Furqan Mushtaq HopeWala

Furqan Mushtaq HopeWala

Share

We Are Available For Your Help Always.........

WhatsApp me
03164550190

*YouTube channel Link*
htt

16/04/2022

*M***i H M Noman Introduction*
03064070248

School Education: FA
Dars e Nizami Course: *Jamia Naeemia Garhi Shahoo Lahore*

*M***i Course*: Jamia Naeemia Garhi Shahoo*

Recent Job : *Home Tutor*
Expert In Teaching: *Arabic & Urdu*

*Contact us:*
Whatsapp
+923164550190

*WhatsApp Group*
Learn Quran With H M Noman Mushtaq Link:
https://chat.whatsapp.com/E0eYphynobUDFXy0JDaOiS

*page*
Learn Quran With H M Noman Mushtaq Link:
https://www.facebook.com/Learn-Quran-With-H-M-Noman-Mushtaq-100186705589910

***i

Photos from Furqan Mushtaq HopeWala's post 03/04/2022

Ramadan Mubarak to All Muslims

27/03/2022

Agar ap Corruption krne waly ko nahi Tangain gy To
Wo Ap Ko Taang Dain Gy
Shukria...........
Zara Nahi........
Pora Socho.......

Non Political Post.........
You Apply that to Your Buisness

08/02/2022

صحرائے چولستان کا سب سے بڑا انٹرنیشنل ایونٹ، *چولستان جیپ ریلی* ، *قلعہ دراوڑ* اور نوابوں کی *سلطنت بہاولپور* کی سیر کریں اور جانیئے سلطنت بہاولپور کے بارے میں بہت کچھ، لیوینچر ٹورازم کے ساتھ.
*12-13 فروری 2022*

مزید تفصیلات کیلئے.

Call/Whatsapp:
0321 5884031
0307 4338786
Fb: www.facebook.com/leventuretourismpk






01/02/2022

Don't stop when you are tired, stop when you are done!



01/02/2022

لوینچرٹوورزم اور کرتارپور
پہلی قسط
سکھ مذہب کی ابتدا کب اور کس نے کی؟
بابا گرو نانک کون تھے؟ ایک مسلمان صوفی یا ہندو گرو؟
بابا گرو نانک کی قبر بھی ہے اور سمادھی بھی، کیوں؟
کرتار پور کوریڈور اور گرودوارہ کی سکھوں کیلئے کیا اہمیت ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جو عثمان بھائی نے مجھے واٹس ایپ کئے۔ ان سوالوں اور اس طرح کے بہت سے سوالات کے جوابات جاننے کے لیے مجھے شیراز بھائی اور عثمان بھائی کے ساتھ ایک مرتبہ پھر "کرتارپور راہداری " جانے کا موقع ملا۔ میں اس سے پہلے بھی دسمبر 2019ء میں بھی کرتارپور جا چکا ہوں ۔ سفر کا آغاز ماڈل ٹاؤن پارک سے ہونا تھا چنانچہ میں کزن زاہد شریف سات بجے ماڈل ٹاؤن پہنچ گیا جہاں پر عثمان بھائی اور بعض دوسرے جانے والے افراد موجود تھے ۔ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ معروف سفرنامہ نگار جناب مستنصر حسین تارڑ صاحب اپنی معمول کی واک لیے پارک میں تشریف لائے جن کا عثمان بھائی نے کرتارپور جانے والوں سے مختصر تعارف کروایا ۔ تھوڑی ہی دیر میں گاڑی بھی آگئی اور ہم براستہ فیروزپورروڈ ، شاہدرہ، لاہور سیالکوٹ موٹروے اور ناروال سے کرتارپور کی جانب روانہ ہوئے۔ کرتارپور جاتے ہوئے کچھ لوگوں کے لیٹ ہونے کی وجہ سے ہمیں تھوڑی دیر کے لیے شاہدرہ رکنا پڑا۔جب گاڑی لاہور سیالکوٹ پر رواں تھی تو تمام لوگوں جن کا تعلق مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تھا ان کامختصر تعارف ہوا۔ جب گاڑی ناروال روڈ پر رواں تھی تو عثمان بھائی نے دیئے گے سوالات کے جوابات تفصیل سے دیئے ۔ آئیے ہم ان جوابات کی روشنی میں بابا گرونانک اور سکھ مذہب کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔
بابا گرونانک
باباگرو نانک کے والد کا نام مہتہ کالو( کلیان چندداس بیدی) کا تعلق "تلونڈی" (ننکانہ صاحب )سے تھا ۔ بابا گرونانک کی والدہ کا نام "ترپتا " تھا اور ان کا تعلق "کاہنہ نو" سے تھا ۔ والدین مذہباً ہندو تھے۔بابا گرونانک کی پیدائش 15 اپریل 1469ء کو تلونڈی میں ہوئی۔ گرو نانک نے جب ہوش سنبھالا تو انہیں ایک ہندو استاد کے پاس حساب اور مسلمان استاد سید حسین کے پاس عربی اور فارسی پڑھنے کے لیے بھیجا گیا۔ باباگرونانک کا پڑھائی کی طرف کچھ خاص دھیان نہیں تھا وہ اپنے اندر سے آئی آواز کو سنتے ہوئے حق سچ کی تلاش میں نکل پڑے اور جنگلوں میں بیٹھے درویشوں اور فقیروں کی صحبت اختیار کرلی، ان کا اولیا اللہ کے ساتھ بھی ایک خاص رشتہ رہا جن میں پیر جلال‘ میاں مٹھا‘ شاہ شرف الدین‘ پیر عبد الرحمٰن اور پاک پتن کے حضرت بابا فرید ثانی کا نام سر فہرست ہے۔ ان کی ایک بہن تھیں، جن کا نام بی بی مانکی ،وہ ان سے پانچ سال بڑی تھیں۔ 1475ء میں ان کی شادی بھارتی ضلع کپور تھلہ کے گاؤں " سلطان پور لودھی " میں ہوئی ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حق سچ کی دھن میں مگن بابا گرونانک اپنے والدین کی دنیاوی باتوں سے منتشر ہو کے ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہونے لگے جسے دیکھتے ہوئے ان کے گھر والوں نے ان کی شادی کرنے کا فیصلہ کرلیا کہ شائد شادی کے بعد ان میں تبدیلی آئے اور وہ دنیا داری کے کاموں کی طرف راغب ہو جائیں، لہذا محض 16 سال کی عمر میں 14 ستمبر 1487ء کو بابا گرونانک کی " ماتا سلکھنی" نامی خاتون سے آج کے بھارتی ضلع گورداسپور کے علاقہ " بٹالا" میں شادی ہوئی ۔ ان کے ہاں دو بیٹے"سری چند " اور "لکھمی چند" پیدا ہوئے۔ باباگرونانک کی ساری زندگی برصغیر کے طول و عرض میں حق سچ اور اپنی تعلیمات کی تبلیغ میں گزاری۔ انہوں نے سعودی عرب کے شہر مکہ المکرمہ اور مدینہ المنورہ کے علاوہ بہت سے اسلامی ممالک کا بھی سفر کیا جن میں مصر، تاشقند، تبت، فلسطین، اردن، شام اور بغداد شامل ہیں۔ باباگرونانک نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارنے کیلئے دریائے راوی کے کنارے اس جگہ رخ کیا جسے آج کرتارپور کہا جاتا ہے۔
سکھ مذہب
بعض محققین نے لکھا ہے کہ جب بابا نانک کی عمر تیس سال کے قریب پہنچی تو سکھوں کی روایات کے مطابق انہیں اللہ کا دیدار نصیب ہوا اور انہیں پیغمبر کے طور پر منتخب کر لیا گیا اور انہیں ’’کوئی مسلمان ہے نہ کوئی ہندو‘‘ کا پیغام دیا گیا ۔اس کے بعد بابا نانک نے اسلام اور ہندو مت کے درمیان اتحاد کی تبلیغ کرتے ہوئے مستقل اسفار شروع کئے اور اپنے ساتھی مر دانہ کے ساتھ اس نئی تعلیم کے مبلغ بن گئے اور اس طرح سے سکھ مذہب کا آغاز ہوا،نانک کے ابتدائی دور میں انکے پیرو کار کو بھائی کہا جاتا تھاجو غالبا پانچویں گرو کے دور میں ’’سکھ ‘‘ کے نا م سے متعارف ہوئے،سکھ پنجابی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی مقلد کے ہیں ۔کالم نگار اکرام سہگل روزنامہ ایکسپریس میں سکھ مذہب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ جنوبی ایشیا کے بڑے مذاہب میں سب سے کم عمر اور دنیا کا پانچواں سب سے بڑا منظم مذہب ہے، جو اکیسویں صدی کے اوائل تک تقریباً 25-30 ملین سکھوں پر مشتمل تھا۔سکھ مذہب کی تشکیل گرو نانک (پہلے گرو 1469–1539) اور ان کے بعد آنے والے نو سکھ گروؤں کی روحانی تعلیمات سے ہوئی۔ دسویں گرو، گوبند سنگھ (1666-1708) نے سکھوں کے مقدس صحیفے "گرو گرنتھ صاحب "کو اپنا جانشین نامزد کیا، جس سے انسانی گروؤں کے سلسلے کا خاتمہ ہو گیا اور صحیفے ہی کو آخری ابدی گیارہویں زندہ گرو کے طور پر مقرر کر لیا گیا، جو سکھوں کو مذہبی، روحانی اور زندگی کے معاملات میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ سکھوں کے مقدس صحیفے گرو گرنتھ صاحب کو زندہ گرو مانا جاتا ہے۔گرو گرنتھ کا آغاز گرو نانک کی شاعرانہ تخلیقات کے ایک مجموعے کے طور پر ہوا تھا۔ اپنی موت سے قبل انھوں نے یہ مجموعہ گرو انگد دیوکے حوالے کر دیا۔ گرو گرنتھ صاحب کا حتمی نسخہ گرو گوبند سنگھ نے 1678 میں مرتب کیا تھا جس میں گرو تیغ بہادر کے بھجن کا اضافہ کیا گیا ہے۔ گرو گرنتھ صاحب کا بڑا حصہ سات سکھ گروؤں کی تخلیقات ہیں، لیکن اس میں تیرہ ہندو سَنتوں اور دو مسلمان صوفیوں یعنی کبیر اور صوفی شیخ فرید کی روایات اور تعلیمات بھی شامل ہیں۔ اس کا متن چھ ہزار اشلوک پر مشتمل ہے جن کی ساخت شاعرانہ ہے اور یہ قدیم شمالی ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی تال سے ہم آہنگ ہیں۔گرنتھ کا بڑا حصہ ساٹھ راگوں میں منقسم ہے، ہر گرنتھ راگ کو اس کی طوالت کے مطابق تقسیم کیا گیا ہے۔ گرنتھ کے راگ صرف سکھ نہیں گاتے بلکہ زیادہ تر مسلمان یا ہندو گائیک گاتے ہیں کیونکہ وہ گرو گرنتھ کے تمام راگوں پر عبور رکھتے ہیں۔ گرو گرنتھ کے اشلوکوں کی مرکزی زبان کو" سَنت بھاشا "پکارا جاتاہے جو پنجابی اور ہندی دونوں کا آہنگ اور لہجہ رکھتی ہے اورقرون وسطیٰ کے شمالی ہندوستان میں مقبول مذاہب کے بانیان نے استعمال کی ہے۔ گرنتھ" گُرمکھی" رسم الخط میں چھپتا ہے۔سکھ مت کی ایک روحانی جہت بھی ہے۔ یہ مراقبے اور گروؤں کی تعلیمات کو یاد کرنے پر زور دیتا ہے، جس کا اظہار کیرتن کے ذریعے غنائی طور سے، یا من ہی من میں نام جپنے (‘اس کے نام پر مراقبہ’) کے ذریعے کیا جا سکتا ہے، انھیں خدا کی موجودگی کو محسوس کرنے کے ذرایع سمجھا جاتا ہے۔ یہ پیروکاروں کو ”پانچ چوروں” سے لڑنا اور انھیں تبدیل کرنا سکھاتا ہے (یعنی ہوس، غصہ، لالچ، لگاؤ اور انا)۔ سکھ سمجھتے ہیں کہ دنیا اس وقت کَل یُگ (‘اندھیرے کا دور’) کی حالت میں ہے کیوں کہ دنیا مایا کی محبت اور لگاؤ کی وجہ سے راہ راست سے ہٹی ہوئی ہے۔مرد سکھوں میں سنگھ (‘شیر’) ان کے نام کا درمیانی یا آخری حصہ ہوتا ہے۔ خواتین سکھوں کا درمیانی یا آخری نام کور (‘شہزادی’) ہوتا ہے۔ سکھ مذہب کے بارے میں دو نظریے پائے جاتے ہیں ، بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ ایک جدید اور خود مختار مذہب ہے ؛ جبکہ بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہ کوئی با قاعدہ مذہب نہیں ہے ، بلکہ یہ ہندومت کی ایک اصلاحی تحریک کا نام ہے جس نے ہندوانہ عقائد اور نظریات کی اصلاح کا بیڑ ہ اٹھایا تھااور اس کا نصب العین ہندوؤں کے مذہبی عقائد کی تطہیر تھا۔سکھ مذہب میں بھی فرقے پائے جاتے ہیں جن میں " نانک پنتھی"یہ لوگ امن پسند ہوتے ہیں اور لمبے بال رکھنے پر اصرار نہیں کرتے اور ڈاڑھی منڈوانے کو ترجیح دیتے ہیں۔"اداسی"یہ لوگ رہبا نیت پسند ہوتے ہیں۔"اکالی" اکالی کے معنی ہیں ’’اللہ‘‘ یعنی خدا کی پوجا کرنے والا ، یہ لوگ انتہائی جنگجو ہوتے ہیں۔(جاری ہے)

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address

SHAHDARA LAHORE
Lahore