01/04/2022
Aqsa Tariq Islamic scholar, Punjab university Lahore.
This is informative page and welcome to all scholars to join the page and upload their posts and videos related to authentic Islamic knowledge...
01/04/2022
البقاء للہ وحدہ وانا للہ وانا الیہ راجعون
انتہائی افسوس اور غم کے ساتھ اطلاع دی جاتی ھے کہ پروفیسر ڈاکٹر خالق داد ملک ڈین فیکلٹی آف اورینٹل لرننگ کا ابھی کچھ دیر پہلے انتقال ھو گیا ھے ۔ انا لله وانا اليه راجعون.
ان كى نماز جنازه گياره بجے جوگنگ ٹریک میں ادا کی جائے گی اور تدفین ان کے آبائی گاؤں سیال شریف میں کی جائے گی ۔
وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ
لوگوں کو چاہیئے کہ دوسروں کو معاف کردیں اور درگزر کریں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ خدا تم کو بخش دے؟
Surah An Nur 22.
، تفسیر: بیان القرآن، مفسر: ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ*
*سورة البقرة آیت نمبر 8(حصہ دوم، آخری)*
*تفسیر:*
اور واقعہ یہ ہے کہ یہاں جس انداز میں تذکرہ ہو رہا ہے اس سے ان کا کردار بھی جھلک رہا ہے اور روئے سخن بھی ان کی طرف جا رہا ہے۔ مجھے یاد ہے دسویں جماعت کے زمانے میں دہلی میں میں نے جوتوں کی ایک دکان پر دیکھا تھا کہ ایک بہت بڑا جوتا لٹکایا ہوا تھا اور ساتھ لکھا تھا : Free to Whom it Fits. یعنی جس کے پاؤں میں یہ ٹھیک ٹھیک آجائے وہ اسے مفت لے جائے ! تو یہاں بھی ایک کردار کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے۔ اب یہ کردار جس کے اوپر بھی فٹ بیٹھ جائے وہ اس کا مصداق شمار ہوگا۔
جیسا کہ میں نے عرض کیا ‘ زیادہ تر مفسرینّ کی رائے تو یہی ہے کہ یہ منافقین کا تذکرہ ہے۔ لیکن یہ کردار بعینہٖ یہود کے علماء پر بھی منطبق ہو رہا ہے۔ یہاں یہ بات بھی نوٹ کر لیجیے کہ مدینہ منورہ میں نفاق کا پودا ‘ بلکہ صحیح تر الفاظ میں نفاق کا جھاڑ جھنکاڑ جو پروان چڑھا ہے وہ یہودی علماء کے زیراثر پروان چڑھا ہے۔ جیسے جنگل کے اندر بڑے بڑے درخت بھی ہوتے ہیں اور ان کے نیچے جھاڑیاں بھی ہوتی ہیں۔ تو یہ نفاق کا جھاڑ جھنکاڑ دراصل یہودی علماء کا جو بہت بڑا پودا تھا اس کے سائے میں پروان چڑھا ہے اور ان دونوں میں معنوی ربط بھی موجود ہے۔
تفسیر: بیان القرآن، مفسر: ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ*
*سورة البقرة آیت نمبر 9(حصہ اول)*
يُخٰدِعُوۡنَ اللّٰهَ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ۚ وَمَا يَخۡدَعُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ وَمَا يَشۡعُرُوۡنَؕ ۞
*ترجمہ:*
( وہ دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں اللہ کو اور اہل ایمان کو۔ ) اور نہیں دھوکہ دے رہے مگر صرف اپنے آپ کو ۔ اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔
*تفسیر:*
آیت ٩ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاج
یُخٰدِعُوْنَ باب مفاعلہ ہے۔ اس باب کا خاصہ ہے کہ اس میں ایک کشمکش اور کشاکش موجود ہوتی ہے۔ لہٰذا میں نے اس کا ترجمہ کیا : ” وہ دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ “
وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ
یہ بات یقینی ہے کہ اپنے آپ کو تو دھوکہ دے رہے ہیں ‘ لیکن یہ اللہ ‘ اس کے رسول ﷺ کو اور اہل ایمان کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ سورة النساء کی آیت ١٤٢ میں منافقین کے بارے میں یہی بات بڑے واضح انداز میں بایں الفاظ آئی ہے : اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ج ” یقیناً منافقین اللہ کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں ‘ حالانکہ اللہ ہی انہیں دھوکے میں ڈالنے والا ہے۔ “
اگست 2021، تفسیر: بیان القرآن، مفسر: ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ*
*سورة البقرة آیت نمبر 6*
اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا سَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ۞
*ترجمہ:*
یقیناً جن لوگوں نے کفر کیا (یعنی وہ لوگ کہ جو کفر پر اڑ گئے) ان کے لیے برابر ہے (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کہ آپ انہیں انذار فرمائیں یا نہ فرمائیں وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
*تفسیر:*
آیت ٦ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ
” اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا “ سے مراد یہاں وہ لوگ ہیں جو اپنے کفر پر اڑ گئے۔ اس کو ہم تاویل عام میں نہیں لے سکتے۔ اس لیے کہ اس صورت میں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جس شخص نے کسی بھی وقت کفر کیا اب وہ ہدایت پر آہی نہیں سکتا ! یہاں یہ بات مراد نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص کسی مغالطہ کی بنا پر یا عدم توجہی کی بنا پر کفر میں ہے ‘ حق اس پر واضح نہیں ہوا ہے تو انذار وتبشیر سے اسے فائدہ ہوجائے گا۔ آپ اسے وعظ و نصیحت کریں تو وہ اس کا اثر قبول کرے گا۔ لیکن جو لوگ حق کو حق سمجھنے اور پہچاننے کے باوجود محض ضد ‘ ہٹ دھرمی اور تعصبّ کی وجہ سے یا تکبرّ اور حسد کی وجہ سے کفر پر اڑے رہے تو ان کی قسمت میں ہدایت نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کا معاملہ یہ ہے کہ اے نبی ﷺ ! ان کے لیے برابر ہے خواہ آپ ﷺ انہیں سمجھائیں یا نہ سمجھائیں ‘ ڈرائیں یا نہ ڈرائیں ‘ انذار فرمائیں یا نہ فرمائیں ‘ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ اس لیے کہ سوتے کو تو جگایا جاسکتا ہے ‘ جاگتے کو آپ کیسے جگائیں گے ؟ یہ گویا مکہ کے سرداروں کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ ان کے دل اور دماغ گواہی دے چکے ہیں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور قرآن ان پر اتمام حجت کرچکا ہے اور وہ مان چکے ہیں کہ قرآن کا مقابلہ ہم نہیں کرسکتے ‘ یہ محمد ﷺ کا مکمل معجزہ ہے ‘ اس کے باوجود وہ ایمان نہیں لائے۔
*13 اگست 2021، تفسیر: بیان القرآن، مفسر: ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ*
*سورة البقرة آیت نمبر 7*
خَتَمَ اللّٰهُ عَلَىٰ قُلُوۡبِهِمۡ وَعَلٰى سَمۡعِهِمۡؕ وَعَلٰىٓ اَبۡصَارِهِمۡ غِشَاوَةٌ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۞
*ترجمہ:*
اللہ نے مہر کردی ہے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر۔ ) اور ان کی آنکھوں کے سامنے پردہ پڑچکا ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ ؏۔
*تفسیر:*
آیت ٧ خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَعَلٰی سَمْعِھِمْ ط
ایسا کیوں ہوا ؟ ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر ابتدا ہی میں نہیں لگا دی گئی ‘ بلکہ جب انہوں نے حق کو پہچاننے کے بعدردّکر دیا تو اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کردی اور ان کی سماعت پر بھی۔
وَعَلٰی اَبْصَارِھِمْ غِشَاوَۃٌز
یہ مضمون سورة یٰسٓ کے شروع میں بہت شرح و بسط کے ساتھ دوبارہ آئے گا۔
وَّلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ‘
یہ دوسرے گروہ کا تذکرہ ہوگیا۔ ایک رکوع کل سات آیات میں دو گروہوں کا ذکر سمیٹ لیا گیا۔ ایک وہ گروہ جس نے قرآن کریم کی دعوت سے صحیح صحیح استفادہ کیا ‘ ان میں طلب ہدایت کا مادہ موجود تھا ‘ ان کی فطرتیں سلیم تھیں ‘ ان کے سامنے دعوت آئی تو انہوں نے قبول کی اور قرآن کے بتائے ہوئے راستے پر چلے۔ وہ گلستان محمدی ﷺ کے گل سرسبد ہیں۔ وہ شجرۂ قرآنی کے نہایت مبارک اور مقدس پھل ہیں۔ دوسرا گروہ وہ ہے جس نے حق کو پہچان بھی لیا ‘ لیکن اپنے تعصبّ یا ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس کو ردّ کردیا۔ ان کا ذکر بھی بہت اختصار کے ساتھ آگیا۔ ان کا تفصیلی ذکر آپ کو مکی سورتوں میں ملے گا۔ اب آگے تیسرے گروہ کا ذکر آ رہا ہے۔
11/08/2021
Read my first Article published by Alidrak research journal
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
Lahore
54000