14/04/2026
1931 میں مراکش میں ایک شخص دریافت ہوا جس کا نام عزّو باسو تھا۔ وہ وادیِ دادس میں، سکورا کے قریب رہتا تھا۔
مقامی لوگ پہلے ہی اس کے بارے میں جانتے تھے اور بتاتے تھے کہ وہ ایک غار میں رہتا ہے، کچا گوشت کھاتا ہے اور نہایت سادہ اوزار استعمال کرتا ہے۔ وہ عموماً ننگا گھومتا تھا، صرف تصویر لینے کے لیے اسے ایک تھیلا سا پہنایا گیا تھا۔ اور اس کی ذہنی صلاحیتیں محدود بتائی جاتی تھیں۔باسو چند الفاظ ادا کر سکتا تھا، لیکن اس کی زیادہ تر گفتگو واضح نہیں تھی۔ اس کی جسمانی ساخت بھی غیر معمولی تھی، جیسے پیشانی پیچھے کو جھکی ہوئی، ابھرا ہوا جبڑا، بڑی ناک، اور غیر معمولی طور پر لمبے بازو جو تقریباً گھٹنوں تک پہنچتے تھے۔ 1956 میں فرانسیسی مصنف ژاں بولے، ماہرِ بشریات مارسل گومے کے ساتھ، اس علاقے میں آئے تاکہ اس معاملے کا قریب سے مطالعہ کریں۔کچھ سائنس دانوں نے اس کی کھوپڑی کا موازنہ نیاندرتھل انسان کے باقیات سے کیا اور کچھ مشابہتیں نوٹ کیں۔ سنسنی خیز اخبارات نے اسے فوراً "گمشدہ کڑی" قرار دے دیا، گویا وہ زندہ نیاندرتھل ہو۔ تاہم، تفصیلی سائنسی تحقیق کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ غالب امکان یہی ہے کہ وہ صِغَرِ دماغ مائیکروسیفلی نامی بیماری میں مبتلا تھا۔
13/04/2026
ایک خاتون آٹو ورک شاپ گئی، اور 710 مانگا 😀
سب ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے، كسی کو کچھ سمجھ میں نہیں آیا، تو ایک مکینک نے پوچھا : یہ 710 کیا ہے ؟
خاتون نے کہا: وہ انجن کے بیچ میں لگا ایک چھوٹا سا پرزہ ہوتا ہے، وہ کھو گیا ہے.
مکینک نے ایک سادہ کاغذ دیا کہ اس پر اس کی تصویر بنا دیجیے، خاتون نے ایک دائرہ بناکر اس پر 710 لکھ دیا
پھر بھی کسی کو کچھ سمجھ میں نہیں آیا، مکینک اس خاتون کو ایک دوسری گاڑی پر لے گیا، اور گاڑی کا انجن دکھا کر بولا، اس میں وہ پارٹ ہو تو بتائیے،
خاتون نے کہا کہ سامنے ہی تو ہے
اس پارٹ کو دیکھ کر مکینک غش کھا کر گر پڑا، اور ابھی بھی حالت بے ہوشی میں ہے
آئیے، آپ بھی اس پارٹ کا دیدار کرلیں....
09/03/2026
کہا جاتا ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے بیٹے کی تین بار شادی کی اور ہر بار بیٹا اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا تھا بغیر کسی وجہ کے جو اس کے والد کو معلوم ہوا۔
آخر کار، والد نے بیٹے کو بیویوں کو طلاق دینے کی وجہ سے محل سے نکال دیا۔
بیٹا شہر سے باہر کام کی تلاش میں نکل گیا اور ایک مالدار شخص کے ہاں بکریاں چرانے کا کام ملا۔ وہ شخص نوجوان سے بہت متاثر ہوا۔
اس مالدار شخص کی ایک ہی بیٹی تھی اور اس نے سوچا کہ اسے نوجوان سے شادی کروا دے تاکہ وہ ان کے ساتھ رہے۔
اس نے اپنی بیٹی کو یہ بات بتائی، تو بیٹی نے کہا کہ وہ اس نوجوان سے شادی نہیں کرے گی جب تک کہ وہ اس کے ساتھ سفر نہ کرے اور اس کی حقیقت کو جان نہ لے۔
مالک نے نوجوان سے کہا کہ کل تم بکریاں چرنے نہ لے جاؤ، ہم کچھ دنوں کے لیے سفر کریں گے تاکہ کچھ کام نمٹایا جا سکے۔
سفر کے دوران، وہ دونوں ایک گلہ بکریوں کے پاس سے گزرے۔ نوجوان نے کہا، "کتنی زیادہ ہیں اور کتنی کم ہیں۔" مالک حیران ہوا لیکن کچھ نہ بولا۔
پھر وہ ایک اور گلہ بکریوں کے پاس سے گزرے، نوجوان نے کہا، "کتنی کم ہیں اور کتنی زیادہ ہیں۔"
مالک نے دل میں سوچا کہ یہ نوجوان بیوقوف ہے، اس لیے میری بیٹی نے مجھے اس کے ساتھ سفر کرنے کو کہا تھا۔
پھر وہ ایک قبرستان کے پاس سے گزرے، نوجوان نے کہا، "تم میں زندہ بھی ہیں اور مردہ بھی۔"
پھر وہ ایک خوبصورت باغ کے پاس سے گزرے، نوجوان نے کہا، "مجھے نہیں معلوم کہ یہ باغ ہرا بھرا ہے یا سوکھا ہوا ہے۔" مالک بہت حیران ہوا لیکن کچھ نہ بولا۔
پھر وہ ایک گاؤں میں پہنچے اور پانی طلب کیا، لوگوں نے انہیں دودھ دیا۔ نوجوان نے خود پیا اور پھر مالک کو دیا۔
پھر وہ ایک اور گاؤں میں پہنچے اور پانی طلب کیا، لوگوں نے انہیں پانی دیا۔ نوجوان نے پہلے مالک کو دیا اور پھر خود پیا۔
مالک نے دل میں سوچا کہ نوجوان نے مجھے دودھ دینے میں بے احترامی کی اور پانی دینے میں عزت دی۔
واپس سفر سے آ کر مالک نے اپنی بیٹی کو سارا ماجرا سنایا۔ بیٹی نے کہا کہ وہ نوجوان بہت اچھا انسان ہے۔
مالک نے حیران ہو کر پوچھا کہ کیسے؟
بیٹی نے جواب دیا:
پہلا گلہ بکریوں کا، اس میں مینڈھے زیادہ تھے اور بکریاں کم۔
دوسرا گلہ بکریوں کا، اس میں بکریاں زیادہ تھیں اور مینڈھے کم۔
قبرستان، جس نے اولاد چھوڑی وہ زندہ ہے اور جس نے نہیں چھوڑی وہ مردہ۔
باغ، اگر مالک نے اپنے پیسوں سے بنایا ہے تو ہرا بھرا ہے اور اگر قرضے سے بنایا ہے تو سوکھا ہوا ہے۔
دودھ جب برتن میں ڈالا جاتا ہے تو دودھ نیچے بیٹھ جاتا ہے اور پانی اوپر آ جاتا ہے، اس نے پہلے پانی پیا اور آپ کو دودھ دیا۔
کنویں کا پانی، صاف پانی اوپر آتا ہے، اس نے آپ کو پہلے دیا۔
مالک نے بیٹی کی باتیں سن کر نوجوان سے اپنی بیٹی کی شادی کروا دی۔
شادی کے بعد جب نوجوان اپنی بیوی کے پاس آیا تو اس نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا، "یہ سر کس کا ہے؟"
بیوی نے جواب دیا، "یہ میرا سر تھا اور اب تمہارا ہے۔"
نوجوان نے کہا، "سفر کے لیے تیار ہو جاؤ، میں بکریاں چرانے والا نہیں ہوں، میں بادشاہ کا بیٹا ہوں اور میں تمہاری تلاش میں نکلا تھا۔
15/02/2025
فاطمہ کی بصیرت
یہ کہانی ایک شخص اور اس کی تین بیٹیوں کی ہے۔ اس کی بیوی چند سال قبل انتقال کر چکی تھی، اور وہ اپنی بیٹیوں کی دیکھ بھال نہایت محبت اور شفقت سے کرتا تھا۔ اس شخص کا نام رشید تھا، اور اس کی تینوں بیٹیاں بےحد حسین اور نیک سیرت تھیں۔ لیکن سب سے چھوٹی بیٹی، فاطمہ، غیر معمولی ذہین تھی۔ رشید نے ہمیشہ اپنی بیٹیوں کو ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی اور ان کی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کی۔
رشید ایک محنتی آدمی تھا اور روزی روٹی کے لیے گاؤں سے باہر کام کرنے جاتا تھا۔ اس کی بیٹیاں اس کے کام میں مدد کرتی تھیں، خاص طور پر کھانے پکانے میں۔ وہ اپنی زندگی سادگی سے گزار رہے تھے، لیکن ان کے گاؤں میں ایک بیوہ رہتی تھی جو اکثر مختلف گھروں سے کچھ نہ کچھ مانگنے آتی تھی۔ اس بیوہ کی ایک بیٹی بھی تھی جو اس کی عادتوں میں اس کا ساتھ دیتی تھی۔
فاطمہ کو یہ بیوہ عورت کچھ عجیب لگتی تھی۔ جب بھی وہ ان کے گھر آتی، فاطمہ اپنی بہنوں سے پوچھتی کہ یہ عورت ہر وقت یہاں کیوں آتی ہے؟ بڑی بہنیں اسے سمجھاتی تھیں کہ وہ بیچاری مجبور ہے، اور اگر ہمارے گھر سے تھوڑی سی آگ لے جاتی ہے تو اس میں کیا حرج ہے؟ لیکن فاطمہ ہمیشہ کہتی کہ یہ عورت ٹھیک نہیں لگتی، ایک دن یہ ہم سب کے لیے مصیبت کھڑی کرے گی۔
یہ روز کا معمول تھا کہ وہ عورت ان کے گھر سے آگ لینے آتی۔ لیکن موقع ملنے پر وہ رشید کے کھانے میں راکھ ملا دیتی تھی۔ رشید کو کچھ دنوں بعد محسوس ہونے لگا کہ اس کے کھانے میں کچھ عجیب ہے۔ پہلے تو اس نے سمجھا کہ شاید اس کی بیٹیاں نادان ہیں اور غلطی سے کھانے میں کچھ گڑبڑ کر دیتی ہیں، مگر اسے اپنی بیٹیوں پر پورا بھروسہ تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ اصل حقیقت کیا ہے، اس لیے ایک دن اس نے خفیہ طور پر ان پر نظر رکھنے کا فیصلہ کیا۔
رشید نے چھپ کر دیکھا کہ اس کی بیٹیاں نہایت احتیاط سے کھانے کی تیاری کر رہی تھیں۔ بڑی بیٹی چاول دھو رہی تھی، درمیانی بیٹی سالن بنا رہی تھی، اور فاطمہ برتن صاف کر رہی تھی۔ سب کچھ بالکل ٹھیک لگ رہا تھا، لیکن اچانک اس نے دیکھا کہ وہی بیوہ عورت ان کے گھر میں داخل ہوئی اور فاطمہ اس سے جھگڑ رہی تھی۔ جبکہ اس کی بڑی بہنیں اسے روک رہی تھیں اور سمجھا رہی تھیں کہ وہ ایک مسکین عورت ہے، اسے کچھ نہ کہو۔ مگر فاطمہ بضد تھی کہ یہ عورت اچھی نہیں ہے۔
رشید نے غور کیا تو دیکھا کہ وہ بیوہ عورت آگ لینے کے بہانے آئی تھی، مگر اصل میں وہ چپکے سے کھانے میں راکھ ڈال رہی تھی۔ یہ دیکھ کر رشید کو شدید غصہ آیا۔ اس نے فوراً اس عورت کو روکا اور پوچھا کہ تم میرے کھانے میں راکھ کیوں ڈال رہی ہو؟ اس عورت نے بڑی ڈرامائی انداز میں کہا، "میں تو بس یہ دیکھ رہی تھی کہ تم واقعی اپنی بیٹیوں سے محبت کرتے ہو یا نہیں! اگر کھانا خراب ہو جائے تو تم انہیں ڈانٹتے ہو؟ نہیں! مگر آج تم نے مجھے فوراً پکڑ لیا، اس کا مطلب ہے کہ تم واقعی اپنی بیٹیوں کو بہت چاہتے ہو۔"
رشید اس عورت کے الفاظ سے متاثر ہو گیا، کیونکہ وہ ایک بیوہ تھی اور بظاہر مظلوم نظر آ رہی تھی۔ وہ سوچنے لگا کہ شاید یہ عورت واقعی بے سہارا ہے اور اسے ایک گھر کی ضرورت ہے۔ اسی خیال میں اس نے چند دنوں بعد اس بیوہ سے شادی کر لی اور اسے اپنے گھر لے آیا۔
شادی کے بعد حالات یکسر بدل گئے۔ رشید کی تینوں بیٹیاں، جو پہلے خوشحال تھیں، اب سوتیلی ماں کی سختیوں کا شکار ہو گئیں۔ وہ انہیں کم کھانے دیتی تھی، ہر وقت ان سے کام کرواتی تھی اور مختلف طریقوں سے انہیں تکلیف دیتی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ کسی بھی طرح یہ بیٹیاں گھر چھوڑ کر چلی جائیں تاکہ وہ اور اس کی بیٹی اکیلے عیش کر سکیں۔
بیٹیوں کی حالت دن بہ دن خراب ہونے لگی۔ وہ ہر وقت اداس رہتیں اور اکثر بھوکی بھی سو جاتیں۔ ایک دن فاطمہ نے اپنی بہنوں کو کہا، "چلو کہیں باہر چلتے ہیں، شاید دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہو جائے۔" تینوں بہنیں چلتی چلتی ایک گھنے جنگل میں پہنچ گئیں اور ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنی ماں کو یاد کر کے رونے لگیں۔
اسی دوران ایک بزرگ ان کے قریب آیا، جو اللہ والے معلوم ہوتے تھے۔ وہ رک کر سننے لگے کہ یہ لڑکیاں کس دکھ میں مبتلا ہیں۔ جب انہوں نے فاطمہ کی باتیں سنیں تو ان کے دل کو بہت تکلیف ہوئی۔ انہوں نے کہا، "بیٹیو، یہاں سے کچھ فاصلے پر میری ایک جھونپڑی ہے۔ اس کے باہر ایک انار کا درخت ہے، جس پر رسیلے انار لگے ہوئے ہیں۔ اگر تم بھوکی ہو تو وہاں جا کر کھا سکتی ہو۔"
یہ سن کر تینوں بہنوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔ وہ جھونپڑی کی طرف چل پڑیں اور وہاں جا کر دیکھا کہ درخت پر بے شمار سرخ اور رسیلے انار لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ایک انار توڑا اور مزے سے کھایا۔ جب ان کا پیٹ بھر گیا، تو انہوں نے بزرگ کا شکریہ ادا کیا اور گھر واپس آگئیں۔
اب وہ روزانہ جنگل میں جاتیں، انار کھاتیں اور اپنا پیٹ بھر کر گھر آ جاتیں۔ سوتیلی ماں کو حیرت ہونے لگی کہ آخر یہ لڑکیاں بھوکی کیوں نہیں لگتیں؟ ان کے چہروں پر ایک عجیب چمک کیوں آ گئی ہے؟ جبکہ اس کی اپنی بیٹی، جسے وہ سب کچھ دیتی تھی، پہلے سے زیادہ بدصورت لگنے لگی تھی۔
ایک دن سوتیلی ماں نے ان کا پیچھا کرنے کا فیصلہ کیا اور چھپ کر ان کے پیچھے جنگل میں جا پہنچی۔ جب اس نے دیکھا کہ لڑکیاں انار توڑ کر کھا رہی ہیں، تو وہ حسد سے جل اٹھی۔ وہ فوراً گھر لوٹی اور رشید کو شکایت لگائی، "یہ لڑکیاں چوری کر رہی ہیں! جنگل کے کسی درخت سے انار چرا کر کھاتی ہیں۔ انہیں فوراً روکنا چاہیے!"
رشید نے جب یہ سنا تو وہ غصے میں جنگل کی طرف گیا۔ لیکن جب وہاں پہنچا تو بزرگ شخص نے اسے ساری حقیقت بتا دی کہ اس کی بیٹیاں بھوک کی وجہ سے وہاں آتی تھیں اور اللہ کی رحمت سے انار کھا کر زندہ تھیں۔ یہ سن کر رشید کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اسے احساس ہوا کہ اس کی بیوی نے اس کی بیٹیوں پر بہت ظلم کیا ہے۔
رشید گھر واپس آیا اور اپنی بیوی کو سخت سزا دی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو کسی صورت تکلیف میں نہیں رہنے دے گا۔ اس نے اپنی بیوی کو گھر سے نکال دیا اور دوبارہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ خوشحال زندگی گزارنے لگا۔
یوں فاطمہ کی سمجھداری نے نہ صرف اپنے گھر کو بچا لیا بلکہ باپ کو بھی حقیقت کا احساس دلا دیا۔
28/12/2024
Big shout out to my newest top fans! 💎 Alsinah Alsinah
Drop a comment to welcome them to our community,
06/10/2024
پینتیس منٹ کی فلائیٹ:
میں کھڑکی کے ساتھ بیٹھا تھا اور میرا دوست پہلی نشست پر تھا‘ درمیان کی سیٹ خالی تھی‘ میں نے ائیر ہوسٹس سے پوچھا ”کیا ہم دونوں اکٹھے بیٹھ سکتے ہیں“ فضائی میزبان نے مسکرا کر جواب دیا ”سر یہ سیٹ بک ہے‘ آپ ٹیک آف کے بعد مسافر سے سیٹ ایڈجسٹ کر لیجئے گا“ ہم مسافر کا انتظار کرنے لگے‘ جہاز کے دروازے بند ہونے سے چند لمحے قبل وہ مسافر آگیا‘ وہ ایک لحیم شحیم بزرگ تھا‘ وہ شکل سے بیمار بھی دکھائی دے رہا تھا‘
میں نے اسے پیش کش کی آپ کھڑکی والی سیٹ لے لیں‘ ہم دوست اکٹھے بیٹھنا چاہتے ہیں مگر اس نے سر ہلا کر میری پیش کش مسترد کر دی اور وہ دھپ کر کے درمیان میں بیٹھ گیا‘ وہ دونوں سائیڈز سے باہر نکل رہا تھا‘ میں اس کی وجہ سے جہاز کی دیوار کے ساتھ پریس ہو گیاجبکہ میرا دوست سیٹ سے آدھا باہر لٹک گیا‘ موٹے آدمی کے جسم سے ناگوار بو بھی آ رہی تھی‘ وہ پورا منہ کھول کر سانس لے رہا تھا اور سانس کی آمدورفت سے ماحول میں بو پھیل رہی تھی‘ ہماری گفتگو بند ہو گئی‘ میں نے جیب سے تسبیح نکالی اور ورد کرنے لگا جبکہ میرا دوست موبائل فون کھول کر بیٹھ گیا‘ وہ میری زندگی کی مشکل ترین فلائیٹ تھی‘ میں نے وہ سفراذیت میں گزارا‘ ہم جب لاہور اترے تو میں نے اپنی ہڈیاں پسلیاں گنیں اور اطمینان کا سانس لیا‘ ہم ائیر پورٹ سے باہر آ گئے‘ میں نے اپنے دوست سے پوچھا ”سفر کیسا تھا“ وہ ہنس کر بولا ”زبردست‘ میں نے موبائل فون پر کتابیں ڈاؤن لوڈ کر رکھی ہیں‘ میں سفر کے دوران کتاب پڑھتا رہا“ میں نے پوچھا”کیا تم موٹے آدمی کی وجہ سے ڈسٹرب نہیں ہوئے“ وہ ہنس کر بولا ”شروع کے دو منٹ ہوا تھا لیکن پھر میں نے ایڈجسٹ کر لیا‘ میں نے اپنی کہنی اور پسلیاں اس کے پیٹ میں پھنسائیں اور چپ چاپ کتاب پڑھتا رہا“ میں نے پوچھا ”اور کیا تم اس کی بدبو سے بھی بیزار نہیں ہوئے“ وہ ہنس کر بولا ”شروع میں ہوا تھا لیکن میں جب کتاب میں گم ہو گیا تو بوآنا بند ہو گئی“ میں نے حیرت سے اس
کی طرف دیکھا اور پھر کہا ”لیکن میں پورے سفر کے دوران تنگ ہوتا رہا‘ میری سانس تک الجھتی رہی‘ میں اللہ سے دعا کرتا رہا یا اللہ یہ سفر
کب ختم ہوگا“ وہ ہنسا اور بولا ”میں بھی ایسی صورتحال میں پریشان ہوا کرتا تھا لیکن پھر میں نے اپنی پریشانی کا حل تلاش کر لیا‘ میں اب ایڈجسٹ کر لیتا ہوں“ میں رک گیا اور اسے غور سے دیکھنے لگا‘ وہ بولا ”ہم اس موٹے کے صرف 35 منٹ کے ساتھی تھے‘ وہ آیا‘ بیٹھا‘ جہاز اڑا‘ جہاز اترا اور ہم الگ الگ ہو گئے‘ وہ کون تھا‘ وہ کہاں سے آیا تھا اور وہ کہاں چلا گیا‘
ہم نہیں جانتے‘ تم اگر ان 35 منٹوں کو ایڈجسٹ کر لیتے تو تم تکلیف میں نہ آتے“ وہ رکا‘ لمبی سانس لی اور بولا ”ہماری ہر تکلیف کا ایک ایکسپائری ٹائم ہوتا ہے‘ ہم اگر اس ٹائم کا اندازہ کر لیں تو پھر ہماری تکلیف کم ہو جاتی ہے مثلاً وہ موٹا جب ہمارے درمیان بیٹھا تو میں نے فوراً ٹائم کیلکولیٹ کیا‘مجھے اندازہ ہوا یہ صرف 35 منٹ کی تکلیف ہے چنانچہ میں نے موٹے کے موٹاپے پر توجہ کی بجائے کتاب پڑھنا شروع کر دی‘ میری تکلیف چند منٹوں میں ختم ہو گئی‘ تم بھی تکلیف کے دورانئے کا اندازہ کر لیا کرو‘ تمہاری مشکل بھی آسان ہو جائے گی“۔
میں نے اس سے پوچھا ”تم نے یہ آرٹ کس سے سیکھا تھا“ وہ ہنس کر بولا ”میں نے یہ فن اپنے والد سے سیکھا تھا‘ میرے بچپن میں ہمارے ہمسائے میں ایک پھڈے باز شخص آ گیاتھا‘ ہم لوگ گلی میں کرکٹ کھیلتے تھے اور وہ ہماری وکٹیں اکھاڑ دیتا تھا‘ ہمارے گیند چھین لیتا تھا‘ وہ گلی میں نکل کر ہمارا کھیل بھی بند کرا دیتا تھا‘ میں بہت دل گرفتہ ہوتا تھا‘ میں نے ایک دن اپنے والد سے اس کی شکایت کی‘ میرے والد نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا‘ بیٹا یہ شخص کرائے دار ہے‘ یہ آیا ہے اور یہ چلا جائے گا‘
ہمیں اس سے لڑنے اور الجھنے کے بجائے اس کے جانے کا انتظار کرنا چاہیے‘ میں نے والد سے پوچھا‘ کیا میں احتجاج بھی نہ کروں‘ وہ بولے ہاں تم ضرور کرو لیکن اس کا تمہیں نقصان ہوگا‘یہ شخص تو اپنے وقت پر جائے گالیکن تم احتجاج کی وجہ سے بدمزاج ہو چکے ہو گے‘ تم اس کے بعد لائف کو انجوائے نہیں کر سکو گے چنانچہ میرا مشورہ ہے تم اپنی لائف پر فوکس کرو‘ تم اپنی خوشیوں پر دھیان دو‘ یہ اور اس جیسے لوگ آتے اور جاتے رہیں گے‘ یہ آج ہیں اور کل نہیں ہوں گے‘
تمہیں اپنا مزاج خراب کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ میں بچہ تھا میں نے اپنے والد کی بات سے اتفاق نہ کیا لیکن ہمارا ہمسایہ واقعی دو ماہ بعد چلا گیا اور یوں ہم پرانی سپرٹ کے ساتھ گلی میں کھیلنے لگے‘ ہم دو ہفتوں میں اس چڑچڑے کھوسٹ کو بھول بھی گئے۔ میرے والد مجھے بچپن میں اپنے چچا کی بات بھی سنایا کرتے تھے‘ ہمارے دادا فوت ہوئے تو میرے والد کو وراثت میں ایک مکان ملا‘ مکان پر میرے والد کے چچا نے قبضہ کر لیا‘ میرے والد نے چچا کے ساتھ لڑنے کی بجائے ملکیت کا مقدمہ کیا اور وہ آہستہ آہستہ مقدمہ لڑتے رہے‘
پانچ سال بعد میرے والد کے حق میں فیصلہ ہو گیا لیکن چچا نے مکان خالی نہ کیا‘ میرے والد نے قبضے کے حصول کیلئے درخواست دی اور وہ آہستہ آہستہ اس درخواست کا پیچھا کرتے رہے‘ اگلے دو برسوں میں والد کے چچا کا انتقال ہو گیا‘ والد کو مکان مل گیا‘ میرے والد کا کہنا تھا‘ چچا نے جب ہمارے مکان پر قبضہ کیا تو مجھے بہت غصہ آیا لیکن پھر میں نے سوچا‘ میں اگر ان کے ساتھ لڑتا ہوں تو میں زخمی ہو جاؤں گااور یوں یہ مکان پیچھے چلا جائے گا اور دشمنی آگے آ جائے گی‘ ہم تھانوں اور کچہریوں میں بھی جائیں گے‘
ہمارا وقت اور پیسہ بھی برباد ہو گا اور ہمیں مکان بھی نہیں ملے گا‘ چچا بوڑھے شخص ہیں‘ یہ کتنی دیر زندہ رہ لیں گے چنانچہ میں نے مقدمہ کیا اور آہستہ آہستہ مقدمہ چلاتا رہا یہاں تک کہ چچا طبعی زندگی گزار کرفوت ہو گئے‘ مجھے اپنا مکان بھی مل گیا اور میرے صبر کا صلہ بھی۔ میرے چچا نے جب مکان پر قبضہ کیا تھا تو وہ فقط ایک مکان تھا‘ آٹھ برسوں میں ہماری گلی کمرشلائزڈ ہو گئی‘ مکان کی قیمت میں بیس گنا اضافہ ہو گیا یوں مجھے مکان بھی مل گیا اور مالیت میں بھی بیس گنا اضافہ ہو گیا‘
میں اس دوران اطمینان سے اپنے دفتر بھی جاتا رہا‘ میں نے اپنے بچے بھی پال لئے اور میں زندگی کی خوشیوں سے بھی لطف اندوز ہوتا رہا‘ میرے والد مجھے یہ واقعہ سنانے کے بعد اکثر کہا کرتے تھے آپ جب بھی تکلیف میں آئیں آپ اس تکلیف کا دورانیہ کیلکولیٹ کریں اور اپنی توجہ کسی تعمیری کام پر لگا دیں‘ آپ کو وہ تکلیف تکلیف نہیں لگے گی‘ میں نے اپنے والد کی بات پلے باندھ لی چنانچہ میں تکلیف کا دورانیہ نکالتا ہوں اور اپنی توجہ کسی تعمیری کام پر مبذول کر لیتا ہوں“ وہ خاموش ہو گیا۔
یہ نقطہ میرے لئے نیا بھی تھا اور انوکھا بھی‘ میں نے اس سے پوچھا ”کیا یہ تمہاری روٹین ہے“ وہ قہقہہ لگا کر بولا ”ہاں مجھے جب بھی کوئی تکلیف دیتا ہے میں دل ہی دل میں کہتا ہوں یہ آج کا ایشو ہے‘ یہ کل نہیں ہوگا‘ میں اس کی وجہ سے اپنا آج اور کل کیوں برباد کروں اور میری تکلیف ختم ہو جاتی ہے“ میں نے پوچھا ”مثلاً“ وہ بولا ”مثلاً وہ موٹا شخص صرف 35 منٹ کی تکلیف تھا‘ ہم نے صرف 35 منٹ گزارنے تھے اور اس تکلیف نے ہماری زندگی سے نکل جانا تھا‘ مثلاً کوئی شخص میرے ساتھ دھوکہ کرتا ہے‘
میں اس شخص اور دھوکے دونوں پر قہقہہ لگاتا ہوں اور آگے چل پڑتا ہوں‘ یقین کرو وہ دھوکہ اور وہ شخص دونوں چند دن بعد میرے لئے بھولی ہوئی داستان بن چکے ہوتے ہیں‘ مجھے کیریئر میں بے شمار مشکل باس اور خوفناک کولیگز ملے‘ میں ہر مشکل باس کو دیکھ کر کہتا تھا‘ یہ آیا ہے اور یہ چلا جائے گا‘ مجھے اپنی زندگی برباد کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ میں خوفناک کولیگ پر بھی ہمیشہ سوچتا رہا‘ یہ مختصر سفر کا مختصر ترین مسافر ہے‘ یہ اپنی منزل پر اترجائے گا یا پھر میں اپنے سٹاپ پرچلا جاؤں گا‘
مجھے اس سے لڑنے کی کیا ضرورت ہے‘ آپ یقین کرو میرے مشکل باس بھی چلے گئے اور خوفناک کولیگز بھی اور یوں میرا سفر جاری رہا‘ میری زندگی مزے سے گزری اور مزے سے گزر رہی ہے“ وہ رکا‘ ہنسا اور بولا ”آپ بھی یہ حقیقت پلے باندھ لو‘ زندگی 35 منٹ کی فلائیٹ ہے‘ آپ ساتھی مسافر کی وجہ سے اپنا سفر خراب نہ کرو‘ آپ تکلیف کا دورانیہ دیکھو اور اپنی توجہ کسی دوسری جانب مبذول کر لو‘ آپ کی زندگی بھی اچھی گزرے گی“ میں نے ہاں میں سر ہلایا‘
وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا اور میں اپنے دفتر چلا گیا لیکن وہ دن ہے اور آج کا دن ہے میں جب بھی کسی مسئلے‘ کسی تکلیف کا شکار ہوتا ہوں‘ میں دل ہی دل میں دوہراتا ہوں یہ 35 منٹ کی فلائیٹ ہے‘ یہ ختم ہو جائے گی اور میں جلد اس تکلیف کو بھول جاؤں گا‘مجھے کل یہ یاد بھی نہیں رہے گامیں کبھی ایک ایسے مسافر کے ساتھ بیٹھا تھا جس کی وجہ سے میرا سانس بند ہو گیا تھا اور جس نے مجھے پوسٹر کی طرح دیوار کے ساتھ چپکا دیا تھا‘ زندگی کا سفر انتہائی مختصر ہے‘
ہم اگر اس مختصر سفر کو شکایت دفتر بنالیں گے تو یہ مختصر سفر مشکل ہو جائے گا‘ ہم اپنی منزل سے ہزاروں میل پیچھے اترجائیں گے چنانچہ جانے دیں‘ تکلیف دینے والوں کو بھی اور اپنے آپ کو بھی‘ صرف سفر پر توجہ دیں اور یقین کریں ہماری مشکل‘ ہماری تکلیف ختم ہو جائے۔