Prof. Abdul Aziz

Prof. Abdul Aziz

Share

I am Lecturer blogger sharing information about my practices and classroom activities with other stu

Parents Can Contact For Best Tutoring Services for thier Children.

30/09/2024
26/09/2024

Improve your Skills with FREE Courses offered by the Professional Development Center VUP, in collaboration with ITU-DTC!

This outstanding opportunity is open to all aspiring learners who wish to enhance their skillset. To enroll, simply click on the following link: https://www.vu.edu.pk/netacad/

If you have any inquiries or require further assistance, please feel free to contact us via email at [email protected] or give us a call at 042-111-880-880 Ext. 6621.

26/09/2024

48 websites to hunt PhD and Postdocs Scholarship world wide.

بشکریہ: مس مناحل نوشین 🍁
👇

Photos from Prof. Abdul Aziz's post 24/03/2024

📢 Job Opportunity Alert! 📢

🔍 Are you looking for a fulfilling career opportunity? The Directorate General of Immigration and Passport is hiring!

📅 Hurry up! The last date to apply is April 8, 2024.

Don't miss out on this chance to join a dynamic team and contribute to a vital government department. Apply now and take the first step towards an exciting career path!

24/03/2024

🌟 Exciting Opportunity for Female Computer Teachers! 🌟

👩‍💻 Federal Directorate of Education, Islamabad is hiring 202 Senior Computer Teachers (Female Only)!

📅 Don't miss out! The deadline to apply is April 8, 2024.

If you're passionate about education and technology, this is your chance to make a difference. Apply now and be part of shaping the future of education in Islamabad!

24/03/2024

*⛔Admissions Date Reminder*

1️⃣
پنجاب یونیورسٹی لاہور BA/BSC/ADP پروگرام 2024 سالانہ امتحانات کا داخلہ آپ 03 اپریل تک سنگل فیس سے کرواسکتے ہیں مزید توسیع کا امکان نہیں
2️⃣
سرگودھا یونیورسٹی BA/BSC/ADP پروگرام کا داخلہ آپ 28 مارچ تک سنگل فیس سے کرواسکتے ہیں
3️⃣
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی BS/B.ED/BA/B.COM پروگرام نیو اور جاری اسٹوڈینٹس اپنا داخلہ 15 اپریل تک کرواسکتے ہیں
4️⃣
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے جاری اسٹوڈینٹس اپنا داخلہ 04 اپریل تک کرواسکتے ہیں

02/06/2023

ذرا ہٹ کے / یاسر پیرزادہ
انقلاب اور بغاوت کے درمیان لکیر

انقلاب دو طرح کا ہوتا ہے ، ایک وہ جو کامیاب ہوجائے اور دوسرا وہ جو ناکام ہو جائے ۔ناکام ہونے والا انقلاب دراصل انقلاب نہیں ہوتا بلکہ وہ بغاوت کہلاتا ہے ۔ کامیاب انقلاب کے بعد بادشاہوں اور حکمرانوں کو عموماًاُن کے ساتھیوں سمیت محلات سے باہر گھسیٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے جبکہ ناکام انقلاب میں یہی سلوک باغیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔روس میں بالشوک انقلاب کے بعد حکمران نکولس دوئم کو اُس کے خاندان کی عورتوں کے ساتھ گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا ، کہا جاتاہے کہ شاہی خاندان کی اِن عورتوں نے اِس قدر بھاری بھرکم اور بیش قیمت زیورات پہنے ہوئے تھے کہ پہلے ہلے میں بندوق کی گولی اُن پر اثر نہ کرسکی سو انہیں تیز دھار خنجر سے مار کر ہلاک کرنا پڑا۔ اسی طرح فرانس میں انقلابیوں نے پیرس میں واقع قلعے پر حملہ کرکے اُس پر قبضہ کرلیا ، یہ قلعہ چونکہ بادشاہ کی فوجی طاقت کا مرکز تھا اِس لیے اِس حملے کو انقلاب فرانس کا نقطہ عروج سمجھا جاتا ہے ۔ انقلاب فرانس میں کئی نشیب و فراز آئے لیکن بالآخر شہنشاہ فرانس لوئی کو انقلابیوں نے موت کی سزا سنائی اور اُس کا سر گلوٹین میں دےکر کاٹ دیا، تاریخ کا ستم دیکھیں،یہ کام اسی جلاد نے انجام دیا جو اِس سے پہلے شہنشاہ کا جلاد تھا۔ایرانی انقلاب کے نتیجے میں شاہِ ایران رضا پہلوی ملک سے فرار ہونےمیں کامیاب ہو گیا تھااِس لیے اُس کی جان بچ گئی ورنہ اُس کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوتا جو بادشاہوں کے ساتھ کیا جاتا ہے، البتہ رومانیہ میں نکولائی چاؤشسکو کوشش کے باوجودبھاگنے میں ناکام رہا، انقلابیوں نے اُسے بیوی کے ساتھ باندھ کر فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کرکے گولیوں سے بھُون دیا۔ انقلابیوں میں ایک بات مشترک ہوتی ہے کہ یہ لوگ لمبا چوڑا مقدمہ چلانےکا تکلف نہیں کرتے بلکہ وہیں موقع پر چھوٹی سے عدالت لگا کر سرسری سماعت کے بعد موت کا حکم سنا دیتے ہیں جس پر چند منٹ میں ہی عمل کر دیا جاتا ہے ۔ایک مثال ناکام انقلاب کی بھی پیش کردیتا ہوں۔2016 میں ترک فوج کے ایک دھڑے نے طیب اردگان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی، یہ کوشش تقریباً کامیاب ہونے والی تھی کہ اردگان نے اپنے موبائل فون پر عوام کو پیغام دیا کہ وہ اِس کوشش کو ناکام بنا دیں ، اردگان کی قسمت اچھی تھی کہ ترک عوام سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے باغی فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کردیا۔ انقلاب کی اِس ناکام کوشش کے بعد طیب اردگان نے اِن باغیوں اور اُن کے حمایتیوں کا وہ حشر کیاکہ انہیں چھٹی کا دودھ یاد آگیا ، جس شخص کے بارے میں ذرا سا بھی شبہ تھا کہ وہ اِس سازش میں ملوث تھا ، اسے پکڑ کر بند کر دیا گیا،اِن گرفتاریوں کی وجہ سے ترک حکومت پر خاصی تنقید بھی ہوئی ، بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حکومت کی تنظیموں نے خوب واویلا کیا مگر ترک حکومت نے پروا نہیں کی۔

اب ایک منٹ کے لیے فرض کریں کہ بالشوک انقلاب اور انقلاب فرانس ،ایران اور رومانیہ ناکام ہوجاتے تو پھر کیا ہوتا؟ اُس صورت میں نکولس دوئم، شہنشاہ لوئی ، رضا شاہ پہلوی اور چاؤ شسکو نے انقلابیوں کے ساتھ وہی سلوک کرنا تھا جو ریاست کے باغیوں کے ساتھ کیا جاتا ہےکیونکہ ناکام انقلاب کے بعد یہ لوگ باغی قرار پاتے اور بغاوت کی سزا موت ہے۔اسی طرح اگر طیب اردگان کے خلاف فوجی بغاوت کامیاب ہوجاتی تو وہ انقلاب کہلاتی اور پھر اردگان کے ساتھ وہی سلوک ہوتا جو اردگان نے باغیوں کے ساتھ کیا تھا۔اِن مثالوں سے فقط یہ بتانا مقصود ہے کہ انقلاب اور بغاوت میں باریک سی لکیر ہوتی ہے ، کامیاب بغاوت ،انقلاب کہلاتی ہے اور ناکام انقلاب ، بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔اپنے ہاں جن لوگوں کو انقلاب کا خمار چڑھا تھا وہ یہی سوچ کر گھروں سے نکلے تھے کہ جب وہ مارچ کریں گے تو پورا ملک اُن کے ساتھ اُمڈ آئے گا، یہ وہ لمحہ ہوتاجب کاروبار زندگی معطل ہوجاتا ،سرکار کا سِکّہ چلنا بند ہوجاتا،زمین ساکن ہوجاتی اورعورتیں بچے جننا بند کر دیتیں ۔ اُس موقع پر انقلابیوں کا دیوتا اپنی پوری آن بان کے ساتھ ظاہر ہوتا ، کوئی اُس کے قہر کا سامنا نہ کرسکتا،وہ جو چاہتا وہی ہوتا،مملکت اُس کی محتاج ہوتی، ریاست اُس کے تابع ہوتی، دیوتاکے مخالفین خس و خاشاک کی طرح بہہ جاتےجبکہ انقلابی ملک کی گلیوں میں ترانے بجاتے جھُومتے پھرتے۔ذرا سوچیں کہ اگرسچ مُچ ایسا انقلاب آ جاتا توکیا ہوتا،اُس صورت میں یہاں گلی کوچوں میں ’عدالتیں ‘لگی ہوتیں جن میں انقلاب کے مخالفین کو بوژوائی قرار دے کر پھانسیوں پر لٹکایا جا رہا ہوتا۔ممکن ہے کچھ لوگ کہیں کہ یہ بات مبالغہ آمیز ہے ، چلیں مبالغہ ہی سہی ،لیکن اگر حقیقت پسندی سے بھی کام لیں تو یہ بات اطمینان سے کہی جا سکتی ہے کہ جو ’زیادتیاں ‘اِس وقت ہورہی ہیں ’ انقلاب کی کامیابی‘ کی صورت میں یہ زیادتیاں کم ازکم دس گنا زیادہ ہونی تھیں۔اِس بیان کی صداقت کو ثابت کرنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ جس قسم کا انقلاب انہوں نے لانا تھا اُس کا تو ماڈل ہی سعودی عرب، چین اور ایران سے متاثر ہوکر بنایا گیا تھا ، اب ایسا انقلاب جو اِن تینوں ممالک کا ملغوبہ تھاکس قدر سفاک ہوتا، یہ اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں ۔

اصل بات یہ ہےکہ انقلاب کو ہم نے بچوں کو کھیل سمجھ لیا ہے ، ہمیں اندازہ ہی نہیں کہ انقلاب میں کیاہوتا، کتنے بے گناہوں کا خون بہتا ہے اور اِس کی کیا قیمت چُکانی پڑتی ہے ۔ جو لوگ دو چار ترانے گا کر سمجھ رہے تھے کہ وہ انقلاب کے لیے جدو جہد کر رہے تھے انہیں اب سمجھ آ گئی ہوگی کہ وہ انقلاب کی الف ب سے بھی واقف نہیں ۔اُن کانہ تو کوئی سیاسی شعور تھا اور نہ ہی تاریخ سے واقفیت ، وہ فقط شخصی عقیدت کے تحت نعرے لگا رہے تھے اور اِس گمان میں تھے کہ اپنے تئیں وہ تاریخ کا رُخ بدل رہے ہیں۔اِن میں سے جو لوگ اشرافیہ سے تعلق رکھتے تھے اُن کا معاملہ تو اور بھی دلچسپ ہے، چونکہ ملک کی خرابیوں کے اصل ذمہ دار وہ خود ہیں اور دل میں وہ یہ بات بخوبی جانتے ہیں ، اِس لیے انقلابی نعرے بازی انہیں ایک گونہ اطمینان دیتی تھی کہ وہ کسی نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں ، یہ نظریہ کس قدر کھوکھلا تھا ، انہوں نے یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی بلکہ اگر کوئی انہیں آئینہ دکھانے کی کوشش کرتا تو وہ برا مان جاتے کیونکہ انہیں آئینے میں اپنا مکرو چہرہ نظر آتا جو وہ نہیں دیکھاچاہتے تھے ۔ اب یہ لوگ دہائی دے رہےہیں کہ اُن کے ساتھ نرمی برتی جائے کیونکہ وہ پڑھے لکھے ہیں ، انگوٹھا چھاپ نہیں ، وہ پیزا کھاتے ہیں کتلمہ نہیں ، وہ جینز پہنتے ہیں دھوتی نہیں ، وہ فیشن ڈیزائننگ کا کام کرتے ہیں کھیتی باڑی نہیں ، وہ انگریزی بولتے ہیں پنجابی نہیں ، انہوں نے فرنچ کٹ رکھی ہے سُچی داڑھی نہیں !

سچی بات ہے کہ میں کسی بھی شخص کو بغیر ثبوت اور بلا جواز ایک سیکنڈ بھی حولات میں رکھنے کے حق میں نہیں ، یہ بنیادی انسانی حقوق اور آئین کی خلاف ورزی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ عام حالات نہیں اور نہ ہی عام جرائم ہیں،جو لوگ انقلاب کے لیے نکلے تھے انہیں علم ہونا چاہیے تھا کہ ناکامی کی صورت میں یہ بغاوت کہلائے گی اور اُس کی معافی نہیں ہوگی،یہ گڈے گڈی کا کھیل نہیں تھااور نہ ہی کسی فیشن ڈیزائنر کا فیشن شو تھا ۔اِن کو شُکر کرنا چاہیےکہ اِن کا تعلق پنجابی ایلیٹ سے ہے، بلوچستان سے نہیں، کم از کم اِن پر عدالت میں مقدمہ تو چلے گا!

(یہ کالم آج 31 مئی 2023 کو Daily Jang میں شائع ہوا)
Geo News Urdu socie

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address

Govt. College Of Science, Wahdat Road Lahore
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 09:00 - 13:30
Tuesday 09:00 - 13:30
Wednesday 09:00 - 13:30
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00