Govt ND Islamia High School Ichhra Lahore official

Govt ND Islamia High School Ichhra Lahore official

Share

School

03/08/2023

کینسر بیماری نہیں بلکہ بے حسی ہے !
اوش اسٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی ، ماسکو ، روس کے کینسر کے ماہر۔ گپتا پرساد ریڈی (بی وی) کہتے ہیں کہ کینسر کوئی مہلک بیماری نہیں ہے ، بلکہ لوگ اس سے صرف بے حسی کی وجہ سے ہی مر جاتے ہیں۔
ان کے مطابق ، اگر صرف دو طریقوں پر عمل کیا جائے تو کینسر ختم ہوسکتا ہے۔ طریقے یہ ہیں: -
1_ پہلے ہر طرح کی چینی کھانا چھوڑ دیں۔ کیونکہ ، اگر آپ کو اپنے جسم میں شوگر نہیں ملتی ہے تو ، کینسر کے خلیات قدرتی یا قدرتی طور پر ختم ہوجائیں گے۔
2 _ اس کے بعد ایک گلاس گرم پانی میں ایک لیموں کا چمچ مکس کریں۔ اس لیموں ملا ہوا گرم پانی کو خالی پیٹ پر صبح تین بجے صبح کھانے سے پہلے پی لیں۔ کینسر ختم ہو جائے گا۔
میری لینڈ کالج آف میڈیسن کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ کیموتھریپی سے ہزار گنا بہتر ہے۔
3۔ روزانہ صبح اور رات تین چمچ نامیاتی ناریل کا تیل کھائیں ، اس سے کینسر کا علاج ہوگا۔
شوگر سے گریز کرنے کے بعد درج ذیل میں سے کسی بھی دو معالجے میں سے ایک لیں۔ کینسر آپ کو تکلیف نہیں دے سکتا۔ تاہم ، غفلت یا بے حسی کا کوئی عذر نہیں ہے۔
نوٹ کریں کہ لوگوں کو کینسر سے بچانے کے لئے۔ گپتا پرساد گذشتہ پانچ سالوں سے اس معلومات کو سوشل میڈیا سمیت مختلف ذرائع سے پھیلارہا ہے۔
انہوں نے سب کو جاننے کا موقع فراہم کرنے کے لئے اس معلومات کو پھیلانےکی درخواست کی۔
انہوں نے کہا ، "میں نے اپنا کام کیا۔ اب آپ اپنا کام کریں اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو کینسر سے بچائیں! کینسر کے ماہر گپتا پرساد ریڈی نہ صرف ایک ڈاکٹر ہیں بلکہ ایک مسیحا بھی ہیں!

Photos from Govt ND Islamia High School Ichhra Lahore official's post 03/06/2023

جس کو نماز کا ترجمہ و تشریح نہیں آتی اس کا نماز میں زیادہ دل نہی لگتا اسکو پتہ نہی ہوتا وہ کیا پڑھ رہا ھے آئیں نماز سیکھیں اور دوسروں کو سکھائیں....!

#ثـنــــاء
سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ، وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ، وَلَا اِلٰهَ غَيْرُکَ.
اے ﷲ! ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیں، تیری تعریف کرتے ہیں، تیرا نام بہت برکت والا ہے، تیری شان بہت بلند ہے اور تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں.

#تعـــــــوذ
أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ.
میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتا / مانگتی ہوں

#تســـــمیہ
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.
ﷲ کے نام سے جو نہایت مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے


الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَO الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِO مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِO إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُO اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَO صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْO غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَO
*تمام خوبیاں, تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کی پرورش فرمانے والا ہے, نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والا ہے, روزِ جزا کا مالک ہے, ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں, ہمیں سیدھا راستہ دکھا, ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا, ان لوگوں کا نہیں جن پر غضب کیا گیا ہے اور نہ (ہی) گمراھوں کا.


قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌO اللَّهُ الصَّمَدُO لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْO وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌO
آپ فرما دیجئے ک: وہ ﷲ ھے جو یکتا ہے, ﷲ سب سے بے نیاز، سب کی پناہ اور سب پر فائق ہے, نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ ہی وہ پیدا کیا گیا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ہمعسر ہے.

#رکـــــــوع
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِيْمِ.
پاک ہے میرا پروردگار عظمت والا.

#قـــــومہ
سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَهُ.
ﷲ تعالیٰ نے اس بندے کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی.

رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ.
اے ہمارے رب ! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں.

#سجـــــــدہ
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلَی.
پاک ہے میرا پروردگار جو بلند تر ہے.

#تشـــــــہد
التَّحِيَّاتُ ِﷲِ وَالصَّلَوٰتُ وَالطَّيِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِیُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکَاتُهُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اﷲِ الصّٰلِحِيْنَ. أَشْهَدُ أَنْ لَّا اِلٰهَ إِلَّا اﷲُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ.
تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں ﷲ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور ﷲ کی رحمت اور برکتیں ہوں، ہم پر اور ﷲ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں.

#درودِ_اِبــــراہیـمی
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو، تین یا چار رکعت والی نماز کے قعدہ اخیرہ میں ہمیشہ درودِ ابراہیمی پڑھتے جو درج ذیل ہے:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيْمَ، إِنَّکَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ.
اَللّٰهُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيْمَ، إِنَّکَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ.
اے ﷲ! رحمتیں نازل فرما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور ان کی آل پر، جس طرح تونے رحمتیں نازل کیں حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور ان کی آل پر، بے شک تو تعریف کا مستحق بڑی بزرگی والا ہے.
اے ﷲ! تو برکتیں نازل فرما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور ان کی آل پر، جس طرح تونے برکتیں نازل فرمائیں حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور ان کی آل پر، بے شک تو تعریف کا مستحق بڑی بزرگی والا ہے.


درود شریف کے بعد یہ دعا پڑھیں :
رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِیْ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِo رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَءَّ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابُo
*اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم رکھنے والا بنا دے، اے ہمارے رب! اور تو میری دعا قبول فرما لے، اے ہمارے رب! مجھے بخش دے اور میرے والدین کو (بخش دے) اور دیگر سب مومنوں کو بھی، جس دن حساب قائم ہوگا...

تحــــریری غلطــی ہو گئــی ہو
تـــو معـــذرت خـــــواہ ہـوں

25/11/2022

گورنمنٹ این۔ڈی اسلامیہ ہائی سکول اچھرہ لاھور کا تاریخی پس منظر

گورنمنٹ این ۔ڈی اسلامیہ ہائی سکول اچھرہ لاہور کا آغاز 1944 کو ہوا۔1944 میں ایک واقعہ رونما ہوا جو کہ گورنمنٹ این۔ڈی اسلامیہ ہائی سکول کے قیام کا سبب بن گیا۔چوہدری نور دین مرحوم اپنے بڑے بیٹےعبدالرشید کو مزنگ سکول میں داخل کروانے کے لئے گئے ۔ادارہ کا سربراہ ہندو تھا اور شروع میں اس نے لیت و لعل سے کام لیااور بعد میں یہ کہہ کر بچے کو سکول میں داخل کرنے سے انکار کر دیا کہ بچہ ایک مسلمان گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔چوہدری نور دین کی حمیت اور غیرت ایمانی جوش میں آئی اور اس واقع کے بعد چین سے نہ بیٹھے اور علاقے کے دوسرے معززین سے مل کر اپنا تعلیمی ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔وسائل محدود اور حالات مخدوش مگر جذبہ ،حوصلہ اور ہمت آسمانوں کو چھولینے والا تھا۔آخر کار نا مساعد حالات کے باوجود 1944 کو معراج بلڈنگ میں اس عظیم علمی درسگاہ کی بنیاد رکھی گئی اور اس کا پہلا طالب علم ہونے کا اعزاز حاصل ہوا خدا بخش صاحب کو انہوں نے ادارہ ہذا میں(1944-1948)تعلیمی و تدریسی امور جاری و ساری رکھے اور اس کے بعد کئی نمایاں طلبہ اس ادارہ سے وابستہ ہوئے اور کئی روشن ستارے بن کے چمکے جن کی طویل فہرست ہے۔البتہ چیدہ چیدہ نام درج ذیل ہیں

1۔رفیق احمد خان(1947تا1950) 1950میں یہاں سے میٹرک کیا ۔

2۔محمد سعید احمدانہوں نے 1952ءمیں یہاں سے میٹرک کیا۔

3۔میاں عبدالوحید انہوں نے یہاں سے 1958ءمیں میٹرک کیا۔

4۔ بریگیڈئیر لیاقت اسرار بخاری

5۔جاوید احمد خاں صاحب(ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک ریلیشن)

6۔ڈاکٹر وحید عشرت (یہاں سے مڈل پاس کیا)ماہر اقبالیات

7۔ڈاکٹر اختر نعیم ہاشمی(سکن سپیشلسٹ)

8۔خاور نعیم ہاشمی (صحافی جنگ/جیو)

9۔مطیع اللہ خاں (صحافی روزنامہ خبریں)

10۔جاوید اکرم بھٹی(تاجر)

11۔ڈاکٹر شعیب رندھاوا(پروفیسر جنرل ہسپتال)

12۔پروفیسر حکیم محمد شفیق کھوکھر(1962-1967)

13- برگیڈیر وسیم احمد چیمہ صاحب

مذکورہ شخصیات اس ادارہ کے ابتدائی طالبعلموں میں شامل ہیں جنہوں نے نمایاں کاردگردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ادارہ کو علاقے ،تحصیل اور ضلع بھر میں مشہور کیا۔1944 ءمیں قائم ہونے والے اس نوزائیدہ ادارہ کو تین سال بعد یعنی 1947ء میں اس جگہ شفٹ کر دیا گیا جہاں اب یہ ادارہ موجود ہے۔ادارہ کا پرانا نام نور دین ہائی سکول ہے۔ ابتدائی دور سربراہان مدرسہ میں سعید صاحب،جناب فضل قادر صاحب ،صوفی محمد صدیق اور فتح دین صاحب کے نام ملتے ہیں۔1947ء میں قیام پاکستان کے بعد جب بہت سارے مہاجرین پاکستان آئے تو بہت سارے غیر مسلم جن میں ہندو اور سکھ بڑی تعداد میں شامل تھےیہاں سے بھارت کی طرف چلے گئے یہ ادارہ جہاں اس وقت واقع ہے

دراصل گیان سنگھ اور جیون سنگھ کی کوٹھی نمبر میں واقع ہے،

آغاز میں معراج بلڈنگ میں 5 کمرے کرائے پر حاصل کئےگئے جنہیں ماہوار کرایہ 10 روپے کا حساب سے ادا کیا جاتا رہا،اس ادراہ کے مالی اخراجات برداشت کرنے میں چوہدری نور دین کے علاوہ صوفی احمد حسین اور صابر حسین جیسی شخصیات پیش پیش تھیں ۔1952ء میں ادارہ کو انجمن حمایت اسلام کے ماتحت کیا گیااوراس کے باقاعدہ سربراہ شیخ ظفر الٰہی مراد تعینات کئے گئے اور ادارہ کے نام میں "اسلامیہ"کے لفظ کا اضافہ کیا گیا اور یوں ادارہ کا مکمل نام این۔ڈی اسلامیہ ہائی سکول رکھا گیا۔1960ء میں شیخ ظفر الٰہی کا تبادلہ اسلامیہ ہائی سکول بھاٹی گیٹ میں ہو گیااور 1960ء میں سکول کی قیادت شیخ غلام نبی کو سونپ دی گئی۔1963ء میں قاضی محیی الدین جو کہ 1967 ء تک ادارہ کے سربراہ رہے اس کے بعد 1967ء میں پھر ایک مرتبہ ادارہ کی انتظامی سربراہی شیخ ظفر الٰہی مراد کے پاس آ ئی اور 1972 ء تک وہ اس ادراہ میں صدر معلم کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔1972ء میں جب ذولفقار علی بھٹو نے ملک میں ہنگامی حالات نافذ کئے اور بہت سارے ادارے حکومتی تحویل میں لے لئے انہی میں ادارہ ہذا کو بھی سرکاری تحویل میں لیا گیااور اب ادارہ کے نام کے ساتھ لفظ "گورنمنٹ "کا اضافہ کیا گیااور ا س طرح ادارہ کا مکمل نام "گورنمنٹ این۔ڈی اسلامیہ ہائی سکول اچھرہ "ہے جو اب تک متداول ہے۔1972ء کے بعد ادارہ نے ایک نئے سفر کا آغاز کیا یعنی معراج بلڈنگ سے اس جگہ منتقل ہونا اور 1952ء میں انجمن کی سرپرستی میں آنا اور 1972ء کے بعد با قاعدہ سرکاری تحویل میں آنا ۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ادارہ ترقی کی منازل طے کرتا گیا اور اپنی شناخت اور پہچان بناتا گیا۔ ادارہ کی ترقی میں محنتی اور ذہین اساتذہ نے جس تندہی اور لگن کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا اس کی مثال نہیں ملتی اور یہی وجہ ہے کہ ایسے ایسے قابل اور ذہین طلبہ سامنے آئے جنہوں نے اپنی قابلیت کو نکھارتے ہوئے نمایاں پوزیشنز حاصل کیں اور ادارہ کی شہرت اور نیک نامی میں اپنا کردار ادا کیا۔ادارہ کو آج اپنے ان روشنی کے میناروں پر فخر ہے اور ہمیشہ رہے گا۔1972ء میں ادارہ کی سرپرستی حافظ حبیب احمد خان کے سپرد کی گئی۔انہوں نے شبانہ روز کی انتھک محنت کے بعد ادارہ ہذا کو مزید نکھارتے ہوئے طلبہ کی تعداد میں بے پناہ اضافہ کیا۔ایک اندازے کے بطابق 1984ء میں طلبہ کی تعداد میں 1300 کی ریکارڈ حد تک اضافہ ہو ا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نہ صرف اہل علاقہ بلکہ دور دراز کے طلبہ علمی پیاس بجھانے کے لئے ادارہ کی طرف رخ کیا اور یہ سلسلہ آج تک پوری شدومد کے ساتھ جاری ہے ،حافظ حبیب احمد خان صاحب طویل عرصہ ادارہ کے سربراہ رہے اور 1997ء میں اپنی مدت ملازمت مکمل کرنے کے بعد یہاں سے ریٹائرڈ ہوئے۔اس کے بعد چوہدری محمد انور اعجاز صاحب اور سید نثار علی بخاری صاحب قلیل عرصہ کے لئے ادارہ کے سربراہ مقرر ہوئے۔1998ء میں ادارہ کو ایک اور محنتی اور قابل سربراہ کی خدمات میسر ہوئیں جنہوں نے سبابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے دن رات ادارہ کی بہتری کیلئے محنت اور جستجو کی میری مراد محمد اشرف ملک صاحب 2004ء تک ادارہ کے صدر معلم کے عہدے پر فائز رہے۔آپ کے بعد خواجہ محمد یونس صاحب جو کہ 2004 تا 2008 تک ادارہ کے سربراہ رہے ۔خواجہ صاحب انتہائی زیرک اور فعال شخصیت کے حامل انسان ہیں آپ نے اپنی صلاحیتوں کو ادارہ کی تعمیرو ترقی اور بہتری میں بروئے کار لاتے ہوئے ادارہ کو مزید ترقی کی شاہراہ پر گامزن کیا۔آپ کے بعدمیاں مقصود احمد صاحب کے پاس ادارہ کی سرپرستی کی ذمہ داری حصہ میں آئیں۔آپ 2010-09-14 تک ادارہ کے سربراہ رہے۔میاں مقصود احمد کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں علمی حلقوں میں آپ کو نہایت عقیدت واحترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور محکمہ تعلیم میں مختلف مناصب پر فائز رہ کر آپ نے تعلیمی و تدریسی خدمات سر انجام دیں جن کو بھلانا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے ۔میاں مقصود احمد صاحب نے قلیل عرصہ میں ادارہ میں ہنگامی بنیادوں پر طلبہ اور سکول کی فلاح وبہبود میں کئی اقدامات کئے اور ادارہ کی تاریخ میں ایک اچھے قائد کے طور پر ابھرے حال ہی میں آپ اپنی ملازمت مکمل کر کے بطور ڈی ۔ای ۔او قصور کے عہدہ سے ریٹائر ہو ئے ہیں۔

میاں مقصود احمد صاحب کے بعد ادارہ کی سرپرستی و سربراہی جناب سید محمد فرقان صاحب کے سپرد ہوئی ۔آپ 2010-09-14 میں ادارہ کے صدر معلم منتخب ہوئے اور تاحال آپ ادارہ کی انتظامی ذمہ داریاں نہایت جانفشانی سے سر انجام دے رہے ہیں۔سید محمد فرقان صاحب بطور انسان،بطوراستاد اور بطور سربراہ ادارہ ہر لحاظ سے نہایت شفیق ،رحم دل اور علم نواز شخصیت کے حامل ہیں۔آپ نے ہمیشہ ادارہ کی فلاح و بہبود میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔طلبہ و اساتذہ کے ساتھ منسلک رہتے ہوئے ادارہ کی بہتری اور ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔جناب سید محمد فرقان صاحب پرنسپل ادارہ ہذا کی دیرینہ خواہش تھی کہ اس ادارہ کی منظم تاریخ مرتب کی جائے تاکہ ادارہ کی درخشاں روایات ،اقدار اور قیمتی معلومات کو ایک جگہ یکجاکیا جا سکےاور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں مزید اضافے کئے جا سکیں تا کہ آنے والے وقت میں یہ تاریخ اہل علاقہ،اور اس مدرسہ سے وابستہ افراد کے لئے معلومات کا خزینہ ثابت ہو۔اس سلسلہ میں سید محمد فرقان صاحب نے سینئر اساتذہ ،اہل علاقہ کی سماجی و علمی شخصیات ،ادارہ کے سابقہ طالب علم اور علاقہ کے بزرگ افراد سے بھر پور رہنمائی حاصل کیں اور ادارہ سے متعلق حاصل شدہ معلومات کو صفحہ قرطاس پر منتقل کرنے کے لئے ہمارے انتہائی محنتی استاد جناب افضل وڑائچsci ((S.S.T اور جناب قاری محمد یٰسین نوری صاحب(A.T) اور بندہ ناچیز کا انتخاب کیا۔یہ ہمارے سفر کا آغاز ہے اور امید ہے کے آنے والے وقت میں اس پر مزید کام ہو گا اور اس تاریخی اور نظریاتی ادارہ کی تاریخ کو مزید منظم انداز میں مرون کیا جائے گا۔اس ادارہ کی تعلیمی و تدریسی خدمات کا جائزہ لیا جائے تو اب تک ہزاروں طلبہ ادارہ ہذا سے فارغ التحصیل ہو چکے ہیں اور ادارہ کے اساتذہ کی طویل فہرست ہے جس کو صفحہ قرطاس میں منتقل کرنا ناممکن ہے۔البتہ ایسی شخصیات کا ذکر نا لازمی ہے جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ادارہ میں گزارا ۔ان میں چوہدری محمد عظمت جو ادارہ سے 1976ءمیں وابستہ ہوئے اور 2016ء میں ریٹائرڈ ہوئے ۔ان کے علاوہ حافظ امام بخش صاحب (1965-1998)صابر حسین صاحب (1979-2013)چوہدری محمد رشید احمدصاحب(1978-2011)قاری نور احمد صاحب(1980-2011) وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

طلبہ کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے ادارہ میں نمایاں فرائض سر انجام دئیےاور تعلیمی و تدریسی اعزازات کے علاوہ ہم نصابی سر گرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور کئی ایک اعزازات جن میں تحصیل لیول ،ضلعی لیول،ڈویژن اور صوبائی سطح پر کئی ایوارڈ حاصل کر کے سکول کو پورے صوبہ بھر میں مشہور کیا اور یہ سلسلہ آج بھی پوری شدومد کیساتھ جاری ہے۔

ادارہ میں نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سر گرمیوںمیں بھی بھر پور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور اس ضمن میں ہمارے قابل احترام اساتذہ تقریری اور تحریری مقابلہ جات ،ترانہ ، نعت خوانی اور تلاوت قرآن کے مقابلہ جات میں بچوں کی بھر پور تیا ری کے ساتھ ساتھ بھرپور رہنمائی بھی فراہم کرتے ہیں۔اس کے علاوہ کھیلوں کی سر گرمیوںمیں بھی طلبہ کو شرکت کا موقع دیا جاتا ہے ۔با وجود محدود رقبہ ہونے (تقریباچار کینال 10 مرلہ) ہمارے اور دلچسپی سےادارہ کے طلبہ کو کھیل اور جسمانی ورزش میں بھر پور توجہ دیتے ہیں جس سے نہ صرف طلبہ جسمانی اور ذہنی لحاظ سے مضبوط ہو رہے ہیں بلکہ ادارہ کے پرنسپل کی ہدایات کی روشنی میں انہیں تخریبی سر گرمیوں سے بچاتے ہوئے تعمیری کاموں میں مشغول کرنا بھی ہمارے مشن میں شامل ہے تاکہ ہمارے طلبہ ملک و قوم کا ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہوںاور آگے چل کر عملی زندگی میں کسی بھی لحاظ سے کسی سے پیچھے نہ رہ سکیں اور ذہنی و جسمانی ہر لحاظ سے تندرست و توانا رہ سکیں۔

--
*!السلام و علیکم*

*والسلام*
*Regards*
*Principal*
*Govt. N.D. Islamia High School Ichhra Lahore.*

25/11/2022
Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Ichhra
Lahore