Mmg
Something new is about to happen
تلاوت قرآن پاک �
ختم بخاری وصحاح ستہ کے آخری سبق کے موقع پر الحمداللہ شکرا یاربی شکرا مسجد کی طرف رواں دواں
. ایک فلسطینی جوان کے نام
(ابو عبیدہؔ کی انگشتِ شہادت سے ماخوذ " أشهد أن لا اله الا اللّٰه " اطال اللّٰه عمرہ و جنودہ " آمین یا ربّ العالمین)
گونج اٹھی ہے جہاں میں پھر اذاں " أن لا الہ"
بحر و بر ، دشت و جبل سارا جہاں " أن لا الہ"
چاہتا ہے بحرِ قلزم پھر کوئی ضربِ کلیم
طور پھر سے مضطرب ہے ہم زباں " أن لا الہ"
پھر یدِ بیضاء لیے ظلمت کدۂ بزم میں
پھر کوئی موسی ہے پیدا ، رازداں " أن لا الہ"
پیش خیمہ ہے ترے میداں میں " مہدی فوج " کا
سوئے میداں ہوگا پھر لشکر رواں " أن لا الہ "
پیکرِ عزم و جنوں ہو خوگرِ صبر و رضا
بندۂ مؤمن کی جرات کا نشاں " أن لا الہ"
ایک مردِ بے خطر کے سامنے ہے سرنگوں
اس زمیں کی ساری قوت ، آسماں " أن لا الہ "
خوف و دہشت کی علامت " بو عُبیـدہ " مردِ حُر
دل ہے پیغامِ محمدؐ اور زباں" أن لا الہ "
(شـاہؔی ارریـاوی)
کبھی غم کی آگ میں جل اٹھے
کبھی داغ دل نے جلا دیا
اے جنون عشق بتا ذرا
مجھے کیوں تماشا بنا دیا
غم عشق کتنا عجیب ہے
یہ جنون سے کتنا قریب ہے
کبھی اشک پلکوں پہ رک گئے
کبھی پورا دریا بہا دیا
ابھی کررہا ہے وہ ابتدا
میرا کہہ رہا ہے یہ تجربہ
اسے زندگی کی ہے آرزو
مجھے زندگی نے مٹا دیا
جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم
جوچلے تو جاں سے گزر گئے
رہ یار ہم نےقدم قدم تجھے یادگار بنا دیا
فیض احمد فیض
شام جب اترتی ھے
سرمئی اندھیروں میں
درد کے سمندر میں
اک فشار اٹھتا ھے
خواہشوں کی لہروں! میں
خواب میری آنکھوں کے
ڈوب ڈوب جاتے ھیں
تم سے بس یہ کہنا ھے
لوٹ کے جب آؤ گے
پھر ھمیں نہ پاؤ گے
دل پہ ہاتھ رکھو گے
بھیگی بھیگی پلکوں سے
ہنسنا بھول جاؤ گے
ھم بھی درد لکھتے ھیں
تم کو یاد کرتے ھیں
خود کو بھول جاتے ھیں
انتخاب 👇
نور بلوچ
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ھے
ھم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ھے
باہزاراں اضطراب و صد ہزاراں اشتیاق
تجھ سے وہ پہلے پہل دل کا لگانا یاد ھے
بار بار اٹھنا اسی جانب نگاہ شوق کا
اور ترا غرفے سے وہ آنکھیں لڑانا یاد ھے
تجھ سے کچھ ملتے ھی وہ بے باک ھو جانا مرا
اور ترا دانتوں میں وہ انگلی دبانا یاد ھے
کھینچ لینا وہ مرا پردے کا کونا دفعتاً
اور دوپٹے سے ترا وہ منہ چھپانا یاد ھے
جان کر سوتا تجھے وہ قصد پا بوسی مرا
اور ترا ٹھکرا کے سر وہ مسکرانا یاد ھے
تجھ کو جب تنہا کبھی پانا تو از راہ لحاظ
حال دل باتوں ھی باتوں میں جتانا یاد ھے
جب سوا میرے تمہارا کوئی دیوانہ نہ تھا
سچ کہو کچھ تم کو بھی وہ کارخانہ یاد ھے
غیر کی نظروں سے بچ کر سب کی مرضی کے خلاف
وہ ترا چوری چھپے راتوں کو آنا یاد ھے
آ گیا گر وصل کی شب بھی کہیں ذکر فراق
وہ ترا رو رو کے مجھ کو بھی رلانا یاد ھے
دوپہر کی دھوپ میں میرے بلانے کے لیے
وہ ترا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ھے
آج تک نظروں میں ہے وہ صحبت راز و نیاز
اپنا جانا یاد ہے تیرا بلانا یاد ھے
میٹھی میٹھی چھیڑ کر باتیں نرالی پیار کی
ذکر دشمن کا وہ باتوں میں اڑانا یاد ھے
دیکھنا مجھ کو جو برگشتہ تو سو سو ناز سے
جب منا لینا تو پھر خود روٹھ جانا یاد ھے
چوری چوری ھم سے تم آ کر ملے تھے جس جگہ
مدتیں گزریں پر اب تک وہ ٹھکانا یاد ھے
شوق میں مہندی کے وہ بے دست و پا ہونا ترا
اور مرا وہ چھیڑنا وہ گدگدانا یاد ھے
باوجود ادعائے اتقا حسرتؔ مجھے
آج تک عہد ہوس کا وہ فسانا یاد ھے
حسرت موہانی
بات پُھولوں کی سُنا کرتے تھے
ھم کبھی شعر کہا کرتے تھے
مِشعلیں لے کے تمہارے غم کی
ھم اندھیروں میں چلا کرتے تھے
اب کہاں ایسی طبیعت والے
چوٹ کھا کر جو دُعا کرتے تھے
ترک احساس محبت ، مشکل
ھاں مگر اھلِ وفا کرتے تھے
بِکھری بِکھری ھُوئی زُلفوں والے
قافلے روک لیا کرتے تھے
آج گلشن میں شگوفے ساغرؔ
شکوۂ بادِ صبا کرتے تھے
ساغر صدیقی
جوائے لینڈ میں واقع آسمانی ریل گاڑی میں بیٹھ کر جھولے لیتے ہوئے 💓💓💓❤️
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Lahore