12/06/2026
چند لوگوں کو میرا رویہ اور لہجہ شاید آج ناگوار گزرتا ہو۔ اس کی بنیادی وجہ کسی کی دل ازاری نہیں بلکہ ماضی کے وہ تلخ تجربات ہیں جن میں بعض صاحبِ استطاعت افراد نے بھی ان سہولیات اور رعایتوں سے فائدہ اٹھایا جو دراصل یتیم اور مستحق بچوں کے لیے مختص تھیں۔ ایسے حالات میں بعض حقیقی ضرورت مند بچے اس مدد سے محروم رہ گئے جس کے وہ اصل حقدار تھے۔
الحمدللہ آج بھی سکول میں تقریباً 35 سے 40 یتیم اور مستحق بچوں کی فیس سمیت دیگر تعلیمی اخراجات برداشت کیے جا رہے ہیں۔ بعض اوقات چند دوست احباب بھی تعاون کر دیتے ہیں، جس پر میں ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں، لیکن سال بھر کے اخراجات اور مالی ذمہ داری کا بیشتر حصہ مجھے خود ہی ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود بہت سے کم آمدنی والے والدین سے صرف 500 روپے ماہانہ فیس لی جا رہی ہے تاکہ ان کے بچوں کی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رہے اور سکول کا نظام بھی کسی حد تک چلتا رہے۔
اسی لیے میری کوشش ہوتی ہے کہ جو بھی مدد، رعایت یا تعاون دستیاب ہو، وہ پوری دیانت داری کے ساتھ ان لوگوں تک پہنچے جو واقعی اس کے مستحق ہیں۔ اگر اس مقصد کے لیے کبھی اصولوں پر سختی کرنی پڑے تو اسے ذاتی رویہ نہیں بلکہ مستحق بچوں کے حقوق کے تحفظ کی کوشش سمجھا جائے۔
#اردو