17/05/2026
افریقہ میں جنگجو سردار (Warlords) بالکل یورپ کی طرح ہمیشہ زمین، وسائل اور طاقت کے لیے آپس میں لڑتے رہے۔ اس وجہ سے ان کے لیے یہ ایک موقع بن گیا کہ وہ اپنے سیاسی یا ذاتی دشمنوں کو ختم کریں اور زیادہ طاقت حاصل کریں۔
مصنف کہتا ہے کہ یہ بات غلط ہے کہ یورپی صرف اپنی جدید بندوقوں اور طاقت کی وجہ سے کامیاب ہوئے۔ حقیقت میں کچھ افریقی قبائل اور حکمران خود بھی ان لوگوں کو غلام بنا کر یورپیوں کے حوالے کرتے تھے جن سے وہ نفرت کرتے تھے، اور بدلے میں بندوقیں، بارود اور دوسری چیزیں لیتے تھے تاکہ مزید جنگیں لڑ سکیں۔
یہ خیال کہ غلامی کا تصور یورپیوں نے افریقہ میں متعارف کروایا، مصنف کے مطابق غلط ہے۔ کیونکہ غلامی انسانوں میں بہت قدیم زمانے سے موجود رہی ہے، تقریباً ہر تہذیب میں۔ آج بھی افریقہ کے کچھ علاقوں میں جبری مشقت اور غلامی جیسی صورتحال موجود ہے، جیسے خون سے جڑے ہیرے (Blood Diamonds) یا نایاب معدنیات کی کانوں میں لوگوں سے زبردستی کام کروانا۔
آخر میں مصنف یہ کہنا چاہتا ہے کہ غلامی صرف یورپیوں یا کسی ایک قوم کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ تاریخ میں تقریباً ہر معاشرے میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہی ہے۔ اور جو لوگ اس حقیقت سے انکار کرتے ہیں، ان کے بارے میں وہ کہتا ہے کہ “حقائق تو حقائق ہوتے ہیں۔”