Professor Naeem

Professor Naeem Prof.Naeem is a LanguageExpert, IELTS and NLP Trainer. He offers IELTS Master Training for you to get 8777 Band in IELTS and follow your Study Abroad Dream.
(1)

Language Expert, IELTS Trainer and Global Consultant for Study, Work & Travel. ✈

Get 8+ Band IELTS Master Training 🎯

NEO Trainings and Consulting 🎓
Master Your Future! 🌟
📞 Contact Us:
📲 WhatsApp: +923129904422
🌐 profnaeem.com He's an MA English, PGD-Linguistics and the Writer of NeoEnglish, Stepping Stone, 100 Days and many other English books. IELTS Master Training uses latest Success Strategies and Frameworks for you to get your desired band in IELTS effortlessly. Master every section of the exam, boost your confidence, and open doors to exciting opportunities worldwide. Prof. Naeem expertly guides you to every step of the way of IELTS Listening, Reading, Writing and Speaking. Join IELTS Master Training today!
🌐 Visit:
www.profnaeem.com

🔥 کبھی سوچا ہے کہ 1990 کی دہائی میں ہم کم سہولتوں کے باوجود پڑھائی میں زیادہ تیز کیسے تھے؟نہ گوگل تھا۔ نہ یوٹیوب۔ نہ آ...
11/09/2026

🔥 کبھی سوچا ہے کہ 1990 کی دہائی میں ہم کم سہولتوں کے باوجود پڑھائی میں زیادہ تیز کیسے تھے؟

نہ گوگل تھا۔ نہ یوٹیوب۔ نہ آن لائن کلاس۔ نہ مصنوعی ذہانت۔ نہ ہر سوال کا فوری جواب۔

ایک کتاب ہوتی تھی۔ ایک استاد ہوتا تھا۔ ایک کاپی ہوتی تھی۔ اور سب سے بڑھ کر…
انتظار کرنے کا حوصلہ ہوتا تھا۔
اور آج کل تو صبر ہی نہیں ہے۔۔۔🤣

📚 ہمیں سوال کا جواب فوراً نہیں ملتا تھا۔
ہم لائبریری جاتے تھے۔ کتابیں ڈھونڈتے تھے۔ صفحے پلٹتے تھے۔ نوٹس بناتے تھے۔ پھر سمجھتے تھے۔
اور شاید یہی وجہ تھی کہ علم صرف یاد نہیں ہوتا تھا… ذہن میں بیٹھ جاتا تھا۔ ہماری عادات اور شخصیت کا حصہ بن جاتا تھا۔
مجھے یاد ہے ہر ہفتہ اردو بازار جانا, پرانی کتابیں خریدنا اور پورا ہفتہ پڑھنا اور پھر اگلے ہفتے اردو بازار۔
کوئی نہیں پڑھاتا تھا۔ بس پڑھتے رہتے تھے۔ ایک کتاب کا 20 % سمجھ آتا۔ کوئ بات نہیں۔ دوسری پڑھتے ۔۔اس طرح پڑھتے پڑھتے آہستہ آہستہ سمجھ آ جاتا۔

مجھے آج بھی یاد ہے، امتحان کی تیاری کا مطلب یہ نہیں تھا کہ موبائل اٹھایا اور چند لمحوں میں سارے سوالات کے جواب سامنے آگئے۔

تیاری کا مطلب تھا: کتاب کھولو۔ سبق پڑھو۔ اہم نکات لکھو۔ دوبارہ پڑھو۔ خود سے سوال کرو۔ اور پھر بغیر دیکھے جواب دینے کی کوشش کرو۔

😏 آج ہمارے پاس معلومات پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔
لیکن ایک عجیب مسئلہ پیدا ہوگیا ہے…
معلومات بڑھ گئیں، مگر توجہ کم ہوگئی۔
سہولت بڑھ گئی، مگر صبر کم ہوگیا۔

جواب جلدی ملنے لگے، مگر سوچنے کی عادت کم ہوگئی۔

📘 اگر ہم 1990 کی دہائی کے مطالعے سے آج کے طالب علم کے لیے کچھ سیکھیں تو یہ تین باتیں سب سے اہم ہیں۔

پہلا سبق یہ ہے کہ ہر جواب فوراً تلاش نہ کرو۔

پہلے مسئلہ خود سمجھو۔ اپنا جواب سوچو۔ اپنی غلطی تلاش کرو۔ پھر کتاب یا استاد سے تصدیق کرو۔ غلط جواب لکھنے سے مت ڈرو۔ غلطی کو درست کرنے کے عمل سے سیکھو۔ اور آخر میں اپنی زبان میں پورا تصور دوبارہ بیان کرو۔
مثال کے طور پر:
❌ "I don't know the answer, so I will search for it."
یہ عادت دماغ کو مسئلہ حل کرنے کے بجائے مسئلہ منتقل کرنا سکھاتی ہے۔
لیکن:
✔ "I will try to solve it first, then check my answer."
یہ طریقہ سوچنے، تجزیہ کرنے اور خود اعتمادی پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھاتا ہے۔
اس طرح علم صرف حاصل نہیں ہوگا… آپ کا ذہن بھی مضبوط ہوگا۔
دوسرا سبق یہ ہے کہ لکھنے کو دوبارہ اپنی تعلیم کا حصہ بناؤ۔
ایک موضوع پڑھو۔ اہم نکات اپنے ہاتھ سے لکھو۔ کتاب بند کرو۔ پھر یادداشت سے وہی بات دوبارہ لکھو۔ اپنے الفاظ کا کتاب کے متن سے موازنہ کرو۔ جہاں خلا ہو وہاں دوبارہ پڑھو۔ اور اگلے دن اسی موضوع کو بغیر دیکھے دوبارہ بیان کرو۔
دیکھیں جیسے:
❌ "I read the lesson three times, so I know it."
صرف بار بار پڑھنے سے اکثر طالب علم کو یہ غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ اسے سبق آتا ہے۔
مگر:
✔ "I read the lesson, close the book, and explain it in my own words."
یہ طریقہ یادداشت کو فعال کرتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ واقعی کیا آتا ہے اور کیا صرف پڑھا ہوا محسوس ہورہا ہے۔
اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ امتحان میں کتاب کے جملے یاد کرنے کے بجائے آپ تصور کو سمجھ کر جواب دے سکیں گے۔

تیسرا سبق یہ ہے کہ استاد کو تلاش کرنے کے بجائے استاد کی بات سننے کی عادت پیدا کرو۔
1990 کی دہائی میں استاد کلاس میں بولتا تھا تو طالب علم سنتا تھا۔ نوٹس لیتا تھا۔ سوال محفوظ رکھتا تھا۔ مناسب وقت پر پوچھتا تھا۔ اور جواب پر دوبارہ غور کرتا تھا۔
آج بہت سے طالب علم استاد کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اپنے ذہن میں اگلی ویڈیو تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔
طریقہ بدلیں۔
استاد کی بات پوری توجہ سے سنو۔ اہم خیال لکھو۔ اپنی سمجھ کے مطابق اسے دوبارہ بیان کرو۔ ایک سوال ضرور پیدا کرو۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنے سے پہلے اپنا اندازہ لگاؤ۔ پھر استاد یا معتبر ذریعہ سے تصدیق کرو۔
❌ "The teacher explained it, so I understood everything."
یہ صرف سننے کو سمجھنے کے برابر سمجھنے کی غلطی ہے۔
✔ "I understood the idea, and now I can explain it without looking at my notes."
یہ حقیقی سیکھنے کی علامت ہے۔
اس طرح استاد صرف معلومات دینے والا نہیں رہے گا… وہ آپ کی سوچ کو بہتر بنانے والا بن جائے گا۔

🧠 اور یہاں ایک ایسی حقیقت ہے جسے آج کی تعلیمی دنیا اکثر نظرانداز کرتی ہے:
مسئلہ یہ نہیں کہ آج کے طالب علم کے پاس بہت زیادہ معلومات ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسے خاموش بیٹھ کر ایک مشکل چیز کے ساتھ کافی دیر رہنا نہیں سکھایا گیا۔

1990 کی دہائی میں معلومات کم تھیں، اس لیے طالب علم کو سوچنا پڑتا تھا۔
آج معلومات بہت زیادہ ہیں، اس لیے طالب علم کو یہ سیکھنا ہوگا کہ کب معلومات تلاش کرنی ہے اور کب پہلے خود سوچنا ہے۔

⚙️ آج صرف ایک کام کرو۔
اپنی کتاب کھولو۔
کوئی ایک مشکل موضوع منتخب کرو۔
پندرہ منٹ تک بغیر موبائل کے اسے پڑھو۔
کتاب بند کرو۔
پھر پانچ منٹ میں اپنے الفاظ میں پورا موضوع لکھو۔
آخر میں کتاب کھولو اور دیکھو کہ کہاں غلطی ہوئی۔
بس۔
یہ چھوٹا سا عمل آپ کو 1990 کی دہائی کی ایک طاقتور عادت واپس دے سکتا ہے:
پہلے سوچو، پھر تلاش کرو۔

🚀 تصور کرو اگر طالب علم دوبارہ توجہ سے پڑھنے لگے…
اگر اسے ہر سوال کا فوری جواب نہ چاہیے ہو…
اگر وہ مشکل سوال دیکھ کر گھبرانے کے بجائے سوچنے لگے…
تو صرف اس کے نمبر نہیں بدلیں گے۔
اس کی شخصیت بدلے گی۔
اس کا اعتماد بڑھے گا۔
اس کی گفتگو بہتر ہوگی۔
اس کے فیصلے مضبوط ہوں گے۔
اور سب سے اہم… وہ دوسروں کے جواب پر زندہ رہنے کے بجائے اپنا جواب پیدا کرنا سیکھے گا۔

💰 1990 کی دہائی میں ہمارے پاس آج جیسی سہولتیں نہیں تھیں۔
لیکن ہمارے پاس ایک ایسی چیز تھی جس کی آج بہت قیمت ہے:
توجہ۔
تو سوال یہ نہیں کہ ہم کیسے پڑھتے تھے؟
اصل سوال یہ ہے…
آج اتنی سہولتوں کے باوجود ہم نے پڑھنے کی وہ عادت کیوں کھو دی؟

آپ کے خیال میں 1990 کی دہائی کی تعلیم کی سب سے بہترین عادت کون سی تھی؟
کمنٹ میں ضرور بتائیں۔

اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ آج کے طالب علم کو یہ بات پڑھنی چاہیے تو اسے ضرور آگے پہنچائیں۔ 👈

— Professor Naeem 👨‍🏫









🔥 "اٹلی جانا ہے، سکالرشپ بھی چاہیے، مگر IELTS نہیں کرنا" — یہ سن کر مجھے ہنسی بھی آتی ہے اور افسوس بھی۔کیا آپ نے بھی کبھ...
09/09/2026

🔥 "اٹلی جانا ہے، سکالرشپ بھی چاہیے، مگر IELTS نہیں کرنا" — یہ سن کر مجھے ہنسی بھی آتی ہے اور افسوس بھی۔

کیا آپ نے بھی کبھی سوچا ہے کہ بغیر انگریزی ثابت کیے، آپ کو کسی طرح ویزہ مل جائے؟ 🤔

احمد نے مجھے میسج کیا:
"پروفیسر صاحب، میرا کزن اٹلی میں ہے، اس نے بتایا ویزا ایجنٹ نے کہا IELTS کی ضرورت نہیں، بس فیس جمع کرا دیں۔"
میں نے پوچھا "کس یونیورسٹی میں؟"
احمد کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ تین ہفتے بعد اسی ایجنٹ نے کہا "فائل ریجیکٹ ہو گئی، انگریزی پروفیشنسی کا ثبوت چاہیے۔"
سچ یہ ہے کہ 💥 جو ایجنٹ آپ کو "بغیر IELTS" کا خواب بیچتا ہے، وہ دراصل آپ کا وقت اور پیسہ دونوں ظائع کر رہا ہوتا ہے۔

📘 اگر واقعی اٹلی جانا ہے اور سکالرشپ بھی چاہیے تو یہ تین باتیں ذہن نشین کر لیں۔

✅ پہلا سبق: زبان کا ثبوت متبادل ہو سکتا ہے، غائب نہیں
اٹلی کی زیادہ تر انگلش میڈیم یونیورسٹیز اور سکالرشپ پروگرامز (جیسے Invest Your Talent, DSU regional scholarships) کو یا تو IELTS چاہیے یا اس کا متبادل — TOEFL, PTE، یا یونیورسٹی کا اپنا انٹرنل انگلش ٹیسٹ۔
"بغیر ٹیسٹ" کا مطلب "بغیر پروفیشنسی ثبوت" نہیں ہوتا۔
اگر آپ کا انگریزی میڈیم سے بیچلرز ہے تو Waiver مل سکتی ہے، مگر اس کے لیے باقاعدہ دستاویزی ثبوت اور یونیورسٹی کی منظوری چاہیے — خودساختہ دعویٰ نہیں۔
مثال کے طور پر، کوئی طالب علم لکھتا ہے:
❌ "I have good English so I don't need any certificate."
یہ غلط ہے کیونکہ یونیورسٹی کو "اچھی انگریزی" کا دعویٰ نہیں، تصدیق شدہ سکور یا سرکاری میڈیم آف انسٹرکشن لیٹر چاہیے۔
مگر
✔ "I request a Medium of Instruction Waiver based on my English-medium bachelor's degree, as per the university's admission policy."
یہ درست ہے کیونکہ یہ ایک واضح، قابلِ تصدیق درخواست ہے جسے ایڈمیشن آفس باآسانی پراسیس کر سکتا ہے۔
اس طرح آپ کی فائل مضبوط بنیاد پر کھڑی ہوتی ہے، ریجیکشن کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
یونیورسٹی میں داخلہ تو مل سکتا ہے ہیں IELTS کے بغیر ویزہ نہیں

✅ دوسرا سبق: سکالرشپ کمیٹی زبان کو "میرٹ" سمجھتی ہے

سکالرشپ صرف نمبروں پر نہیں ملتی، آپ کی کمیونیکیشن کوالٹی بھی جانچی جاتی ہے — خاص طور پر موٹیویشن لیٹر اور انٹرویو میں۔
موٹیویشن لیٹر میں جملوں کی ساخت وہی غلطیاں دکھاتی ہے جو IELTS Writing میں پکڑی جاتی ہیں۔
ایک کمزور جملہ، پورے لیٹر کے تاثر کو کمزور کر دیتا ہے — چاہے آئیڈیا کتنا ہی زبردست کیوں نہ ہو۔
مثال کے طور پر:
❌ "I am very interested for study in Italy since long time and I want make my future bright."
یہ غلط ہے کیونکہ گرامر کی غلطی (interested for, since long time) پڑھنے والے کو فوراً بتا دیتی ہے کہ امیدوار کا اکیڈمک انگریزی کمزور ہے۔
مگر
✔ "I have been interested in studying in Italy for several years, and this program aligns directly with my long-term academic goals."
یہ درست ہے کیونکہ جملہ رواں، درست اور پروفیشنل ہے، اور کمیٹی کو امیدوار کی سنجیدگی پر بھروسہ ہوتا ہے۔
اس طرح آپ کا لیٹر باقی سینکڑوں درخواستوں میں نمایاں ہو جاتا ہے۔

✅ تیسرا سبق: IELTS "رکاوٹ" نہیں، "پاسپورٹ" ہے

جو طلبہ IELTS کو دشمن سمجھتے ہیں، وہ دراصل اپنے آپ کو یورپ کے دروازے سے دور کر رہے ہوتے ہیں۔
IELTS صرف انگریزی کا امتحان نہیں، یہ structured تھنکنگ اور خود اعتمادی کا امتحان بھی ہے — جو انٹرویو اور وائیوا میں کام آتا ہے۔
جو طالب علم بروقت، درست حکمتِ عملی سے IELTS کی تیاری کرتا ہے، وہ نہ صرف ویزا فائل مضبوط بناتا ہے بلکہ سکالرشپ انٹرویو میں بھی بہتر پرفارم کرتا ہے۔
اس طرح ایک ہی محنت آپ کو دو فائدے دیتی ہے — داخلہ بھی، اعتماد بھی۔

🧠 اندر کی بات یہ ہے: ایجنٹ کو فیس چاہیے، آپ کا مستقبل نہیں۔ جتنی جلدی آپ فائل جمع کرائیں گے، ایجنٹ کو اتنی جلدی کمیشن ملے گا.

⚙️ آج ہی یہ چھوٹا سا کام کریں: اپنی ٹارگٹ یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ کھولیں اور "English Language Requirement" سیکشن پڑھیں — خود، کسی ایجنٹ سے سنے بغیر۔

🚀 جس دن آپ یہ عادت اپنا لیں گے، آپ کی فائلز خود بولنے لگیں گی۔ آپ کو کسی ایجنٹ کی "یقین دہانی" کی ضرورت نہیں رہے گی — کیونکہ آپ خود جان چکے ہوں گے کہ اصل راستہ کیا ہے۔ اور جب اٹلی کی یونیورسٹی سے acceptance letter آئے گا، وہ خوشی کسی شارٹ کٹ سے نہیں ملے گی۔

💰 یاد رکھیں: شارٹ کٹ کبھی آپ کو یورپ نہیں پہنچاتا، صرف ایجنٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچاتا ہے۔

آپ کے خیال میں، طلبہ ایسے جھانسے میں کیوں آ جاتے ہیں؟ 🤔

👈 اگر آپ کا کوئی دوست بھی "بغیر IELTS" کے چکر میں ہے، یہ پوسٹ ابھی شیئر کریں۔

— پروفیسر نعیم 👨‍🏫









منہاج یونیورسٹی میں 11 سال تدریس کا موقع ملا۔ وہاں سے رخصت ہوئے بھی 21 برس گزر گئے، مگر کچھ رشتے وقت کے ساتھ پرانے نہیں ...
02/09/2026

منہاج یونیورسٹی میں 11 سال تدریس کا موقع ملا۔ وہاں سے رخصت ہوئے بھی 21 برس گزر گئے، مگر کچھ رشتے وقت کے ساتھ پرانے نہیں ہوتے۔

گزشتہ روز لاہور میں ایک خوبصورت نشست میں ڈاکٹر صاحب کے دونوں صاحبزادوں سے ملاقات ہوئی۔ دونوں کبھی میرے طالب علم رہے ہیں۔ آج انہیں اپنے اپنے میدان میں آگے بڑھتے دیکھ کر ایک استاد کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی اور کیا ہو سکتی ہے۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ میرے کچھ سابق طلبہ آج اسی ادارے میں تدریس سے وابستہ ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ استاد اور شاگرد کا تعلق صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہتا؛ وقت گزرنے کے ساتھ وہ ایک خوبصورت خاندانی نسبت میں بدل جاتا ہے۔

21 سال بعد بھی وہی اپنائیت، وہی محبت—بس وقت آگے بڑھ گیا ہے۔

🏆 ANOTHER IELTS SUCCESS!Tahira achieved Band 6.5 in Writing — in just 20 DAYS! 🎯She started with Writing 5.5➡️ 20 Days o...
31/08/2026

🏆 ANOTHER IELTS SUCCESS!
Tahira achieved Band 6.5 in Writing — in just 20 DAYS! 🎯

She started with Writing 5.5
➡️ 20 Days of focused training
➡️ Writing Band 6.5 🚀

And her latest IELTS results:
Listening: 7.5
Reading: 7.0
Writing: 6.5
Speaking: 7.0

🔥 Overall Band: 7.0

This is what focused training + personalised feedback + consistent practice can do.

5.5 → 6.5 in Writing in 20 Days.

If you are stuck at 5.5 or 6.0 and need a higher band, you don't necessarily need months—you need the right strategy, correction and practice.

Professor Naeem






30/08/2026

If you work, IELTS will work for you.

25/08/2026

💕

کبھی سوچا ہے کہ آج IELTS کی محنت کا درد برداشت کرنا آسان ہے یا کل کے پچھتاوے کا درد؟ 🔥آج صبح دو نوجوان ایک ہی خواب کے سا...
25/08/2026

کبھی سوچا ہے کہ آج IELTS کی محنت کا درد برداشت کرنا آسان ہے یا کل کے پچھتاوے کا درد؟ 🔥
آج صبح دو نوجوان ایک ہی خواب کے ساتھ اٹھے۔
ایک نے کہا:
"ابھی بہت وقت ہے، کل سے شروع کروں گا۔"
دوسرے نے کہا:
"دل نہیں کر رہا، لیکن پھر بھی آج ایک قدم اٹھاؤں گا۔"

سال گزرا۔
ایک کے پاس تھکن کی یادیں تھیں۔
دوسرے کے پاس کامیابی کی کہانی۔

فرق صرف یہ تھا کہ ایک نے محنت کا درد برداشت کیا،
اور دوسرے نے پچھتاوے کا درد خرید لیا۔

سچ یہ ہے کہ زندگی میں درد سے بچنے کا راستہ نہیں۔ درد تو ملنا ہے
لیکن
آپ صرف یہ طے کر سکتے ہیں کہ
کون سا درد برداشت کرنا ہے۔ 💥

📘 اگر واقعی اپنی زندگی بدلنا چاہتے ہیں تو یہ تین باتیں یاد رکھیں۔

✅ پہلا سبق
محنت کا درد عارضی ہوتا ہے، لیکن اس کا نتیجہ دیرپا ہو سکتا ہے۔
اپنا بڑا مقصد واضح کریں۔
اس مقصد کو چھوٹے روزانہ کے کاموں میں تقسیم کریں۔
روزانہ کم از کم ایک ایسا کام کریں جو آپ کو آپ کے مقصد کے قریب لے جائے۔
جب دل نہ چاہے تب بھی معمول نہ توڑیں۔
اپنی پیش رفت لکھیں۔
ہر ہفتے خود سے پوچھیں کہ میں آگے بڑھا ہوں یا صرف مصروف رہا ہوں؟
مثال کے طور پر، اگر آپ بیرون ملک تعلیم کے لیے تیاری کر رہے ہیں:
❌ "I will prepare for IELTS when I have enough time."
یہ جملہ دراصل وقت کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کی کمی ظاہر کرتا ہے۔
مگر:
✔ "I will practise speaking for thirty minutes every day."
یہ جملہ واضح ہے، قابلِ عمل ہے اور روزانہ کی پیش رفت پیدا کرتا ہے۔
اس طرح محنت کا درد آپ کی عادت بن جائے گا،
اور عادت آہستہ آہستہ آپ کی قابلیت بن جائے گی۔

✅ دوسرا سبق
پچھتاوا اکثر اس کام کا ہوتا ہے جو آپ نے کیا ہی نہیں۔
اپنے ذہن میں موجود بڑے خواب کو پہچانیں۔
اس خواب کے ساتھ جڑا سب سے بڑا خوف لکھیں۔
پھر یہ دیکھیں کہ اگر آپ نے کچھ نہ کیا تو پانچ سال بعد کیا ہوگا؟
اس مستقبل کی تصویر ذہن میں بنائیں۔
اب اسی مقصد کے لیے ایک چھوٹا قدم منتخب کریں۔
اس قدم کو آج ہی مکمل کریں۔
کیونکہ کامل وقت کا انتظار اکثر انسان کو نامکمل زندگی دے دیتا ہے۔
مثال کے طور پر:
❌ "I wish I had started learning English five years ago."
یہ جملہ ماضی کا افسوس دکھاتا ہے، لیکن مستقبل تبدیل نہیں کرتا۔
✔ "I am starting today because I do not want to regret this decision five years from now."
یہ سوچ انسان کو پچھتاوے سے نکال کر عمل کی طرف لے جاتی ہے۔
اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ اپنی زندگی کے فیصلے حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے۔

✅ تیسرا سبق
محنت کو سزا نہیں، اپنی نئی شناخت بنانے کا عمل سمجھیں۔
صرف یہ نہ کہیں کہ مجھے کامیاب ہونا ہے۔
یہ کہیں کہ میں ایسا شخص بن رہا ہوں جو اپنے وعدے پورے کرتا ہے۔
روزانہ ایک مشکل کام پہلے کریں۔
آسان کاموں میں پناہ نہ لیں۔
اپنی کمزوریوں سے بھاگنے کے بجائے انہیں تربیت کا میدان بنائیں۔
ناکامی کو فیصلہ نہ سمجھیں بلکہ رائے سمجھیں۔
غلطی کے بعد طریقہ بدلیں، مقصد نہیں۔
اور سب سے اہم بات، اپنے آپ سے کیے گئے چھوٹے وعدے بھی پورے کریں۔
مثال کے طور پر:
❌ "I am not good at speaking English, so I avoid speaking."
یہ سوچ کمزوری کو شناخت بنا دیتی ہے۔
✔ "I make mistakes when I speak English, but I will practise until I become confident."
یہ سوچ غلطی کو تربیت کا حصہ سمجھتی ہے۔
اس طرح آپ صرف کوئی ہنر نہیں سیکھیں گے،
آپ اپنے اندر وہ انسان پیدا کریں گے جو مشکل وقت میں بھی کھڑا رہتا ہے۔

🧠 ایک تلخ حقیقت سن لیں۔
زیادہ تر لوگ ناکام اس لیے نہیں ہوتے کہ ان میں صلاحیت نہیں ہوتی۔
وہ اس لیے پیچھے رہ جاتے ہیں کیونکہ وہ آج کی معمولی تکلیف سے بچنے کے لیے کل کی بڑی تکلیف قبول کر لیتے ہیں۔
آج تیس منٹ پڑھنا مشکل ہے۔
لیکن چند سال بعد یہ سوچنا کہ
"کاش میں نے اس وقت شروع کیا ہوتا"
اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔

⚙️ آج ایک کام کریں۔
کاغذ پر دو جملے لکھیں:
"اگر میں آج محنت کروں گا تو میری زندگی کہاں پہنچ سکتی ہے؟"
اور:
"اگر میں آج بھی ٹالتا رہا تو پانچ سال بعد مجھے کس بات کا پچھتاوا ہوگا؟"
پھر صرف ایک ایسا کام کریں جسے آپ مسلسل ٹالتے آ رہے ہیں۔
صرف ایک۔

🚀 تصور کریں کہ چند سال بعد آپ اپنے موجودہ فیصلے کو دیکھ رہے ہیں۔
آپ کہیں:
"اچھا ہوا میں نے اس دن خود کو مجبور کیا تھا۔"
وہ تیس منٹ۔
وہ ایک کلاس۔
وہ ایک درخواست۔
وہ ایک امتحان۔
وہ ایک کوشش۔
شاید آج معمولی لگے،
لیکن کل یہی چیز آپ کی زندگی کی سمت بدل سکتی ہے۔ 🎓

💰 یاد رکھیں:
محنت کا درد چند گھنٹوں، دنوں یا مہینوں کا ہو سکتا ہے۔
پچھتاوے کا درد برسوں تک ساتھ چل سکتا ہے۔

اب فیصلہ آپ کا ہے۔
آپ آج کس درد کو منتخب کر رہے ہیں؟
محنت کا درد یا پچھتاوے کا؟

اگر یہ بات دل پر لگی ہے تو اسے کسی ایسے شخص کے ساتھ ضرور شیئر کریں جو آج بھی "کل سے شروع کروں گا" کہہ رہا ہے۔ 👈

— Professor Naeem 👨‍🏫









انگلش آتی ہے پھر بھی IELTS میں مسئلہ؟ 🤔اگر آپ ایسا سوچتے ہیں آپکی انگلش اچھی ہے تو IELTS کی تیاری ضروری نہیں  تو یہی وہ ...
13/08/2026

انگلش آتی ہے پھر بھی IELTS میں مسئلہ؟ 🤔
اگر آپ ایسا سوچتے ہیں آپکی انگلش اچھی ہے تو IELTS کی تیاری ضروری نہیں تو یہی وہ سوچ ہے جو ہزاروں پاکستانی طلباء کو بار بار امتحان دلواتی ہے۔

علی سے ملیے۔ علی یونیورسٹی میں انگلش میڈیم میں پڑھا۔ دوستوں کے ساتھ فرفر انگلش بولتا۔ فارنر کلائنٹس سے فون پر بات کر لیتا۔ سب کہتے "یار تیری انگلش تو زبردست ہے، IELTS تو تیرے لیے آسان ہوگا۔"

اسکی پہلی کوشش میں بینڈ 5.5 آیا۔ دوسری کوشش میں 6۔ تیسری کوشش میں فیس، وقت، اور خود اعتمادی — تینوں ختم۔

سچ یہ ہے 💥:
کہ IELTS یہ نہیں دیکھتا کہ آپ بول سکتے ہیں یا نہیں۔ یہ دیکھتا ہے کہ آپ سوچے سمجھے انداز میں، درست structure کے ساتھ، مخصوص سوال کا جواب دے سکتے ہیں یا نہیں۔ "بولنا" اور "IELTS کے معیار پر بولنا" دو الگ چیزیں ہیں۔

📘 اگر نتیجہ چاہیے تو یہ تین باتیں ذہن نشین کر لیں:

✅ پہلا سبق — روانی الگ چیز ہے، ربط اور ترتیب الگ چیز

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ تیز اور بلا رکے بولنا ہی اچھی انگلش ہے۔ حقیقت میں IELTS Examiner دیکھتا ہے کہ آپ کے خیالات کس ترتیب سے، کس ربط کے ساتھ آ رہے ہیں۔
پہلے یہ طے کریں کہ آپ کا جواب کس نکتے سے شروع ہو گا۔ پھر ایک واضح رائے دیں، اس کے بعد وجہ، پھر مثال، اور آخر میں نتیجہ — اس ترتیب کی مشق روزانہ کریں۔ ہر جواب کو ذہن میں تین حصوں میں تقسیم کرنے کی عادت ڈالیں: نکتہ، وجہ، مثال۔ Linking words جیسے however، for instance، as a result کا استعمال جان بوجھ کر مشق کریں، نہ کہ بس بولتے چلے جائیں۔
مثال کے طور پر دیکھیں:
❌ "So basically like, you know, I think family is important because... yeah, like it's important, family and stuff."
یہ جملہ نہ صرف غیر واضح ہے بلکہ اس میں کوئی structure نہیں۔ Examiner کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ بات کہاں سے شروع ہوئی اور کہاں ختم۔
✔ "Family plays a central role in my life because it provides emotional support, and this becomes especially evident during difficult times."
یہاں ایک واضح رائے، وجہ اور تسلسل موجود ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو بینڈ 6 اور بینڈ 8 میں ہوتا ہے۔
اس طرح آپ کا جواب سنی ہوئی گفتگو نہیں بلکہ سوچا سمجھا جواب لگتا ہے۔

✅ دوسرا سبق — ایک چھوٹی سی گرامر کی غلطی، پورا بینڈ خراب کر دیتی ہے

عام خیال ہے کہ اگر بات سمجھ آ جائے تو گرامر کی غلطی معمولی ہے۔ IELTS میں ایسا نہیں۔ ایک غلطی بیک وقت آپ کے چاروں معیارات — روانی، الفاظ، گرامر، اور تلفظ — پر منفی اثر ڈالتی ہے۔

روزانہ اپنی گفتگو ریکارڈ کریں اور خود سنیں۔ فعل کی زمانہ (tense) کی غلطیوں کی فہرست بنائیں جو آپ بار بار دہراتے ہیں۔ ہر غلطی کو درست جملے میں لکھ کر تین بار زبانی دہرائیں۔ پیچیدہ جملے (complex sentences) بنانے کی مشق کریں، نہ کہ صرف سادہ جملے۔ کسی بھی جواب سے پہلے دو سیکنڈ رک کر جملے کی ساخت ذہن میں ترتیب دیں۔
مثال کے طور پر:
❌ "She go to market yesterday for buy vegetables."
یہ جملہ فعل کی غلط زمانہ اور غلط structure کی وجہ سے فوراً پکڑا جاتا ہے، اور صرف گرامر نہیں بلکہ روانی کا تاثر بھی خراب کرتا ہے۔
✔ "She went to the market yesterday to buy vegetables."
یہاں زمانہ درست ہے، ساخت واضح ہے، اور جملہ فطری انداز میں بہتا ہے۔
اس طرح ایک درست عادت آپ کے پورے جواب کا معیار بلند کر دیتی ہے، نہ کہ صرف ایک جملے کا۔

✅ تیسرا سبق — بڑے الفاظ نہیں، صحیح سیاق و سباق والے الفاظ چاہییں

بہت سے طلباء ڈکشنری سے مشکل الفاظ رٹ لیتے ہیں، یہ سوچ کر کہ بڑے الفاظ زیادہ نمبر دلائیں گے۔ Examiner دیکھتا ہے کہ آپ الفاظ کو صحیح موقع پر، صحیح ترکیب کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں یا نہیں۔
روزانہ کسی ایک موضوع (ماحولیات، تعلیم، ٹیکنالوجی) سے متعلق پانچ collocations یاد کریں، الگ الگ الفاظ نہیں۔ ہر لفظ کو اس کے فطری جوڑے کے ساتھ سیکھیں، جیسے alarming rate، not "very fast". اخبار یا آرٹیکل پڑھتے وقت مشکل الفاظ نہیں بلکہ عام مگر مؤثر phrases نوٹ کریں۔ روزمرہ گفتگو میں جان بوجھ کر انہی الفاظ کو دہرائیں تاکہ وہ زبان پر چڑھ جائیں۔ ایک ہی خیال کو تین مختلف طریقوں سے بیان کرنے کی مشق کریں۔
مثال کے طور پر:
❌ "The pollution is very bad and it is increasing day by day."
یہ جملہ بار بار دہرائے جانے والے سادہ الفاظ پر مشتمل ہے، جو بینڈ 5 سے 6 کی سطح ظاہر کرتا ہے۔
✔ "Pollution levels have escalated alarmingly, posing serious health risks to urban populations."
یہاں الفاظ موضوع کے عین مطابق اور فطری ترکیب میں استعمال ہوئے ہیں، جو اعلیٰ بینڈ کی نشانی ہے۔
اس طرح آپ کے جوابات نہ صرف متاثر کن لگتے ہیں بلکہ حقیقی مہارت بھی ظاہر کرتے ہیں۔

🧠 اندر کی بات یہ ہے: کوچنگ سینٹرز آپ کو یہ تین چیزیں شعوری طور پر نہیں سکھاتے۔

⚙️ آج ہی ایک کام کریں: اپنے آج کے کسی ایک جواب کو ریکارڈ کریں، اسے سنیں، اور اس میں سے صرف ایک گرامر کی غلطی نکال کر درست کریں۔ بس ایک۔

🚀 تصور کریں: تین مہینے بعد آپ کا ہر جواب structured، درست، اور پراعتماد ہے۔ آپ صرف انگلش بولنے والے نہیں رہے، بلکہ ایک سوچے سمجھے انداز میں سوچنے والے انسان بن چکے ہیں۔ اور یہ صلاحیت صرف IELTS تک محدود نہیں — ہر انٹرویو، ہر میٹنگ، ہر موقع پر آپ کا اعتماد بولے گا اور آپکو پوری زندگی اسکا فائدہ ہوگا۔

💰 یاد رکھیں: انگلش جاننا الگ بات ہے، انگلش کو examiner کی زبان میں پیش کرنا الگ ہنر۔ جو یہ ہنر سیکھ لے، وہی جیت جاتا ہے۔

آپ کے خیال میں سب سے زیادہ لوگ کس غلطی کی وجہ سے بینڈ گنواتے ہیں — روانی، گرامر، یا الفاظ؟ 👇

اگر یہ پوسٹ کسی ایسے دوست کے کام کی ہے جو "میری انگلش تو اچھی ہے" کہہ کر تیاری نہیں کر رہا، تو ابھی شیئر کریں۔

— Professor Naeem 👨‍🏫









یاد رکھیں، یورپ نہیں، سکالرشپ نہیں، IELTS Comes First!سب سے پہلے IELTS باقی سب بعد میں کیونکے اگر آئلٹس آگیا تو سکالرشپ ...
10/08/2026

یاد رکھیں، یورپ نہیں، سکالرشپ نہیں، IELTS Comes First!
سب سے پہلے IELTS باقی سب بعد میں کیونکے اگر آئلٹس آگیا تو سکالرشپ اور ویزہ سب مل گیا۔ 🔥

احمد نامی ایک طالب علم میرے پاس آیا۔ تیسری بار IELTS دے چکا تھا۔ ہر بار بینڈ 5.5 پر اٹک جاتا۔ میں نے پوچھا "روزانہ IELTS پر کتنا وقت دیتے ہو؟" جواب ملا "استاد جی، جو وقت بچتا ہے وہ دے دیتا ہوں۔" 🎉

یہی مسئلہ ہے۔ فیملی فنکشنز پہلے، دوستوں کے ساتھ گپ شپ پہلے، اور IELTS آخر میں — جب دماغ تھکا ہوا، توجہ بکھری ہوئی ہوگی تو IELTS کیسے ٹھیک ہوگا۔ 💥
دو مہینے محنت کر لینا کیا بار بار فیل ہونے سے زیادہ بھاری ہے؟

📘 اگر واقعی نتیجہ چاہیے تو یہ تین سبق ذہن نشین کر لیں۔

✅ پہلا سبق: Writing کو دن کا پہلا کام بنائیں۔

زیادہ تر طلبہ Writing کو سب سے آخر میں چھوڑتے ہیں کیونکہ یہ سب سے مشکل لگتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ Task Response کبھی مضبوط نہیں بن پاتا۔ ترجیح کا اصول یہ ہے کہ سب سے مشکل کام کو دن کے سب سے تازہ دماغ والے وقت میں کریں۔ روزانہ ایک Task 2 essay لکھیں، اس میں واضح موقف دیں، ہر پیراگراف میں ایک ہی خیال کو وضاحت دیں، اور اپنے essay کو خود دوبارہ پڑھ کر جانچیں کہ سوال کا براہ راست جواب دیا یا نہیں۔
مثال کے طور پر دیکھیں:
❌ "In today's world, education is very important for the students."
یہ جملہ کمزور ہے۔ اس میں نہ واضح موقف ہے، نہ کوئی ذاتی رائے۔ Examiner اسے Task Achievement میں کم نمبر دے گا کیونکہ یہ سوال کا سیدھا جواب نہیں دیتا۔
لیکن
✔️ "While some argue that practical skills matter more than formal education, I firmly believe structured learning remains essential for long-term career growth."
یہ جملہ واضح موقف رکھتا ہے، دونوں پہلو تسلیم کرتا ہے اور پھر ایک مضبوط رائے دیتا ہے۔ یہی Task Response کا اصل معیار ہے۔
اس طرح جب Writing کو ترجیح ملتی ہے تو باقی سب کچھ خودبخود بہتر ہونے لگتا ہے۔

✅ دوسرا سبق: Speaking میں الفاظ سے پہلے روانی کو ترجیح دیں۔

لوگ مشکل الفاظ رٹنے میں وقت ضائع کرتے ہیں جبکہ Examiner دراصل فطری روانی اور ربط سنتا ہے۔ روزانہ پانچ منٹ کسی موضوع پر بلا رکے بولنے کی مشق کریں، اپنی آواز ریکارڈ کریں، اور اپنے جملوں میں ذاتی تجربہ شامل کرنا سیکھیں۔
مثال کے طور پر:
❌ "I am very much interested in this topic and I have many things to say about it."
یہ جملہ خالی ہے۔ نہ کوئی تفصیل، نہ کوئی حقیقی مثال۔ Examiner اسے Fluency and Coherence میں کمزور سمجھے گا۔
لیکن
✔️ "This topic genuinely fascinates me because I experienced a similar situation during my university internship last year."
یہ جملہ مخصوص، ذاتی اور قدرتی ہے۔ اس میں ایک حقیقی حوالہ ہے جو روانی کو یقینی بناتا ہے۔
اس طرح جب روانی کو پہلے رکھا جائے تو الفاظ خودبخود جگہ بنا لیتے ہیں۔

✅ تیسرا سبق: Reading میں وقت کو الفاظ سے پہلے ترجیح دیں۔

اکثر طلبہ ہر لفظ پڑھتے ہیں اور وقت ختم ہو جاتا ہے۔ ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ پہلے سوالات پڑھیں، پھر متعلقہ حصے کو scan کریں، اور ہر سوال پر ایک مقررہ وقت طے کریں۔
مثال کے طور پر:
❌ "I read the whole passage word by word to find the answer to question five."
یہ طریقہ وقت ضائع کرتا ہے اور آخری سوالات کے لیے وقت ہی نہیں بچتا۔
لیکن
✔️ "I scanned the paragraph for keywords related to question five and located the answer within thirty seconds."
یہی مہارت ہے جو IELTS Reading میں فرق پیدا کرتی ہے۔
اس طرح جب وقت کو ترجیح دی جائے تو پورا پرچہ وقت پر مکمل ہوتا ہے۔

🧠 اب ایک چھپی ہوئی حقیقت سن لیں: کئی کوچنگ سینٹرز جان بوجھ کر آپ کو "مکمل انگریزی کورس" میں الجھائے رکھتے ہیں، لیکن اصل مسئلہ آپ کی انگریزی نہیں، سسٹم ہے۔ اگر آپ IELTS System کو سمجھ جائیں تو کچھ مشکل نہیں ہے۔

⚙️ آج ہی ایک کام کریں: اگلے تین دن، سب سے پہلے صبح بیس منٹ Writing یا Speaking کو دیں، باقی سب کام بعد میں۔

🚀 سوچیں، اگر یہ عادت مستقل بن جائے تو دو ماہ بعد آپ کہاں کھڑے ہوں گے؟ نہ بار بار امتحان دینے کا خرچہ، نہ وقت کا ضیاع — بلکہ ایک واضح، پراعتماد اور کامیاب امیدوار آپکی کی پہچان ہوگی۔ 🎓

💰 یاد رکھیں، جس چیز کو زندگی میں اہم رکھا جاتا ہے، وہی زندگی بدلتی ہے۔

آپ کی روزمرہ ترجیحات میں IELTS کہاں کھڑا ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔ 👈
اپنے کسی ایسے دوست کو Share کریں جو ابھی تک IELTS کی الجھن میں ہے۔

— Professor Naeem 👨‍🏫









🔥 ایک سوال پوچھوں؟ آپ IELTS Speaking میں جواب دینے سے پہلے سوچتے کس زبان میں ہیں؟اگر جواب "اردو میں سوچتا ہوں پھر ٹرانسل...
09/08/2026

🔥 ایک سوال پوچھوں؟ آپ IELTS Speaking میں جواب دینے سے پہلے سوچتے کس زبان میں ہیں؟

اگر جواب "اردو میں سوچتا ہوں پھر ٹرانسلیٹ کرتا ہوں" ہے... تو بس یہیں تمہارا بینڈ سکور مر رہا ہے 💀

احمد کی مثال لو۔
بندہ محنتی، ووکیبلری زبردست، گرامر شاندار — مگر اسپیکنگ ٹیسٹ میں ہر بار 6 بینڈ پر اٹک جاتا۔
وجہ؟
ہر جواب دینے سے پہلے دماغ میں پہلے اردو جملہ بنتا، پھر اسکا ترجمہ ہوتا، پھر منہ سے نکلتا۔
نتیجہ؟
رکاوٹیں، غلط الفاظ کا جوڑ، اور ایسی انگلش جو "سنی سنائی" لگتی تھی۔
سچ سنو گے؟
ایگزامنر کو پتا چل جاتا ہے جب کوئی بندہ ترجمہ کر کے بول رہا ہو تو الفاظ کا جوڑ عجیب لگتا ہے اور جملے کی بناوٹ بھی قدرتی نہیں لگتی۔ اور بس، اس طرح آپکے Fluency اور Lexical Resource دونوں کے بینڈ نیچے چلے جاتے ہیں 📉

📘 اگر رزلٹ چاہیے تو یہ تین سبق ذہن نشین کر لو:

✅ پہلا سبق — اردو میں سوچنا بند کرو، انگلش میں سوچنا شروع کرو

یہ اسکل راتوں رات نہیں آتی، روزانہ پریکٹس مانگتی ہے۔ صبح اٹھتے ہی اپنے دن کا پلان انگلش میں خود سے بولو۔ جو کام کر رہے ہو اسے زبانی بولا کرو جیسے
"I am making tea, I am checking my phone."
آئینے کے سامنے 5 منٹ خود سے بات کرو۔ روزمرہ کے جملے ذہن میں ریڈی میڈ رکھو تاکہ ترجمے کی نوبت ہی نہ آئے۔ اپنی آواز ریکارڈ کرو اور سنو کہ کہاں رک رہے ہو۔
مثال کے طور پر، دیکھیں جیسے:
❌ "I am from two days feeling bad."
یہ "دو دن سے طبیعت خراب ہے" کا لفظی ترجمہ ہے — انگلش میں ایسی گرامر بناوٹ سرے سے موجود ہی نہیں۔
مگر
✔ "I've been feeling unwell for the past two days."
یہ صحیح ہے کیونکہ یہاں present perfect continuous استعمال ہوا، جو انگلش میں وقت کے تسلسل کو ظاہر کرنے کا فطری طریقہ ہے۔ اس طرح سے تمہاری گرامر رینج بھی نظر آتی ہے اور جملہ قدرتی بھی لگتا ہے۔

✅ دوسرا سبق — لفظی محاورے ترجمہ مت کرو

اردو کے محاورے سیدھے انگلش میں الٹا دینا سب سے بڑی غلطی ہے۔ ہر زبان کے اپنے فطری تاثرات ہوتے ہیں، اور وہ رٹے نہیں جاتے، پڑھے اور سنے جاتے ہیں۔ روزانہ ایک نیچرل انگلش Expression سیکھو اور اسے اپنی بات میں استعمال کرو۔ Native English کے پوڈکاسٹ یا شارٹ کلپس سنو اور نوٹ کرو وہ روزمرہ باتیں کیسے کہتے ہیں۔
مثال کے طور پر:
❌ "My mind is not working."
"میرا دماغ نہیں چل رہا" کا لفظی ترجمہ ہے، سنتے ہی عجیب لگتا ہے۔
مگر
✔ "I can't think straight right now."
یہ فطری انگلش Expression ہے جو مقامی بولنے والے واقعی استعمال کرتے ہیں۔ اس سے تمہاری Lexical Resource بینڈ اوپر جاتی ہے کیونکہ ایگزامنر کو Natural Collocation نظر آتی ہے۔

✅ تیسرا سبق — ترجمے کی وجہ سے رکاوٹیں ختم کرو

جتنی دیر تم ذہن میں ترجمہ کرتے ہو، اتنی دیر خاموشی یا "actually... I mean..." جیسے فلرز آتے ہیں۔ اس کی جگہ ریڈی میڈ Chunks (پہلے سے تیار جملوں کے ٹکڑے) استعمال کرنا سیکھو
— "To be honest,"
"From my point of view,"
"What I mean is."
یہ تمہیں سوچنے کا وقت بھی دیتے ہیں اور قدرتی بھی لگتے ہیں۔ ہر روز 3 نئے چنکس یاد کرو اور جملوں میں فٹ کرو۔
اس طرح سے جب تمہارا دماغ ترجمے کی بجائے سیدھا انگلش میں پروسیس کرے گا، رکاوٹیں خودبخود کم ہو جائیں گی اور بولنے کا بہاؤ نیچرل لگے گا۔

🧠 اب ایک اندر کی بات سنو: ایگزامنرز کو باقاعدہ ٹریننگ دی جاتی ہے ترجمہ والی انگلش پہچاننے کی۔ الفاظ کا غلط جوڑ، ساخت کی بے ترتیبی — یہ سب فوراً پکڑا جاتا ہے۔ چاہے تمہاری ووکیبلری کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، اگر تم ترجمہ کر کے بول رہے ہو، تمہارا بینڈ 6 سے اوپر جانا مشکل ہے 🎯

⚙️ آج ہی سے شروع کرو: روزانہ 10 منٹ کا "سیلف ٹاک چیلنج" — جو بھی کرو، انگلش میں خود سے بولو۔ اردو میں سوچنے کی بھی اجازت نہیں۔

🚀 ذرا تصور کرو — تین ہفتوں بعد جب تمہارے جملے رکے بغیر نکلیں گے، جب ایگزامنر تمہاری فطری انگلش سن کر مسکرائے گا، جب انٹرویو میں بھی تمہاری بات چیت پر اعتماد لگے گی۔ اس بینڈ سکور صرف ایک نمبر نہیں، وہ تمہاری نئی پہچان بن جائے گا۔ 🎓

💰 یاد رکھو — جتنی دیر تم ترجمہ کرتے رہو گے، اتنی دیر پیسہ اور وقت دونوں ضائع ہوتے رہیں گے۔

تم کتنی دیر سے اردو میں سوچ کر انگلش بول رہے ہو؟
کمنٹ میں بتاؤ 👇
اور جس دوست کو یہ عادت ہے، اسے ابھی شیئر کرو 👈

— Professor Naeem 👨‍🏫









Address

College Road
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Professor Naeem posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Professor Naeem:

Shortcuts

Share

Category