24/11/2025
دربارہ علیہ قادریہ امینیہ حاجی آباد شریف چارسدہ میں حق کی صدا بلند ہونا کوئی نیا واقعہ نہیں۔ یہ وہ آستانہ ہے جو ہمیشہ باطل کے مقابلے میں حق کا سب سے پہلا، سب سے مضبوط اور سب سے غیرمتزلزل مورچہ رہا ہے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب بھی ظلم کے اندھیرے نے یہاں کی روشنی بجھانے کی کوشش کی، اس مرکزِ حق نے اپنے عمل، اپنے عزم اور اپنے مجاہدین کی غیرت سے ہر باطل کو شکستِ فاش دی۔
1917ء میں جب انگریز سامراج نے اس مقدس مرکزِ غیرت و حمیت کی گونج کو خطرہ سمجھا تو حضرت قبلہ ڈاکٹر محمد شفیق امینی صاحب کے دادا مرشد ،مجاہدِ اعظم، ولیِ کامل حضرت فضل واحد بابا جی المعروف حاجی صاحب ترنگزئی رحمہ اللہ اور ان کے صاحبزادگان پر ’’بغاوت‘‘ جیسے الزامات لگا کر مقدمات قائم کیے۔
حاجی صاحب ترنگزئی تحریکِ آزادیِ برصغیر کے اُن عظیم ترین مجاہدین میں سے تھے جن کا رعب دشمن کے ایوانوں میں بھی لرزہ برپا کر دیتا تھا۔ انہی کے بارے میں ونسٹن چرچل تک نے اعتراف کیا:
"ہمیں برصغیر سے اگر کسی نے نکالا ہے تو وہ یہی مجاہد ہے۔"
حضرت ڈاکٹر شفیق امینی صاحب کے دادا، عاشقِ صادق، مجاہدِ کبیر، فخرِ کشمیر حضرت محمد امین باباجی جنگِ آزادی کے عظیم سپاہ سالار تھے۔ آپ کی فتوحات نے تاریخ کے صفحات کو روشن کیا۔ آپ نے قصہ خوانی کے شہداء کا بدلہ لیتے ہوئے قلعہ بالا حصار پر فیصلہ کن حملہ کیا، جبکہ جنگِ نحقی پہاڑ آپ کے شجاعانہ کارناموں میں سے ایک درخشاں باب ہے جس میں ایک ہی دن میں سات سو انگریز سپاہی ہلاک ہوئے۔
آپ کی قیادت میں پورا کشمیر فتح ہوا، اور آپ کی فتوحات کی گرج سری نگر کے دروازوں تک پہنچ گئی تھی۔
آج آزاد کشمیر کی آزادی و شناخت انہی مقدس مجاہدین کی قربانیوں کا صدقہ ہے۔ انہی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ آزاد کشمیر نے آپ کو باوقار لقب "فخرِ کشمیر" سے نوازا—ایک ایسا اعزاز جو نسلوں تک آپ کی جہدِ آزادی کی گونج بن کر باقی رہے گا۔
یہ دونوں مجاہد — حضرت فضل واحد بابا جی اور حضرت محمد امین باباجی — تاریخ کے وہ بلند مینار ہیں جن کی روشنی ہمیشہ سے اس آستانۂ شریف سے پھیلتی رہی ہے، اور ان شاء اللہ عزوجل یہ نور قیامت تک پھیلتا رہے گا۔
کل یہاں سے حق کی آواز اٹھتی تھی؛ آج بھی وہی آواز گونج رہی ہے؛ اور قیامت تک گونجتی رہے گی۔
اور جب گزشتہ جمعہ علامہ ڈاکٹر محمد شفیق امینی صاحب نے تمام تر رکاوٹوں، دھمکیوں اور حکومتی جبر کے باوجود اسی آستانہ میں نمازِ جمعہ ادا کی اور پنجاب حکومت کی ظلم و فسطائیت کو بے نقاب کیا—تو ایک بار پھر اسی آواز سے طاقت کے ایوان لرز اٹھے۔
نتیجتاً پولیس کی بھاری نفری نے اس آستانہ پر چھاپہ مارا، مدرسہ دوبارہ سیل کیا گیا۔
مجھے اس میں کوئی حیرت نہیں ہوئی…
بس ایک فرق تھا:
1917ء اور 1930ء میں یہ ظلم انگریز کر رہا تھا،
اور 2025ء میں یہ سب کچھ ان کے وہی ’’بظاہر کلمہ گو‘‘ غلام کر رہے ہیں۔
زیر نظر تصویر میں انگریزوں کی ایف آئی آر کا حوالہ اور جامع مسجد کی پرانی تصویر کا تاریخی منظر عیاں ہے۔