You and Your child

You and Your child

keep smiling and be happy:)
we are providing a great inspiration words for u ...:)

Operating as usual

16/01/2023

⚠️ہمارا کام اچھا ہے باقی سب کا کام برا ہے⚠️
یہ بہت گھمبیر صورت حال ہوتی ہے
کوئ بھی ایسا بچہ جس کو اپنے کام پر بھروسہ نہ ہو وہ 2 رویے اختیار کرتا ہے
1۔سب کو غلط کہنا شروع کر دیتا ہے ۔
2۔ اپنے میں ہر وقت کیڑے نکالتا رہتا ہے۔

جسے ہم عام طور پر leg pulling کہتے ہیں کہ خود اوپر نہیں پہنچ سکتے تو دوسرے کو اپنے سے نیچے گرا کر خود کو تسکین دے دو۔ اگر ہم غور کریں تو برا رزلٹ آنے پر اکثر بچے کہتے ہیں سب کے ہی کلاس میں برے نمبر آیے تھے۔اگر دین کے اعتبار سے دیکھیں تو ہم اپنے اپ کو یہ کہہ کر تسلی دیتے ہیں دوسرے تو بہت برا کر رہے ہیں ہم تو ان سے ہزار درجے بہتر۔۔۔۔۔پھر ایک وقت آتا ہے جب وہ کچھ اچھا کر لیتا ہے اور لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں۔ ایسے میں بس پھر وہ سب کو غلط کہہ کر اپنے آپ کو مزید ہوا دیتا دیتا ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے جب نکتہ چینی کرنا اس کی عادت بن جاتی ہے اور اس کو اندازہ بھی نہیں ہو پاتا ہے۔

کچھ لوگ ہوتے ہیں جو کچھ اچھا کر کے دوسروں میں کیڑے نکالتے ہیں اور کچھ ہوتے ہیں جو بالکل ہی خالی ڈھول پیٹتے رہتے ہیں۔

جو اپنے آپ کو غلط کہتے رہتے ہیں انہیں تھوڑی ہمت دینے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ دکھانا مقصود ہوتا ہے کہ کوئ بھی مکمل پیدا نہیں کیا گیا ہے اور اللہ تعالی نے جب کہا ہے کہ کوئ بھی بے فائدہ نہیں پیدا کیا گیا ہے تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ بالکل ہی نکما ہو؟ بس معاملہ یہاں آ کر اٹک جاتا ہے کہ ہم اپنے آپ میں وہ دیکھ نہیں پا رہے ہوتے ہیں جو ہم اچھا کر رہے ہیں۔

ایسے میں اگر یہ دیکھیں کہ یہ رویہ کسی بھی انسان میں آتا کہاں سے ہے تو ابتداء یقینا بچپن سے ہو گی جیسا اس بچے کو ڈیل کیا گیا۔ اس میں کیڑے نکالے گئے، بے جا سختی کی گئ یا پیار محبت سے اسے کوئی بات سکھائ گئ؟
❤️‍🩹ہوتا یہ کہ اگر بچپن میں جس وقت میں محبت اور تعریف درکار ہوتی ہے تب نہ ملے تو زندگی میں وہ تعریف اور توجہ حاصل کرنے کے لیے انسان محنت کرتا ہے۔ جب ملتی یے تو ہر کوئ اس کو سنبھال نہیں پاتا ہے۔
🔸️ کچھ اس کا غلط استعمال کر کے دوسرے کو نیچا دکھانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں
🔸️ کچھ دوسرے کو نہ بھی نقصان پہنچائیں مگر خود کو اتنا اوپر لے جاتے ہیں کہ اپنے دماغ میں ہی برتری کے تمام لیول کراس کر لیتے ہیں جو کہیں نا کہیں چھلکتے ہیں۔
🔸️ کچھ اس محبت کو قبول ہی نہیں کرتے تو خود ترسی کا ہی شکار رہ جاتے ہیں انہیں ہر کوئ دھوکے باز ہی لگتا ہے۔

اب کریں کیا؟
پہلے ہم اپنے اندر دیکھیں کہ ہم میں یہ رویہ کتنا موجود ہے؟
اگر موجود ہے تو دیکھیں کس وجہ سے ہے؟
اس کو ٹھیک کیا جا سکتا ہےمگر سوچیں ہی نہ اور غور ہی نہیں کریں تو اس کو تبدیل کرنا مشکل ہوتا ہے۔
کوئ نعمت یا تعریف مل جائے اس کو اللہ کی طرف سے سمجھ کر وصول کریں اور اس پر ایک اعتدال والا رویہ اختیار کریں۔اللہ ہمیں اپنے اخلاق کو بہتر سے بہتر کرنے کی توفیق دے۔

رحمہ طارق
13 جنوری 2023

09/12/2022

۱گر بچے کو اس دنیا میں بھی سرخرو بنانا چاہتے ہیں تو کن سات چیزوں کا خیال رکھیں؟
از سلمان آصف صدیقی

۱۔ سینس آف سیلف ورتھ کا تعلق اس کے رپورٹ کارڈ سے توڑ دیں۔واضح بتا دیں کہ تمہاری عزت کا کوئی تعلق ان نمبروں سے نہیں۔ تم سمارٹ ہو۔ جیسے بھی ہو میرے ہو۔ جو ذہانت کو پہچان نہ پا رہے ان کی ذہانت پر شک بنتا ہے نہ کہ بچے پر ۔

۲۔ اپنے بچوں سے اچھے کام کروانے ہیں تو لالچ اور خوف اس کے دل سے نکال دیں۔ اگر بچہ کسی چیز کے لئے اچھا عمل کرتا ہے تو وہ اچھا عمل نہیں۔ میٹیریل کے لالچ میں نیک کام نہ کروائیں۔ اپنی خوشی کی خاطر کرے، نہ کہ میٹریل کی چاہت میں۔ اسے پتہ ہو کہ اچھا کام ملامت کے ساتھ بھی کروں گا، سزا کے باوجود کروں گا، انعام کے بغیر بھی کروں گا۔ یہ ہوتا ہے بڑا آدمی!

۳۔ اگر بچے کو کوئی چیز نہیں دلوا سکتے تو یہ نہ بتائیے کہ افورڈ نہیں کر سکتا۔ دل میں یہ خیال آئے تو بھی نہ کہئے۔کہہ دیجیے کہ ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔ بچے کے اندر جب یہ چیز یہ آتی ہے کہ ہم یہ چیز اس لئے نہیں لے سکتے کہ ہمارے پاس پیسہ نہیں، تو بہت چھوٹی عمر سے وہ یہ سیکھ جاتا ہے کہ مجھے پیسے کے پیچھے خوب خوب دوڑنا ہے۔ ہر وہ چیز جو افورڈ ایبل نہیں ہے وہ ہماری دراصل ضرورت ہے بھی نہیں۔ دس بارہ سال کے بعد یہ بتا سکتے ہیں کہ ہمارا بجٹ کیا ہے ۔

۴۔ نیڈز اور وانٹس پر ڈسکس کرنا ہفتے میں ایک بار ضروری ہے۔ کیا ہم وانٹس کے پیچھے بھاگ رہے ہیں؟ آیا یہ ضرورت ہے بھی یا نہیں۔ جب یہ کانسیپٹ اندر راسخ ہو جائے تو اس کو روز مرہ زندگی سے کنیکٹ کریں۔

۵۔ ایک دن کے کھانے کی کاسٹ نکلوائیے۔ بچے کو فائنینشلی ریسپانسیبل بنائیں لالچ پیدا کیے بغیر۔ پیسے سے بے نیاز ہو لیکن معاشی طور پر ذمہ دارانہ رویہ ہو۔

۶۔ سترہ سال کی عمر تک بچے کو کم از کم تین بزنس ایکسپیریمنٹ کرنے چاہییں۔ ٹریڈنگ، مینوفیکچرنگ، سروسز، جو بھی۔ اسے پتہ چل جائے کہ میں کر سکتا ہوں۔ یہ اتنا بھی کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ سبزی والے کے پاس انٹرن شپ کرے۔ بزنس پراسیس سمجھے۔ اسے سمجھ آئے کہ لین دین کیسے ہوتا ہے۔ بزنس سائیکل کیا ہوتا ہے۔ چھوٹے بزنس سے وہ یہ چیز زیادہ اچھا سمجھ آ سکتا ہے۔ اسے کہیں فانینشل رپورٹ بناؤ، اپنی صلاحیت پیش کرو۔

۷۔ ہمیں اپنے دل میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ مال کی محبت کتنی ہے۔ اگر مال کی محبت بڑھ رہی ہے تو کسی کو تحفہ دے دیں۔ آپ کے بچے نے آپ قیمتی چیزیں بغیر کسی وجہ کے کسی کو گفٹ کرتے ہوئے دیکھا ہو۔ بچے کو سخاوت، دل کا کھلا ہونا پتہ ہو، بانٹنا بھی ہوتا ہے، کسی اچھے کاز میں لگانا بھی ہوتا ہے پتہ ہو۔۔ زیادہ کما سکوں اور زیادہ نیکی کما سکوں، یہ جانتا ہو۔"انہی کے لئے تو کماتے ہیں" والا ہر گز جملہ نہ بولیں۔ واپس ضرورت بمقابلہ خواہش پر آئیں۔ یہ نہ اس کے ذہن میں ڈالیں کہ سب دلانا چاہتا ہوں بس پیسے نہیں، یا پیسے ہیں تو جو چاہو لے لو۔ ضرورت نہیں تو نہیں لینا۔ حب مال پیدا کیے بغیر اس کو معاشی طور پر مضبوط بنائیں۔

اس لیکچر کو قلم بند کرنے اور آپ تک پہنچانے میں ہمیں تعاون حاصل ہے نیّر تاباں کا۔

22/07/2022

صوفے پر جمپ نہیں کرنا!
شور نہیں کریں!
یہ پلیٹ نہیں اٹھانی، ٹوٹ جاۓ گی!
آپ شیشے کے گلاس کو نہ پکڑیں، ٹوٹ جاۓ گا، پانی گر جاۓ گا!
ماما خود کر لے گی، آپ نہ اٹھائیں یہ چیزیں۔
آپ نہ چھیڑیں اسکو، یہ خراب ہو جاۓ گی!
یہ گر جاۓ گی!
یہ الفاظ کی گردان کتنی دفعہ ہوتی ہے آپ کے گھر میں؟
ہوتی ہے ناں گردان ایسے الفاظ کی؟
اچھا اور پھر بچے آپکی ان میں سے کوئی بھی بات نہیں سنتے!
وہ جمپ بھی کرتے ہیں،
شور بھی کرتے ہیں!
پلیٹ بھی اٹھاتے ہیں!
گلاس بھی توڑتے ہیں!
پانی بھی گراتے ہیں!
چیز خراب بھی کرتے ہیں!
اور چیز گراتے بھی ہیں!
کیوں؟ کیسے سمجھائیں کہ وہ سمجھ جایں؟
اچھا میں آپکو مزے کی بات بتاتی ہوں، ہمارا پی ایچ ڈی کے فائنل میں ڈیفنس ہوتا ہے اور اگر ہم اپنے کام کو اچھی طرح پریزنٹ کرنے میں فیل ہو جائیں تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہو گا! پھر سے دوبارہ محنت کرو، سال لگاؤ اور پھر ڈیفنس دو جب تک کہ آپ اسکو اچھی طرح پریزنٹ نہیں کر لیتے اور ججز کو مطمئن نہیں کر لیتے اپ پاس نہیں ہو سکتے!
یہ طریقہ ہر جاب اور ہر امتحان کے لئے لاگو ہے، اگر اپ اچھا پریزنٹ نہیں کرتے تو ناکامی یقینی ہوتی ہے چاہے اپ کتنے ہی ٹاپر کیوں نہ رہے ہوں!
اسی طرح ہمارے بولنے کا طریقہ بہت اہم ہے بچوں کے ساتھ! ہم کس طرح انھیں اپنی بات منوانا چاہ رہے ہیں بہت اہم ہے!
ایک بات آپ ذہن نشین کر لیں کہ آپ کے بچے روبوٹ نہیں ہیں، انکی فیلنگز ہیں اور وہ اللّه کی طرف سے مکمل سوچنے سمجھنے کی صلاحیت لے کر آئے ہیں، اور انکی اچھی تربیت ماں اور باپ دونوں پر فرض ہے۔
اس لیے جب ہم کمانڈز دیتے ہیں تو ہمیں دو چیزوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
1۔ ہمارا لہجہ
کیا ہم انکو بلکل عقل سے عاری سمجھ کر ایک کمانڈ دے رہے ہیں۔ جیسے روک جاؤ، نہ کرو، نہ ہاتھ لگاؤ، نہ شور کرو، اپکو نہیں لگتا ایسی کمانڈز روبوٹ کو ملتی ہیں؟؟
2۔ ہماری بات کو پریزنٹ کرنے کا طریقہ
یہ لہجے جتنا ہی اہم ہے۔ ہمیں بچوں کو غور و فکر کی بات پر لے کر آنا چاہیے۔
جیسے بچہ صوفے پر جمپ کر رہا ہے اور آپکو ڈر ہے کہ گر جاۓ گا!
تو آپ ایسے کہہ سکتے ہیں
مجھے یقین ہے کہ آپ اپنا خیال رکھ سکتے ہیں اور چوٹ نہیں لگے گی آپکو۔
پلیٹ اٹھانا چاہ رہا ہے۔
اپ کو یہ والی پلیٹ چاہیے؟ کیا ماما اپکی مدد کر دے وہاں رکھنے میں؟
بچے کو دماغ کو سوچنے کی غذا دیا کریں۔
ہماری عادت اتنی پختہ ہو چکی ہے کمانڈز دینے کی کہ اب تو ہم سوچے سمجھے بغیر نہیں کرو، نہیں کرو، نہیں کرو کہتے رہتے ہیں اور پھر روتے ہیں کہ بچے سنتے نہیں ہیں ہماری۔
طالب دعا
ڈاکٹر زرین زہرا

14/06/2022

میں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں مگر، اگر آپ موٹی ہو گئی تو میں دوسری شادی کر لوں گا!
اگر آپ نے میری بات نہ مانی تو میں ناراض ہو جاؤں گا!
اگر آپ نے اچھی روٹی نہ پکائی تو میں کھانا باہر کھا کر آؤں گا!
اگر آج آپ نے کچن صاف نہیں کیا تو میں ماروں گا!
اسی طرح!!
مجھے آپ بہت اچھے لگتے ہیں مگر، اگر آپ کے بال گر گئے تو میں آپ کے ساتھ نہیں رہوں گی!
مجھے اتنے پیسے چاہیے، اگرنہ دے تو میں میکے جا رہی ہوں!
اف!
کیسے لگے یہ سب سننا پڑے اپکو اپنے ہمسفر سے؟
آپ کہیں گے کہ بھئ کونسا پیار؟ اگر واقعی ہی اپکا ہمسفر پیار کرتا بھی ہو گا تو آپ اس کی طرف سے ہر وقت ناراضگی کی وجہ سے ہی ایک سٹریس میں ہی رہیں گے! اپکا دماغ صرف ایک جدوجہد کا گڑھ بنا ہو گا کہ کہیں میں کچھ غلط نہ کر دوں! اور اپکی ٹخلیقی صلاحیتیں بلکلصفر ہو جائیں گی۔
اب ایک منٹ!
ان جملوں پر غور کریں!
اگر آپ نے یہ کھانا نہیں کھایا تو ہم یہ نہیں کھیلیں گے!
اگر آپ نے ماما کی بات نہیں مانی تو ماما ناراض ہو جائیں گی۔
اگر آپ نے بھیا کو مارا تو میں یہ کھلونا لے لوں گی۔
آپ میری بات نہیں مانتے، اس لئے ماما اپکو باہر بھی نہیں لے کر جائیں گی۔

ماں باپ کے پیار میں کس کو کوئی شبہ ہے؟ کسی کو نہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ پیار کرنے والی ہستیاں ماں اور باپ ہوتے ہے۔
مگر
اگر دن میں اکثر آپ ایسے جملے استعمال کرتے ہیں تو اسکا مطلب ہے کہ
آپ مسلسل بچے کو تھریٹ (ڈر) کی حالت میں رکھتے ہیں۔
اپکا پیار صرف اور صرف اسکے اچھے ہونے پر منحصر ہے۔ مطلب اگر وہ اچھا بچہ( مطلب لوگوں کو خوش کرنے والا) ہے تو ٹیب تو آپ پیار کرتے ہیں، مگر جب وہ اپنے جذبات ظاہر کرے تو تب آپ تھریٹ کریں گے! کیوں؟
اچھا آب آپ لوگ مجھے کٹہرے میں کھڑا کریں گے کہ تربیت بھی تو کرنی ہوتی ہے۔
تو آپ کے لئے میں بتانا چاہتی ہوں کہ جب ہم بچے کو ڈرا کر کچھ بھی "تربیت" کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ دماغی طور پر اپکی بات سمجھ ہی نہیں سکتے، صرف اور صرف ڈر کی وجہ سے کر رہے ہوتے ہیں۔ جیسے اگر اپکو دھمکی دی جاۓ کہ یہ نہ کیا تو گھر سے نکال دوں گا یا نوکری سے نکل دیا جاۓ گا!
وہ معصوم سی جان بھی اپنی سیف (safe) سپیس کھو جانے کے ڈر سے فاٹا فٹ آپ کے کہے پر عمل کر لیتے ہیں۔
مگر ٹہریں!
اس کی وجہ سے کہیں آپ اسکی تخلیقی صلاحیتوں کا قتل تو نہیں کر رہے؟

مجھے امید ہے کہ آپ نہیں کر رہے۔
اگر کر رہے ہیں تو دیر اب بھی نہیں ہوئی۔
آپ اپنا رویہ بدل سکتے ہیں۔

Edit:
اب بندا تھریٹ نہ دے تو کیا کرے؟
اچھا میرا بھی یہی مسئلہ تھا۔ نہیں نہیں کشمیر والا نہیں، تھریٹس دینے والا!
مگر پھر میں نے consciously اپنے لفظوں پر غور کرنا شروع کیا!
مثال کے طور پر
بچہ کھانا نہیں کھا رہا!
اوکے! مجھے لگتا ہے اپکو بھوک نہیں ہے۔ کیا آپ کچھ اور کھائیں گے؟ یا چلیں ہم تھوڑی دیر تک کھا لیں گے۔ کھانے کے درمیان مناسب وقفہ نہ ہو تو بچے کھانا نہیں کھاتے۔ تھوڑی دیر میں انکو واقعی بھوک لگ جاتی ہے۔ دوسرا میٹھی چیزیں بلکل نہ دیں۔ ان سے بھوک مر جاتی ہے۔
بچہ سو نہیں رہا!
خود بھی آنکھیں بند کر ک لیٹ جائیں اور کہیں کہ ماما کو نیند آ رہی ہے۔ کیا ہو اگر ہم ڈراوے کے بغیر بچوں کو ہینڈل کرنا سیکھ لیں۔
یہ تھوڑا ٹائم ضرور لیتا ہے۔ مگر اپکی بات آخر میں اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔
جزاک اللّه خیر
ڈاکٹر زرین زہرا

PEN AND PAPER GAMES TO PLAY WHEN YOUR CHILD IS BORED |FUN GAMES| SUMMER VACATION GAMES 05/06/2022

السلام وعلیکم !

کیا حال ہیں ؟؟ بچوں کی چھٹیاں چل رہی ہوں گی اور آ پ بہت مصروف ہوں گی۔
بچے بھی کبھی اچھل کود کرتے ہیں کبھی لڑتے ہیں کبھی کھیلتے ہیں کبھی پڑھتے بھی ہیں ۔۔

ہر چیز ہی ضروری ہے سو انکی ایک روٹین بنائے رکھیں ۔

ورک بھی کروایا کریں اور انھیں گھر کے کاموں میں بھی اپنے ساتھ ملایا کریں ۔ اس سے ان میں کام کرنے کی صلاحیت بڑھے گی ۔
انھیں کہانی بھی سنایا کریں یہ جو وقت انکا آ پکے ساتھ گزرے گا یہ بہترین وقت ہو گا ۔

ان کے ساتھ مل کر ایکٹویٹی بھی کیا کریں
اگر دو بھائی یا دو بہنیں ہیں تو انھیں مل۔کر گیم کھیلنے کا ٹاسک دیا کریں ساتھ ساتھ خود بھی گائیڈ کیا کریں ۔

ایک وڈیو شیئر کر رہی ہوں بہت ہی آ سان گیمز ہیں بچے مل کر کھیل سکتے ہیں ۔۔
ضرور دیکھیے گا اور بتائیے گا کیسی لگی ۔۔

https://youtu.be/QuGjZEZrTIw

Follow us on YouTube .

PEN AND PAPER GAMES TO PLAY WHEN YOUR CHILD IS BORED |FUN GAMES| SUMMER VACATION GAMES without any investment . you can enjoy with your children easily at home . No khrcha 😉 only play with pen and paper . ...

20/04/2022

کیا ری ری لگائی ہوئی ہے، سر میں درد ہو گیا ہے!
بس چپ اب اور آواز نہ آئے!
یا ہم بچے کو روتا چھوڑ کر اپنے کام میں مصروف رہیں!
یہ سارے toxic برتاؤ میں آتے ہیں۔
ٹھیک ہے، میں سمجھ سکتی ہوں کہ رونا ہمارے ٹریگرز کو ایکٹو کر دیتا ہے مگر ایسے زہریلے الفاظ تو بچے کے جذبات کو مجروح کر دیتے ہیں۔ اگر آپ کا بچہ مسلسل رو رہا ہے تو سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ کیا اسکی ضروریات پوری ہیں جیسے
اسکا پیٹ بھرا ہوا ہے، اسکو پیاس یا کوئی پوٹی کا مسئلہ تو نہیں ہے؟
کیا ماحول ٹھیک ہے، کوئی روٹین میں تبدیلی تو نہیں ہے؟
کیا کوئی چیز یا کپڑا اسے تنگ نہ کر رہا ہو؟
گرمی یا سردی کا معاملہ نہ ہو؟
آج سارا دن آپ نے اسے توجہ نہ دی ہو؟
وہ بور ہو رہا ہو یا اپکی موجودگی یا توجہ نہ چاہ رہا ہو؟
یا اسکی طبیعت ٹھیک ہے؟ کہیں پیٹ میں یا مسوڑوں میں درد نہ ہو؟
اگر اسکی یہ ساری بنیادی ضروریات پوری ہیں اور وہ پھر بھی رو رہا گئی تو اسکو ویلدیٹ کریں۔
" میرے پیارے بیٹے، ماما آپکے ساتھ ہے، ماما بہت پیار کرتی ہیں۔ کیا آپ مجھے روۓ بغیر بتانا پسند کریں گے کہ اپکو کیا چاہیے۔ ماما کو ایسے سمجھ نہیں آتی، ماما اپکی ہیلپ کریں گی"
اگر آپ سے رونا برداشت نہیں ہو رہا اور آپ پھٹنے والے ہیں زور دار آواز کے ساتھ یا ایک ادھ چماٹ کے ساتھ تو پلیز، اس جگہ کو 2 منٹ چھوڑ دیں، باتھ روم جائیں اور وضو کریں یا کم سے کم اپنے منہ پر 2-4 چھینٹے پانی کے ڈال لیں۔ تا کے اپکا لاوا کم سے کم ابلنا بند ہو۔ تکلیف بھی بیچارے بچے کو ہے اور آپ خامخواہ بھرے جا رہے ہیں۔
اپنی بونڈریز سیٹ کریں، جس چیز پہ آپ نہ کر دیں، بعد میں چاہے بچہ جتنا روۓ آپ یا گھر کا کوئی بھی فرد وہ چیز نہ دے۔ آپ اگر ایک دفعہ اپنی boundry توڑیں گے تو اگلی دفعہ بچہ زیادہ زور سے روۓ گا۔
اگر بچے کو عادت ہے رونے کی تو اسکی عادت کو ختم کرنے کے لئے یہ تدبیر کی جا سکتی ہے۔
" اپکو فلاں چیز چاہیے، ماما اپکی یقینا مدد کریں گی، کیا اپ روۓ بغیر مجھے کہیں گے۔ ماما کو اچھا لگے گا! اور جب وہ روۓ بغیر کہے تو اسکی تعریف کریں۔
بچے کو روتا چھوڑ دینا ہرگز عقلمندی نہیں ہے۔ اسکو احساس دلائیں کہ ماما پاس ہیں اور اسکی جو بھی فریاد ہے سنی جا رہی ہے۔ اور سب سے بنیادی بات، اس ٹائم لیکچرز سے پرہیز کریں۔ کیوں کہ بچے کا اموشونل دماغ اس ٹائم ایکٹو ہوتا ہے اور اسنے لوجیکل برین کو پوری طرح بند کیا ہوتا ہے۔ مطلب وہ اپکی کسی لوجیک کو نہیں سمجھ سکتا۔ اسکو صرف اپکا پیار چاہیے اس وقت۔
سب سے اہم بات!
ہم نے اپنے بچوں کو یہ احساس ہر ٹائم دلانا ہے کہ انکی ہر بات سنی جاتی ہے۔ آپ چاہے تو انکی بات کو دوہرا کر انکو یقین دلا سکتے ہیں۔ اور انکی بات کی اہمیت ہے اور ویلیو ہے۔ چاہے ہم مان نہیں رہے مگر ہم انکے جذبات کی قدر کرتے ہیں اور انسے پیار کرتے ہیں۔
بچے ہمارے پیار کے قابل ہر ٹائم ہیں چاہے وہ جس بھی حالت میں ہوں۔ ہم انکی محفوظ پناہ گاہ ہیں اور ہم ہی انکو کونفیڈنٹلی جینا سکھا سکتے ہیں۔
جزاک اللّه خیر
ڈاکٹر زرین زہرا
Dr. Zareen Zuhra

16/03/2022

آپ کا بچہ آپ کا پلو چھوڑتا ہی نہیں۔ کچن کے کام کون کرے پھر؟

آپ نہ چھڑائیں پلو۔ بچے کو آس پاس ہی رکھیں۔ وہیں ایک کارٹن میں یا کسی ایسی دراز میں جہاں بچے کی آسانی سے رسائی ہے کچھ پلاسٹک کے اپنے ہی استعمال والے برتن رکھ دیجیے۔ بچہ سیکھے گا کس سائز کا ڈھکن کس برتن پر جاتا ہے۔ 'بڑا چھوٹا' کا کانسیپٹ سمجھ آنے لگے گا۔ ڈبوں سے ہی سکوئیر اور ریکٹ اینگل بھی پتہ چل جائیں گے۔ ڈھکن اوپر لگانے کی کوشش سے انگلیاں مضبوط ہوں گی۔

ایک گلاس میں تھوڑا پانی ڈال دیجیے۔ ساتھ دوسرا گلاس دے دیں۔ وہ ادھر سے ادھر کرتا رہے۔ اس سے بچے کے دماغ، آنکھوں اور ہاتھوں کی آپسی کو آرڈینیشن ہوتی ہے۔

آدھا کپ میدہ یا آٹا سخت گوندھ کر اسے دے دیں۔ اسی آٹے کو آدھا آدھا کر کے کسی میں ہلدی، کسی میں کافی یا کوکو پاؤڈر، کسی میں فوڈ کلر ملا دیں۔ وہ رنگ سیکھے گا۔ رنگوں سے رنگ ملنے پر نئے رنگ بنتے ہیں، یہ سیکھے گا۔ آٹا اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں گوندھے، اسے چمچ کی پچھلی طرف سے کاٹے، کسی پلیٹ کے پینڈے سے دبا کر چپٹا کر دے، جو جی چاہے کرنے دیں۔

مت دلائیں انہیں مہنگے کھلونے۔ بلکہ سستے بھی۔ کوئی پرانا ڈبہ، جار، بوتل پلڑا دیں۔ تھوڑی سی دال ڈال دیں۔ وہ اسے ہلاتا جلاتا رہے، تھوڑا شور شرابا ہو گا تو اسے اچھا لگے گا۔

ایک ٹب میں پانی ڈال کر بچہ ہے تو گاڑیاں پکڑا دیں کہ کار واش پر لے جائیں گاڑی۔ بچی ہے تو گڑیاں پکڑا دیں کہ انہیں نہلا دھلا دو۔ وہ بہت دیر مصروف رہے گا۔ یا کسی دن چمچ کانٹے حوالے کریں کہ یہ اچھی طرح دھو دیں۔

کارن فلاور پانی میں ڈال دیں تو گاڑھا سا ہو کر پانی کے نیچے بیٹھ جاتا ہے۔ بچے کتنی ہی دیر اسے مٹھیوں میں پکڑتے ہیں اور وہ مٹھی سے نکل کر پھر پانی میں بیٹھ جاتا ہے۔

ایک برتن میں پانی میں ذرا سا ڈش واشنگ لیکویڈ مکس کر کے سٹرا پکڑا دیں کہ پھونکیں مارو۔ جھاگ بن بن کر بہتی ہو گی۔ بڑی دیر کھیل کا سامان بنا رہے گا۔ یہ اس لئے بھی کہ ہم بچوں کو دودھ اور پانی میں پھونکیں مارنے اور بلبلے بنانے سے منع کرتے ہیں تو متبادل دے دیجیے۔

بیکنگ والے measuring cups کے ساتھ کوئی دال وغیرہ دے دیں۔ ناپ تول، کم زیادہ، یہ سب سیکھتا ہے بچہ۔ دال سے بہتر پانی ہے کیونکہ بچوں کو فطرتا" وہ کھیل پسند ہے جس میں پانی ہو یا ہاتھوں پر چیز کا ٹیکسچر محسوس کر سکیں۔

میدے، نمک اور پانی میں ذرا سا آئل اور فوڈ کلر ڈال کر پلے ڈو بنا دیں۔ رنگ سارے کچن سے نکال لیں۔ حتی کہ لال مرچ بھی۔ وہ اتنی ذرا سی ہوتی ہے کہ بچے کی جلد یا آنکھوں کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ یا ایسا نہ چاہیں تو بھی الماریاں میں دیکھیں کہ کیا کیا رنگ استعمال کر سکتی ہیں۔ سالٹ ڈو کا طریقہ آپ کو گوگل سے بآسانی مل جائے گا۔ بچہ جو جی چاہے اس سے بنائے۔

کوئی ٹماٹر، آلو وغیرہ دھونے ہیں، یا نہیں بھی دھونے تو بھی۔ مسکراہٹ! یہ کام بچوں کے حوالے کریں۔ ایک چھوٹی چوکی ہو جس پر بچے کو کھڑا کر دیں کہ وہ نلکے تک پہنچ جائے۔ نلکا بالکل تھوڑا سا کھولیں۔ بچے کو بتا دیں کہ اگر وہ نلکا زیادہ کھولیں گے تو پھر ان سے اجازت واپس لینی پڑے گی پھل سبزی دھونے کی۔ وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ اجازت ان سے چھینی جائے۔

ابلے آلو میش کرنا۔ کیک یا پکوڑوں کا آمیزہ گھولنا، ملک شیک بنانا ہو تو بلینڈر میں چیزیں ڈالنے میں ان کی مدد لینا۔۔۔ یہ سبھی کچھ بچے بڑے شوق سے کرتے ہیں۔ گروسری آئے تو انہیں بھگائیں کہ دال پکڑا دو، آلو پکڑا دو۔ یاد رہے کہ مقصد بچے کو مصروف رکھنا ہے نہ کہ یہ توقع کرنا کہ وہ سب کام احسن طور پر انجام دینے لگ جائے گا۔

بچے کچن میں آپ کے آس پاس رہنا چاہتے ہیں تو منع نہ کریں۔ ہاں رِیں رِیں کر کے گود میں اٹھوانے والا لاڈ نہ کریں۔ پیار سے کسی کام میں لگا دیں۔

اور!
بچہ برحال بچہ ہے۔ وہ گند مچائے گا۔ اس گند کو سمیٹنے کی کوشش میں مزید گند مچائے گا۔ اس کی کوشش کو ایکنالج کریں۔ یہ نہ کہیں کہ "اور ہی گندا کر دیا ہے، رہنے دو میں خود ہی کر لیتی ہوں، جتنی دیر میں آپ کریں گے میں چھے دفعہ کر لوں گی۔"

ان ننھے منوں کو آس پاس رہنے دیں۔ پتہ ہی نہیں چلتا کب بڑے ہو جاتے ہیں۔۔۔

نیر تاباں

27/02/2022

االسلام و علیکم !
پانی کا ایک گلاس جو ہم دن میں بہت بار پیتے ہیں اگر اسے ہم سنت کے مطابق پیئں تو بہت زیادہ ثواب حاصل کر سکتے ہیں ۔۔
آ ئیے ہم سب مل کر ان سنتوں کو زندہ کریں ۔۔

Follow us on youtube https://youtu.be/2OhPZ4um9Pg

15/02/2022

Parenting Tips .

11/02/2022
08/02/2022

میں چھوٹا ضرور ہوں، بیوقوف نہیں ہوں۔
میں سب سنتا ہوں جو آپ آپس میں میرے بارے میں باتیں کرتے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ مجھے آپ کب غصے سے دیکھ رہے ہیں اور کب پیار سے!
میں سمجھتا ہوں کہ مجھے آپ ڈانٹ رہے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ آپ میری بات سنتے ہوے کہیں اور دھیان رکھتے ہیں۔ اور یہ جو آپ خالی خو خاہ کر رہے ہیں ناں! مجھے سمجھ آتی ہیں۔
میں چھوٹا ضرور ہوں۔ مگر ناسمجھ نہیں ہوں۔
مجھے سمجھ ہے۔ چاہے آپ جتنی نہیں ہے، مگر مجھے سمجھ آتی ہے۔
کیا ہو! اگر مجھے تھوڑا اور سمجھا دیا جاۓ، ذرا تفصیل بتا دی جاۓ۔
آپ کے اعمال تو میں دن رات دیکھ دیکھ کے نقل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
کیا ہو، اگر میں سیکھنے کی جستجو میں کچھ غلط کر بیٹھوں اور آپ مجھے نہ ڈانٹیں۔
کیا ہو، جتنا پیار آپ کے دل میں ہے، اسکا وقتاً فوقتاً اظہار کرتے رہیں آپ!
میں سب سنتا ہوں، چاہے میں بول نہیں سکتا!

ایک 1 سال کے بچے کی ڈائری سے

ڈاکٹر زرین زہرا

08/02/2022

.. easy way to teach your child..

31/01/2022

*کیا آپ اپنے بچوں کا احترام کرتے ہیں؟*

ایک محفل میں میری ملاقات مشرقی والدین سے ہوئی جن کو اپنے بچوں سے یہ شکایت تھی کہ وہ بے ادب اور گستاخ ہو گئے ہیں۔

میں نے پوچھا ’کیا آپ اپنے بچوں کا احترام کرتے ہیں؟‘

کہنے لگے ’ہم ان سے پیار کرتے ہیں اور ان کا خیال رکھتے ہیں۔ ‘

میں نے پھر پوچھا ’کیا آپ ان کی رائے کا احترام کرتے ہیں؟‘

کہنے لگے ’ بچوں سے محبت کی جاتی ہے اور بزرگوں کا احترام کیا جاتا ہے۔ ‘

یہ وہ مکالمہ ہے جو میں اپنی زندگی میں بیسیوں مشرقی والدین سے کر چکا ہوں۔

میں ایسے والدین کو اپنی زندگی کے چند واقعات سناتا ہوں۔ آئیں ان میں سے دو آپ کی خدمت میں پیش کروں۔

پہلا واقعہ میری نانی اماں کے حوالے سے ہے۔ جب میں بچہ تھا تو گرمیوں کی چھٹیوں میں پشاور سے لاہور اپنی نانی اماں سے ملنے جایا کرتا تھا۔ وہ 4 مزنگ روڈ پر رہتی تھیں۔ مجھے اپنی نانی اماں سے بہت پیار تھا۔ میں ان کی بہت عزت کرتا تھا۔ اب جبکہ میں ایک ماہرِ نفسیات بن گیا ہوں میں اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کہ آخر میری نانی اماں میں وہ ایسی کیا خاص بات تھی کہ میں ان کی سب رشتہ داروں سے زیادہ عزت کرتا تھا۔ اب مجھے وہ راز پتا چل گیا ہے۔ وہ میرے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے مجھ سے میری رائے پوچھتی تھیں۔

’سہیل بیٹا آپ اورنج جوس پئیں گے یا دودھ ؟‘

’نانی اماں دودھ پیوں گا ‘۔

’سہیل بیٹا ٹھنڈا دودھ پئیں گے یا گرم ؟‘

’ٹھنڈا نانی اماں برف ڈال کر۔ ‘

باقی رشتہ دار مجھے بچہ سمجھ کر میری روزمرہ زندگی کے بارے میں خود ہی فیصلے کرتے تھے لیکن میری نانی اماں مجھے little person سمجھتی تھیں اور میری رائے کو اہمیت دیتی تھیں۔

دوسرا واقعہ میرے والد صاحب کا ہے۔ جب میں دس سال کا تھا تو میری چھوٹی بہن عنبر پانچ سال کی تھیں۔ ایک دن کھیلتے کھیلتے انہیں مجھ سے دھکا لگا۔ وہ گر گئیں اور انہیں چوٹ آئی۔ شام کو جب ہم سب کھانا کھا رہے تھے تو عنبر نے والد صاحب سے میری شکایت کی

’ابو جان سہیل بھائی نے مجھے دھکا دیا تھا اور مجھے چوٹ آئی ہے۔ ‘

والد صاحب نے کہا ’سہیل بیٹا آپ اپنی چھوٹی بہن سے معافی مانگیں۔ ‘

زندگی میں پہلی بار میری انا آڑے آئی۔ چھوٹی بہن سے معافی مانگنا میری مردانگی کے خلاف تھا۔ میں خاموش رہا۔ چند ہی لمحوں میں میرا سراپا پسینے سے شرابور ہو گیا۔

والد صاحب نے کہا ’ہم سب اس وقت تک کھانا نہیں کھائیں گے جب تک سہیل عنبر سے معافی نہیں مانگے گا۔ ‘

میں نے آخر کار اپنا تھوک نگلا اور نیچی نطر سے کہا ’عنبر مجھے معاف کر دیں‘

میں سمجھا طوفان گزر چکا تھا لیکن ایسا نہ تھا

والد صاحب نے عنبر سے پوچھا ’ کیا آپ نے سہیل بھائی کو معاف کر دیا ہے؟‘۔

جب عنبر نے کہا ’جی معاف کر دیا ہے‘ تب ہم نے دوبارہ کھانا کھنا شروع کیا۔

یہ واقعہ چند لمحوں کا تھا لیکن اس کے اثرات دیرپا تھے۔ اس واقعہ سے میں نے نہ صرف عنبر کا بلکہ تمام عورتوں کا احترام کرنا سیکھا۔

ایک دفعہ میرے والد صاحب سے غلطی ہوئی اور انہوں نے خود مجھ سے معافی مانگی۔ اس واقعہ سے میرے دل میں ان کا احترام اور بھی بڑھ گیا۔

جب آپ بچوں کا احترام کرتے ہیں تو پھر وہ نہ صرف آپ کا بلکہ محبت کرنے والی اتھارٹی کا احترام کرنا سیکھتے ہیں۔ پھر وہ سکول میں اساتذہ کا، کالج میں پروفیسروں کا اور زندگی میں قانون کا احترام کرتے ہیں۔

والدین اور اساتذہ بچوں کی دو طرح سے تربیت کر سکتے ہیں۔ محبت پیار اور احترام سے یا غصہ رعب اور خوف سے۔ جو بچے والدین سے خوفزدہ رہتے ہیں وہ بڑے ہو کر نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں اور ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات سے بھی ملتے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ اپنے والدین کی طرح ان سے بھی خوفزدہ رہتے ہیں۔

میرے والد کہا کرتے تھے کہ اختلاف الرائے اور دشمنی میں بہت فرق ہے۔ اختلاف الرائے دوستی اور مکالمے کے لیے مثبت اور دشمنی منفی رویہ ہے۔ میرے شاعر چچا عارف عبدالمتین بھی کہا کرتے تھے کہ صاحب الرائے لوگ بہت سوچ سمجھ کر اپنی رائے قائم کرتے ہیں اس لیے ہمیں ان کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔

میں نے اپنی زندگی کے تجربے‘ مشاہدے ‘مطالعے اور تجزیے سے یہ سیکھا ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ ہماری رائے کا احترام کریں تو ہمیں دوسرے لوگوں کی رائے کا بھی احترام کرنا سیکھنا چاہیے۔

اگر ہم اہنے بچوں کا احترام کریں گے ‘انہیں چھوٹا انسان سمجھیں گے تو وہ بڑے ہو کر دوسروں کا احترام کرنا سیکھیں گے۔ وہ مکالمہ کرنا سیکھیں گے جو جمہوریت کے لیے بہت اہم ہے۔
ارسطو کہا کرتے تھے کہ انسانوں کے درمیان دو طرح کے رشتے ہوتے ہیں۔ ایک رشتہ آقا اور غلام کا ہے جو آمریت میں پایا جاتا ہے اور دوسرا رشتہ دوستی کا ہے جو آزاد منش لوگوں اور جمہوریت میں پایا جاتا ہے۔ ارسطو کا مشورہ تھا کہ ہمیں اپنے بچوں کو گھروں اور سکولوں میں یہ سکھانا چاہیے کہ ہم چاہے کسی رنگ ‘نسل ‘مذہب یا زبان سے تعلق رکھتے ہوں ہم سب انسان ہونے کے سبب برابر ہیں اور ایک دوسرے کے دوست بن سکتے ہیں۔ ایسے بچے بڑے ہو کر جمہوری نظام قائم کر سکتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں وہ بچے جو یہ سمجھتے ہیں کہ بعض لوگ رنگ ‘نسل ‘ مذہب‘ زبان‘دولت شہرت یا وراثت کی وجہ سے دوسروں سے بہتر ہیں وہ بڑے ہو کر آمریت کا نظام قائم کرتے ہیں کیونکہ ان کے ذہن میں آقا اور غلام کا رشتہ دوستی کے رشتے سے زیادہ محترم اور مقدس ہوتا ہے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ ایک جمہوری معاشرے میں سب شہریوں کو‘ خاص طور پر عورتوں اور اقلیتوں کو ‘برابر کے حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ قانون کی نگاہ میں سب شہری برابر ہوتے ہیں اور سب شہریوں کے انسانی حقوق کا احترام کیا جاتا ہے۔ ایسے نظام میں قوم کے لیڈر قوم کی خدمت کرنا نہ کہ ان پر حکمرانی کرنا چاہتے ہیں۔ یہ نظام ایسے لوگ قائم کر سکتے ہیں جو بچپن سے والدین کا احترام سیکھتے ہیں کیونکہ والدین ان کی رائے کا احترام کرتے ہیں اور ان پر اپنی علمیت اور شخصیت کا رعب جمانے کی بجائے زندگی کے مسائل پر ان سے مکالمہ کرتے ہیں۔ ایسے بچے گھروں اور سکولوں میں انسان دوستی کا فلسفہِ حیات سیکھتے ہیں۔

میری نگاہ میں دوستی اور مکالمے کا فن سیکھنا جمہوری نظام قائم کرنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ میں نے ایک یونانی خاتون سے پوچھا کہ جمہوریت کی‘ جو یونان میں پیدا ہوئی تھی‘ ایک جملے میں کیا تعریف ہو سکتی ہے۔ کہنے لگیں جہاں DIALOGUE ہوتا ہے وہاں جمہوریت پائی جاتی جب ڈائیلاگ MONOLOGUE بن جاتا ہے تو وہ SERMON کا روپ ڈھال لیتا ہے۔ ڈائلگ اور مونولاگ کا فرق جمہوریت اور آمریت کا ایک کلیدی فرق ہے وہ آمریت مذہبی بھی ہو سکتی ہے سیاسی بھی عسکری بھی اور سماجی بھی۔

ہمیں یہ سچ جلد یا بدیر قبول کرنا ہوگا کہ ہمارے بچے ہمارے مستقبل کے لیڈر ہیں۔ اور ہمیں ان کا احترام کرنا سیکھنا ہے.

تحریر،، ڈاکٹر خالد سہیل (ماہر نفسیات، کینیڈا میں مقیم .اردو انگلش میں چالیس کتابوں کےمصنف،شاعر)

27/01/2022

Develop some good habits in your children.

22/01/2022

مجھے مت چھیلو ،😢😢
A msg from bechara orange 🍊🍊😂😂😁😁😁

22/01/2022
02/12/2021

For a super Mom and her super daunghter 😊

Want your school to be the top-listed School/college in Kunri?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Videos (show all)

Rose and lotus flower drawing   Join us on youtube  https://youtu.be/fVriYkdKNFM
Pani peeny ka sunnat tarika .
Animals vocabulary in Arabic .
Play with your child
Islamic Information.
How to develop good habits in your child . #parenting #changeyourself
Weather vocabulary
Surah Ikhlas .. #learning For kids

Location

Category

Telephone

Address

C2-
Kunri
Other Education in Kunri (show all)
Decent Grammar School Kunri Decent Grammar School Kunri
Khalid Colony Kunri
Kunri

Knowledge

Political Science UoS, Jamshoro Political Science UoS, Jamshoro
Kunri, 69160

Spread Knowledge

Ibrahimsamoon Ibrahimsamoon
Kunri

the ibrahim samoon

saqib03353630994 saqib03353630994
Zafar Colony
Kunri, 69160

Dars E Qur'an Online Dars E Qur'an Online
Kunri, KARACHI

Ghar Bethe Quraan ki Ta'aleem hasil Karen Abhi Rabta Karen 03101333738

Kunri Testing Service-KTS Kunri Testing Service-KTS
Kunri, 69160

Its group of social activict

GBPS Nabisar Town Campus GBPS Nabisar Town Campus
Chelhar Road
Kunri, 691000

Education is the basic right of every child.

Education First Right Education First Right
Kunri, 69100

Salients feature's: √ Education √ Health √ Scholarship √ Jobs √ News

The Villaje Akademy The Villaje Akademy
Kunri, 69160

This page has been created to share educational awareness! Along with general information about jobs

Nts pass education develpment forum umarkot NTS  EDF Nts pass education develpment forum umarkot NTS EDF
Kunri

The forum is made For gathring in one platform and show strength of merit and get awarness in educat