15/08/2026
یہ پیغام کسی ایک طالب علم کا نہیں، بلکہ اس نسل کی آواز ہے جو برسوں محنت کر کے ڈگریاں لیتی ہے، خواب دیکھتی ہے، لیکن تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسے بے روزگاری، محدود مواقع، سفارشی نظام اور غیر شفاف بھرتیوں جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میرا سوال صرف یہ ہے کہ اگر ایک نوجوان اپنی ذمہ داری پوری کرتا ہے، تعلیم حاصل کرتا ہے، ہنر سیکھتا ہے، تو کیا ریاست اور نظام کی بھی یہ ذمہ داری نہیں بنتی کہ اسے آگے بڑھنے کے منصفانہ مواقع فراہم کرے؟ میں تمام طلبہ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ متحد ہوں، لیکن اتحاد کا مطلب انتشار نہیں، بلکہ شعور، تنظیم اور ذمہ داری ہے۔ ہمیں اپنی آواز مہذب انداز میں بلند کرنی ہے، متعلقہ اداروں سے جواب طلب کرنا ہے، اور ایسی اصلاحات کا مطالبہ کرنا ہے جو ہر نوجوان کو برابری کی بنیاد پر آگے بڑھنے کا موقع دے۔ ہمیں یہ ضرور پوچھنا چاہیے کہ وہ کون سی پالیسیاں، کون سی کمزوریاں اور کون سے فیصلے ہیں جن کی وجہ سے لاکھوں نوجوان اپنی صلاحیت کے مطابق آگے نہیں بڑھ پا رہے۔ افراد کو نشانہ بنانے کے بجائے ہمیں نظام میں موجود مسائل کی نشاندہی کر کے ان کا حل نکالنا چاہیے۔ یاد رکھیں، کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ اگر نوجوان مایوس ہو جائیں تو ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، اور اگر نوجوان باشعور، متحد اور پرامن انداز میں اصلاح کا مطالبہ کریں تو تبدیلی ضرور آئے گی۔ ہمیں شکایت کرنے والی نسل نہیں، بلکہ اصلاح کا راستہ دکھانے والی نسل بننا ہے۔ ہماری آواز نفرت کی نہیں، بلکہ انصاف، شفافیت، میرٹ اور بہتر مستقبل کی ہونی چاہیے۔ یہی ہماری جدوجہد ہے، اور یہی ہمارے ملک کے نوجوانوں کا حق