*علم انکسار چاھتا ھے اور خیرخواہی سکھاتا ہے*
ہارون بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل ایک بار رات کے وقت میرے پاس آئے،دروازہ کھٹکھٹایا۔
میں نے پوچھا کون؟
کہنے لگے میں احمد
میں یہ سن کر جلدی سے باہر نکلا
ہم نے ایک دوسرے سےشام بخیر کہا
پھر میں نے پوچھا حضرت!کسی کام سے تشریف آوری ہوئی؟
فرمانے لگے: ہاں!آج تو دن بھر تمہارا خیال آتا رہا۔
میں نے استفسار کیا کہ اسکی کیا وجہ رہی؟
فرمایا: آج تمہاری مجلس سے میرا گزر ہوا تو تم چھاؤں میں بیٹھے لوگوں کو پڑھارہے تھے۔
اور لوگ دھوپ میں قلم اور رجسٹر لیے بیٹھے ہوئے تھے۔
دیکھو! دوبارہ کبھی یوں مت کرنا!
جب پڑھانے بیٹھو تو لوگوں کے پاس ہی بیٹھا کرو۔
قال هارون بن عبد الله الجمال:
جاءني أحمد بن حنبل بالليل، فدق علي الباب فقلت : من هذا ؟ فقال : أنا أحمد، فبادرت أن خرجت إليه، فمساني ومسيته، قلت: حاجة يا أبا عبد الله؟ قال : نعم، شغلت اليوم قلبي !
قلت : بماذا يا أبا عبدالله ؟
قال : جزتُ عليك اليوم وأنت قاعد تحدث الناس في الفيء ، والناس في الشمس بأيديهم الأقلام والدفاتر، لا تفعل مرة أخرى، إذا قعدت فاقعد مع الناس " .
(الجامع لأخلاق الراوي وآدب السامع للخطيب البغدادي)
Muhammad Waqas sarwar
This page is about information of Islam
زندگی یوں ہوئی بسر تنہا
قافلہ ساتھ اور سفر تنہا
مجھے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے 2012 سے اب تک تقریبا 12 سال ہو گئے ہیں میں نے اتنی سخت پوسٹ کبھی نہیں کی آپ حضرات کے علم میں ہے کہ برسات کا موسم چل رہا ہے لوگ ڈیڑھ لاکھ سے لے کر پانچ پانچ لاکھ کی بائیک لے لیتے ہیں لیکن ایسے بے وقوف ہیں مجال ہے کہ اس کی دمچی بھی لگوا دیں اور پچھلے جو آنے والا بائیک والا ہوتا ہے یا کوئی بھی بیچارا رہ گزر اس کے سارے کپڑوں کا ستیا ناس کر دیتے ہیں آپ سب سے یہ ایک ضروری گزارش ہے کہ کم از کم 30 روپے والی دمجی ضرور لگوائیں
جزاکم اللہ
مرد دودھ پلائی بھی دے مرد جوتا چھپائی بھی دے مرد حق مہر بھی دے مرد منہ دکھائی بھی دے مرد جیب خرچ بھی دے مرد نان نفقہ بھی دے مرد آپ کے زیور کی زکوٰۃ بھی دے مرد آپ کے بہن بھائیوں کے بچوں کو عیدیاں بھی دے مرد آپ کے پورے میکے کا خیال اس طرح رکھے جیسے فرض عبادت ہو مرد آپ کو ہر موقع پر مہنگے کپڑے مہنگے جوتے بھی لے کر دے اور مرد کی جیب سے آپ چھپ چھپ کر پیسے بھی نکالتی جائیں مرد کو شادی کرنے کے لئے برسرِروزگار ہونا بھی لازم ہے مرد کا اپنا گھر ہونا بھی لازمی ہے مرد کی تنخواہ بھی آپ کو ایک لاکھ چاہئیے ان سب کے باوجود بھی جب آپ سڑا سا منہ بناکر کہہ دیں کہ ساس سسر کی خدمت کرنا عورت پر فرض نہیں ہے...
بھئی واااہ حد ہے دوغلے پن کی..
سارے فرائض بس مردوں کے ذمہ میں ہیں اور سارے حقوق عورتوں کے لئے ہیں.!!!
جب تک دونوں طرف کی غلط رسومات ختم نہیں ہوجاتیں تب تک اسی طرح ہوتا رہے گا نکاح مشکل اور زنا آسان ہوگا لہٰذا ان غلط رسومات کو ختم کیجیے اور نکاح کو آسان بنائیے...!!!👍
میں کسی جنم کی یادوں پہ پڑا پردہ ہوں
کوئی اک لمحے کو اک دم سے اٹھاتا ہے مجھے
32
طلاقیں کیوں ہوتی ہیں.
آپ کمال ملاحظہ کریں گجرانوالہ میں ماسٹرز کی طالبہ نے وین ڈرائیور کے ” چکر ” میں اپنے پڑھے لکھے ، محبت کرنے والے شوہر سے طلاق لے لی ۔
یہ میرے نہیں سیشن کورٹ گجرانوالہ کے الفاظ ہیں ۔
آپ حیران ہونگے صرف گجرانوالہ شہر میں 2005 سے 2008 تک طلاق کے 75000 مقدمات درج ہوئے ہیں ۔ ایک نیوز رپورٹ کے مطابق محض 10 مہینوں میں 12913 خلع کے مقدمات تھے ۔ صرف ستمبر کے مہینے میں گجرانوالہ شہر میں 2385 خلع کے مقدمات آئے ۔
آپ ہماری جینے مرنے کی قسمیں کھانے والی نسل کی سچی محبت کا اندازہ اس بات سے کریں کہ 2017 میں 5000 خلع کے کیسسز آئے جن میں سے 3000 ” لو میرجز ” تھیں ۔
پاکستان کے دوسرے بڑے اور پڑھے لکھے شہر میں روزانہ اوسط 150 طلاقیں رجسٹرڈ ہوتی ہیں ۔
یہ تو دیگ کا صرف ایک دانہ ہے ۔
عرب ممالک میں طلاق و خلع کا اوسط تو کئی یورپی ممالک سے بھی گیا گذرا ہے ۔
اس سے انکار نہیں ہے کہ ان میں سے بہت سارے واقعات میں عام طور پر سسرال والوں کا لڑکی سے رویہ اور شوہر کا بیوی کو کوئی حیثیت نہ دینا بھی اصل وجوہات ہیں لیکن آپ کسی بھی دارالافتاء چلے جائیں ہفتے کی بنیاد پر سینکڑوں خطوط ہیں جو خواتین نہیں مرد حضرات لکھتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ہماری بیوی کو کسی اور کے ساتھ ” محبت ” ہوگئی ہے ۔ وہ مجھ سے طلاق مانگ رہی ہے ۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے یا بچہ بھی ہے ۔ بتائیں کیا کروں
نبی مہربانﷺ نے فرمایا ” اللہ تعالی کو جائز کاموں میں سب سے زیادہ نا پسندیدہ طلاق ہے “۔
ایک عالم دین نے کیا خوب فرمایا تھا ” یہ قوم اسلام پر مرنے کے لئیے تیار ہے لیکن اسلام پر جینے کے لئیے تیار نہیں ہے “۔
آپ قرآن کا مطالعہ کریں سورۃ البقرہ سے لے کر والناس تک چلے جائیں ۔ آپ کو نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ میں سے کسی ایک فرض کی تفصیلات نہیں ملینگی ۔ آپ کو یہ تک نظر نہیں آئیگا کہ نماز کا طریقہ کیا ہے ؟ آپ کو ان عبادات کی تسبیحات تک نہیں پتہ چل پائینگی ۔
لیکن نکاح ، طلاق ، خلع ، شادی ، ازدواجی معاملات ، میاں بیوی کے تعلقات ، گھریلو ناچاقی ، کم یا زیادہ اختلاف کی صورت میں کرنے کے کام ۔آپ کو سارا کچھ اللہ تعالی کی اس مقدس ترین کتاب میں مل جائیگا جس کو ہم اور آپ” چوم چوم ” کر رکھتے ہیں ۔
آپ مان لیں کہ ہمارے معاشرے میں طلاق اور خلع کی سب سے بڑی وجہ عدم برداشت ہے ۔
یاد رکھیں اچھا اور صحت مند گھرانہ کسی اچھے مرد سے نہیں بنتا بلکہ ایک اچھی عورت کی وجہ سے بنتا ہے۔
” جب دین گھر کے مرد میں آتا ہے تو گویا گھر کی دہلیز تک آتا ہے لیکن اگر گھر کی عورت میں دین آتا ہے تو اس کی سات نسلوں تک دین جاتا ہے “۔
قربانی، ایثار ، احسان، درگذر ، معافی، محبت اور عزت یہ اسلام اور قرآن کی ڈکشنری میں آتے ہیں ۔
خواتین کی نہ ختم ہونے والی خواہشات نے بھی معاشرے کو جہنم میں تبدیل کیا ہے ۔
الیکٹرانک میڈیا نے گوٹھ گاؤں اور کچی بستیوں میں رہنے والی لڑکیوں تک کے دل میں ” شاہ رخ خان “جیسا آئیڈیل پیدا کر دیا ہے ۔
محبت کی شادیاں عام طور پر چند ” ڈیٹس ” ، کچھ فلموں اور تھوڑے بہت تحفے تحائف کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ لڑکیاں اور لڑکے سمجھتے ہیں کہ ہماری باقی زندگی بھی ویسے ہی گذرے گی جیسا فلموں میں دکھاتے ہیں ، لیکن فلموں میں کبھی شادی کے بعد کی کہانی دکھائی ہی نہیں جاتی ہے ۔ اس سے فلم فلاپ ہونے کا ڈر ہوتا ہے ۔
گھریلو زندگی کی تباہی میں سب سے بڑا عنصر ناشکری بھی ہے ۔ کم ہو یا زیادہ ، ملے یا نہ ملے یا کبھی کم ملے پھر بھی ہر حال میں اپنے شوہر کی شکر گزار رہیں ۔
سب سے بڑی تباہی اس واٹس ایپ اور فیس بک سوشل میڈیا نے مچائی ہے ۔
پہلے لڑکیاں غصے میں ہوتی تھیں یا ناراض ہوتی تھیں تو ان کے پاس اماں ابا اور دیگر لوگوں تک رسائی کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا تھا ۔شوہر شام میں گھر آتا ،بیوی کا ہاتھ تھام کر محبت کے چار جملے بولتا ، کبھی آئسکریم کھلانے لے جاتا اور کبھی ٹہلنے کے بہانے کچھ دیر کا ساتھ مل جاتا اور اس طرح دن بھر کا غصہ اور شکایات رفع ہوجایا کرتی تھیں ۔
لیکن ابھی ادھر غصہ آیا نہیں اور ادھر واٹس ایپ پر سارے گھر والوں تک پہنچا نہیں ۔
یہاں میڈم صاحبہ کا ” موڈ آف ” ہوا اور ادھر فیس بک پر اسٹیٹس اپ لوڈ ہو گیا ۔ اور اس کے بعد یہ سوشل میڈیا کا جادو وہ وہ گل کھلاتا ہے کہ پورے کا پورا خاندان تباہ و برباد ہوجاتا ہے یا نتیجہ خود کشیوں کی صورت میں نکلتا ہے ۔
مائیں لڑکیوں کو سمجھائیں کہ خدارا ! اپنے شوہر کا مقابلہ اپنے باپوں سے نہ کریں ۔ ہوسکتا ہے آپکا شوہر آپ کو وہ سب نہ دے سکے جو آپ کو باپ کے گھر میں میسر تھا ۔
لیکن یاد رکھیں آپ کے والد کی زندگی کے پچاس ، ساٹھ سال اس دشت کی سیاحی میں گذر چکے ہیں اور آپ کے شوہر نے ابھی اس دشت میں قدم رکھا ہے ۔ آپ کو سب ملے گا اور انشاء اللہ اپنی ماں سے زیادہ بہتر ملے گا اگر نہ بھی ملے تو بھی شکر گذاری کی عادت ڈالیں سکون اور اطمینان ضرور ملے گا ۔
بیویاں شوہروں کی اور شوہر بیویوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر تعریف کرنا اور درگذر کرنا سیکھیں ۔
زندگی میں معافی کو عادت بنالیں ۔
خدا کے لئیے باہر والوں سے زیادہ اپنے شوہر کے لئیے تیار ہونے اور رہنے کی عادت ڈالیں ۔ساری دنیا کو دکھانے کے لئیے تو خوب ” میک اپ” لیکن شوہر کے لئیے ” سر جھاڑ منہ پھاڑ ” ایسا نہ کریں ۔
خدا کو بھی محبت کے اظہار کے لئیے پانچ دفعہ آپ کی توجہ درکار ہے ۔ ہم تو پھر انسان ہیں جتنی دفعہ ممکن ہو محبت کا اظہار کریں کبھی تحفے تحائف دے کر بھی کیا کریں۔ قیامت کے دن میزان میں پہلی چیز جو تولی جائیگی وہ شوہر سے بیوی کا اور بیوی سے شوہر کا سلوک ہوگا ۔
یاد رکھیں
مرد کی گھر میں وہی حیثیت ہے جو سربراہ حکومت کی ریاست میں ہوتی ہے ۔ اگر آپ ریاست کی بہتری کی بجائے ہر وقت سربراہ سے بغاوت پر آمادہ رہینگی تو ریاست کا قائم رہنا مشکل ہوجائیگا ۔ جس کو اللہ نے جو عزت اور مقام دیا ہے اس کو وہی عزت اور مقام دینا سیکھیں چاہے آپ مرد ہیں یا عورت ۔
ایک مثالی گھر ایک مثالی خاندان تشکیل دیتا ہے اور ایک مثالی خاندان سے ایک صحتمند معاشرہ وجود میں آتا ہے اور یہیں اسلام کی منشاء ہے ۔🌷.
منقول
13/12/2023
میرے اپنے بھی کیا کمال کے ہیںَ
منتظر میرے زوال کے ہیں
ہم اپنے غموں سے زیادہ دوسروں کی خوشیوں کی وجہ سے پریشان ہیں
کچھ لوگ کہنے لگ جاتے ہیں کہ ائمہ یا مولوی معاوضہ کیوں لیتے ہیں نماز قرآن پڑھانے کا یہ تو عبادت ہے
جواب
کیا علاج معالجہ کرنا عبادت نہیں ۔۔ پھر ڈاکٹر کیوں فیس لیتے ہیں
کیا مسجد تعمیر کرنا عبادت نہیں
پھر مستری مزدوری کیوں لیتے ہیں
کیا تعلیم وتعلم عبادت نہیں
اگر ہے یقینا ہے تو پھر معلم مدرس ٹیچر اساتذہ کیوں تنخواہ لیتے ہیں ؟
یہ سب اپنے پابند ہونے کااور وقت خرچ کرنے کا مشاہرہ لیتے ہیں اسی طرح مولوی حضرات صرف ایک مسجد میں اپنے آپکو پابند کرکے مقررہ وقت پر عبادت کی ادائیگی کافریضہ سرانجام دیتے ہیں لوگوں کی سہولت کے لیے ورنہ تو وہ بھی کسی بھی مسجد میں عبادت کرسکتے ہیں نیز کبھی دیر سویر سے عبادت بھی کرسکتے ہیں مگر لوگوں کی سہولت کے لیے عین مقررہ وقت پر پڑھاتے ہیں
شادی ودیگر مجالس میں تاخیر عوام کی طرف سے ہوتی رہتی ہے مگر نماز کا طئے شدہ وقت ہوتے ہی نمازی گھڑیوں کو اور امام کو گھورنا شروع ہوجاتے ہیں
چوبیس گھنٹے کی پابندی اور معاوضہ چندہزار باتیں بہت
عجیب ہے
12/09/2023
ہم آپ کو ایک پل بھی نہیں بھول پاتے آپ ہمارے آس پاس ہی تو ہوتے ہیں ۔
آپ کی آواز ابھی بھی گھر میں گونجتی ہے ۔
ابھی بھی اپ ہی تو ہیں جن کی تصویردیکھ کر دل کا سارا غبار پانی بن کر ہوا ہو جاتا ہے ۔
لیکن۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب بھی یہ مہینہ آتا ہے ہر طرف اداسی چھا جاتی ہے ایسا لگتا ہے کہ ستم گر(ستمبر) نے دوبارہ ستم کیا ہے اور آپ ہم سے دور چلے گئے ہیں😭
جی ہاں
وہ اسی ستم گر کی 29تاریخ ہی تو تھی جب ہمیں احساس ہوا تھا کہ ہمارے سر پر جو آسمان تھا وہ پھٹ چکا ہےاور ہم بھری دنیا میں تنہا ہو چکے ہیں
الله تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے
یہ جدائی عارضی ہے ان شاءاللہ جلد ہی جنت میں ملیں گے
مسلمان کی حرمت دوسرے مسلمان کے لئے اسی طرح ہے جیسے آج کے دن کی ہے ایک مسلمان کے لئے دوسرے کی غیبت کرتے ہوئے گوشت کھانا حرام ہے اس کی عزت پامال کرنا حرام ہے اس کے چہرے پر مارنا حرام ہے اس کا خون بہانا حرام ہے ظلم کرتے ہوئے اس کا مال لینا حرام ہے اس کو اذیت دینا حرام ہے اس کو دھکارتک دینا حرام ہے۔مسندالشامین443/2
کیا میں تمہیں نا بتاؤ کہ مؤمن کون ہے ؟جس سے لوگ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کو محفوظ سمجھیں اور مسلمان وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ کے شر سے لوگ بچے رہیں اور مجاہد وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرے اور مہاجر وہ ہے جو گناہوں اور غلطیوں کو چھوڈ دے مسند احمد 381/39
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
54792