Muhammad Nadir

Muhammad Nadir

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Muhammad Nadir, Religious school, kot addu, Kot Addu.

09/05/2026
31/12/2025

تقریظ
ڈاکٹر مولانا اعجاز احمد صمدانی صاحب مد ظلہم العالیہ

مدرس جامعہ دارالعلوم کورنگی کراچی

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله رب العالمين، والصلوة والسلام على رسوله الكريم

وعلى آله و صحبه اجمعين أما بعد!

عصر حاضر کے فتنوں میں سے ایک فتنہ عقلیت پسندی (Rationalism) کا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شریعت کی بتائی گئی کسی بات کو اس وقت تک تسلیم نہ کیا جائے جب تک وہ عقل کے ترازو پر پورا نہ اترے چنانچہ اس فتنے سے متاثر لوگوں نے شریعت کی ان بہت سی باتوں کا بھی انکار کر دیا جو بنیادی طور پر عقل سے معلوم ہی نہیں کی جاسکتیں مثلاً قیامت کی علامات ، آخرت کے احوال اور جنت و جہنم کی تفصیلات و غیر ہو۔

قیامت کی کچھ علامات تو آج کل بھی ظاہر ہورہی ہیں ، جیسے بلند بلند عمارتوں کا بننا، عورتوں کا لباس پہننے کے باوجود بے لباس ہونا مساجد میں گانے کی آواز ہونا، زنا کا عام ہونا ، اولاد کا نا فرمان ہونا وغیرہ ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان علامات کو بیان فرمارہے تھے تو اس زمانے کے لحاظ سے واقعی یہ ایسی باتیں تھیں کہ عقل میں آنے والی نہ تھیں، لیکن صحابہ کرام نے اپنی عقل کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ” تابع فرمان کیا اور انہیں تسلیم کیا اور وہ باتیں جوں کی توں آگے نقل کر دیں ۔ یہ ساری علامات علامات صغری کہلاتی ہیں۔

آج ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ساری علامات واقع ہو چکی ہیں لیکن آج ہمارے سامنے جب آنے والے
زمانے کی علامات علامات کبری، ذکر کی جاتی ہیں ، جیسے امام مہدی علیہ الرضوان کی آمد ، دجال کا خروج وغیرہ تو ہم ان باتوں کو عقل کے ترازو پر تولنے لگتے ہیں۔ جس کا نتیجہ سوائے گمراہی کے کچھ نہیں۔

صحیح طرز عمل وہی ہے جسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے اپنایا۔ چنانچہ انہی کے ایمان کو اللہ تعالی نے ہمارے لیے معیار قرار دیا۔ فرمایا گیا: اگر یہ لوگ ایسے ایمان لے آئیں جیسے (اے صحابہ !) تم ایمان لائے ہو تو یہ راه راست پر آجائیں گے ۔ (البقرۃ: ۱۳۷)

فاضل مصنف مولانا محمد نادر خان صاحب مد ظلہم نے زیر نظر کتاب میں اس نکتے کی وضاحت بہت عمدہ انداز سے فرمائی ہے۔ اگر ہم اس کتاب کا مطالعہ کر کے اپنے طرز عمل کو اصولی طور پر درست کر لیں کہ عمل کو وحی کے تابع فرمان کریں اور وحی کے مقابلے میں لاکر عقلیت پسندی (Rationalism) کے فتنے میں مبتلا نہ ہوں تو مصنف مدظلھم کی محنت ٹھکانے لگ جائے گی اور ہم سب بھی راہ راست پر آجائیں گے۔

یاد رکھیے ! وحی پر عمل کرنے کے داعی انبیاء کرام علیہم السلام ہیں اور عقلیت پسندی کا سب سے پہلا امام ابلیس ہے، جس نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے صرف اس لیے انکار کیا کہ یہ حکم عقل میں نہیں آ رہا۔

یہ فیصلہ ہم نے خود کرنا ہے کہ ہم کس راستے کے مسافر ہیں؟ اور اس سفر کے تقاضے ہم نے کیسے پورے کرنے ہیں۔ امید ہے کہ یہ کتاب اس ضمن میں آپ کی بہت مددگار ہوگی۔اللہ تعالی اپنے خصوصی فضل وکرم سے ہمیں راہ راست پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے ۔ (آمین ثم آمین )

اعجاز احمد صمدانی

مدرس جامعہ دار العلوم کورنگی کراچی ۔
15 جنوری 2023ء بمطابق ۲۲ جمادی الثانیه ھ۱۴۴۴

Photos from Muhammad Nadir's post 28/12/2025

مفکر اسلام مولانا ابو عمارزاہد الراشدی صاحب مد ظلہم العالیہ صدر مدرس و ناظم تعلیمات جامعہ نصرۃ العلوم گوجرنوالہ

بسم الله الرحمن الرحيم

سائنسی ارتقاء اور حقائق کے حوالے سے اسلامی تعلیمات کا مطالعہ ایک دلچسپ موضوع ہے اور آج کی فکری و تہذیبی ضروریات کے حوالے سے یہ وقت کا تقاضا بھی ہے کہ دینی تعلیمات سے بے خبری اور سائنسی تجربات و مشاہدات کے تسلسل کے ماحول میں نئی نسل کے ذہنوں میں جو شکوک و شبہات اور اشکالات پیدا ہو رہے ہیں، ان کے ازالہ اور ان سے نجات کے لئے نئی نسل بالخصوص کالج و یونیورسٹی کے طلباء وطالبات کی راہنمائی کی جائے جو اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ انھیں دین کی بنیادی تعلیمات و قرآن وسنت کے فہم سے قریب کرنے کی محنت کی جائے اور اس کے ساتھ سائنسی حقائق ، ارتقاء، تجربات و مشاہدات کے حقیقت پسندانہ تجزیہ اور فطرت سلیمہ کے ساتھ ان کی ہم آہنگی کا ماحول بنایا جائے محترم محمد نادرخان صاحب نے عقل بھی تابع فرمان ہوئی میں اسی اسلوب کو اختیار کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے نئی نسل کو روشناس کرانے کی کوشش کی ہے جو ان کے حسن ذوق کی علامت ہے دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت ان کی اس کاوش کو قبول فرمائیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لئے نافع بنائیں۔ آمین یا رب العالمین

ابو عمار زاہد الراشدی

خطیب مرکزی جامع مسجد گوجرنوالہ
2023 18جنوری

28/12/2025

داڑھی کی شرعی حیثیت:

بہت سے دوست چاہتے ہیں کہ ہر مسئلہ ہماری چاہت کے مطابق قرآن و حدیث سے مل جائے حالانکہ یہ تقاضا تو مشرکین مکہ کا تھا
حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا واعفواللحی داڑھی کو معاف کرو اور حضور ﷺ نے خود ساری زندگی داڑھی کو ایک قبضہ کے برابر برقرار رکھا
پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کی سوا لاکھ کی تعداد میں سے کسی ایک صحابی سے داڑھی کو منڈوانا ثابت نہیں
حضور ﷺ خود بھی ایک مٹھی سے زائد داڑھی کو کاٹتے تھے اور یہی آپ نے ابوقحافہ کے لیے حکم دیا تھا
اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی ایک مٹھی سے زائد داڑھی کاٹ لیتے تھے
اس کے بعد جتنے تابعین گزرے جتنے تبع تابعین گزرے یا ائمہ اربعہ یا قراء سبعہ گزرے محدثین گزرے یا کسی بھی حنفی مالکی شافعی حنبلی نے داڑھی کاٹنے کے جواز کا فتویٰ نہیں دیا بلکہ داڑھی کو انبیاء کی سنت کہا گیا ہے انسان کی فطرت کہا گیا ہے
عرب میں داڑھی کاٹنے کا رواج برطانوی راج سے شروع ہوا اس سے پہلے علماء تو علماء بادشاہوں کی بھی داڑھی ہوا کرتی تھی آخری خلیفہ سلطان عبدالحمید کی بھی شرعی حد تک داڑھی تھی

تو کیسے اسے غیر ضروری سمجھا جا سکتا ہے یہ ٹھیک ہے کہ داڑھی میں دین نہیں ہے لیکن داڑھی دین کا شعار ہے مرد کی زینت اور جنسی امتیاز ہے
اسی لیے حضور ﷺ نے حکم دیا کہ داڑھی کو معاف کرو
🖊محمد نادر خان

Want your school to be the top-listed School/college in Kot Addu?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Kot Addu
Kot Addu