Artificial Intelligence (AI) cannot replace doctors—but it can significantly enhance and support clinical decision-making (An automated, AI-based application designed to assist in the classification of oral diseases).
Ayaz Wazir
This page is a good place for learning computer science, IT and deep learning and data science.
10/04/2026
New AI Can Work Like a Human for 8 Hours
A company called Z.ai has launched a new AI model named GLM-5.1. This AI is very powerful and different from older AI tools.
• The biggest change:
This AI can work on one task continuously for up to 8 hours, just like a human employee.
• What makes it special?
It can handle long and complex tasks without stopping
It can do thousands of steps in one task
It can plan, test, fix mistakes, and improve its work by itself
• Real example:
The AI was able to build a full computer system (like Linux desktop) in just 8 hours without human help.
• Performance:
Much faster and smarter than older AI models
Beats many top AI systems in coding and problem solving
• Important point:
This AI is open-source, which means developers can use and modify it easily.
07/04/2026
🦷 Front View of Our AI-Based Dental Disease Identification App. Need suggestions from your side for a more enhanced look.
07/04/2026
2026 میں ایجنٹک اے آئی: جدید اورخودکار ماڈلز
مصنوعی ذہانت اب ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ گزشتہ برسوں تک اے آئی ماڈلز بنیادی طور پر مخصوص کاموں جیسے کسی بیماری کی تشخیص، ٹریفک کنٹرول، موسم کی پیش گوئی یا ڈیٹا پروسیسنگ کے لیے استعمال ہوتے رہے۔ مگر 2026 میں توجہ اب ایجنٹک اے آئی (Agentic AI) کی طرف منتقل ہو گئی ہے—ایسے خودمختار نظام جو نہ صرف دیے گئے ڈیٹا پر عمل کر کے فیصلے دیتے ہیں بلکہ خود فیصلہ سازی، منصوبہ بندی اور عمل درآمد کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ یہ تبدیلی اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ اے آئی اب صرف ایک ٹول نہیں بلکہ ایک فیصلہ ساز قوت کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔
بجائے اس کے کہ ایک ہی اے آئی ماڈل ٹرین کیا جائے، ایجنٹک اے آئی ایک کثیر اے آئی ایجنٹس پر مبنی نظام ہے۔ ہر ایجنٹ ایک مخصوص کردار ادا کرتا ہے، جیسے تحقیق، تجزیہ یا عمل درآمد، جبکہ ایک مرکزی سسٹم ان چھوٹے ماڈلز کے افعال کو مربوط کرتا ہے۔ یہ ماڈل انسانی ٹیم ورک کی طرح کام کرتا ہے اور زیادہ مضبوط، قابلِ اعتماد اور اسکیل ایبل نظام فراہم کرتا ہے۔
ایجنٹس کے درمیان مؤثر تعاون کے لیے رابطے کے معیاری پروٹوکولز اب بنیادی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ایسے معیارات مختلف پلیٹ فارمز اور کمپنیوں کے ایجنٹس کو ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تعاون کی اجازت دیتے ہیں، جس سے ایک مربوط اور فعال ایجنٹک نظام ابھر رہا ہے۔
مزید برآں، ایجنٹک نظام صرف تجرباتی مرحلے تک محدود نہیں رہے بلکہ حقیقی کاروباری ماحول میں نافذ ہو رہے ہیں۔ کامیابی کے لیے تنظیموں کو اپنے کام کے بہاؤ کو نئے سرے سے ڈیزائن کرنا پڑتا ہے تاکہ ایجنٹس کو مکمل آزادی کے ساتھ کام کرنے دیا جا سکے۔
خودمختاری کے بڑھنے کے ساتھ گورننس اور سیکیورٹی کے اصول بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ تنظیمیں اب ایجنٹس کے فیصلوں کی نگرانی، آڈٹ لاگز اور کنٹرول میکانزم کو نظام کا حصہ بنا رہی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ خودکار نظام انسانی مقاصد اور اخلاقی معیار کے مطابق کام کریں۔
انسانی کردار بھی ایجنٹک نظام میں موجود ہے، مگر اب یہ بدل کر تعاون پر مبنی شراکت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ معمول کے کام ایجنٹس انجام دیتے ہیں جبکہ انسان اہم اور پیچیدہ فیصلے کرتے ہیں۔ اس مشترکہ ماڈل سے نہ صرف کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اعتماد اور شفافیت بھی بہتر ہوتی ہے۔
اقتصادی پہلو بھی اس رجحان کا اہم حصہ ہیں۔ بڑے اے آئی ماڈلز کے مستقل استعمال کی لاگت زیادہ ہوتی ہے، اس لیے 2026 میں ایجنٹک اے آئی کے استعمال اور لاگت کے توازن پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ طاقتور ماڈلز کو چھوٹے اور مؤثر ماڈلز کے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ وسائل کی بچت کے ساتھ اعلیٰ کارکردگی حاصل کی جا سکے۔
مثال کے طور پر تصور کریں ایک جدید فلائٹ بکنگ سسٹم جس میں ایجنٹک اے آئی استعمال ہو رہی ہے۔ اس نظام میں مختلف ایجنٹس مخصوص کام انجام دیتے ہیں:
ایک ایجنٹ بہترین پروازیں تلاش کرتا ہے،
دوسرا ایجنٹ قیمتوں اور فلائٹ کی دستیابی چیک کرتا ہے،
تیسرا ایجنٹ صارف کی ترجیحات اور سابقہ بکنگ ریکارڈز کی بنیاد پر سفارشات دیتا ہے،
ایک مرکزی سسٹم تمام ایجنٹس کے فیصلوں کو مربوط کر کے صارف کو بہترین فلائٹ پیکیج فراہم کرتا ہے۔
ایسا نظام خود سے منصوبہ بندی کرتا ہے، متبادل حل تلاش کرتا ہے، اور صارف کی مخصوص ضروریات کے مطابق فوری فیصلے لیتا ہے—یہ ایجنٹک اے آئی کی عملی تصویر ہے۔
یہ نئی ایجادات مستقبل کی ایک نئی لہر پیدا کر رہی ہیں۔ کلاؤڈ سروس فراہم کنندگان، کاروباری سافٹ ویئر کمپنیاں اور اسٹارٹ اپس مل کر ایک متحرک اور توانا نظام تشکیل دے رہے ہیں، اور آنے والے دنوں میں معیشت اور انتظامی ڈھانچوں میں ایجنٹک اے آئی کی اہمیت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ 2026 کے آخر تک یہ ٹیکنالوجی سب سے منافع بخش اور قیمتی مہارتوں میں شمار کی جائے گی۔
By Ayaz Wazir (PhD CS)
need thumbnail for it
03/04/2026
شارٹ کٹ کلچر کا انجام: نوجوان بیچ راستے میں کیوں کھڑے ہیں؟
کبھی ہم فخر سے کہتے تھے کہ پاکستان فری لانسنگ میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ نوجوان گھروں میں بیٹھ کر دنیا بھر سے کام لے رہے ہیں اور ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کما رہے ہیں۔ یہ تصویر خوبصورت تھی… لیکن ادھوری تھی۔
آج سب کچھ مختلف ہے—اور شاید تھوڑا تلخ بھی۔
ہم نے ایک اجتماعی غلطی کی۔
ہم نے ایک پوری نسل کو یہ یقین دلایا کہ کامیابی کے لیے شارٹ کٹس کافی ہیں۔ میٹرک یا انٹر کے بعد ہی ہزاروں نوجوانوں نے یونیورسٹی کا راستہ چھوڑ دیا۔ انہیں لگا کہ ڈگری غیر ضروری ہے، محنت ثانوی ہے، اور چند آسان اسکلز سیکھ کر زندگی “سیٹ” کی جا سکتی ہے۔
ہر طرف ایک ہی پیغام گونج رہا تھا:
“آن لائن کماؤ… جلدی کماؤ… آسان کماؤ…”
انہیں سکھایا گیا:
لوگو ڈیزائن کر لو،
بیک گراؤنڈ ریموو کر لو،
کاپی پیسٹ کر لو،
چھوٹی موٹی ویڈیوز بنا لو…
اور بتایا گیا:
“بس یہی کافی ہے۔”
وہ بھیڑ چال میں اسی راستے پر چل پڑے۔ انہیں لگا یہی قابلیت ہے… یہی کامیابی ہے۔
لیکن دنیا رکتی نہیں۔
آج وہی کام، جو کل تک آمدن کا ذریعہ تھے، چند سیکنڈ میں (AI) کر رہا ہے۔ کلائنٹس اب ان آسان کاموں کے لیے فری لانسر ہائر ہی نہیں کرتے۔ دوسری طرف پلیٹ فارمز پر مقابلہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ ریٹس گر چکے ہیں، ویلیو کم ہو چکی ہے، اور نئے لوگوں کے لیے جگہ بنانا پہلے جیسا آسان نہیں رہا۔
خاموشی سے بہت کچھ بدل گیا۔
اکاؤنٹس بند ہوئے،
پالیسیاں سخت ہوئیں،
اور ہزاروں لوگ بغیر کسی شور کے اس مارکیٹ سے باہر ہو گئے۔
نتیجہ؟
لاکھوں نوجوان آج ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں نہ وہ مکمل تعلیم یافتہ ہیں، نہ ہی مارکیٹ میں ان کی واضح جگہ باقی ہے۔ وہ بیچ راستے میں کھڑے ہیں—الجھن میں، پریشانی میں۔
اور اب سوال کرتے ہیں:
“میں کہاں جاؤں؟ میں کیا کروں؟”
یہ صرف فری لانسنگ کا مسئلہ نہیں رہا… یہ ایک معاشرتی بحران بنتا جا رہا ہے۔
ہمیں رک کر سوچنا ہوگا۔
ہم اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟
ہم انہیں وقتی کمائی دے رہے ہیں یا ایک مضبوط مستقبل؟
سچ یہ ہے:
زندگی کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔
یہ ایک میراتھن ہے—جس کے لیے مستقل مزاجی، گہری مہارت (deep skills)، اور مسلسل سیکھنے کی عادت ضروری ہے۔
اب وقت ہے:
✔ سچ کو تسلیم کرنے کا
✔ اپنی سمت درست کرنے کا
✔ نوجوانوں کو حقیقت دکھانے کا
انہیں بتائیں:
اسکلز سیکھیں… لیکن گہرائی کے ساتھ
تعلیم حاصل کریں… صرف ڈگری نہیں، سمجھ کے ساتھ
(AI)سے ڈریں نہیں… اسے اپنا ٹول بنائیں
کیونکہ آنے والا وقت صرف انہی لوگوں کا ہوگا جو:
✔ سیکھنا جانتے ہوں
✔ بدلنا جانتے ہوں
✔ اور اپنی ویلیو خود تخلیق کر سکیں
اگر ہم نے آج اپنی سوچ بدل لی… تو یہی مشکل وقت ایک نئی شروعات بن سکتا ہے۔
ورنہ… کل واقعی بہت دیر ہو جائے گی۔
#پاکستان
#نوجوان
#تعلیم
#کیرئیر
#حقیقت
#سکلز
#آگاہی
02/04/2026
استادوں کی "چاند رات" — امتحانی نظام کا خاموش بحران
پاکستان میں روزِ اول سے تعلیمی معیار مختلف چیلنجز اور بے ضابطگیوں کا شکار رہا ہے۔ ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے حکومتی اور ادارہ جاتی سطح پر مسلسل کوششیں بھی کی جاتی رہی ہیں، مگر بدقسمتی سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ اس ناکامی کی ذمہ داری کسی ایک طبقے پر عائد نہیں ہوتی بلکہ اس میں سیاستدانوں، محکمہ تعلیم اور خود اساتذہ سمیت کئی فریق برابر کے شریک نظر آتے ہیں۔
سالانہ امتحانات
پاکستان میں پہلے ہی امتحانی نظام مثالی نہیں تھا، مگر گزشتہ چند برسوں میں اس میں آنے والی گراوٹ نہایت تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ خصوصاً میٹرک (SSC) اور انٹرمیڈیٹ (HSSC) کے امتحانات میں، پورے پاکستان اور بالخصوص خیبر پختونخوا میں حالات خاصے سنگین ہو چکے ہیں۔ یہ امتحانات ہر سال اپریل اور مئی میں منعقد ہوتے ہیں اور مختلف تعلیمی بورڈز کی نگرانی میں انجام پاتے ہیں۔ ان کے انعقاد کے لیے سرکاری اسکولوں اور کالجوں کے اساتذہ کو مختلف امتحانی ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں۔ بنیادی طور پر امتحانی ڈیوٹی ایک قومی ذمہ داری ہے، جس کا مقصد طلبہ کو ایک منصفانہ، شفاف اور سازگار ماحول فراہم کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنی محنت کے مطابق نتائج حاصل کر سکیں۔ اس پورے نظام میں سپرنٹنڈنٹ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور نگران اساتذہ کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
امتحانی ڈیوٹی: خدمت یا مفاد؟
عملی طور پر، خاص طور پر خیبر پختونخوا جیسے علاقوں میں، امتحانی ڈیوٹی اپنی اصل روح سے ہٹ کر ایک "موقع" کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اگرچہ اس کے ساتھ باقاعدہ الاؤنس بورڈ کی طرف سے ملتا ہے، مگر اس کے علاوہ بھی کئی غیر رسمی فوائد اس ڈیوٹی کو پرکشش بنا دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے سرکاری اساتذہ کا ایک بڑا طبقہ سارا سال یہ کوشش کرتا رہتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے سکول میں بچوں کو پڑھانے کے بجائے امتحانی ہال میں رہے۔ یہ اساتذہ اس موقع کو کئی فائدوں کے لیے استعمال کرتے ہیں، مثلاً بورڈ الاؤنس، اچھے کھانے، نئے لوگوں سے تعلقات بنانا، اور سب سے بڑھ کر اگر ہال میں پرائیویٹ سکولوں کے طلبہ ہوں تو ہزاروں اور لاکھوں روپے کمانا۔ سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو پرائیویٹ سکول والے لاکھوں روپے دیتے ہیں، جو وہ طلبہ سے نقل کی سہولت کے نام پر لیتے ہیں۔ اس لیے یہ عادی اساتذہ امتحانات کے قریب آتے ہی اپنی کوششیں شروع کر دیتے ہیں تاکہ کسی نہ کسی طرح اس امتحانی عمل کا حصہ بن سکیں۔ پہلے امتحانی ڈیوٹی دلوانے میں ضلعی تعلیمی دفاتر اور سیاسی نمائندوں کا کردار زیادہ جبکہ پرائیویٹ سکولوں کے( MDs) کا کم تھا، مگر جب سے لاٹری (Lucky Draw) سسٹم شروع ہوا ہے، ضلعی دفاتر کا کردار کم ہو چکا ہے اور پرائیویٹ سکولوں کے (MDs) یوں سمجھ لیں کہ کنٹرولر جیسے اختیارات رکھتے ہیں۔ اس لیے اب اساتذہ سارا سال ان( MDs) کی خوشامد کر کر کے نہیں تھکتے۔
ان تمام بے ضابطگیوں میں جہاں ایک طرف بورڈ کا عملہ ملوث ہے، وہیں دوسری جانب ضلعی تعلیمی دفاتر بھی برابر کے شریک ہیں، جو انہی اساتذہ کو سال میں تین تین اور چار چار امتحانی ڈیوٹیز کی اجازت دیتے ہیں۔ اس طرزِ عمل نے اس اہم ذمہ داری کو ایک مفاداتی سرگرمی میں بدل دیا ہے۔ نتیجتاً، یہ افراد امتحانی ڈیوٹی کو پیشہ ورانہ ذمہ داری کے بجائے ذاتی فائدے کے تناظر میں دیکھنے لگتے ہیں، جو کہ ایک تشویشناک رجحان ہے۔ امتحانی مراکز، جو علم، دیانت اور انصاف کی علامت ہونے چاہئیں، بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ اگرچہ بہت سے اساتذہ اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر بعض نجی تعلیمی اداروں کے منتظمین اور متعلقہ عملے کی ملی بھگت سے امتحانی عمل متاثر ہوتا ہے۔ جبکہ ایمانداری سے کام کرنے والے اساتذہ کو یا تو وقت سے پہلے ڈیوٹی سے ہٹا دیا جاتا ہے یا کسی نہ کسی طریقے سے خاموش کر دیا جاتا ہے۔
امتحان شروع ہونے سے ایک دن پہلے کا دن بہت اہم ہوتا ہے، اور یہ عادی اساتذہ بورڈ جاتے ہیں تاکہ کسی طرح سے یہ موقع حاصل ہو۔ یوں لگتا ہے جیسے لوگ میونسپل کمیٹی کے دفاتر کے اردگرد چاند رات کا انتظار کر رہے ہوں اور عید کی خوش خبری کا بے صبرانہ انتظار کر رہے ہوں۔ اسی طرح یہ اساتذہ بورڈ جاتے ہیں؛ کسی نے سیاسی نمائندے کا آشیرباد لیا ہوتا ہے، کسی نے (MD) کا، اور کچھ لوگ ایک ہاتھ دو، ایک ہاتھ لو کے آشیرباد کے ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں۔ کچھ خوش قسمت ہوتے ہیں اور اپنے ساتھ عید کی خوشی لے آتے ہیں، اور کچھ مایوس ہو کر اس نظام پر طنز و تنقید شروع کر دیتے ہیں۔
ایاز وزیر (پی ایچ ڈی سی ایس)
01/04/2026
5 Skills AI Can’t Replace – Advice from LinkedIn’s CEO
AI is changing the workplace faster than ever, but not all skills are at risk. LinkedIn CEO Ryan Roslansky highlights the uniquely human abilities that machines simply can’t replicate — and that young professionals should focus on developing today.
The five most valuable “AI-proof” skills are curiosity, creativity, compassion, courage, and communication. These are the traits that help you think critically, adapt to change, and work effectively with others — things AI can’t truly do.
AI isn’t here to replace us; it’s a tool to amplify our potential. Those who can combine technological fluency with human strengths will stand out in the evolving job market. Learning continuously and staying flexible is more important than ever, as skill requirements are shifting rapidly. Finally, traditional linear career paths are becoming outdated. Shorter learning cycles, adaptability, and leveraging human skills alongside AI will set you apart and create opportunities that machines alone cannot achieve.
Invest in yourself, embrace AI as a partner, and focus on what makes you irreplaceably human.
22/03/2026
یہ ہیں کمانے کے 15 بے رحم سچ — اگر ہضم ہو جائیں تو زندگی بدل جائے
پیسہ دعا سے نہیں آتا، ڈیزائن سے آتا ہے۔
اور دنیا آپ کو اس لیے نہیں دیتی کہ آپ تھک گئے ہیں… بلکہ اس لیے دیتی ہے کہ آپ نے اس کے لیے کتنی “ویلیو” پیدا کی ہے۔
اگر واقعی کمانا چاہتے ہیں، تو جذبات نہیں… یہ اصول سمجھیں:
1۔ محنت نہیں، ویلیو بکتی ہے
دنیا کو آپ کی تھکن سے کوئی ہمدردی نہیں۔ مزدور بھی ٹوٹتا ہے، مگر امیر نہیں بنتا۔
پیسہ وہاں جاتا ہے جہاں کمی ہو… جہاں نایابی ہو… وہاں قیمت بنتی ہے۔
2۔ وقت بیچو گے تو قید میں رہو گے
تنخواہ ایک خوبصورت جیل ہے۔
اصل کھیل تب شروع ہوتا ہے جب آپ کا سسٹم آپ کے بغیر بھی کمائے۔
3۔ گمنام رہ کر کوئی نہیں جیتتا
اگر لوگ آپ کو نہیں جانتے… تو وہ آپ سے نہیں خریدیں گے۔
آواز اٹھائیں، خود کو دکھائیں… کیونکہ جو نظر آتا ہے، وہی بکتا ہے۔
4۔ درد سب سے بڑا بزنس ہے
لوگ خوشی خریدنے میں سوچتے ہیں…
لیکن درد سے بچنے کے لیے سب کچھ دے دیتے ہیں۔
درد ڈھونڈیں… حل بیچیں… پیسہ خود آئے گا۔
5۔ ایک آمدنی = ایک خطرہ
ایک دروازہ بند ہوا تو کھیل ختم۔
کم از کم تین راستے رکھیں… تاکہ ایک سوکھے تو دوسرا بہتا رہے۔
6۔ شرم اور پیسہ ایک ساتھ نہیں رہتے
بیچنے میں شرم؟
پیسے مانگنے میں ہچکچاہٹ؟
تو پھر غربت کا انتخاب آپ نے خود کیا ہے۔
7۔ ڈگری نہیں، ہنر کماتا ہے
کاغذ ہر کسی کے پاس ہے…
اصل طاقت وہ مہارت ہے جو ہر کسی کے پاس نہیں۔
8۔ پیسہ تیز لوگوں کو پسند کرتا ہے
سست آدمی کے آئیڈیاز… دوسروں کے بزنس بن جاتے ہیں۔
پرفیکٹ کا انتظار نہ کریں… شروع کریں، سیکھیں، آگے بڑھیں۔
9۔ آئیڈیا نہیں، عمل بادشاہ ہے
سوچ سب کے پاس ہے…
ہمت چند کے پاس ہے… اور پیسہ انہی کے پاس جاتا ہے۔
10۔ پیسہ لوگوں کی جیب میں ہے
آپ کا کام ہے اسے وہاں سے نکالنا… عزت کے ساتھ، ویلیو دے کر۔
قائل کرنا سیکھیں… یہی اصل ہنر ہے۔
11۔ بچت نہیں، آمدنی بڑھائیں
چائے چھوڑ کر کوئی امیر نہیں بنتا۔
اصل کھیل زیادہ کمانا ہے، کم خرچ کرنا نہیں۔
12۔ مفت کام = اپنی توہین
اگر آپ کو اپنی ویلیو کا اندازہ نہیں…
تو دنیا بھی آپ کو مفت ہی استعمال کرے گی۔
13۔ اکیلا آدمی امیر نہیں بنتا
بڑی کمائی کے لیے لیوریج چاہیے —
لوگ، پیسہ، یا ٹیکنالوجی… ورنہ آپ صرف خود کو ہی بیچتے رہیں گے۔
14۔ مسئلے = مواقع
جہاں لوگ شکایت کرتے ہیں…
وہیں پیسہ پڑا ہوتا ہے۔
نظر بدلیں، قسمت بدل جائے گی۔
15۔ نیٹ ورک ہی اصل دولت ہے
آپ وہی بنتے ہیں جن کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔
صحیح لوگوں کے ساتھ بیٹھیں… دماغ خود بڑا ہو جائے گا۔
آخر میں ایک سیدھی بات:
پیسہ مشکل نہیں… واضح ہے۔
لیکن شرط یہ ہے کہ آپ جذبات سے نکل کر اصولوں پر کھیلنا شروع کریں۔
اگر ہمت ہے… تو آج سے کھیل بدل دیں
Copied From Lal Khan Manzai FB Profile
25/02/2026
پاکستان اور مصنوعی ذہانت: موجودہ دور میں مسابقت اور ترقی کے چیلنجز
موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت (AI) عالمی معیشت کی سب سے بڑی تبدیلی بن چکی ہے۔ جس طرح ماضی میں بجلی اور انٹرنیٹ نے صنعتی اور معاشی ڈھانچے کو بدل دیا تھا، اسی طرح آج مصنوعی ذہانت (AI) پیداوار، تجارت، خدمات اور فیصلہ سازی کے نظام کو نئی شکل دے رہی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ اور ابھرتے ہوئے ممالک مصنوعی ذہانت (AI) کو محض ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ قومی طاقت اور اسٹریٹجک برتری (Strategic Advantage) کے ایک بنیادی ستون کے طور پر اختیار کر رہے ہیں۔
عالمی سطح پر امریکہ اور چین مصنوعی ذہانت (AI) کی قیادت کر رہے ہیں، جبکہ بھارت اور ویتنام جیسے ممالک اسمارٹ مینوفیکچرنگ (Smart Manufacturing)، آٹومیشن (Automation) اور ڈیجیٹل سروسز (Digital Services) کے ذریعے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اربوں ڈالر ڈیٹا سینٹرز (Data Centers)، کلاؤڈ کمپیوٹنگ (Cloud Computing)، چِپس (Chips) اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ (High-Performance Computing) پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت (AI) اب صرف سافٹ ویئر یا چیٹ بوٹس تک محدود نہیں رہی بلکہ صحت، تعلیم، دفاع، مالیات اور صنعت سمیت ہر شعبے میں اپنی جگہ بنا چکی ہے۔
اس کے برعکس پاکستان کو اس عالمی دوڑ میں پیچھے رہنے کا خطرہ لاحق ہے۔ ملک میں سیاسی عدم استحکام (Political Instability)، حکومتوں کی بار بار تبدیلی اور پالیسیوں کے تسلسل کا فقدان (Policy Discontinuity) طویل مدتی ٹیکنالوجی منصوبہ بندی کو متاثر کرتا ہے۔ قومی مباحثہ زیادہ تر سیاسی کشمکش پر مرکوز رہتا ہے، جبکہ صنعتی جدت (Industrial Innovation)، تحقیق اور ٹیکنالوجی اپنانے جیسے بنیادی موضوعات پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ اس عدم استحکام کا براہِ راست اثر سرمایہ کاری (Investment) اور پالیسی سازی (Policy Making) پر پڑتا ہے۔
تحقیق و ترقی (Research and Development - R&D) پر پاکستان کا خرچ مجموعی قومی پیداوار (Gross Domestic Product - GDP) کے مقابلے میں نہایت کم ہے، جس کے باعث جدید مصنوعی ذہانت (AI) تحقیق اور اختراعات محدود رہتی ہیں۔ اگرچہ ملک میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (Science, Technology, Engineering and Mathematics - STEM) کے گریجویٹس کی تعداد موجود ہے، لیکن اعلیٰ معیار کی تحقیق چند جامعات تک محدود ہے اور صنعت و تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط روابط کا فقدان ہے۔ جدید کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر (Computing Infrastructure) اور ڈیٹا ایکوسسٹم (Data Ecosystem) کی کمی بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
معاشی سطح پر پاکستان کا بار بار عالمی مالیاتی فنڈ (International Monetary Fund - IMF) پروگرامز پر انحصار قلیل مدتی استحکام تو فراہم کرتا ہے، لیکن طویل مدتی صنعتی اور ٹیکنالوجی ترقی کے لیے واضح حکمت عملی (Long-term Strategy) کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ جب تک معیشت کو پیداواری صلاحیت (Productivity)، برآمدات میں تنوع (Export Diversification) اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی سمت میں منتقل نہیں کیا جاتا، اس وقت تک عالمی مصنوعی ذہانت (AI) معیشت میں مؤثر کردار ادا کرنا مشکل رہے گا۔
ٹیکسٹائل سیکٹر (Textile Sector)، جو پاکستان کی معیشت کا اہم ستون ہے، دنیا بھر میں آٹومیشن اور اسمارٹ فیکٹری ماڈلز (Smart Factory Models) کی طرف جا رہا ہے۔ اگر مقامی صنعت نے مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید مشینری نہ اپنائی تو عالمی مسابقت (Global Competitiveness) میں کمی آ سکتی ہے۔ اسی طرح آئی ٹی سیکٹر (IT Sector) میں مصنوعی ذہانت (AI) ٹولز سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ (Software Development) اور خدمات کو زیادہ مؤثر بنا رہے ہیں۔ اگر پاکستانی آئی ٹی انڈسٹری نے ان جدید رجحانات کو پوری طرح اختیار نہ کیا تو عالمی مارکیٹ (Global Market) میں اس کی پوزیشن متاثر ہو سکتی ہے۔
اصل خطرہ یہ نہیں کہ پاکستان مکمل طور پر مصنوعی ذہانت (AI) کی دنیا سے باہر رہ جائے گا، بلکہ یہ ہے کہ وہ عالمی ویلیو چین (Global Value Chain) میں صرف کم قدر والے حصوں تک محدود ہو جائے، جبکہ زیادہ منافع بخش اور اسٹریٹجک شعبے دوسرے ممالک کے پاس چلے جائیں۔ موجودہ دور میں معاشی طاقت کا دارومدار صرف سستی لیبر پر نہیں بلکہ ڈیجیٹل مہارت (Digital Skills)، تحقیق، جدت (Innovation) اور ٹیکنالوجی اپنانے کی رفتار (Technology Adoption Rate) پر ہے۔ اگر پاکستان نے سیاسی استحکام، پالیسی تسلسل اور مصنوعی ذہانت (AI) میں سنجیدہ سرمایہ کاری پر توجہ نہ دی تو مستقبل کی عالمی معیشت میں اس کی مسابقت مزید کمزور ہو سکتی ہے۔
23/02/2026
PhD Position in AI & Precision Agriculture – USA Opportunity
A fully funded PhD position is open in AI and Precision Agriculture, focusing on cutting-edge research in machine learning, UAV-based w**d detection, and geospatial analytics. The position is offered by the Mississippi State University W**d Science Research Group in collaboration with Texas A&M University.
Research Focus:
UAV-based w**d detection and classification
AI-driven precision agriculture
Geospatial & remote sensing analytics
Herbicide application optimization
Requirements:
Background in Agronomy, Agricultural Engineering, Crop Science, or related field
Strong programming skills (Python/R preferred)
Knowledge of machine learning & data analytics
Preferred Skills:
Remote sensing & UAV imagery
Geospatial analysis tools
Understanding of crop production or w**d science
Benefits:
Interdisciplinary research environment
Industry collaboration
Strong publication opportunities
Advanced AI applications in agriculture
This is an excellent opportunity for researchers interested in combining Artificial Intelligence with real-world agricultural challenges.
**dScience
20/02/2026
پاکستان میں تمام ڈگری پروگراموں میں مصنوعی ذہانت کو لازمی مضمون قرار دینے کا فیصلہ
ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے ملک بھر کے تمام انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ڈگری پروگرامز میں مصنوعی ذہانت (AI) کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جس کے تحت ہر پروگرام میں کم از کم تین کریڈٹ آورز کا (AI) کورس پڑھایا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے تاکہ وہ مستقبل کی مارکیٹ میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ یہ اعلان جیو نیوزکی رپورٹ کے مطابق کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں منعقدہ( Indus AI Week 2026) کے موقع پر ملک میں (AI) کے فروغ کے لیے) 2030( تک ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری، ایک ہزار مکمل فنڈڈ پی ایچ ڈی اسکالرشپس اور دس لاکھ نان آئی ٹی پروفیشنلز کو (AI) کی تربیت دینے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا۔ حکومت اور ایچ ای سی کے مطابق یہ پالیسی پاکستان میں تحقیق، جدت اور ٹیکنالوجی کی قیادت کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Kpk
28100