Abdul Qadeer

Abdul Qadeer

Share

Peace and love for humanity

04/03/2026

کِیا گیا ہے غلامی میں مبتلا تجھ کو
کہ تجھ سے ہو نہ سکی فقر کی نگہبانی
مثالِ ماہ چمکتا تھا جس کا داغِ سجود
خرید لی ہے فرنگی نے وہ مسلمانی
ہوا حریفِ مہ و آفتاب تُو جس سے
رہی نہ تیرے ستاروں میں وہ دُرخشانی

04/03/2026
03/03/2026

دیر آئید درست آئید ۔۔۔۔امت کی بقاء اتحاد میں ہے

01/03/2026

اقوام مشرق

نظر آتے نہیں بے پردہ حقائق اُن کو
آنکھ جن کی ہوئی محکومی و تقلید سے کور
زندہ کر سکتی ہے ایران و عرب کو کیونکر
یہ فرنگی مَدنیّت کہ جو ہے خود لبِ گور!

(اقبال)

#اقبال




#خودی
#بیداری

#ایران
#عرب

#نوجوان



01/03/2026

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

می شناسی معنی کرار چیست؟
این مقامی از مقامات علی است
امتان را در جہان بی ثبات
نیست ممکن جز بکراری حیات

علامہ اقبال

کیا تو سمجھتا ہے کہ کرار کے معنی کیا ہیںِ؟ یہ حضرت علی کے مقامات میں سے ایک مرتبہ ہے۔
اس ناپائیدار اور بدلتی ہوئی دنیا میں کراری کے بغیر زندہ رہنا ممکن نہیں۔

27/02/2026

’’اے اللہ! ہماری حدود کی حفاظت فرما اور ہماری اَفواج کی مدد فرما۔‘‘

08/12/2025

ڈاکٹر وردہ: معاشرتی انحطاط اور اخلاقی زوال کا شکار
تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبدالقدیر

ہر صبح جب ہم اخبارات اور سوشل میڈیا کی اسکرینیں کھولتے ہیں تو دل میں امید ہوتی ہے کہ شاید آج کوئی ایسی خبر نہ پڑھیں جس سے دل بیٹھ جائے۔ مگر کسی نہ کسی کونے سے ایک اور داستانِ غم نکل آتی ہے جو یہ یاد دلاتی ہے کہ ہمارے معاشرے کے اندھیرے کتنے گہرے ہو چکے ہیں۔ ایبٹ آباد کے بینظیر بھٹو ٹیچنگ ہسپتال کی ڈاکٹر وردہ کی خبر بھی ایسی ہی خبر تھی جس نے اہلِ دل کے دل کو دہلا کر رکھ دیا۔

ڈاکٹر وردہ ایک باوقار پروفیشنل تھیں، دو ننھے بچوں کی ماں اور سینکڑوں مریضوں کیلئے مسیحا۔ انہوں نے دیارِ غیر جانے سے پہلے اپنی سب سے قریبی سہیلی پر اعتماد کرتے ہوئے تقریباً 67 تولے سونا اور نقدی اس کے پاس بطور امانت رکھوایا تھا۔ بیرون ملک سے واپس آتے ہی وہ یہی امانت واپس لینے ہسپتال سے سہیلی کے ساتھ گاڑی میں روانہ ہوئیں۔ وہ منظر سی سی ٹی وی کیمرے میں محفوظ ہو گیا مگر ان کے گھر والوں کیلئے وہ آخری لمحہ تھا جب انہوں نے انہیں ہنستا ہوا دیکھا۔ چند روز بعد ان کی لاش ٹھنڈیانی کے جنگل سے ملی۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق اہل خانہ نے الزام لگایا کہ سہیلی نے سونا واپس دینے کے بہانے ڈاکٹر وردہ کو اغوا کیا۔ پولیس رپورٹ میں بتایا گیا کہ انہیں جدون پلازہ لے جا کر ایک ٹھیکیدار کے حوالے کیا گیا، جہاں سے آگے شمریز نامی شخص اور اس کے ساتھیوں نے انہیں ایک سوزوکی گاڑی میں کسی نامعلوم مقام پر لے جا کر بے دردی سے قتل کر کے لاش جنگل میں پھینک دی۔ یہ اطلاع پڑھ کر صرف ان کے خاندان پر ہی نہیں بلکہ ہر حساس دل پر قیامت بیت گئی۔

یہ صرف ایک قتل نہیں، یہ ہماری اخلاقی گراوٹ کی علامت ہے۔ پیسہ اور زیورات کی حرص نے ایک انسان کو حیوان بنا دیا۔ جس سہیلی کے گھر کی چوکھٹ پر ڈاکٹر وردہ نے اپنی محنت و محبت کی کمائی رکھوائی تھی، اسی نے ان کی جان لینے کا سبب بننے والوں سے ہاتھ ملایا۔ ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ایسی حرص اور لالچ صرف کسی ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک وبا کی طرح پھیل چکی ہے۔ دولت کی ہوس، رشتوں میں بے اعتمادی، اور قانون کا خوف نہ ہونا ایسے واقعات کو جنم دیتا ہے۔

یہ واقعہ پورے معاشرے کو بہت سے سوالات کے جوابات مانگنے پر مجبور کرتا ہے اور ساتھ ہی ہمیں ایسے فوری اقدامات لینے کی طرف رہنمائی فراہم کرتا ہے جو ہماری سماجی ذمہ داریوں اور انسانی اقدار کو دوبارہ زندہ کر سکیں۔

سب سے پہلے جو ہمارے ذہن میں سوال اٹھتا ہے وہ یہ ہے کہ انصاف کا نفاذ کس حد تک ضروری ہے؟ معاشرے میں ایسے جرائم کا سدباب تب تک ممکن نہیں جب تک ملزمان کو فوری اور سخت سزائیں نہ دی جائیں۔ اس سے نہ صرف مجرموں کو سبق ملے گا بلکہ معاشرے کے دیگر افراد بھی یہ جان لیں گے کہ کسی کی جان و مال کے ساتھ کھیلنے والے کا کوئی مستقبل نہیں۔ پولیس اور عدالتوں کو فیصلہ سازی میں تیزی لانے کی ضرورت ہے تاکہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر نہ ہو۔

دوسرا سب سے اہم مسئلہ اخلاقی تربیت کی کمی کا ہے۔۔۔ گھروں، سکولوں اور دینی اداروں میں نئی نسل کو حرص اور لالچ کی تباہ کاریوں سے آگاہ کیا جانا ضروری ہے۔ ہمیں یہ سمجھانا ہوگا کہ صرف اعلیٰ تعلیم یا ڈگریاں ہی کافی نہیں، بلکہ انسانیت اور خوفِ خدا کا شعور بھی اہم ہے تاکہ وہ معاشرے میں ذمہ داری سے زندگی گزاریں اور ذاتی مفادات کی خاطر دوسروں کی زندگیوں سے نہ کھیلیں۔

مالی معاملات میں شفافیت ہمارے معاشرے کا اہم ترین مسئلہ بن چکا ہے ہم میں سے اکثر اپنی قیمتی چیزیں اور پیسہ دوستوں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں، جو ہمارے لیے ایک نقصان دہ عمل ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کی بجائے، ہمیں یہ رواج پیدا کرنا چاہیے کہ ایسی قیمتی چیزوں کو بینکوں میں محفوظ رکھا جائے تاکہ کسی کی لالچ کے سبب پورا خاندان تباہ نہ ہو۔

اگر کوئی قریبی شخص اپنی دولت یا کسی بڑے منصوبے میں اچانک تیزی دکھائے تو ہمیں سماجی نگرانی کرنی چاہیے اور اس کے ذرائع آمدن کو جاننے کے لیے معاشرتی طور پر سوالات اٹھانے چاہئیں کہ کہیں اس کی آمدن کا ذریعہ ہماری نسلوں کی تباہی کا سبب تو نہیں بن رہا؟ پڑوسیوں اور رشتہ داروں کو مشکوک سرگرمیوں کے بارے میں فوراً پولیس کو آگاہ کرنا چاہیے تاکہ کسی بھی ممکنہ بدعنوانی کا خاتمہ کیا جا سکے۔

سب سے اہم بات یہ کہ مظلوم خاندان کی فوری مدد کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر وردہ کے بچے اب اس معاشرتی ظلم کا شکار ہیں، اور ان کی زندگی کا مستقبل معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کو ان کی تعلیم، ذہنی سکون، اور بہتر مستقبل کے لیے فوری اقدامات لینے چاہییں تاکہ وہ اس دکھ اور صدمے کو سہہ کر اپنی زندگی کا آغاز کر سکیں۔

یہ افسوسناک واقعہ ہمیں اس بات بھی کا شعور دلاتا ہے کہ ہمیں اپنے معاشرتی، اخلاقی، اور مالی معاملات میں بہتر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم ایسے جرائم سے بچ سکیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ڈاکٹر وردہ کی مغفرت فرمائے، ان کے لواحقین کو صبر عطا کرے، اور ہمیں ایسے واقعات کے سدباب کے لیے عملی اقدامات کرنے کی توفیق دے۔

#ڈاکٹروردہ

Photos from Abdul Qadeer's post 16/11/2025

Alhamdulillah!
Feeling truly humbled and grateful to Allah Almighty for this honour.

A heartfelt thank you to the Beaconhouse Defence Ring Road Campus management for acknowledging my efforts and presenting me with the Excellence in Teaching award. This recognition means a great deal to me and motivates me to continue giving my best.

I am especially proud of my wonderful students, whose hard work and brilliant performance made this achievement possible. Your success is my true reward.

Photos from Abdul Qadeer's post 09/11/2025

الحمد للّٰہ علیٰ کل حال! ❤️❤️

میری سالگرہ کے موقع پر جس طرح محبت، دعاؤں اور خلوص کے پیغامات ہر سمت سے موصول ہوئے، دل ان سب کا تہہِ دل سے شکر گزار ہے۔
وٹس ایپ، فیس بک اور دیگر ذرائع پر موصول ہونے والی بے شمار مبارکبادیں، نیک تمنائیں اور قیمتی دعائیں میرے لیے باعثِ مسرت اور حوصلہ افزائی کا باعث بنیں۔

میں اپنے فیملی ممبرز، تحریکی احباب، درس و تدریس سے منسلک معزز رفقاء، طلباء و طالبات—سب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ سب نے اپنے خلوص اور محبت سے اس دن کو یادگار بنا دیا۔

آپ سب کی محبتیں، دعائیں اور نیک جذبات میرے لیے قیمتی سرمایہ ہیں۔

اللہ تعالیٰ آپ سب کو دین و دنیا کی بھلائیاں، صحت، عزت اور کامیابیاں عطا فرمائے،
اور ہم سب کو محبت، خیر خواہی اور خدمتِ انسانیت کے جذبے کے ساتھ ہمیشہ جوڑے رکھے۔۔

Photos from Abdul Qadeer's post 09/11/2025

My Sweet Daughter, 💖
Your card truly touched my heart. Every word you wrote is filled with love, care, and sincerity — it means more to me than any gift ever could. I feel truly blessed to have such a thoughtful and loving daughter in my life.
Thank you for making my day so special and for being the reason behind so many of my smiles.
May Allah bless you with endless happiness, success, and a bright future.
Love you always, my dear! 💐

Want your school to be the top-listed School/college in Abbottabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Abbottabad