09/05/2026
ابو ہریرہ شریعہ کالج کے زیرِ اہتمام
ابو ہریرہ فری اسلامک ہائی سکول
معیاری دینی و عصری تعلیم کے لیے
داخلوں کا سنہری موقع
صرف ایک دن باقی
Abu huraira sharia college
09/05/2026
ابو ہریرہ شریعہ کالج کے زیرِ اہتمام
ابو ہریرہ فری اسلامک ہائی سکول
معیاری دینی و عصری تعلیم کے لیے
داخلوں کا سنہری موقع
صرف ایک دن باقی
04/05/2026
ابوہریرہ شریعہ کالج کی خدمات اور اعزاز ✨
ابوہریرہ شریعہ کالج 1997 سے قائم پاکستان کا پہلا دینی اور دنیاوی تعلیم کا مرکز ✨
میاں عدنان اسلم حنیف
فاضل ابو ہریرہ شریعہ کالج
خطیب: مسجد رحمۃ للعالمین کینال گارڈن لاہور
01/05/2026
حافظ ذوالفقار علی حفظہ اللہ
(شیخُ الحدیث، ابو ہریرہ شریعہ کالج لاہور، ماہرِ جدید معاشیات، مصنفِ کتبِ کثیرہ)
میاں محمد جمیل حفظہ اللہ
(پرنسپل، ابو ہریرہ شریعہ کالج لاہور، مفسرِ تفسیر فہم القرآن، مصنفِ کتبِ کثیرہ)
کنوینیر تحریک دعوت توحید پاکستان
28/04/2026
افسری، عاجزی اور ایک درویش... ابو ہریرہ شریعہ کالج کی کہانی
دنیا میں عموماً دو طرح کے تعلیمی ادارے پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ جو محض پرنٹنگ پریس کی طرح کاغذ کی ڈگریاں چھاپتے اور بانٹتے ہیں، اور دوسرے وہ جو خام مٹی گوندھ کر عظیم انسان تراشتے ہیں۔ ہم اکثر اینٹوں، شیشے اور سیمنٹ سے بنی فلک بوس اور شاندار عمارتوں کو دیکھ کر مرعوب ہو جاتے ہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ اصل کمال اور اصل معجزہ ان بے جان دیواروں کے اندر بننے والے دماغوں اور دھڑکنے والے دلوں کا ہوتا ہے۔ آج میں آپ کو ایک ایسی ہی انسان ساز فیکٹری، ایک ایسی ہی روحانی اور فکری نرسری کی سیر کروانا چاہتا ہوں، جس نے میری اور مجھ جیسے سیکڑوں نوجوانوں کی زندگی بدل کر رکھ دی۔
اس کا نام ”ابو ہریرہ شریعہ کالج“ ہے۔ یہ میرے لیے محض ایک تعلیمی ادارے کا نام نہیں، بلکہ ایک پوری کائنات کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ وہ مادرِ علمی ہے جہاں میں نے میٹرک کے بعد بی اے تک کی تعلیم حاصل کی، اور اسی دوران حدیثِ نبویﷺ، صرف و نحو، تفسیر، فقہ اور دیگر علومِ اسلامیہ کی خوشبو سے اپنے سینے کو روشن کیا۔ آج میں اللہ کے فضل و کرم سے جو کچھ بھی ہوں، ایک اسلامک ریسرچ اسکالر، اچھا رائٹر اور قلمکار ہوں، تو یہ سب اسی عظیم الشان ادارے کے اساتذہ کی شفقت، ان کی علمی پیاس اور اس مٹی کے فیض کا نتیجہ ہے۔
ابھی دو دن پہلے، 26 اپریل، اتوار کے دن، وہاں ایک عظیم الشان اجلاس منعقد ہوا جس میں جامعہ سے فارغ التحصیل تمام طلباء کرام کو مدعو کیا گیا تھا۔ ایک عرصے بعد جب میں اپنی مادرِ علمی کے دروازے پر پہنچا تو میری خوشی، فخر اور حیرت کی کوئی انتہا نہ تھی۔ میں نے اپنے پرانے ساتھیوں کو دیکھا، ان کی آنکھوں میں چمک تھی، چہروں پر عزم تھا، اور گفتگو میں وہ گہرائی تھی جو صرف ابو ہریرہ شریعہ کالج جیسے ادارے ہی دے سکتے ہیں۔ مجھے وہاں کھڑے ہو کر گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ میرے الفاظ تو محض خام مواد تھے، لیکن ان کے پیچھے جو جذبات تھے، وہ انہی دیواروں کے اندر سے نکلے تھے۔ میں نے اپنے سامعین کے سامنے ان یادوں کو دہرایا، ان مشکلات کا ذکر کیا جن کا ہم نے سامنا کیا، اور اس بات پر زور دیا کہ کیسے اس ادارے نے ہماری سوچ اور زندگیوں کو بدل کر رکھ دیا۔
لیکن اصل حیرت کا جھٹکا مجھے اس وقت لگا جب میں نے اسٹیج سے اپنے اردگرد، اس بھرے ہوئے پنڈال پر نظر دوڑائی۔ میرے اکثر طلباء ساتھی پی ایچ ڈی (PhD) سکالرز تھے یا ایم فل کر رہے تھے۔ کوئی ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے اندر اعلیٰ عہدے پر تھا، کوئی ایف آئی اے (FIA) میں آفیسر لگ چکا تھا، کوئی حساس سکیورٹی ایجنسیز میں ملک و ملت کی حفاظت کر رہا تھا، کچھ نامور وکلاء تھے اور کچھ جامعات میں پروفیسر تھے۔ یہ سارے اسی ایک گلدستے کے پھول تھے جو اب پورے ملک کے مختلف محکموں میں پھیل کر اپنی کامیابی کی خوشبو بکھیر رہے تھے۔
یہاں مجھے رک کر ایک اعتراف کرنے دیجیے۔ ان کی کامیابی اور میری حیرت کی اصل وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ ان اعلیٰ دنیاوی عہدوں تک پہنچ گئے تھے، بلکہ اصل کامیابی یہ تھی کہ وہ ان مناصب پر فائز ہونے کے باوجود آج بھی دین کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ کوئی اپنے علاقے میں ترجمہ قرآن کی کلاس پڑھا رہا تھا، کوئی مستقل جمعہ کا خطبہ دے رہا تھا، کوئی فلاحی ادارہ چلا رہا تھا، اور کوئی دین کے کسی نہ کسی پہلو کے ساتھ مضبوطی سے جڑا ہوا تھا۔ دنیا داری اور نفسا نفسی کے اس گھٹن زدہ دور میں بھی ابو ہریرہ شریعہ کالج نے ان کی ایسی تربیت کی تھی کہ افسری نے ان کی گردنوں میں تکبر کا سریا نہیں ڈالا، بلکہ ان کی کمر میں خم دے کر انہیں اللہ کے حضور عاجز بنا دیا تھا۔
یہ وہ لمحہ تھا جب مجھے شدت سے احساس ہوا کہ ابو ہریرہ شریعہ کالج محض ایک مدرسہ نہیں ہے، بلکہ ایک ایسا اقامتی (Residential) ادارہ ہے جو دینی اور عصری تعلیم کو انتہائی خوبصورتی سے یکجا کرنے والا ہے۔ اور یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ یہاں پر عصری تعلیم (Contemporary Education) کمپلسری یعنی لازمی ہے۔ آپ ذرا تصور کریں، ایک ایسا بچہ جو اسی ماحول میں پرورش پاتا ہے، جہاں صبح قرآن و حدیث کی کلاسیں ہوتی ہیں، اور دوپہر کو سائنس، ریاضی، اور کمپیوٹر کے علوم سکھائے جاتے ہیں۔ یہاں کا طالب علم ایک ہاتھ میں قرآن و حدیث اور دوسرے ہاتھ میں جدید دور کے علوم لے کر نکلتا ہے۔ یہی وہ توازن ہے جو نئی نسل کو فکری انتشار سے بچا کر باوقار مستقبل دیتا ہے۔ اور پھر اسی ادارے سے ”تحریک دعوت توحید“ کا ایک باقاعدہ سلسلہ چلا ہے، تاکہ اس خالص نبوی دعوت کو جدید اور پڑھے لکھے انداز میں معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچایا جا سکے۔
ادارے صرف شاندار نصاب یا عمارتوں سے نہیں، بلکہ نابغہ روزگار شخصیات اور اساتذہ سے بنتے ہیں۔ اس عظیم ادارے کی شاندار کامیابی کے پیچھے میاں محمد جمیل صاحب بطور سربراہ موجود ہیں۔ وہ ایک ایسے درویش انسان ہیں کہ اکیلے ہی بڑی بڑی جماعتوں سے بڑھ کر کام کرنے کے بعد کبھی اس کا اظہار یا دعویٰ نہیں کرتے۔ وہ اپنے روحانی بچوں کو، جو آج ڈاکٹر، سکالر، پروفیسر، وکیل اور آفیسر بن چکے ہیں، وہی درویشانہ استغنیٰ اور سادگی سکھاتے ہیں۔
پھر علم کے وہ پہاڑ ہیں جنہیں دنیا شیخ الحدیث حافظ ذوالفقار صاحب کے نام سے جانتی ہے۔ ان کی موجودگی ہی اس ادارے کی عظمت کا ثبوت ہے۔ وہ جدید معاشیات (Modern Economics) کو اسلامی تناظر میں سمجھانے اور لکھنے کے بڑے عالم اور فاضل ہیں۔ وہ ایک کامیاب تاجر بھی ہیں۔ جب وہ گفتگو کرتے ہیں تو علمیت، فقاہت اور الفاظ ان کے سامنے قطار باندھے کھڑے نظر آتے ہیں۔ ان کی گفتگو کا خاصہ یہ ہے کہ ان کی بات کو ایک عام دیہاتی آدمی بھی اسی سادگی کے ساتھ سمجھ لیتا ہے، جیسے ایک پی ایچ ڈی سکالر اپنے علمی پس منظر کے ساتھ اسے سمجھتا اور مستفید ہوتا ہے۔ اور پھر اجلاس میں ہمارے نہایت محترم سر عبدالرشید بھی تشریف لائے تھے، جن کی موجودگی سے ہمیں مزید حوصلہ ملا۔ یہ وہ عظیم استاد ہیں جنہوں نے ہمیں صرف، نحو اور اصولِ حدیث ایسے گھول کر پلا دیا کہ تادمِ زندگی اس کے اثرات ہمارے اندر موجود رہیں گے اور یہ ان کے لیے ایک نہ رکنے والا صدقہ جاریہ ہے۔
آپ کو یہ جان کر شاید مزید حیرت ہو کہ اس اقامتی ادارے کے رہائشی کمرے (Hostels) کسی اعلیٰ پائے کے جدید بورڈنگ سکول سے کم نہیں ہیں۔ شاندار اور ہوادار کمروں کے ساتھ طلباء کے لیے کھانے کا ایسا بہترین اور معیاری انتظام ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کی صحت کے حوالے سے رتی برابر فکر کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
آج کل اس شاندار ادارے کے دروازے نئے طلباء کے لیے کھلے ہیں۔ ہر سال صرف ایک مہینے کے لیے یہاں داخلوں کا آغاز ہوتا ہے، اور خوش قسمتی سے وہ وقت اب آ چکا ہے۔ میرا اس ملک کے ہر باشعور والدین سے ایک سوال ہے: کیا آپ نہیں چاہتے کہ آپ کا بچہ کل کو ایف آئی اے یا سکیورٹی ایجنسیز میں اعلیٰ آفیسر بھی ہو اور اس کے سینے میں قرآن و حدیث کا نور بھی منور ہو؟ کیا آپ نہیں چاہتے کہ وہ جدید علوم کا ماہر سکالر بھی بنے اور اسے حلال و حرام کی مکمل تمیز بھی ہو؟
اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے، تو پھر سوچنا چھوڑئیے۔ اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کرنے کے لیے ایک بار ابو ہریرہ شریعہ کالج کا وزٹ ضرور کریں۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ آپ اس ادارے کا تعلیمی ماحول، اساتذہ کا اخلاص، اور طلباء کا اعلیٰ معیار دیکھ کر عش عش کر اٹھیں گے، اور آپ کے دل سے بے ساختہ یہ خواہش جنم لے گی کہ کاش! آپ بھی اپنے بچے کو اس عظیم گلدستے کا پھول بنا سکیں۔ یہ ادارہ اب محض ایک ادارہ نہیں رہا۔ یہ ایک خواب ہے، ایک روشن راستہ ہے، اور جو ایک بار یہاں آ جاتا ہے، وہ صرف طالب علم نہیں رہتا، بلکہ ایک عظیم مشن کا حصہ بن جاتا ہے۔
تحریر:
حافظ میاں عتیق الرحمٰن اظہری
ریسرچ سکالر پیغام ٹی وی فاضل ابوہریرہ شریعہ کالج لاہور
محبت شفقت اور استاد و شاگرد کے لازوال رشتے کی ایک خوبصورت جھلک 🤍
مہتمم ابو ہریرہ شریعہ کالج میاں محمد جمیل حفظہ اللہ کا اپنے فضلاء سے ملاقات کا پُرخلوص و محبت بھرا انداز
20/04/2024
ابوہریرہ شریعہ کالج ملک بھر میں واحد تعلیمی ادارہ ہے جس میں 1997 سے درس نظامی کے ساتھ لازمی ( compulsary ) ایف اے ( F.A)، بی اے (B.A) کروایا جاتا ہے۔ اب تک یہاں سے 250 گریجویٹ علماء فارغ التحصیل ہوئے ہیں۔ چند ایک کو چھوڑ کر باقی پاک فوج، پولیس اور ایجوکیشن کے شعبے میں اہم پوسٹوں پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ دین کی خدمت بھی کررہے ہیں۔ آئیے! اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے ان کو ابو ہریرہ شریعہ کالج میں داخل کروائیں۔