CRI Sahfqat

CRI Sahfqat

Share

ہمارے چینل پر روحانی مسائل اور ان کا علاج سچائی کے ساتھ بتایا جاتا ہے ہمارے پیج کو فالو کر لیں

13/09/2024

قرض دار اور کرائے دار آجکل بہت پریشان اور مشکل میں ہیں اللّہ اِن تمام لوگوں کی غیبی مدد فرمائے انکے کیلئے آسانیاں پیدا فرمائے آمین

04/09/2024

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ
تمام دوستوں کو ربیع الاوّل کا چاند مبارک ہو
اللّٰہ پاک ہم سب کو ربیع النور شریف کی برکات نصیب فرما

28/08/2024

✨ناگوارا محبت کو دل سے نکالنے کا ایک مجرب عمل✨

آج کل آئے دن بہت ایسے واقعات درپیش آتے ہیں جو اکثر نوجوانوں میں دیکھنے کو ملتے ہیں جو اس جھوٹی دنیا کی جھوٹی محبت کے جال میں آکر بلآخر پریشانیوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں اور کچھ نفسیاتی مریض بن کر رہ جاتے ہیں کچھ دل برداشتہ ہوکر اپنی جان تک بھی لے لیتے ہیں اور کچھ افراد محبت کے چکروں میں آکر گھریلو معاملات میں الجھنیں پیدا کرتے ہیں ان حالات کو دیکھ کر ایک مجرب المجرب عمل آپ لوگوں کی خدمت میں لائے ہیں۔

📿نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْد📿

اس عمل کو کرنے کو 2 طریقا کار ہیں جو دو الگ الگ مقصد کے لیے ہیں
1_ جب اپنے دل میں کسی کے متعلق جذبات محسوس کریں تو تین دن تک روزانہ 77 بار یہ وظیفہ پڑھیں اور ساتھ حسبِ استطاعت صدقہ دیں۔
اگر وہ سچی محبت ہوئی تو دل میں ٹھہر جائے گی محبت کے نام پر مصیبت ہوئی تو ٹَل جائے گی ۔

2_کسی کو بھولنا چاہتے ہیں مگر بُھلا نہیں پارہے تو مسلسل 9 روزانہ 40 بار پڑھیں ان شاء اللہ اسے بھولنا خود کو یاد رکھنا آسان ہوجائے گا ۔

یاد رکھیں! بے پناہ محبت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کریں دنیا میں یہی وہ باوفا محبت ہے جو غم ناک آہیں اور کرب ناک آنسو نہیں دیتی ۔۔۔۔!!!☆روحانی سکالر:میاں شفقت علی نوری
03029467213

پوسٹ کو ثواب کی نیت سے شیئر کریں۔

28/08/2024

📝تحریر # ثوبان عطاری
کبھی کبھار انسان دوسروں کے لیے وہ کام کر جاتا ہے جو اپنے لیے بھی نہیں کیا ہوتا ۔ والدین اس کی بہترین مثال ہیں۔ بعض لوگ بہت سخی ہوتے ہیں،خود پیوند لگا کپڑا پہن کر دوسروں کو ریشم خرید کہ دیتے ہیں۔ اپنی ہر ذمہ داری کو بہترین انداز سے نبھاتے ہیں ۔ یہ مصیبتوں کی آگ سے باہر آ کر بھاگ نہیں جاتے بلکہ دوسروں کو بھی وہاں سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دنیا میں مشکل ترین کام کسی کی تکلیف کو سننا اور بغیر غرض کہ، اس انداز سے مدد کرنا کہ سامنے والا ذلیل نہ ہو ۔ اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب عمل ،خالص اللہ کی رضا کے لیے ہو گا۔ ایسے لوگ قبر میں جانے کے بعد بھی کتابوں اور دل میں زندہ رہتے ہیں۔قریبی رشتہ داروں کی معاشی حالت کا پتا ہوتا ہے ۔ ان کی سب سے پہلے مدد کرنی چاہیئے ۔ یاد رہے صرف پیسہ ہی نہیں، بلکہ مسکراہٹ ، توجہ سے بات سننا ،اچھا مشورہ دینا ، حسن اخلاق سے برتاو ، یہ سب مدد کی صورتیں ہیں۔ جو کبھی کبھار مالی امداد سے زیادہ کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔تحقیق کے مطابق مسلمان ممالک میں زیادہ ڈونیشن دی جاتی ہے ۔زکوۃ ، صدقہ ،خیرات ، تحائف کی بھرپور ترغیب دلائی گئی ہے۔رمضان میں افطار ،بڑی عید پہ گوشت۔وسائل کی تقسیم کا بڑا زبردست نظام ہے ۔ ایسے مسلمان جو عملی طور پہ اتنے مضبوط نہیں،لیکن وہ بھی ان کاموں میں بڑھ چڑھ کہ حصہ لیتے نظر آتے ہیں ۔ بس دو باتیں یاد رکھیں، خوشی ڈھونڈنے سے نہیں بانٹنے سے ملتی ہے ۔ اور یہ کہ دوسروں کو فائدہ پہنچانا ، آپ کی اور آنے والی نسلوں کی بہتری کے لیے ضروری ہے ۔ مدد کرنے والوں کے چہروں پہ بہت سکون ہوتا ہے ۔ لوگوں کی دعائیں ان کے بگڑے کاموں کو سنوار دیتی ہیں۔ بس کوئی خاص واقعہ سخاوت کی وجہ نہ بنے بلکہ آپ کی ذات اور گھر کا دروازہ،اس بات کی پہچان بن جائے کہ یہاں سے ملتا ہے ۔
*📝تحریر #𝘼𝙙𝙢𝙞𝙣
☆روحانی سکالر:میاں شفقت علی نوری
03029467213

27/08/2024

DANY - Technology For Everyone #𝘼𝙙𝙢𝙞𝙣

23/08/2024

☆میاں بیوی کی نفرت اصل حقیقت ☆

یہ کہانی ایک شوہر کی ہے جو اپنی مصروف زندگی میں اپنی بیوی کی اہمیت کو بھول گیا تھا، لیکن ایک چھوٹے سے واقعے نے اسے یہ سمجھنے پر مجبور کیا کہ محبت اور توجہ کس قدر ضروری ہیں۔

میرا ہفتے میں ایک دن، جمعہ، آرام کا دن ہوتا ہے، اور میں اسے سونے میں گزارتا ہوں۔ ایک دن، موسم کچھ بدل گیا اور مجھے ہلکی سی سردی لگ گئی۔ میری بیوی نے گھر کے لیے کچھ سامان خریدنے کے لیے اجازت مانگی اور چلی گئی۔ آدھے گھنٹے بعد، اس کا فون آیا اور اس نے کہا کہ کچھ مہمان آ رہے ہیں، اور مجھ سے گھر کو ترتیب دینے کو کہا کیونکہ اسے پہلے سے معلوم نہیں تھا۔ میں نے اپنا غصہ دباتے ہوئے کہا: "ٹھیک ہے،" اور فون بند کر دیا، اور سونے میں مشغول ہو گیا۔

مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ میں صرف سونا چاہتا تھا اور بس۔ کچھ دیر بعد، دروازے پر دستک ہوئی۔ میں بوجھل قدموں سے اٹھا اور دروازہ کھولا، تو دیکھا کہ میری بیوی اپنی دوست اور اس کے شوہر کے ساتھ کھڑی تھی، جنہوں نے گاتوہ اور ٹھنڈے مشروبات لائے تھے۔ میری بیوی نے جب گھر کو دیکھا تو اس کا چہرہ بدل گیا۔ اس نے مجھے نظر بھر کے دیکھا، جس میں ملامت اور دل شکنی تھی۔ اس نے کوشش کی کہ ماحول کو سنبھالے اور کہا: "کیا ہوا، پیارے، ابھی بھی سردی نہیں اتری؟ میرا قصور ہے، میں تمہارے لیے گھر کو صاف کرنے سے پہلے ہی چلی گئی۔" پھر وہ کچن میں چلی گئی، اور میں جانتا تھا کہ وہ رو رہی ہوگی۔

وہ کبھی بھی میرے ساتھ کمی نہیں کرتی تھی، حالانکہ میں ہمیشہ کام میں مصروف رہتا تھا، اور اپنا آرام کا دن بھی سونے میں گزارتا تھا۔ کام کا دباؤ اتنا تھا کہ میں اسے فون بھی نہیں کر پاتا تھا۔ میں اس کے پیچھے کچن میں گیا، اور جب اس نے میرے قدموں کی آواز سنی تو اس نے اپنا چہرہ دھو لیا۔ میں اس کے قریب گیا اور کہا: "مجھ سے ناراض مت ہو، تم جانتی ہو کہ ڈاکٹروں کو کلینک میں کتنے لوگ دیکھنے ہوتے ہیں۔" اس نے مجھے مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ دیکھا اور کہا: "کوئی بات نہیں، سب ٹھیک ہے۔" لیکن وہ ہمیشہ کی طرح، یہ بات صرف اس لیے کہہ رہی تھی تاکہ بات ختم ہو جائے۔

وزیٹر چلے گئے، دن ختم ہو گیا، اور وہ جلدی سو گئی۔ میں بچوں کے کمرے میں گیا اور وہاں ایک تحفہ دیکھا جو کہ مہمانوں کے لائے ہوئے سامان کے ساتھ رکھا تھا۔ جب میں نے اسے کھولا تو اس میں وہ گھڑی تھی جو مجھے کچھ عرصے سے پسند تھی۔

اگلے دن، میں کام پر گیا اور اپنے آپ سے ناراض تھا۔ وہ میرے بارے میں سوچتی ہے حالانکہ میں اس کے لیے کچھ نہیں کرتا، اور میں اس کے ایک چھوٹے سے مطالبے کو نظر انداز کر دیتا ہوں، جس سے اس کا دل ٹوٹ جاتا ہے، خاص طور پر اس کی دوست کے سامنے۔ میں نے دیکھا کہ ایک آدمی بلح الشام بیچ رہا تھا اور مجھے مسکرا کر دیکھ رہا تھا۔ میں نے اس سے خریدنے کا ارادہ کیا اور اس کے قریب جا کر کہا: "مجھے پانچ روپے کا حمص الشام دے دو۔" اس نے جواب دیا: "یہ بلح الشام ہے، حمص نہیں! لگتا ہے تم کسی چیز کے بارے میں سوچ رہے ہو جو تمہیں پریشان کر رہی ہے، ہے نا؟"

میں نے تھکاوٹ سے ہنستے ہوئے کہا: "نہیں، کچھ نہیں ہے۔" اس نے ایک کرسی کھینچی اور کہا: "آو بیٹھو، میں تمہیں گرم بلح دیتا ہوں۔" میں بیٹھ گیا حالانکہ میں دیر کر رہا تھا؛ اس نے مجھے ایک پلیٹ دی اور میرے پاس بیٹھ کر بات کرنے کی کوشش کی، تو میں نے سکون سے اس سے بات کی۔ اس نے میرے ہاتھ پر ہلکا سا دباؤ ڈالا اور کہا: "میری غلطی مت دہراؤ۔" میں نے اسے حیرت سے دیکھا اور پوچھا: "کیا غلطی؟" اس نے جواب دیا: "میری بیوی میری عدم توجہ سے تنگ آ کر چلی گئی، اور جس دن میں نے اس کی پرواہ کی، وہ مر گئی۔ میں اب چاہتا ہوں کہ وہ صرف ایک دن کے لیے واپس آ جائے تاکہ میں اسے منالوں۔"

نبی کریم ﷺ اپنے کپڑے خود سیتے تھے، اپنی بیویوں کی مدد کرتے تھے، حتیٰ کہ اپنے جوتے بھی خود مرمت کرتے تھے۔ ان کی بیوی عزت دار تھی، بے عزتی نہیں کی جاتی تھی۔ عورتوں کے دل یادوں سے زندہ رہتے ہیں! اگر آپ ان کے لیے ایک خوبصورت یادگار بنا دیں، تو وہ اپنی جان آپ پر نچھاور کر دیں گی۔ اگر آپ انہیں کسی لمحے میں مایوس کریں، تو یہ ان کے دل میں آسانی سے نہیں جائے گا، چاہے وہ آپ کو معاف بھی کر دیں۔ وہ کمزور ہوتی ہیں، بہت سوچتی ہیں، لیکن جلدی مان جاتی ہیں۔ کوئی عورت ضدی یا شکایت کرنے والی نہیں ہوتی، لیکن آپ کے ساتھ محبت کی وجہ سے وہ آپ کے رویے پر حسّاس ہو جاتی ہے۔ اپنی عادتوں کی وجہ سے اپنی نعمتوں کی قدر کو مت کھوئیں۔ عورت کی قدر کرنا آپ کی شخصیت کو کمزور نہیں کرتا، بلکہ آپ کو اپنی ماں کی عزت کرنے، اپنی بیوی سے محبت کرنے، اور اپنی بیٹی کی نظر میں ہیرو بننے میں مدد دیتا ہے۔

آج کام سے چھٹی لیں اور اسے کوئی چیز لے کر دیں، چاہے وہ معمولی سی کیوں نہ ہو، اور اسے کہیں: "مجھے تمہاری یاد آئی، اس لیے میں نے سوچا آج کا دن تمہارے ساتھ گزاروں۔" پھر دیکھیں کہ وہ آپ سے کیسا برتاؤ کرتی ہے، اور آپ سے کتنی محبت کرتی ہے۔ اسے ناراض مت کریں، کیونکہ اس کا کوئی دوسرا نہیں ہے۔

میں واقعی گھر واپس گیا اور میرے ہاتھ میں اس کے پسندیدہ "مشبک" کی ایک ڈبیا تھی۔

جب میں نے اس کی آنکھوں کی چمک اور اس کی باتوں میں محبت دیکھی، تو میں نے پایا کہ میں روزانہ کچھ دیر نکال کر اس کا حال پوچھنے کے لیے اسے کال کرتا ہوں۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ اس کے لیے کچھ میٹھا لے آؤں، اور اپنے آرام کے دن اسے لے کر کہیں سیر کرنے جاؤں، تاکہ گھر کی بوجھل فضا سے دور جا سکیں۔

میں سمجھتا تھا کہ میں اسے خوش کر رہا ہوں، لیکن دراصل میں خود خوش ہو رہا تھا۔

ایک دن، جب ہم باہر جا رہے تھے، میں نے اس کے لیے کچھ سردیوں کے کپڑے اور گھر کی ضرورت کا سامان خریدا۔ تقریباً مہینے کی تنخواہ خرچ ہو گئی اور میرے پاس صرف دس روپے بچے۔ جب وہ رو رہی تھی کہ پیسے ختم ہو گئے ہیں۔

میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور مٹھائی کی دکان کی طرف چلا گیا۔ اس نے کہا: "لیکن تمہارے پاس صرف دس روپے ہیں؟"

میں نے کہا: "کوئی بات نہیں، ان سے مشبک خرید لیتے ہیں اور پیدل گھر چلتے ہیں، مجھے تمہارے ساتھ چلنا پسند ہے۔"

عورت یادوں سے جیتی ہے، لاپرواہی تعلقات کے خاتمے کی ابتدا ہے۔

سید الخلق محمد رسول اللہ ﷺ سے سیکھیں۔

اپنی عادتوں کی وجہ سے نعمتوں کی قدر کھو مت دیں۔

15/08/2024



جان کہاں ہو..؟
شوہر :- وہ بس ہم دوستوں نکلنے لگے ہیں ، تھوڑی دیر میں آجاؤنگا ،
اچھا آتے ہوئے توکل کا پلاؤ لے آنا ، میں نے کھانا نہیں کھایا

شادی کے فورا بعد ہی ایسی اٹکلیاں نئی نویلی دلہن کرنا شروع کردیتی ہیں ۔ شوارمہ ، زنگر ، بروسٹ ، تکے
آپ اسکی ہر خواہش ہر ضد کو پورا کرتے کرتے اپنا پرسنیلٹی ایسی بنالیتے ہیں جس میں عورت خود کو ملکہ اور آپکو اپنا غلام سمجھ لیتی ہے ...
غلام ہی کیوں کہا ..؟ کیوں کہ بادشاہ سمجھتی تو آپکے چھوٹے چھوٹے کام ، مثلا دوستوں میں جانا ، اپنے گھر والو خاص کر کہ اپنی بہنوں (شادی شدہ خاص کر ) کا بہت خیال رکھنے پر وہ کبھی آپکو روکتی نہیں ... کیوں کہ بادشاہ تو بادشاہ ہوتا ہے نا
اسپر کون حکم چلاسکتا ہے ..؟

اور یہ نئے شادی شدہ جوڑوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ جان ، جانو ، جان جی جیسے لقب سے پکار لینے سے کوئی رشتہ مضبوط نہیں بن جاتا ، معاشرے میں رائج ہیں یہ الفاظ ( بہت عام استعمال ہونے لگے ہیں )

کل ایک دوست مچھلی کی طرح تڑپ رہا تھا ، اس نے اپنی اولاد کا منہ ایک مہینے سے نہیں دیکھا ، دو سال کی بیٹی ہے ایک سال کا بیٹا ہے .... کھل کے اسکی کہانی لکھ رہا ہوں ...

کل اسے پتہ چلا کہ طیب کے ساتھ بھی یہ معاملات ہوچکے ہیں ، اس نے مجھ سے ملنے کی درخواست کی فلانا ہوٹل پر میں علی کیساتھ آرہا ہوں ،
میں نے گھر بلالیا ... کہ چلو اسے مشورہ ہی دے دونگا کہ کیا کرنا چاہئے ...

رات 12بجے وہ میرے گھر آیا ، ہم رات دیر تک تین چار دوست ساتھ بیٹھے رہے
معاملات کہاں سے بگڑے ،
ہوا کچھ یوں کہ بقرہ عید کی صبح جب دوست قربانی کرنے لگا ، تو اسکی اہلیہ نے سوچا کہ اب کچھ وقت میسر ہے تنہائی کا ، کیوں کہ گھر کے مرد باہر جانور قربان کرنے میں مصروف تھے ، جانور کے گلے پر چھری پھرتے ہی دوست کو ماوے کی طلب ہوئی جب وہ اپنے کمرے میں پہنچا تو کیا دیکھتا ہے اسی کی بیگم کسی غیر مرد کیساتھ باتوں میں مصروف ہے ، شوہر نے دوسری جانب سے آتی آواز سنی ، بیوی کا رنگ پیلا پڑگیا تھا ... شوہر نے ایک چماٹ مارا ...اور غصے سے شور کرنے لگا ، ماں باپ بہن بھائی آگئے کہ ایسا کیا ہوگیا ... معاملہ کھلا تو عورت نے اپنی ساس اور سُسر کے پاؤں پکڑ لئے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے اسکی سزاء دے لیں ، لیکن میرے ماں باپ تک یہ بات نہ پہنچائے ، ماں باپ نے بیٹے کو سمجھا کر معافی تلافی کردی ،
اسکے بعد اس سے موبائل-فون لے لیا گیا ،
شوہر دن بھر کا تھکا ہارا رات بستر پر پڑتے ہی سوجاتا ، ایک دن اسکی رات دیر آنکھ کھلی تو بیوی کمرے سے منسلک ہی باتھ روم میں تھی ، اب بیوی رات کو دیر دیر تک باتھ میں وقت گزارنے لگی ،
وہ کہتے ہیں نا غیر مرد غیر عورت کا عشق ایسا ہوتا ہیکہ انسان اندھا ہوجاتا ہے ، اسکا رات دیر تک واش روم میں جانا سبکو کھٹکنے لگا ،
ایک دن شوہر کی بہن نے ہی ایک بار پھر موبائل پر بات کرتے پکڑ لیا ، یہاں بھی قسم وسم دیکر بات دبا لی گئی ،
اب بیوی کا رویہ بدل گیا تھا ، جب رات بھر جاگتی تو دن میں سونے لگی ...
ایک دن لڑائی ہوہی گئی جب بیوی نے اپنی ساس کے انسولین لگانے سے انکار پر واویلا کیا میں تمہاری نوکر نہیں ، بات بڑھی اور یوں شوہر نے اپنے سُسر کو بلاکر بیوی کو میکے بھیج دیا ،
عورت میکے جاتے ہی آزاد تھی اسکے پاس اولاد بھی تھی ، اور وہ اب مکمل آزاد تھی اپنے عاشق سے تعلق استوا رکھنے پر
دس دن میں عورت نے اپنے ماں باپ سے کیا کیا کہا ...کہ اسکا ری ایکشن یہ نکلا کہ لڑکی کے باپ اپنی بیٹی کے سسرال سے جہیز کا اک اک سامان اٹھا کر لے گئے ،

بروز ہفتہ تک یہ سب کاروائی کی جاچکی .... اب اگلا پیغام خلع کا آیا جو کہ کل بروز منگل شام کے وقت

لڑکے پر یہ پیغام قہر بن کر اترا ، اس نے اپنے ماں باپ سے ، شادی شدہ بہن بہنوئی سے التجائیں کرنا شروع کردی کہ اسے سمجھاؤ میرا گھر برباد نہ کرے ، چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ، وہ بن باپ یا بن ماں کے کیسے پلے گے ..؟

وہ مجھ سے بھی یہی توقع رکھ رہا تھا کہ میں اس معاملے میں ثالث بنکر کچھ قدم اٹھاؤں ، ہم تین دوست شادی شدہ بیٹھے تھے ، تینوں کی رائے یہی تھی کہ اب بہت دیر ہوچکی ، لڑکی نے جدائی کا طے کرلیا ہے ،
اب اس حقیقت کو اپنے دوست کو سمجھانا مشکل لگ رہا تھا کہ ...کیوں کہ وہ سچ تسلیم کرنے سے انکاری تھا ،
ایسی صورتحال میں اسے اولاد کی جدائی ، گھر برباد ہونے کا دکھ کھائے جارہا تھا ،

جب ایک شادی شدہ عورت کسی غیر مرد سے روابط قائم کرلے تو سمجھو وہ آپکو چھوڑ کے جاچکی ہے ، بس عملی طور پر جانا باقی ہوتا ہے ،
یہ حقیقت جلد از جلد تسلیم کرلینا چاہیے ورنہ بعد میں بہت تکلیف ہوتی ہے ،

اب اگلے معاملات کورٹ کچہری کے ہونگے جہاں عورت کی طرف سے شوہر کے ظالم ہونے کا لزام رکھ کر نکاح ختم کرنے کی درخواست کی جائے گی ، پاکستان کا قانون عورت کو بہت سپورٹ کرتا ہے ، عورت جب چاہے اپنے شوہر سے علیحدہ ہوسکتی ہے ، بچے بھی قانونی طور پر وہ رکھ سکتی ہے ، بچوں کا خرچہ بھی وہ اٹھارہ سال تک کے سکتی ہے ،
مرد بے حسی کی تصویر بنکر تماشہ دیکھ سکتا ہے ،

بقول میرے دوست کے جان جان کہنے والی بیوی لگتا ہے اب جان لیکر چھوڑے گی ،

میرا مشورہ :- ایسی عورت کے منہ پر طلاق مارنی چاہیے ... جو تمہیں معاشرے برادری میں ذلیل کئے جارہی ہے ، گھر تمہارا کب کا برباد ہوچکا ، اب معاملات تمہیں ذلیل کرنے تکلیف دینے کے شروع ہوچکے ہیں ...
#𝘼𝙙𝙢𝙞𝙣

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Multan Road Chong
Lahore