Studio Ehsaan

Studio Ehsaan

Share

This Page is Created to Spread All Material of Allama Ehsaan Elahi Zaheer & His Sons

31/08/2022

درجات کو بلند کرنے کا عمل | اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ عمل | علامہ ہشام الہٰی ظہیر | Studio Ehsaan

31/08/2022

نیک اور گناہگار بھائیوں کا واقع | نیکیوں کو ذائع کر بیٹھنے کا واقع | STUDIO EHSAAN

31/08/2022

نیک اور گناہگار بھائیوں کا واقع | نیکیوں کو ذائع کر بیٹھنے کا واقع | Studio Ehsaan

31/08/2022

صحابہ نے آپ کی حدیث سے کیسے پیار کیا؟ | علامہ ہشام الہٰی ظہیر | STUDIO EHSAAN |

31/08/2022

سود لے کر کاروبار کرنا | حرام یا حلال | سود اللہ سے جنگ | علامہ ہشام الہٰی ظہیر | Studio Ehsaan

30/08/2022

امام مہدی کے ظہور کی معروف نشانیاں | امام مہدی کے متعلق ہدیث میں موجود بیان | Studio Ehsaan

30/08/2022

اللہ نے کیسے امی عائشہ کی بدولت امت پر احسان کیا؟ - تیمم کی آیات کب نازل ہوئی؟ - STUDIO EHSAAN

30/08/2022

آپ کا حضرت عائشہ کے ساتھ دوڑ لگانا اور انکے ساتھ اسوہ حسنہ | علامہ ہشام الہٰی ظہیر | Studio_Ehsaan #

26/08/2022

نیک اور گناہگار بھائیوں کا واقع | نیکیوں کو ذائع کر بیٹھنے کا واقع | علامہ ہشام الہٰی ظہیر

26/08/2022
21/03/2022

علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ کون تھے؟
از قلم :
عدیل احمد آزاد

آج سے 35 سال قبل ایک پُر درد آواز جو دنیائے اسلام کے ہر قیامت آفرین سانحہ پر، صدائے صور بن کر بلند ہوا کرتی تھی ، ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئی۔ وہ بے قرار دل جو اسلام اور مسلمانوں کی ہر مصیبت کے وقت بے تاب ہو جاتا تھا اور دوسروں کو بے تاب کرتا تھا ، ساکن ہو گیا۔

وہ اشک آلود آنکھیں جو دین و ملت کے ہر غم میں آنسوؤں کا دریا بن جاتی تھیں، ان کی روانی ہمیشہ کے لئے بند ہو گئی۔ وہ مترنم لب جو ہر بزم میں خوش نوا بلبل بن کر چہکتے تھے ان کے ترانے خاموش ہوگئے۔ وہ آتشیں زبان جو ہر رزم میں تیغ براں بن کر چمکتی تھی ، اس کی تابش کسی معرکہ میں پھر نظر نہ آئے گی۔

وہ پر جوش سینہ جو مصائب کے پہاڑوں کو سیلاب بن کر بہا لے جاتا تھا، اس کا تلاطم ہمیشہ کے لئے تھم گیا۔ وہ پر زور دست وبازو جو شب وروز کی خدمت گزاری اور نبرد آزمائی میں مصروف تھے ایسے تھکے کہ پھر نہ اُٹھیں گے، افسوس کہ قافلہ حریت کا وہ آخری سپاہی جو دشمن کے نرغے میں تنہا لڑ رہا تھا، زخموں سے چور ہو کر ایسا گرا کہ قیامت تک نہ کھڑا ہوگا۔

پاکستان کا ماتم دار، طرابلس کا سوگوار، عراق کے لئے غمزدہ، بلقان کے لئے اشک بار، شام پر گریاں،کشمیر وافغان پر مرثیہ خواں، حجاز کا سوختہ جاں اور بیت المقدس کے لئے پریشاں۔ سرزمینِ اسلام کے چپے چپے کا وارث۔ کیا شخص تھا یارو !!

صرف نو سال کی عمر میں احسانِ الٰہی سے حافظ احسان الٰہی بن گیا۔ جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ اور پھر جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے ہوتے ہوئے مدینہ یونیورسٹی پہنچا۔ وہاں سے لوٹا تو حافظ احسان الٰہی سے "حافظ احسان الٰہی ظہیر" ہو گیا۔ پھر مسلکی ومذہبی رسالوں کی ادارت، مختلف زبانوں میں لاجواب تصانیف و نگارش، اور شاہین نگاہ خطابت نے "علامہ احسان الٰہی ظہیر" بنا دیا۔

وہ واقعی علامہ کہلانے کے سزاوار تھے، مسجد چینیاں والی لاہور سے خطابت کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک پر چھا گئے، سالہا سال ہفت روزہ ’’اہلحدیث‘‘ اور ’’ترجمان اہل حدیث‘‘ کے ایڈیٹر رہے۔ عرب، یورپ اور امریکہ میں براہِ راست پہنچ کر تبلیغ اسلام کا مشن پہنچایا۔

بیک وقت ادیب، خطیب، مترجم، مؤلف، مبلغ، سیاستدان اور تاجر۔ دیانت وامانت اور خلوص و للّٰہیت سے لبریز۔فاضل عربی، فاضل فارسی، فاضل اردو، یعنی السنہ شرقیہ سے لیس۔

سیاست میں قدم زن ہوئے تو خدادا صلاحیتوں، جرأت و بے باکی سے ملک کے مرکزی سیاست دانوں میں شمار ہونے لگے۔ نوابزادہ نصر اللہ خاں مرحوم کو اپنا سیاسی مربی قرار دیتے تھے، ان کی لاہور میں سیاسی شام غریباں میں باقاعدگی سے شمولیت فرمایا کرتے تھے۔

تحریک استقلال میں رہنے کے باوجود نواب زادہ نصر اللہ خان کا پورا احترام ملحوظ رکھتے تھے۔ ائیر مارشل اصغر خان اور ان کے رفقاء علامہ صاحب کو اپنی آنکھوں کا تارا سمجھتے تھے۔ کچھ عرصہ تک تحریک استقلال کے جنرل سیکرٹری رہے پھر خود ہی اسے ترک کر دیا

بھٹو سے خوب ٹکر لی اور پوری بہادری سے ڈٹے رہے۔ جنرل ضیاء الحق کے حامی بھی رہے اور مخالف بھی۔

ضیاء الحق کی حمایت اس لئے کی کہ شاید یہ شخص اسلام کا نفاذ کر دے۔ مخالفت اس لئے کی کہ ضیاء الحق اپنے دس سالہ اقتدار میں اسلام نافذ کر سکا نہ جمہوریت۔ اور نہ ہی فحاشی و عریانی ختم کر سکا۔ علامہ صاحب کا موقف تھا کہ: "اسلام پہ چلنا سیکھو یا اسلام کا نام نہ لو"۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دور کی کیسٹیں جب ہم سنتے ہیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

جب لکھتے تو بے مثال لکھتے، بولتے تو بولتے ہی چلے جاتے۔ بقول شخصے الفاظ ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو جاتے جس پر جی آتا منتخب کر لیتے۔ اُردو، عربی اور فارسی روانی سے بولتے تھے۔ بقول مجیب الرحمٰن شامی وہ آغا شورش کاشمیری کے بعد ایشیاء کے سب سے بڑے خطیب تھے۔

جب عربی میں تقریر کرتے تو ان کا لب و لہجہ اور زبان و بیان ایک لمحے کے لئے بھی یہ احساس نہیں ہونے دیتے تھے کہ موصوف عجمی ہیں۔ اپنی کتاب سفر حجاز میں لکھتے ہیں کہ مدینہ یونیورسٹی میں قیام کے دوران ایک مرتبہ مسجد نبوی کے باب السعود میں نماز مغرب کے بعد عربی میں ایک تقریر کی۔ فلسطین، کشمیر، اور اریٹریا کے پس منظر میں مسلمانوں کے ماضی کو آواز دی

بھیڑ بڑھتی اور آنکھیں بھیگتی چلی گئیں۔ سسکیاں آہوں میں بدل گئیں۔ پورا حرم اُمڈ آیا۔ اذان عشاء نے تقریر منقطع کرنے پر مجبور کر دیا۔ نماز کھڑی ہو گئی۔ اِدھر سلام پھری اُدھر لوگ پل پڑے۔ اظہارِ محبت میں ماتھا چومنے لگے۔ کچھ بھیڑ چھٹی تو عرب دھرتی کے بڑے خطیب، دمشق یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر، اور اسلام کے مایہ ناز فرزند ڈاکٹر مصطفیٰ سباعی کو سامنے کھڑا پایا۔

نظریں ادباً جھک گئیں، ڈاکٹر صاحب آگے بڑھے، کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔ کہاں سے ہو نوجوان؟ (احسانِ الٰہی ظہیر) بولا: پاکستان سے، پاکستان سے؟ انہوں نے حیرت سے سوال دہرایا! جی ہاں پاکستان سے، انہوں نے سینے سے لگایا اور بولے: لوگ مجھے عالم عرب کا سب سے بڑا خطیب کہتے ہیں لیکن میں کہتا ہوں "انت اخطب منی" تم مجھ سے بھی بڑے خطیب ہو (سفر حجاز صفحہ نمبر ۵۳)

سیرت النبی ﷺ اور فضائل صحابہ ان کے پسندیدہ موضوعات تھے۔ جب صحابہ کے ابتدائی حالات اور رسول اللہ ﷺ پر آنے والی مشکلات کا تذکرہ کرتے تو اشک بار ہو جاتے ۔ لوگوں کی بھی دھاڑیں نکل جاتیں۔ اور جب حُسن مصطفیٰ ﷺ کا تذکرہ چھیڑتے تو محسوس ہوتا "بلبل چہک رہا ہے ریاض رسول ﷺ میں"۔

علامہ شہید قدرت سے جری دل، روشن دماغ، اور جانثارانہ جذبہ لے کر پیدا ہوئے تھے۔ حالات کی تنگی سے کبھی مرعوب نہ ہوتے۔ ہمیشہ اللہ پر کامل بھروسہ رکھتے تھے۔ جب فرق ضالہ کا تعارف کراتے تو برجستہ گوئی اور بے باکی و جرأت سے اظہار حق فرماتے تھے۔

وہ جہاں جاتے "اہل حدیثیت" ان کے ہمراہ جاتی تھی۔ جلسہ ہو یا نجی محفل، عام گفتگو ہو یا سیاسی مجلس، ہر جگہ اپنا مسلکی تشخص برقرار رکھتے تھے۔ لفظ "اہلحدیث" پر جرح و نقد برداشت نہ کرتے تھے۔ اگر کہیں اہل حدیث کے خلاف کوئی بات کر دیتا، تو اُٹھ کر کھڑے ہو جاتے اور دلائل سے اہل حدیث کی عظمت و رفعت کو ثابت کرتے بلکہ منواتے تھے۔

اُن کا مشن وہی تھا جو مولانا ابراہیم میر سیالکوٹیؒ، مولانا سید داؤد غزنویؒ، اور مولانا اسماعیل سلفیؒ کا تھا لیکن ہر عظیم شخصیت کی طرح انہوں نے اپنا علیحدہ تعارف بھی قائم کیا۔ جس طور پر اہل حدیث کے لئے انہوں نے خدمات سر انجام دیں، برصغیر کی پاکستانی تاریخ میں اس کی مثال پیش کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے لفظ اہل حدیث کو گالی سمجھ کر قبول کیا اور تیس برس کی جاں بلب محنت کے بعد اسے سعادت کے طور پر دنیا والوں سے منوایا۔

انھیں تصنیف کا شاندار ذوق بھی وافر میسر تھا۔ مختلف مذاہب و مسالک پر بے شمار کتابیں لکھیں۔ جو لاکھوں کی تعداد میں شائع ہو کر نہ صرف عالم عرب بلکہ دنیا بھر میں پھیل چکی ہیں۔ ان کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ انہوں نے عجمی ہوکر، براہِ راست عربی میں لکھا۔ ان کے بعد یہ وصف مجھے مولانا ابو الحسن علی ندوی کی کتب میں ملا۔ انھوں نے بھی شاندار عربی کتابیں لکھیں۔

بقول مولانا محمد اسحاق بھٹی (رحمۃ اللہ علیہ) مذاہب و مسالک پر ان کے عقائد و نظریات کو مد نظر رکھتے ہوئے علامہ شہید سے بڑھ کر کوئی نہیں لکھ سکا۔ اس میں وہ یکا و تنہا تھے۔ (ہفت اقلیم)

جو کام سو برس میں ہونا تھا اللہ تعالیٰ نے ان سے چند سالوں میں لے لیا۔ وہ شعلہ مستعجل ثابت ہوئے۔ 22 اور 23 مارچ 1987 کی درمیانی شب، قلعہ لچھمن سنگھ لاہور کی اہلحدیث کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے ایک دھماکے کے نتیجے میں شدید زخمی ہوگئے۔

یہ الفاظ ابھی ادا نہ ہو پائے تھے کہ تباہی پھیل گئی۔ اہلحدیثوں کی بساط الٹ گئی۔ مولانا قدوسیؒ، مولانا محمد خان نجیبؒ یکے بعد دیگرے اور مولانا حبیب الرحمٰن یزدانیؒ دوسرے روز شہید ہو گئے۔

میو ہسپتال لاہور میں ابتدائی علاج کے بعد انھیں ریاض ملٹری ہسپتال (سعودی عرب) پہنچا دیا گیا۔ لیکن قضا و قدر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ جنت الفردوس کا راہی اب زیادہ دیر دنیا میں نہیں ٹھہرنا چاہتا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے متوالے، توحید کے رکھوالے، اور سنت کے دیوانے کو دیارِ حجاز میں بلوا کر شہادت کے خلعت سے سرفراز فرمایا۔ 30 مارچ 1987 کو ان کے جسد خاکی سے روح پرواز کر گئی۔

ریاض کی شاہی مسجد میں سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن باز (رحمۃ اللہ علیہ) نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ دوسری نماز جنازہ مسجد نبوی کے امام نے پڑھائی۔ پھر علامہ شہیدؒ کو صحابہؓ وتابعین، تبع تابعین، محدثین، مفسرین، مجاہدین اور اولیاء کرام کے قبرستان بقیع میں دفن کردیا گیا۔

پاکستان کا افتخار ۔۔ علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ
اسلامی دنیا کا ہیرو ۔۔ علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ
فضل و کمال کا پیکر ۔۔ علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ
حکمت و معرفت کا دانا ۔۔ احسان الٰہی ظہیرؒ
کاروان اہلحدیث کا راہنما ۔۔ احسان الٰہی ظہیرؒ

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address

Lahore
54000