*الَّذِىۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ؕ مَا تَرٰى فِىۡ خَلۡقِ الرَّحۡمٰنِ مِنۡ تَفٰوُتٍ ؕ فَارۡجِعِ الۡبَصَرَۙ هَلۡ تَرٰى مِنۡ فُطُوۡرٍ ۞*
*جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کیے، تم خدائے رحمن کی تخلیق میں کوئی فرق نہیں پاؤ گے۔ اب پھر سے نظر دوڑا کر دیکھو کیا تمہیں کوئی شگاف نظر آتا ہے ؟*
Tilawat QURAN PAK
Islamic post
*اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتۡ مِرۡصَادًا ۞*
*بیشک دوزخ گھات میں ہے*
*لِّلطّٰغِيۡنَ مَاٰبًا ۞*
*وہ سرکشوں کا ٹھکانا ہے*
SABR* 🌙
*"Allah sabr karne walon ke sath hai"*
_Surah Baqarah 153_ 🤲
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
*Translation:* "Tum apne Rab ki kaun kaun si nemat ko jhutlaoge?" - Surah Rehman 55:13
ائمۂ فقہ و حدیث اس امت کی علمی شخصیتیں ہیں، لیکن صحابہ کرامؓ ہماری دینی شخصیتیں ہیں، ان سے غیر جانبدار ہو کر ہم ان سے روایت کردہ دین پر ہرگز نہیں چل سکتے۔
حجۃ الاسلام ڈاکٹر علامہ خالد محمود صاحبؒ
(خلفائے راشدین، ج 2، ص 365)
حنفی طریقِ نماز کی مخالفت صحابہ کرامؓ کے اس جمِ غفیر کی مخالفت ہے جن سے حنفیہ کرام نے اپنے طریقِ نماز کے صریح خد و خال چنے ہیں۔ یہ پوری امت کا تختہ ہے اور قرآنِ کریم کی آیت کنتم خیر امۃ اخرجت للناس کی صریح مخالفت ہے۔
سو یہ بات صحیح ہے کہ اس دور کے غیر مقلدین اب اس فرقۂ ناجیہ کے افراد نہیں رہے، جس کی حضور ﷺ نے ما أنا علیہ وأصحابی کے الفاظ سے خبر دی تھی۔
حجۃ الاسلام ڈاکٹر علامہ خالد محمود صاحبؒ
(آثار التشریع، ج 1، ص 351)
جو شخص یہ چاہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت فرمائیں، اس کو چاہیے کہ سنتِ رسول اللہ ﷺ کو اپنی زندگی کا محور بنا لے، اور زندگی کے ہر شعبے اور ہر کام میں سنت کے اتباع کا التزام کرے، تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اس سے محبت فرمائیں گے۔
اور اسی آیت سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ کفر و ارتداد کا مقابلہ وہی جماعت کر سکے گی جو متبعِ سنت ہو، نہ احکامِ شرعیہ کی تعمیل میں کوتاہی کرے اور نہ اپنی طرف سے خلافِ سنت اعمال اور بدعات کو جاری کرے۔
مفتی اعظم مفتی محمد شفیع عثمانیؒ
(معارف القرآن، سورۃ المائدہ، آیت 54)
جب کبھی شادی ہوتی ہے تو عام طور پر عورتیں نکاح میں لائی جاتی ہیں: یا مال کے لیئے، یا جمال کے لیئے، یا اولاد کے لیئے، یا جوانی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیئے یا اپنی پسند کیلئے، لیکن علمِ الٰہی میں یہ فیصلہ تھا کہ جس پیغمبر ﷺ کے بعد کسی اور پیغمبر نے پیدا نہیں ہونا، اور جس پیغمبر کی حیاتِ طیبہ نے دوسروں کے لیے ہمیشہ بطورِ نمونہ پیش ہونا ہے، اس پیغمبر کی پبلک لائف کو آگے منتقل کرنے کے لیے جہاں ہزاروں صحابہ کرامؓ موجود ہیں، وہاں اس پیغمبر کی پرائیویٹ لائف کو آگے منتقل کرنے کے لئے علم کا سارا بوجھ اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ پر ڈالا گیا۔
حجۃ الاسلام ڈاکٹر علامہ خالد محمود صاحبؒ
(خطباتِ علم و حکمت، ج 1، ص 212)
28/04/2023
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
LAHORE