26/08/2026
رحمتِ عالمگیر: 12 ربیع الأول — تمام انسانیت کے لیے نویدِ مسرت اور نسخۂ کیمیا
تاریخِ انسانی کے ہزارہا سالہ سفر میں کئی انقلاب آئے، قومیں ابھریں اور زوال پذیر ہوئیں، قائدین نے جنم لیا اور اپنے نشان چھوڑ گئے۔ لیکن بارہ ربیع الأول کا سورج جب کرۂ ارض پر طلوع ہوا، تو یہ محض کسی ایک قوم، خطے یا مذہب کے رہنما کی آمد کا دن نہیں تھا؛ بلکہ یہ کائنات کے وجود کے اصل مقصد، یعنی "رحمت اللعالمین" حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی اس دنیا میں تشریف آوری کا مبارک لمحہ تھا۔ یہ وہ دن ہے جس نے نوعِ انسانی کو جہالت، ستم ظریفی اور بدامنی کی تیرگی سے نکال کر علم، عدل اور باہمی احترام کی روشنی عطا کی۔
اگر ہم بعثتِ نبوی ﷺ سے قبل کی دنیا کے حالات پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت سسک رہی تھی۔ عرب کے تپتے صحراؤں سے لے کر روم و فارس کی عظیم سلطنتوں تک، طاقتور کا قانون نافذ تھا۔ عورت کو کمتر اور باعثِ ننگ و عار سمجھا جاتا تھا، یتیموں اور مسکینوں کا مال غصب کرنا معمول تھا، اور ذات پات و رنگ و نسل کی بنیاد پر انسانوں کی تذلیل کی جاتی تھی۔ ایسے اندوہناک ماحول میں آپ ﷺ کی تشریف آوری کائنات کے لیے ایک خشک سالی کے بعد رحمت کی بارش ثابت ہوئی۔
آپ ﷺ نے جن آفاقی اصولوں پر ایک مثالی معاشرے کی بنیاد رکھی، وہ نہ صرف اس دور کے لیے بلکہ آج کے تمام جدید اور ترقی یافتہ انسانوں کے لیے بھی یکساں سود مند اور مشعلِ راہ ہیں:
1۔ انسانی مساوات کا عالمگیر منشور
آپ ﷺ نے اپنے خطبۂ حجة الوداع میں وہ انقلابی حقیقت بیان فرمائی جس کے لیے آج دنیا کی بڑی بڑی تنظیمیں کوششیں کر رہی ہیں۔ آپ ﷺ نے واضح الفاظ میں فرمایا: "کسی عربی کو عجمی پر، اور کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر، اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں مگر تقویٰ کے باعث۔" اس ایک اعلان نے نسلی تعصب، طبقاتی تقسیم اور غلامی کی زنجیروں کو ہمیشہ کے لیے توڑ دیا۔
2۔ مظلومین اور مستضعفین کے حقوق کی بحالی
آپ ﷺ نے معاشرے کے سب سے کمزور طبقے کو عزت و وقار بخشا۔ عورت، جسے ایک بوجھ سمجھا جاتا تھا، اسے ماں کی صورت میں جنت کا ذریعہ، بیٹی کی صورت میں رحمت، اور بیوی کے روپ میں گھر کی ملکہ کا درجہ دیا۔ یتیموں کے سر پر دستِ شفقت رکھنے، مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرنے، اور حیوانات تک کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنے کے احکامات جاری فرمائے۔
3۔ امن، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی
آپ ﷺ کی ذاتِ بابرکت نے فاتحِ مکہ بن کر دنیا کو "عفو و درگزر" کا وہ سبق دیا جس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ بدترین دشمنوں کو ایک جملے میں معاف کر دینا ("آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو") تاریخِ عالم کا عظیم ترین معجزہ ہے۔ میثاقِ مدینہ کے ذریعے مختلف ادیان و قائل کے درمیان پرامن بقائے باہمی کی جو بنیاد آپ ﷺ نے رکھی، وہ آج کے کثیر الثقافتی (multicultural) معاشروں کے لیے بہترین مثال ہے۔
آج کا پیغام اور عملی تقاضے
آج جب ہم جشنِ ولادتِ باسعادت کا انعقاد کر رہے ہیں، تو چراغاں کرنے، گلی محلوں کو سجانے اور نعت خوانی کی محفلیں سجانے کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ کیا ہم اپنے کردار اور عمل سے سیرتِ طیبہ کا حق ادا کر رہے ہیں؟
حقیقی عشقِ رسول ﷺ اور اس دن کی سچی خوشی تب ہی مکمل ہو سکتی ہے جب ہم آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی روزمرہ کی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔
اخلاقِ حسینہ کو اپنائیں: اپنی گفتگو میں نرمی، سچائی اور امانت داری لائیں۔ کسی کا دل نہ دکھائیں اور اپنے رویوں سے دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں۔
مخلوقِ خدا کی بلا تفریق خدمت: اپنے آسپاس موجود فقراء، بیماروں، یتیموں اور بے سہاروں کی بلا تفریقِ مذہب و ملت مدد کریں۔ یہی سیرتِ رحمۃ اللعالمین ﷺ کا جوہر ہے۔
سنتوں کی ترویج: آپ ﷺ کی مبارک سنتوں—چاہے وہ چھوٹوں سے شفقت ہو، بڑوں کا ادب ہو، صفائی کا خیال رکھنا ہو یا مسکرا کر ملنا ہو—ان کو اپنے گھروں اور دفاتر کا حصہ بنائیں۔
کثرتِ درود و سلام: اپنی زبان کو مسلسل درودِ پاک کے معطر کلمات سے تر رکھیں، جو دلوں کی صفائی اور رب کی رضا کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ ﷺ
اللہ تعالیٰ تمام عالمِ اسلام اور پوری انسانیت کو اس مبارک دن کی برکتوں سے فیضیاب فرمائے، ہمارے دلوں کو محبتِ مصطفیٰ ﷺ سے منور کرے، اور ہمیں آپ ﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!