20/09/2026
https://www.facebook.com/share/p/1KTxaYrSuP/
تحریر محمد شبیر سندھو
جو کام کبھی انسان کی خاص صلاحیت سمجھے جاتے تھے۔ وہ تمام تر کام ۔ AI، Automation اور Technology سنبھال رہی ھے ۔یہی وجہ ھے کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ھے ۔ ایسے میں مستقبل کی تعلیم کا سوال صرف یہ نہیں کہ بچہ کیا جانتا ہے؟ بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ کیا اور کیسے کر سکتا ہے ۔ کسی مشکل ، خطرناک حالات اور وقت میں اپنے آپ کو کتنا سنبھال سکتا ہے؟
اسی لیے آنے والے وقت دو طرح کی مہارتیں خاص اہمیت رکھ سکتی ہیں:
1.Boring Skills . 2 Off-grid Skills۔
بورنگ سکلز وہ عام اور بظاہر غیر دلچسپ مہارتیں ہیں جنہیں ہم اکثر معمولی سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں؛
مثلاً وقت کی پابندی، صفائی، چیزیں ترتیب سے رکھنا، توجہ سے سننا، کام مکمل کرنا، وعدہ پورا کرنا، صبر کرنا، ریکارڈ رکھنا اور مستقل مزاجی۔
یہ مہارتیں
معزز والدین ، قابل احترام ٹیچرز
اور میرے پیارے بچوں ۔. .
شاید آپ کو فوراً یہ کامیاب نظر نہیں آئیں گیں ، لیکن یہی عادات آپ بچوں کو قابلِ اعتماد، ذمہ دار اور disciplined بناتی ہیں۔
اے ۔آئ رپورٹ بنا سکتی ہے، مگر اسے چیک کرنا
، اصحیح وقت پر استعمال کرنا اور ذمہ داری قبول کرنا انسان کو ہی سیکھنا ہوگا۔
Off-grid Skills
آف گریڈ سکلز انسان کو خود انحصاری سکھاتی ہیں۔ یعنی ایسی عملی صلاحیتیں جن کے ذریعے انسان ہر چھوٹی مشکل کے لیے کسی دوسرے شخص، ٹیکنالوجی یا نظام کا محتاج نہ رہے۔
مثلاً بنیادی cooking، first aid، gardening، basic repair، سمت اور نقشہ سمجھنا، محدود وسائل میں مسئلہ حل کرنا اور مشکل حالات میں درست فیصلہ کرنا۔
میرے کہنے کا مطلب یہہرگز نہیں کہ ہم technology کو چھوڑ دیں۔ اصل مقصد یہ ہے کہ technology ہماری طاقت بنے، ہماری کمزوری نہ بن جائے۔
مستقبل کا کامیاب انسان صرف وہ نہیں ہوگا جو بہت کچھ جانتا ہو؛ بلکہ وہ ہوگا جو سیکھ سکتا ہو، عمل کر سکتا ہو، حالات کے مطابق خود کو بدل سکتا ہو اور ضرورت پڑنے پر اپنے پاؤں پر کھڑا رہ سکتا ہو۔
علم سے مہارت، مہارت سے عمل، اور عمل سے خود انحصاری۔
ہمیں بچوں کو صرف Exam کے لیے نہیں، Life کے لیے تیار کرنا ہوگا۔
انہیں AI استعمال کرنا بھی سکھائیں، مگر اپنا کام خود کرنا بھی۔
انہیں جدید technology دیں، مگر practical skills بھی۔
انہیں بڑے خواب دیکھنا سکھا نا ضروری ھے وہاں انہیں چھوٹے چھو ٹے کاموں کا ذمہ داربنا بھی کہیں زیادہ ضروری ھے ۔
کیونکہ مستقبل میں شاید سب سے قیمتی انسان وہ نہ ہو جو ہر کام کے لیے technology کا بہرتین اورتیز ترین استعمال جانتا ھو ، بلکہ وہ ہوگا جو technology کے ساتھ بھی بہترین کام کر سکے اور ضرورت پڑنے پر technology کے بغیر بھی خود کو سنبھال سکے۔
معز ز والدین
تعلیم کا مقصد صرف ذہین انسان بنانا نہیں؛
ایسا انسان بنانا ہے جو ذمہ دار، قابلِ اعتماد، باصلاحیت اور خود انحصار ہو۔
کیا ہم اپنے بچوں کو صرف امتحان پاس کرنے کے لیے تیار کر رہے ہیں یا زندگی کا ہر امتحان پاس کرنے کے لیے؟
محترم والدین! آج سے اپنے بچوں کو صرف نصیحتیں نہ کریں، انہیں چھوٹی چھوٹی ذمہ داریاں بھی سونپیں۔ انہیں اپنا کام خود کرنے، وقت کی قدر کرنے، مسائل حل کرنے اور عملی زندگی کی مہارتیں سیکھنے کے مواقع دیں۔
آئیے! مل کر ایسی نسل تیار کریں جو صرف ڈگری یافتہ نہیں، بلکہ باصلاحیت، ذمہ دار، بااعتماد اور خود انحصار ہو۔