Urdu Development and Translation Center, PU

Urdu Development and Translation Center, PU

Share

UDTC, under the directorship of Prof.

Dr. Baseera Ambareen, works for the promotion of the Urdu language and literature, through the publication of academic books, compilation, and translation.

Photos from Urdu Development and Translation Center, PU's post 01/05/2024

30 اپریل 2024 کو ادارہ تالیف و ترجمہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے زیر انتظام ادارہ زبان و ادبیات اردو ، اورینٹل کالج کے استاد ، اردو ادب کے معروف مصنف ،محقق، تخلیق کار ،اور نقاد پروفیسر ڈاکٹر ناصر عباس نئیر کی اپنے تدریسی عہدے سے سبکدوشی کے موقع پر اعزازی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اس تقریب کی صدارت معروف شاعر، محقق اور عالم ڈاکٹر خورشید رضوی نے کی۔ مہمان مقررین میں ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی ،ڈاکٹر اورنگزیب نیازی، ڈاکٹر نجیب جمال، ڈاکٹر اشفاق ورک، ڈاکٹر شاہ زیب خان ،ترکی سے تشریف لائے سکالر محمد حذیفہ، سابق بیورکریٹ اور مصنف رانا محبوب اختر شامل تھے اس تقریب کی نظامت کے فرائض غلام علی(طالب علم، بی ایس اردو) نے انجام دیے۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ جس کے بعد بارگاہ رسالت ماب میں ہدیہ نعت پیش کیا گیا۔ تلاوت نعمان علی(طالب علم ، بی ایس اردو) اور نعت جشن عباس(طالب علم ، بی ایس اردو) نے پیش کی۔ مہمان مقررین نے ڈاکٹر ناصر عباس نئیر کی شخصیت اور ان کی تحریروں میں پائی جانے والی خوبیوں پر سیر حاصل گفتگو کی۔ تمام مقررین نے ڈائریکٹر ادارہ تالیف و ترجمہ پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر کا شکریہ ادا کیا اور اس شاندار تقریب کے انعقاد پر انہیں مبارکباد پیش کی۔ ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے ناصر عباس نئیر صاحب کے لیے ایک خوبصورت نظم تخلیق کی۔ جس کو سن کر سامعین بہت محظوظ ہوئے۔ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے ڈاکٹر ناصر عباس نئیر سے اپنی دیرینہ رفاقت کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے لیے لکھا گیا اپنا ایک مضمون پیش کیا اور اردو زبان و ادب بالخصوص اردو تنقید پر کیے گئے ان کے کام کو بہت سراہا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ان جذبات کا اظہار بھی کیا کہ یہ تقریب ڈاکٹر ناصر عباس نئیر جیسے شخص کی شایان شان تو نہیں ہے لیکن محدود وسائل میں ہم نے اپنی سی بھرپور کوشش کی ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر ناصر عباس نئیر کی سبکدوشی کو پنجاب یونیورسٹی کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا۔ڈاکٹر ناصر عباس نئیر نے اپنی تقریر میں ڈاکٹر زاہد منیر عامر سے اپنی 35 سالہ رفاقت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اورینٹل کالج میں موجود اساتذہ میں سے جس شخص سے وہ سب سے پہلے متعارف ہوئے وہ ڈاکٹر زاہد منیر عامر تھے۔انہوں نے اپنی سبکدوشی اور اس تقریب کے حوالے سے ایک مضمون پیش کیا۔ جس میں انہوں نے نہ صرف ڈائریکٹر ادارہ تالیف و ترجمہ پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر کا شکریہ ادا کیا بلکہ اس تقریب میں شامل ہونے والے تمام شرکاء کا شکریہ بھی ادا کیا اور اپنے تمام طلبہ و طالبات کے لیے دعاؤں اور نیک جذبات کا اظہار کیا۔ آخر پر ڈاکٹر خورشید رضوی نے خطبہ صدارت دیتے ہوئے ڈاکٹر ناصر عباس نئیر کی شخصیت اور ان کے فن کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی۔ ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے تمام مہمان مقررین کو ادارہ تالیف و ترجمہ سے شائع ہونے والی مختلف کتب کا تحفہ پیش کیا اور ادارہ تالیف و ترجمہ کی طرف سے ڈاکٹر ناصر عباس نئیر کی بیش بہا خدمات کے اعتراف میں اعزازی شیلڈ بھی عطا کی۔اس تقریب میں پنجاب یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔

28/04/2024

اردو ادبیات کے مایہ ناز استاد اور نقاد پروفیسر ڈاکٹر ناصر عباس نیر کو پنجاب یونیورسٹی کے لیے گراں قدر خدمات پر خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ادارۂ تالیف و ترجمہ میں ایک تقریب کا انعقاد کیا جارہا ہے ۔

Photos from Urdu Development and Translation Center, PU's post 25/04/2024

اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام علامہ اقبال کےمجموعۂ کلام 'بانگ درا' کی اشاعت کے سو سال مکمل ہونے پر جشن بانگ درا کا انعقاد کیا گیا۔
اس تقریب کی صدارت ڈائریکٹر ادارۂ تالیف و ترجمہ پنجاب یونیورسٹی جناب پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے فرمائی ۔
اپنے خطبۂ صدارت میں ڈاکٹر صاحب نے "فکر اقبال کے ارتقا میں بانگ درا کا مقام" کے موضوع پر بسیط گفتگو فرمائی جس کو حاضرین کی طرف سے بہت پسند کیا گیا۔
اختتام پر ڈائریکٹر اکادمی ادبیات پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف صاحبہ نے ڈاکٹر صاحب کی آمد اور علم افروز گفتگو پر ان شکریہ ادا کیا۔

26/03/2024

پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر کے سفرنامے "کشور اطالیہ کی بہار" پر ضیغم عباس گوندل(وزٹنگ لیکچرر جی سی یونیورسٹی) کا تبصرہ

ٰڈاکٹر زاہد مُنیر عامر اور کشورِ اطالیہ کی بہار

وطن عزیز کے نام ور اُستاد، ہمہ جہت شخصیت کے مالک پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں ہے۔ آپ اردو زبان و ادب کے معروف محقق، شاعر، نقاد، مخطوطہ شناس، سفر نامہ نگار اور اقبال شناس ہیں۔ آپ کو آپ کی اعلیٰ تعلیمی قابلیت کی بنا پر متعدد اعزازات اور طلائی تمغوں سے نوازا جا چکا ہے۔ ڈاکٹر صاحب جاپان، جرمنی، اٹلی، فرانس، ترکی، یونان، نیدرز لینڈز، مصر، ایران، اردن، شام، لبنان، سوئٹزر لینڈ، سپین، ماریشس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے متعدد علمی و ادبی تقریبات میں خطاب کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ سو (۱۰۰) سے زائد بین الاقوامی کانفرنسز، سیمے نارز میں مقالات پیش کرنے کا اعزاز بھی انھیں حاصل ہے۔ ڈاکٹر زاہد منیر عامر صاحب کی تقریباً پچاس کتب شائع ہو چکی ہیں۔ تین شعری مجموعے ”پہلی سحر کے رنگ“، ”ترا عکس آئینوں میں“ اور ”نظم مجھ سے کلام کرتی ہے“ شائع ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی نمایاں تصانیف میں ”تاریخِ جامعہ پنجاب“، ”کلیاتِ میر سوز“ (جلد اوّل و دوم)، ”چار موسم ایچی سن کالج میں“، ”مکاتیبِ ظفر علی خان“، لمحوں کا قرض“، ”لمحے کی روشنی“، ”مولانا ظفر علی خان کتابیات“، ”اپنی دنیا آپ پیدا کر“، ”اقبال کا جہانِ نو“، ”اقبال شناسی اور نویدِ صبح“، "Riligious Tolerence in Iqbal's Philosophy"، ”بدایات و نہایات“، ”مراۃ السلوک“، ”نقوشِ جاوداں“، ”جہات“، ”چلچراغ“، ”روشناس“، ”ظفر علی خان خطوط و خیوط“، ”حالات و مکتوبات مولانا تاج محمود“، ”جنت کا باغ“، ”جزیرے کا خواب“، ’شام کی صبح لبنان کی شام“، "Over the Deep"، ”ستارہئ سحر“، ”فی حب مصر“،"Humanity Beyond Greed" اور "Socio Political Features of Educational Landscape in Pakistan" سقراط کا دیس" ،" مِصر: خواب اور تعبیر"، "اقبال امروز و فردا"، "طلب کے لمحے"، "دو کوزہ گر" اور "جہاں آفاق ملتے ہیں" (بلادی نظمیں) وغیرہ شامل ہیں۔ مختلف ٹی وی چینلز پر ۰۰۵ کے قریب ڈاکٹر صاحب کے لیکچرز نشر کیے جا چکے ہیں۔ آج کل پنجاب یونیورسٹی لاہور سے بہ حثیت ڈائریکٹر ادارہ تالیف و ترجمہ اور پروفیسر اُردو وابستہ ہیں۔ اس سے قبل انہیں ادارہ زبان وادبیاتِ اُردو، اورینٹل کالج لاہور کے پہلے ڈائریکٹر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوچکا ہے۔

کشور اطالیہ کی بہار:
ڈاکٹر زاہد منیر عامر کا ساتواں سفرنامہ ہے جو ادارہ تالیف و ترجمہ پنجاب یونیورسٹی لاہور پاکستان اور نیپلز یونیورسٹی۔نیپلز،اٹلی کے اشتراک سے 2023ء میں شایع ہوا۔ اس اعتبار سے یہ ہماری ادبیات کی تاریخ میں پہلا سفرنامہ/ پہلی کتاب ہے جو ایک پاکستانی یونیورسٹی سے کسی یورپی یونیورسٹی کے اشتراک کے ساتھ شایع ہوئی ہے۔ سفر انسانی زندگی کا لازمی جزو ہے بلکہ یوں کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ سفر زندگی ہے اور ہم اس کے مسافر، فاروق روکھڑی کا شعر ہے:
کٹ تو گیا ہے کیسے کٹا ہے نہ پوچھیے
یارو سفر حیات کا آسان تو نہ تھا

احمد فراز نے کہا تھا:
یہ عُمر بھر کی مسافت ہے دل بڑا رکھنا
کہ لوگ ملتے بچھڑتے رہیں گے رستے میں

میں کہاں ہجر و فراق کے قصوں میں الجھ گیا واپس آتے ہیں سفر اور سفرنامے کی طرف۔ سفرنامے کا شمار ادب کی بیانیہ اصناف میں ہوتا ہے۔ سفرنامہ نگار خارج کی ایک ایسی تصویر بناتا ہے جسے وہ اپنے سفری مشاہدات و تاثرات، ذوقِ جمال اور تخیل کی آمیزش سے رنگ دیتا ہے۔
ایک کامیاب سفرنامہ نہ صرف ہماری معلومات میں اضافہ کرتا ہے بلکہ مسافر کے دل و دماغ میں پیدا ہونے والے تاثرات کا بھی اظہار کرتا ہے۔ بیان کی شگفتگی اور روانی سفرنامے کی اہمیت بڑھا دیتی ہے۔ سفرنامے کی زبان سادہ اور رواں ہونی چاہیے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ بیان کی شگفتگی اور حلاوت کو بھی نظر انداز کر دیا جائے۔ بے شک سفرنامہ سفرنامہ نگار کے سفر کی روداد یا رپورتاژ ہوتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ سفرنامے اور رپورتاژ کا فرق ہی ختم کر دیا جائے۔ سفرنامے میں نہ صرف تخیل کی گنجائش ہوتی ہے بلکہ اس سے کام لینا بھی ضروری ہوتا ہے۔

ڈاکٹر زاہد منیر عامر کا سفرنامہ "کشور اطالیہ کی بہار" ان کے اٹلی کے سفر کی روداد ہے۔ اس کا عنوان مولانا ظفر علی خان کے ایک شعر:

اے کشورِ اطالیہ کے باغ کی بہار
لاہور کا دمن ہے تیرے فیض سے چمن

سے اخذ کیا گیا ہے۔ سفرنامے کے آغاز میں "از دیدگاہِ شاعر " کے مرکزی عُنوان کے تحت اٹلی ، فلورنس ، نیپلز اور ہالینڈ چار مختلف شہروں پر چار مختصر، خوبصورت نظمیں ہیں جو سفر نامہ نگار کے شعری ذوق اور منفرد نظم نگار ہونے کا عملی ثبوت ہیں۔ بیان کی شگفتگی اور تخیل کی آمیزش تحریر کے حُسن کو بڑھا دیتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی اس تحریر کو پر لُطف اور رنگین بنانے کے لیے مزاح کا بھی خوب تڑکا لگایا ہے۔ مزاح اگرچہ سفرنامے کے لیے ضروری نہیں ہے لیکن محمود نظامی سے لے کر ابنِ انشاء تک ابنِ انشاء سے لے کر بیگم اختر ریاض الدین تک اور بیگم اختر ریاض الدین سے لے کر مستنصر حسین تارڑ تک ہر بڑے سفرنامہ نگار نے اسے اپنی تحریر میں ضرور جگہ دی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے بھی اس روایت کو برقرار رکھا ہے اقتباس دیکھیے:
"مجھے وہ پٹھان یاد آ گیا، جس نے دوسرے میزبانوں کے ساتھ، مہمان کو کھانا کھلانے کے جھگڑے پر، مہمان ہی کو گولی مار دی تھی کہ اگر میں اسے کھانا نہیں کھلا سکتا تو تمہیں بھی کھانا نہیں کھلانے دوں گا۔ چنانچہ نہ رہا بانس نہ بجی بانسری۔"

ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے تخیل کی آمیزش اور بیان کی شگفتگی کے ساتھ ساتھ تاریخی اور واقعاتی حقیقت کے بیان میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ایک سچے سیاح کی طرح تجسس و جستجو، تحقیق اور احترام کی نگاہ سے نہ صرف اٹلی کے تہذیب و تمدن، تاریخ، تاریخی واقعات اور مقامات کو دیکھا ہے بلکہ ان کی بھرپور اور کامیاب تصویریں بھی پیش کی ہیں۔ تخیل، ادبیت اور حقیقت نگاری کے امتزاج کا حامل یہ سفرنامہ ایک کامیاب اور بہترین سفرنامہ ہے۔ ڈاکٹر زاہد منیر عامر کسی جگہ بھی تحقیق اور حقیقت کے دامن کو اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ صحفہ نمبر 190 پر لکھتے ہیں۔
"میں اسے دیکھ کر ان سفرنامہ نگاروں کو یاد کرنے لگا جنہیں ائیرپورٹوں پر صرف پریاں ملتی ہیں جو انہیں اپنے پروں پر اڑا کر لے جانے کی مشتاق ہوتی ہیں اور وہ انہی کی رفاقت میں اپنے اوقات اور سفرنامے کے اوراق سیاہ کرتے چلے جاتے ہیں۔"

سفرنامے میں ڈاکٹر زاہد منیر عامر کی کثیر الجہت شخصیت کی جگہ جگہ چھاپ ہے۔ یہ سفرنامہ ان کی علم دوستی، ذوقِ تحقیق، شوقِ سفر، اردو کے ساتھ فارسی سے لگاؤ، شعر پسندی اور انسان دوستی کی بھی غمازی کرتا ہے۔
بر محل اشعار کا استعمال، بیان کی شگفتگی، معلومات کی فراہمی، تخیل کے ساتھ حقیقت کا امتزاج اور سفری مشاہدات و تاثرات کا بے ساختہ اظہار، مذکورہ سفرنامے کو ایک کامیاب سفرنامہ بنا دیتا ہے۔ مختصراً ڈاکٹر زاہد منیر عامر کا سفرنامہ "کشور اطالیہ کی بہار" اردو سفرناموں میں قابلِ قدر اضافہ ہے۔

Photos from Urdu Development and Translation Center, PU's post 09/03/2024

پنجاب یونیورسٹی کتاب میلے میں پاکستان کے ممتاز اور معروف صحافی اور مصنف جناب الطاف حسن قریشی صاحب کے ساتھ ڈائریکٹر ادارۂ تالیف و ترجمہ پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر ،قلم فاؤنڈیشن کے اسٹال پر تشریف فرما ہیں۔

Photos from Urdu Development and Translation Center, PU's post 07/03/2024

قارئین کے لیے خوش خبری ۔
پنجاب یونیورسٹی کے ادارۂ تالیف و ترجمہ سے پنجاب یونیورسٹی سے تین نئی کتب کی اشاعت۔

1۔لارڈ ویول کے دور حکومت پر مشتمل کتاب ترجمہ ہو کر ”لارڈ ویول اور برطانوی راج کا دم واپسیں“ کے نام سے شایع ہوگیا ہے۔

2۔ مصر کے شہر اسکندریہ پر ڈاکٹر زاہد منیر عامر کی کتاب ”ایک شہر جو کبھی نہیں سوتا “ چھپ گئی ہے۔

3-ڈاکٹر زاہد منیر عامر کی ایک کتاب کا ترجمہ جامعہ الازہر کی استاذہ ڈاکٹر صباح علی عبد المعز نے ”ادخلوا اٰمین“ کے نام سے کردیا ہے۔

یہ تینوں کتابیں بک فئیر میں ادارۂ تالیف و ترجمہ ہے اسٹال پر دستیاب ہیں۔

Photos from Urdu Development and Translation Center, PU's post 24/02/2024

ڈائریکٹر ادارۂ تالیف و ترجمہ پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر صاحب کی گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان سے ملاقات
ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے گورنر پنجاب کی خدمت میں اپنی نو طبع کتب پیش کیں۔

23/02/2024

انجنیئر عنایت علی صاحب کی ادراہ تالیف و ترجمہ آمد
ڈائریکٹر ادارہ پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر کو اپنی کتاب پیش کی

06/02/2024

پنجاب یونیورسٹی لاہور اور نیپلز یونیورسٹی اٹلی کے اشتراک باہمی سے ڈائریکٹر ادارۂ تالیف و ترجمہ پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر صاحب کا سفرنامہ اٹلی'کشور اطالیہ کی بہار ' کے نام سے شائع ہوا ہے۔اصغر علی کھوکھر صاحب کا کتاب پر تبصرہ ملاحظہ ہو۔

04/02/2024

ممتاز ماہر اقبالیات اور استاد ادب پروفیسر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی رحلت پر بزم اقبال پاکستان کے زیر اہتمام مرحوم کی یاد میں تعزیتی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں ملک کے نام ور اسکالرز اور ان کے رفقا نے شرکت کی۔اس موقع پر ہاشمی صاحب کے شاگرد رشید،سابق رفیق کار اور ڈائریکٹر ادارۂ تالیف و ترجمہ پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے بھی اظہار خیال کیا۔

01/02/2024

بانی ”لولاک“ مولانا تاج محمود کی یاد میں ظفر علی خان فاؤنڈیشن میں ایک تقریب منعقد ہورہی ہے۔
ڈائریکٹر ادارۂ تالیف و ترجمہ پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر صاحب بھی خطاب فرمائیں گے ۔

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address

Urdu Development And Translation Centre, Punjab University New Campus
Lahore
54590

Opening Hours

08:30 - 04:00