہ کی بات ہے۔قران کو درست کرنا ھر مسلمان پر اپنی پوری کوشش اور استطاعت تک "فرض" ہے۔ جب کوئی مجبور ہو اور اس سے زبان کی لکنت یا کسی اور وجہ سے حروف ٹھیک ادا نا ہوتے ہوں اور وہ کوشش کر چکا ہو، پھر اسکو اللہ تعالی معاف فرما دیں گے، لیکن ہم جیسے بلکل صحیح سالم مسلمانوں کیلئے قرآن کی درست تلاوت فرض ہے۔اسکی کوشش کرنی چاہئے۔اور اس کو سیکھنے کیلئے ہی تجوید کا علم ضروری ہے۔
اسی مقصد کومدنظر رکھتےہوئے ہم نے آپ لوگوں کی آسانی کےلیے گھربیٹھے "نورانی قاعدہ ،ناظرہ ،حفظ ،مسنون دعائیں ،چالیس احادیث ،بچوں اوربچیوں کونمازکاطریقہ،نمازجنازہ ونماز عیدین سکھانےکی بنیاد رکھی ہے!
آئیے اپنے اوراپنےبچوں کا مستقبل سنواریں ،مناسب فیس میں تعلیم دلوائیں
واٹس ایپ رابطہ 03074091623
H.i Quran Teacher Online Academy

03/12/2021
Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Lahore
LAHORE