Anabia Global Islamic Academy

Anabia Global Islamic Academy 🌟 Anabia Global Islamic Academy: Igniting Minds Worldwide. We provide high-quality online Quran education for kids and ladies.

Specializing in Tajweed, Hifz, Tafsir, and Translation with a patient and qualified female instructor.

22/07/2026

السلام علیکم!

دین اور قرآن کے نام پر آن لائن فراڈ کرنے والوں کو بے نقاب کرنے کے لیے یہ پیج بنایا گیا ہے۔

اگر آپ کو یا آپ کے جاننے والوں کو کسی جعلی قرآن ٹیچر یا سکیمر نے دھوکہ دیا ہے، تو اس پیج کو فالو کریں اور اپنی کہانی ہمیں بتائیں۔

پیج لنک:
👇
https://www.facebook.com/share/1ESGvpcRcK/

براہِ کرم اس پیج کو لائک، فالو اور شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس فراڈ سے بچ سکیں۔

---

Assalam-o-Alaikum!

This page has been created to expose those who commit online fraud in the name of the Quran and Deen.

If you or someone you know has been scammed by a fake Quran teacher, follow this page and share your story with us.

Page Link:
👇
https://www.facebook.com/share/1ESGvpcRcK/

Please like, follow, and share this page so more people can stay safe from this fraud.

---

Protecting Muslims from online Quran fraud.

دوسرے پارے کے آغاز میں سورہ البقرۃ میں اللہ تعالیٰ نے قبلے کی تبدیلی کا ذکر فرمایا ہے۔ مسلمانوں پر جب اللہ نے نماز کو فر...
11/09/2025

دوسرے پارے کے آغاز میں سورہ البقرۃ میں اللہ تعالیٰ نے قبلے کی تبدیلی کا ذکر فرمایا ہے۔ مسلمانوں پر جب اللہ نے نماز کو فرض کیا تو ابتدائی طور پر مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے تھے۔ حضرت محمد علیہ السلام کی یہ دلی تمنا تھی کہ اللہ تعالیٰ قبلے کو تبدیل کرکے بیت الحرام کو قبلہ بنا دے۔ چنانچہ بیت الحرام کو قبلہ بنا دیا گیا۔ اس پر بعض کم عقل لوگوں نے تنقید کی کہ جس طرح قبلہ تبدیل ہوا ہے، مذہب بھی تبدیل ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قبلے کی تبدیلی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون حضرت محمد کا سچا پیروکار ہے اور کون ہے جو اپنے قدموں پر پھر جانے والا ہے۔ وگرنہ جہتیں تو ساری اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہیں۔ مشرق و مغرب اللہ کے لیے ہیں اور وہ جس کو چاہتا ہے صراطِ مستقیم پر چلا دیتا ہے۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ اہلِ کتاب کے پختہ علم والے لوگ پیغمبر علیہ السلام کو اس طرح پہچانتے تھے جس طرح باپ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کا ایک گروہ جانتے بوجھتے ہوئے حق کو چھپاتا ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہے کہ اس کے بندوں کو اس کا ذکر کرنا چاہیے۔ ارشاد ہوا: "تم میرا ذکر کرو میں تمھارا ذکر کروں گا۔”

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے مخاطب ہو کر کہتا ہے: اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ رب کی تائید و نصرت صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ ارشاد ہے کہ شہید مرتا نہیں بلکہ زندہ ہوتا ہے مگر تم اس کی حیات کا شعور نہیں رکھتے۔ اگر کوئی مصیبت آئے تو کہو کہ بے شک ہم اللہ کی طرف ہیں اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جائیں گے۔ اس کے بعد ارشاد ہے کہ صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، پس جو کوئی بھی حج اور عمرہ کرے اس کو صفا اور مروہ کے درمیان سعی ضرور کرنی چاہیے۔ اس کے بعد ان لوگوں کا ذکر ہے جو رب کے احکامات اور اس کی آیات کو چھپاتے ہیں۔ ارشاد ہے کہ ایسے لوگوں پر اللہ کی اور لعنت کرنے والوں کی لعنت ہو، یعنی ایسے لوگ اللہ کی رحمت سے محروم رہیں گے۔

اس کے بعد ارشاد ہے کہ نیکی یہ نہیں ہے کہ تم عبادت کے لیے مشرق کی طرف رخ کرتے ہو یا مغرب کی طرف بلکہ حقیقی نیکی یہ ہے کہ انسان کا اللہ تعالیٰ کی ذات، یومِ حساب، تمام انبیا اور ملائکہ پر پختہ ایمان ہو اور وہ اللہ کی رضا کے لیے اپنے مال کو خرچ کرنے والا ہو، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ صحیح طریقے سے ادا کرنے والا ہو، وعدوں کو پورا کرنے والا ہو اور تنگی اور کشادگی دونوں حالتوں میں صبر کرنے والا ہو۔ جس میں یہ تمام اوصاف ہوں گے وہی حقیقی متقی ہے۔

اس کے بعد قانونِ قصاص و دیت کا ذکر ہے۔ ارشاد ہے کہ آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام، عورت کے بدلے عورت کو قتل کیا جائے گا تاہم اگر کوئی اپنے بھائی کو دیت دے کر معاف کر دیتا ہے تو یہ رب کی طرف سے رخصت ہے لیکن زندگی بہرحال قصاص لینے میں ہی ہے۔

اس کے بعد رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت کا ذکر ہے اور ارشاد ہے کہ قرآنِ کریم کو رمضان کے مہینے میں اتارا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے مسافروں اور مریضوں کو رخصت دی ہے کہ اگر وہ رمضان کے روزے نہ رکھ سکیں تو بعد میں کسی وقت قضا روزے پورے کر سکتے ہیں، اور جن میں قضا کی استعداد نہ ہو وہ فدیے میں مسکین کو کھانا کھلا دیا کریں۔ روزوں کے بارے میں بطورِ قاعدہ یہ بات بتائی گئی ہے کہ رب تمھارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا۔ نیز رمضان کی راتوں میں بیویوں کے پاس جانا جائز کر دیا گیا کیونکہ لوگ اس سلسلے میں خیانت کیا کرتے تھے، اور ارشاد ہوا کہ عورتیں تمھاری پوشاک ہیں اور تم ان کی پوشاک ہو یعنی مرد و عورت ایک دوسرے کی زینت بھی ہیں اور ضرورت بھی۔ نیز ارشاد ہوا کہ سحری کا وقت تب تک ہے جب تک تم کالے اور سفید دھاگے میں تمیز کر سکو۔

اس کے بعد چاند کے گھٹنے بڑھنے کی غرض و غایت بتائی گئی ہے کہ اس کے ذریعے اوقات اور حج کے ایام کا تعین ہوتا ہے۔ پھر قتال کی فرضیت کے آداب و احکام ذکر کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد حج کے آداب کا ذکر ہے کہ حج میں بے حیائی اور لڑائی جھگڑے والی کوئی بات نہ ہو۔ ارشاد ہوا کہ حاجی کو زادِ راہ کی ضرورت ہے اور سب سے بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے۔

اس کے بعد دعا مانگنے کا طریقہ بتایا گیا۔ ارشاد ہوا کہ بعض لوگ دعا مانگتے ہیں کہ رب ہمیں دنیا میں بہترین دے جب کہ بعض لوگ جو ان کے مقابلے میں بہتر دعا مانگتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اے پروردگار ہمیں دنیا میں بھی بہترین دے اور آخرت میں بھی بہترین دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔

اس کے بعد سابقہ امتوں کے ان لوگوں کا ذکر ہوا ہے جن کو ایمان لانے کے بعد تکالیف، مصائب اور زلزلوں کو برداشت کرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو سابقہ امتوں کی تکالیف سے اس لیے آگاہ فرمایا کہ ان کے دلوں میں یہ بات راسخ ہو جائے کہ جنت میں جانا آسان نہیں بلکہ اس کے لیے تکالیف اور آزمائشوں کو برداشت کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد دین سے پھر جانے کے وبال کا ذکر ہے کہ جو شخص اپنے دین سے منحرف ہو جائے گا اور کفر کی حالت میں مرے گا تو اس کے اعمال ضائع کر دیے جائیں گے۔

اس کے بعد شراب اور جوئے کے بارے میں ذکر ہے کہ گو ان میں بعض چیزیں فائدے کی ہیں لیکن ان کے نقصانات ان کے فوائد سے زیادہ ہیں اس لیے لوگوں کو ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔

اس کے بعد ناپاکی کے ایام میں عورتوں سے اجتناب کا حکم دیا گی اور طلاق کے مسائل کو بالتفصیل بیان فرمایا گیا کہ طلاق کا اختیار مرد کے پاس دو دفعہ ہوتا ہے۔ اگر وہ مختلف اوقات میں دو دفعہ طلاق بھی دے دے تو وہ اپنی بیوی سے رجوع کرسکتا ہے لیکن اگر وہ تیسری طلاق بھی دے دے تو پھر رجوع کی گنجائش نہیں رہتی۔ اس کے بعد رضاعت کی مدت کا ذکر ہے کہ عورت اپنے بچے کو دو برس تک دودھ پلا سکتی ہے۔ پھر بیوہ کی عدت کا ذکر ہے کہ بیوہ کو چاہیے کہ چار مہینے اور دس دن تک عدت پوری کرے اور اس کے بعد اگر کہیں اور نکاح کرنا چاہے تو کرلے۔

اس کے بعد اللہ نے نمازوں کی حفاظت کا حکم فرمایا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ خصوصًا درمیانی نماز (بعض کے نزدیک عصر اور بعض کے نزدیک فجر) کی حفاظت کیا کرو۔ اس کے بعد ہاروت ماروت اور طالوت جالوت کا قصہ بیان ہوا ہے۔ پارے کے آخر میں ارشاد ہے کہ اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض لوگوں کے ذریعے دفع نہ کرتا تو زمین فساد سے بھر جاتی۔ مطلب یہ کہ حکمرانوں کا آنا جانا بھی رب کی نعمت ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک کو پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

قرآنِ مجید دعا سے شروع ہوتا ہے جسے فاتحۃ الکتاب یا سورہ فاتحہ کہتے ہیں۔ اس میں رب کی حمد و ثنا کے بعد اسی کو کارسازِ حقی...
11/09/2025

قرآنِ مجید دعا سے شروع ہوتا ہے جسے فاتحۃ الکتاب یا سورہ فاتحہ کہتے ہیں۔ اس میں رب کی حمد و ثنا کے بعد اسی کو کارسازِ حقیقی مانتے ہوئے یہ کہلوایا گیا ہے کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ تو ہمیں سیدھا راستہ دکھا (صراطِ مستقیم کیا ہے؟ دیکھیے الانعام 151-153)، ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا نہ کہ ان لوگوں کا جن پر تو نے غضب کیا اور نہ ہی گمراہوں کا۔

اس کے بعد سورہ بقرہ شروع ہوتی ہے جو قرآن کی سب سے لمبی سورت ہے۔ اس کا آغاز قرآن کے بارے میں اس اعلان سے ہوتا ہے کہ یہ کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ یہ پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے، جو غیب پر ایمان لاتے اور نماز کو قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں عطا کیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ یہ لوگ آپ پر اور آپ سے پہلے جو کچھ نازل کیا گیا ہے، سب پر ایمان لاتے ہیں اور آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ یہی ہیں جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور حقیقی کامیابی پانے والے ہیں۔ بے شک جنھوں نے کفر اپنا لیا ہے ان کے لیے آپ کا ڈرانا نہ ڈرانا برابر ہے اور وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے۔

لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ پر اور یومِ قیامت پر ایمان لائے حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں۔ وہ اللہ کو اور ایمان والوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔ ان کے دلوں میں بیماری ہے، پس اللہ نے ان کی بیماری کو اور بڑھا دیا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد بپا نہ کرو، تو کہتے ہیں: ہم ہی تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ خوب آگاہ ہو جاؤ کہ یہی لوگ فساد کرنے والے ہیں۔ اور جب وہ (منافق) اہلِ ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم ایمان لے آئے ہیں، اور جب اپنے شیطانوں سے تنہائی میں ملتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم یقینًا تمھارے ساتھ ہیں اور ہم مسلمانوں کا تو محض مذاق اڑاتے ہیں۔ اللہ انھیں ان کے مذاق کی سزا دیتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی۔ یہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں اور یہ راہِ راست کی طرف نہیں لوٹیں گے۔

اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمھیں اور تمھارے پچھلوں کو پیدا کیا تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔ اور اگر تم اس کلام کے بارے میں شک میں مبتلا ہو جو ہم نے اپنے بندے حضرت محمد علیہ السلام پر نازل کیا ہے تو اس جیسی کوئی ایک سورت ہی بنا لاؤ۔ اگر تم ایسا نہ کر سکو اور ہرگز نہ کر سکو گے تو اس آگ سے بچو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں، جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اور اے نبی، آپ ان لوگوں کو خوشخبری سنا دیں جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے کہ ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان کے لیے جنت میں پاکیزہ بیویاں بھی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ بے شک اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ سمجھانے کے لیے کوئی بھی مثال بیان فرمائے خواہ مچھر کی ہو یا ایسی چیز کی جو حقارت میں اس سے بھی بڑھ کر ہو۔

اور وہ وقت یاد کیجیے جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں، انھوں نے عرض کیا: کیا تو زمین میں کسی ایسے شخص کو نائب بنائے گا جو اس میں فساد انگیزی اور خونریزی کرے گا، حالانکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا: میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اور اللہ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھا دیے۔

اور وہ وقت بھی یاد کیجیے جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے انکار اور تکبر کیا اور نتیجۃً کافروں میں سے ہو گیا۔ اور ہم نے حکم دیا کہ اے آدم، تم اور تمھاری بیوی اس جنت میں رہائش رکھو اور تم دونوں اس میں سے جو چاہو، جہاں سے چاہو کھاؤ، مگر اس درخت کے قریب نہ جانا۔ پھر شیطان نے انھیں اس جگہ سے ہلا دیا اور انھیں اس راحت کے مقام سے جہاں وہ تھے الگ کر دیا، اور بالآخرہم نے حکم دیا کہ تم نیچے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن رہو گے۔ اب تمھارے لیے زمین میں ہی ایک معین مدت تک جائے قرار ہے۔ پھر آدم نے اپنے رب سے عاجزی اور معافی کے چند کلمات سیکھ لیے۔ اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔

اللہ نے فرمایا: تم سب جنت سے اتر جاؤ، پھر اگر تمھارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے تو جو بھی میری ہدایت کی پیروی کرے گا، نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اور اس کتاب پر ایمان لاؤ جو میں نے اپنے رسول حضرت محمد علیہ السلام پر اتاری ہے۔ میری آیتوں کو دنیا کی تھوڑی سی قیمت پر فروخت نہ کرو اور مجھ ہی سے ڈرتے رہو۔ اور باطل کا رنگ چڑھاکر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو۔ اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کیا کرو۔

کیا تم دوسرے لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو حالانکہ تم اللہ کی کتاب پڑھتے ہو۔ اور صبر اور نماز کے ذریعے اللہ سے مدد چاہو۔ اور اس دن سے ڈرو جس دن کوئی جان کسی دوسرے کی طرف سے کچھ بدلہ نہ دے سکے گی اور نہ اس کی طرف سے کسی شخص کی کوئی سفارش قبول کی جائے گی۔

اور وہ وقت بھی یاد کرو جب ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا وعدہ فرمایا تھا پھر تم نے بچھڑے کو معبود بنا لیا اور تم واقعی بڑے ظالم تھے۔ پھر ہم نے اس کے بعد بھی تمھیں معاف کر دیا تاکہ تم شکرگزار ہو جاؤ۔ اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم، بے شک تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے، تو اب اپنے پیدا فرمانے والے رب کے حضور توبہ کرو۔ اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی مانگا تو ہم نے فرمایا: اپنا عصا اس پتھر پر مارو، پھر اس پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے، واقعۃً ہر گروہ نے اپنا اپنا گھاٹ پہچان لیا۔ ہم نے کہا کہ ہمارے عطا کردہ رزق میں سے کھاؤ اور پیو لیکن زمین میں فساد انگیزی نہ کرتے پھرو۔ اور جب تم نے کہا: اے موسیٰ، ہم فقط ایک کھانے یعنی منّ و سلویٰ پر ہرگز صبر نہیں کر سکتے اور آپ اپنے رب سے دعا کیجیے کہ وہ ہمارے لیے زمین سے اگنے والی چیزوں میں سے ساگ اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز پیدا کر دے۔

بے شک جو لوگ ایمان لائے یعنی مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست، جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا، تو ان کے لیے ان کے رب کے ہاں ان کا اجر ہے۔ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔

اور وہ واقعہ بھی یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو، تو وہ بولے: کیا آپ ہمیں مسخرہ بناتے ہیں؟ موسیٰ نے فرمایا: اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ میں جاہلوں میں سے ہو جاؤں۔

اے مسلمانو! کیا تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہودی تم پر یقین کر لیں گے جب کہ ان میں سے ایک گروہ کے لوگ ایسے بھی تھے کہ اللہ کا کلام یعنی تورات سنتے پھر اسے سمجھنے کے بعد خود بدل دیتے حالانکہ وہ خوب جانتے تھے کہ حقیقت کیا ہے اور وہ کیا کر رہے ہیں۔ ان کا حال تو یہ ہو چکا ہے کہ جب اہلِ ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی تمھاری طرح حضرت محمد پر ایمان لے آئے ہیں، اور جب آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ تنہائی میں ہوتے ہیں تو مکر جاتے ہیں۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ کو وہ سب کچھ معلوم ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں؟ پس ایسے لوگوں کے لیے بڑی خرابی ہے جو اپنے ہی ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے عوض تھوڑے سے دام کما لیں، سو ان کے لیے اس کتاب کی وجہ سے ہلاکت ہے جو ان کے ہاتھوں نے تحریر کی۔ کیا تم کتاب کے بعض حصوں پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو؟ پس تم میں سے جو شخص ایسا کرے اس کی کیا سزا ہو سکتی ہے سوائے اس کے کہ دنیا کی زندگی میں ذلت ہو، اور قیامت کے دن بھی ایسے لوگ سخت ترین عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے آخرت کے بدلے میں دنیا کی زندگی خرید لی ہے۔

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کتاب پر ایمان لاؤ جسے اللہ نے اب نازل فرمایا ہے، تو کہتے ہیں کہ ہم صرف اس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی، اور وہ اس کے علاوہ کا انکار کرتے ہیں۔ بے شک ہم نے آپ کی طرف روشن آیتیں اتاری ہیں اور ان نشانیوں کا سوائے نافرمانوں کے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ ہم جب کوئی آیت منسوخ کر دیتے ہیں یا اسے فراموش کرا دیتے ہیں تو بہرصورت اس سے بہتر یا ویسی ہی کوئی اور آیت لے آتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے؟

اے مسلمانو! کیا تم چاہتے ہو کہ تم بھی اپنے رسول سے اسی طرح سوالات کرو جیسا کہ اس سے پہلے موسیٰ سے سوال کیے گئے تھے؟ تو جو کوئی ایمان کے بدلے کفر حاصل کرے پس وہ واقعتًا سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔

اہلِ کتاب کہتے ہیں کہ جنت میں ہرگز کوئی بھی داخل نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ وہ یہودی ہو یا نصرانی، یہ ان کی باطل امیدیں ہیں۔ ہاں، جس نے اپنا چہرہ اللہ کے لیے جھکا دیا اور وہ صاحبِ اِحسان ہو گیا تو اس کے لیے اس کا اجر اس کے رب کے ہاں ہے اور ایسے لوگوں پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔

اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ کی مسجدوں میں اس کے نام کا ذکر کیے جانے سے روک دے اور انھیں ویران کرنے کی کوشش کرے۔ اور مشرق و مغرب سب اللہ ہی کا ہے، پس تم جدھر بھی رخ کرو ادھر ہی اللہ کی توجہ ہے، یعنی ہر سمت ہی اللہ کی ذات جلوہ گر ہے۔ وہی آسمانوں اور زمین کو وجود میں لانے والا ہے، اور جب کسی چیز کی ایجاد کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو پھر اس کو صرف یہی کہتا ہے کہ تو ہو جا، پس وہ ہوجاتی ہے۔

اور یاد کرو جب ہم نے اس گھر یعنی خانہ کعبہ کو لوگوں کے لیے رجوع اور اجتماع کا مرکز اور جائے امان بنا دیا، اور حکم دیا کہ ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو مقامِ نماز بنا لو، اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو تاکید فرمائی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک صاف کر دو۔ اور ابراہیم نے عرض کیا: اے میرے رب! اسے امن والا شہر بنا دے اور اس کے باشندوں کو طرح طرح کے پھلوں سے نواز یعنی ان لوگوں کو جو تجھ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لائے۔

اور جب ابراہیم اور اسماعیل خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے تو دونوں دعا کر رہے تھے کہ اے ہمارے رب! تو ہماری یہ خدمت قبول فرما لے۔ اے ہمارے رب! ہم دونوں کو اپنے حکم کے سامنے جھکنے والا بنا اور ہماری اولاد سے بھی ایک امت کو خاص اپنا تابع فرمان بنا اور ہمیں ہماری عبادت قواعد بتا دے اور ہم پر رحمت و مغفرت کی نظر فرما۔ اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے (وہ آخری اور برگزیدہ) رسول مبعوث فرما جو ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انھیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان قلوب کو خوب پاک صاف کر دے۔ اور جب ان کے رب نے ان سے فرمایا کہ میرے سامنے گردن جھکا دو، تو عرض کرنے لگے: میں نے سارے جہانوں کے رب کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا۔ اور ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اسی بات کی وصیت کی اور یعقوب نے بھی یہی کہا کہ اے میرے لڑکو! بے شک اللہ نے تمھارے لیے یہی دین یعنی اسلام پسند فرمایا ہے، سو تم بہرصورت مسلمان رہتے ہوئے ہی مرنا۔

اے مسلمانو! تم کہہ دو: ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس کتاب پر جو ہماری طرف اتاری گئی اور اس پر بھی جو ابراہیم اور اسماعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کی اولاد کی طرف اتاری گئی اور ان کتابوں پر بھی جو موسیٰ اور عیسیٰ کو عطا کی گئیں اور اسی طرح جو دوسرے انبیاء کو ان کے رب کی طرف سے عطا کی گئیں، ہم ان میں سے کسی ایک پر بھی ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اسی معبودِ واحد کے فرمانبردار ہیں۔ کہہ دو کہ ہم اللہ کے رنگ میں رنگے گئے ہیں، اور کس کا رنگ اللہ کے رنگ سے بہتر ہے۔

وہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی، جو اس نے کمایا وہ اس کے لیے تھا اور جو تم کماؤ گے وہ تمھارے لیے ہوگا، اور تم سے ان کے اعمال کی نسبت نہیں پوچھا جائے گا۔

خانۂ کعبہ کی تولیت اور جملہ انتظام وانصرامپچھلی قسط میں قصی بن کلاب کا ذکر کیا گیا.. ایک روایت کے مطابق انہی کا لقب قری...
11/09/2025

خانۂ کعبہ کی تولیت اور جملہ انتظام وانصرام

پچھلی قسط میں قصی بن کلاب کا ذکر کیا گیا.. ایک روایت کے مطابق انہی کا لقب قریش تھا جس کی وجہ سے ان کی آل اولاد کو قریش کہا جانے لگا، جبکہ ایک دوسری روایت کے مطابق قصی بن کلاب سے چھ پشت پہلے بنی اسماعیل میں "فہر بن مالک" ایک بزرگ تھے جن کا لقب قریش تھا..

خانہ کعبہ کی تولیت ایک ایسا شرف تھا جس کی وجہ سے قصی بن کلاب اور ان کی اولاد کو نہ صرف مکہ بلکہ پورے جزیرہ نما عرب میں ایک خصوصی عزت و سیادت حاصل ہوگئی تھی اور پھر اس قریش (آل قصی بن کلاب) نے خود کو اس کے قابل ثابت بھی کیا۔

قصی بن کلاب نے نہ صرف خانہ کعبہ کا جملہ انتظام و انصرام کا بندوبست کیا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر مکہ کو باقاعدہ ایک ریاست کا روپ دے کر چھ مختلف شعبے قائم کیے اور انہیں قابل لوگوں میں تقسیم کیا، جسے ان کی وفات کے بعد ان کے پوتوں نے باہمی افہام و تفہیم سے چھ شعبوں سے بڑھا کر دس شعبوں میں تقسیم کرکے آپس میں بانٹ لیا اور یہی نظام بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک بڑی کامیابی سے چلایا گیا۔

اس تقسیم کے نتیجے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جد امجد حضرت ہاشم کو سقایہ (حاجیوں کو پانی پلانے کا کام)، عمارۃ البیت (حرم میں نظم و ضبط قائم رکھنا اور احترام حرم کا خیال رکھنا) اور افاضہ (حج کی قیادت کرنا) کی خدمات سونپی گئیں جو ان کے بعد بنو ہاشم کے خاندان میں نسل در نسل چلتی رہیں۔

حضرت ہاشم بن عبد مناف قصی بن کلاب کے پوتے تھے، نہایت ہی جلیل القدر بزرگ تھے، انہوں نے شاہ حبشہ اور قیصر روم سے بھی اپنے سفارتی و تجارتی تعلقات قائم کرلیے تھے، جبکہ مختلف قبائل عرب سے بھی معاہدات کرلیے، ان کی اس پالیسی کی وجہ سے قریش کے باقی قبائل میں بنو ہاشم کو ایک خصوصی عزت و احترام کا مقام حاصل ہوگیا تھا۔

ان کے علاوہ میدان جنگ میں فوج کی قیادت اور عَلم برداری کا شعبہ خاندان بنو امیہ کے حصے میں آیا، لشکر قریش کا سپہ سالار بنو امیہ سے ہی ہوتا تھا، چنانچہ "حرب" جو حضرت ہاشم کے بھتیجے امیہ کے بیٹے تھے، ان کو اور ان کے بیٹے حضرت ابوسفیان کو اسی وجہ سے قریش کے لشکر کی قیادت سونپی جاتی تھی۔

جبکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خاندان بنو تیم بن مرہ کو اشناق یعنی دیوانی و فوجداری عدالت، دیت و جرمانے کی وصولی اور تعین کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس کے علاوہ شعبہ سفارت حضرت عمر فاروق رضی اللہ کے قبیلہ بنو عدی کے حصے میں آیا، ان کا کام دوسرے قبائل کے ساتھ مذاکرات، معاہدات اور سفارت کاری تھا۔

بنو مخزوم جو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا قبیلہ تھا، ان کے حصے میں "قبہ و اعنہ" کا شعبہ آیا، ان کا کام قومی ضروریات کے لیے مال و اسباب اکٹھا کرنا اور فوجی سازو سامان اور گھوڑوں کی فراہمی تھا، قریش کے گھڑ سوار دستے کا کمانڈر بھی اسی قبیلے سے ہوتا تھا، اپنا وقت آنے پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مدتوں شہہ سوار دستوں کی کمان نہایت خوش اسلوبی سے سنبھالی۔

اسی طرح باقی پانچ شعبوں کی ذمہ داری مختلف قبائلِ قریش کے حوالے کردی گئی۔
(جاری)

حضرت ابراہیم ؑ کی حجاز آمد کے بعد وقوع پزیر ہونے والے چند اہم واقعات: پچھلی قسط میں خانوادہ ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت ...
09/09/2025

حضرت ابراہیم ؑ کی حجاز آمد کے بعد وقوع پزیر ہونے والے چند اہم واقعات:


پچھلی قسط میں خانوادہ ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت اور پھر ننھے اسماعیل علیہ السلام کے مبارک قدموں کے نیچے سے زم زم کے چشمے کے پھوٹ پڑنے کا ذکر کیا گیا، یہ چشمہ دراصل مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں زندگی کی نوید تھا، پہلے قبیلہ جرھم جو پانی کی تلاش میں عرب کے صحراؤں میں پھر رہا تھا، زم زم کے چشمہ کے پاس قیام پزیر ہوا اور پھر کچھ عرصہ بعد ایک اور قبیلہ بنی قطورا بھی حضرت ہاجرہ کی اجازت سے وہاں آباد ہوگیا۔

اور یوں مکہ جس کا قدیم اور اصل نام بکہ تھا (سورہ آل عمران) ایک باقاعدہ آبادی کا روپ اختیار کرگیا۔

اگلے 15، 20 سال میں چند اہم واقعات ظہور پزیر ہوئے، ان میں سے ایک تو حضرت ابراییم علیہ السلام کا وہ خواب ہے جس میں انہیں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم ہوا، یقیناً یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایک عظیم آزمائش تھی.

حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کا حکم پاکر مکہ تشریف لائے اور اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے اپنے خواب کا ذکر کیا، سعادت مند اور فرماں بردار بیٹے نے جو اس وقت لڑکپن کی عمر میں تھے یہ کہہ کر اپنی رضامندی ظاہر کردی کہ اگر یہ اللہ کا حکم ہے تو پھر مجھے قبول ہے، آپ حکم ربی کو پورا کریں اور پھر عین اس وقت جب کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن پر چھری چلانے والے تھے، اللہ نے ان کو آزمائش میں کامیاب پاکر حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ایک مینڈھے سمیت زمین پر بھیجا اور پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ اس مینڈھے کی قربانی کی گئی۔

اللہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا یہ فعل اتنا پسند آیا کہ پھر تا قیامت اس قربانی کی یاد میں حج پر قربانی فرض کردی اور تب سے ہر سال یہ سنت ابراھیمی جاری ہے اور عید الاضحی' کے دن لاکھوں مسلمان اللہ کی راہ میں جانور قربان کرکے اس عظیم قربانی کی یاد تازہ کرتے ہیں، حضرت اسماعیل مکہ میں ہی فوت ہوئے اور ایک روایت کے مطابق وہ اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ بیت اللہ کے ساتھ حجر (حطیم) میں مدفون ہیں۔ واللہ اعلم۔

دوسرا اہم واقعہ خانہ کعبہ کی ازسرنو تعمیر تھی، خانہ کعبہ حضرت آدم علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا اور یہ زمین پر اللہ کا پہلا گھر تھا، مگر پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خانہ کعبہ کی عمارت بھی سطح زمین سے معدوم ہوگئی اور حضرت ابراھیم علیہ السلام کے زمانہ میں اس کا کوئی نشان تک ظاہر نہ تھا، لیکن پھر اللہ کے حکم پر حضرت جبریل علیہ السلام نے حضرت ابراھیم علیہ السلام کی خانہ کعبہ کی بنیادوں کی طرف نشاندہی کی اور آپ نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی پرانی بنیادوں پر تعمیر کی، اللہ کا یہ گھر ایسا سادہ تعمیر ہوا کہ اس کی نہ چھت تھی، نہ کوئی کواڑ اور نہ ہی کوئی چوکھٹ یا دروازہ۔

کعبہ کو "کعبہ" اس کی ساخت کے مکعب نما ہونے کی بنا پر کہا جاتا ہے، عربی میں چھ یکساں پہلوؤں والی چیز مکعب کہلاتی ہے، چونکہ حضرت ابراھیم علیہ السلام کی تعمیر مکعب حالت میں تھی تو اسے کعبہ کہا جانے لگا، یاد رہے کہ موجودہ خانہ کعبہ چار کونوں والا ہے، جسے قریش مکہ نے اس وقت تعمیر کیا جب ایک سیلاب میں خانہ کعبہ کی عمارت منہدم ہوگئی تھی، اس کا ذکر آگے آۓ گا۔

تیسرا اہم واقعہ قبائل جرھم اور بنی قطورا کا حضرت ابراھیم علیہ السلام کی تبلیغ پر دین حنیف یعنی دین ابراھیمی قبول کرلینا تھا، خانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد حضرت ابراھیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تولیت یعنی سارا مذہبی انتظام قبیلہ جرھم کے حوالے کردیا، بعد ازاں اسی قبیلہ کے سردار کی بیٹی سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شادی ہوئی۔

جب کچھ پشتوں بعد نسل اسماعیل علیہ السلام پھلی پھولی تو پھر خانہ کعبہ کا سارا انتظام خود آل اسماعیل نے سنبھال لیا، کچھ عرصہ گزرا تو ایک اور قبیلہ "ایاد" مکہ پر حملہ آور ہوا اور شھر پر زبردستی قبضہ کرلیا اور اس دوران بنی اسماعیل کے بہت سے قبائل کو مکہ سے نکلنا بھی پڑا، تاہم بعد میں یمن سے آنے والے ایک اور قبیلہ بنو خزاعہ نے مکہ کو بنی ایاد سے آزاد کرالیا۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے "قصی بن کلاب" وہ نامور بزرگ گزرے ہیں (جن کی شادی بنو خزاعہ کے رئیس کی بیٹی سے ہوئی تھی) جنہوں نے خانہ کعبہ کی تولیت واپس لینے کے لیے جدو جہد شروع کی اور بالآخر بنو خزاعہ کی بہت مخالفت کے باوجود اس مقصد میں کامیاب ہوئے، انہوں نے خانہ کعبہ کی تولیت کا انتظام پھر سے ملنے پر قدیم عمارت گرا دی اور خانہ کعبہ کو نئے سرے سے تعمیر کرایا اور پہلی بار کجھور کے پتوں کی چھت بھی ڈالی۔

درحقیقت قصی بن کلاب ہی وہ بزرگ تھے جنہوں نے مکہ کو ایک خانہ بدوشانہ شھر سے بدل کر ایک منظم ریاست کی شکل دی، انہیں بجا طور پر مکہ کا مطلق العنان بادشاہ کہا جاسکتا ہے، جن کا ہر لفظ قانون کی حیثیت رکھتا تھا، تاہم انہوں نے دیگر قبائل کے سرکردہ افراد کو اپنی مشاورت میں شامل رکھا، جبکہ مکہ کا انتظام و انصرام چلانے کے لیے مختلف انتظامی امور کو چھ شعبوں میں تقسیم کیا اور اپنی اولاد میں ان عہدوں کی تقسیم کی، یہ نظام بڑی کامیابی سے اگلے 150 سال سے زائد عرصہ تک چلا اور پھر بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جب مکہ فتح ہوا تو اسے اسلامی اصولوں اور بنیادوں پر تبدیل کردیا گیا۔
(جاری ہے)

*عربوں کی تاریخ '' عرب اقوام ''*مؤرخین عرب قوم کو تین گروہوں میں تقسیم کرتے ہیں:*عرب بائدہ:*یہ قدیم عرب لوگ ہیں جو اس مل...
08/09/2025

*عربوں کی تاریخ '' عرب اقوام ''*

مؤرخین عرب قوم کو تین گروہوں میں تقسیم کرتے ہیں:

*عرب بائدہ:*

یہ قدیم عرب لوگ ہیں جو اس ملک میں آباد تھے، ان میں قوم عاد و ثمود کا نام آپ میں سے اکثر نے سن رکھا ہوگا، ان کے علاوہ عمالقہ، طسم، جدیس، امیم وغیرہ بھی اہم ہیں۔ ان لوگوں نے عراق سے لےکر شام اور مصر تک سلطنتیں قائم کرلی تھیں، بابل اور اشور کی سلطنتوں اور قدیم تمدن کے بانی یہی لوگ تھے۔

یہ قومیں کیسے صفحہ ہستی سے مٹ گئیں، اس کے متعلق تاریخ ہمیں تفصیل سے کچھ بتانے سے قاصر ہے، لیکن اب بابل، مصر، یمن اور عراق کے آثار قدیمہ سے انکشافات ہورہے ہیں اور کتابیں لکھی جارہی ہیں، جبکہ قوم عاد و ثمود کے حوالے سے قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ یہ قومیں اللہ کی نافرمانی اور سرکشی میں جب حد سے بڑھ گئیں تو ان کو عذاب الہی نے گھیر لیا اور یہ نیست و نابود ہوگئیں۔

*عرب عاربہ:*

عرب عاربہ کو بنو قحطان بھی کہا جاتا ہے، یہ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے سام بن نوح کی اولاد سے ہیں اور یہ لوگ قدیم عرب (عاد ثمود وغیرہ) کی تباہی اور جزیرہ نما عرب سے مٹ جانے کے بعد یہاں آباد ہوئے۔

قحطان حضرت نوح علیہ السلام کا پوتا تھا جس کے نام پر یہ لوگ بنو قحطان کہلائے، پہلے پہل یہ لوگ یمن کے علاقے میں قیام پزیر ہوئے، مشھور ملکہ سبا یعنی حضرت بلقیس کا تعلق بھی بنو قحطان کی ایک شاخ سے تھا، پھر ایک دور آیا کہ بنو قحطان کو سرزمین عرب کے دوسرے علاقوں میں نقل مکانی بھی کرنا پڑی، اس کی ایک وجہ تووہ مشھور سیلاب ہے جو "مارب بند " ٹوٹ جانے کی وجہ سے آیا، جس کے نتیجے میں ان لوگوں کو جان بچانے کے لیے دوسرے علاقوں کا رخ کرنا پڑا، اس سیلاب کا ذکر قرآن مجید میں بھی آیا ہے۔

اور دوسری وجہ یہ کہ جب ان کی آبادی پھیلی تو مجبوراً ان کے مختلف قبائل کو یمن سے نکل کر اپنے لیے نئے علاقے ڈھونڈنا پڑے جس کے نتیجے میں یہ لوگ جزیرہ نما عرب کے طول و عرض میں پھیل گئے، جبکہ کچھ قبائل شام و ایران اور عرب کے سرحدی علاقوں کی طرف بھی نکل گئے اور وہاں اپنی آبادیاں قائم کیں، جبکہ ایک قبیلہ بنو جرھم مکہ کی طرف جا نکلا اور زم زم کے چشمے کی وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی اجازت سے وہاں آباد ہوگیا۔

بنو قحطان کا ہی ایک قبیلہ آزد کا سردار ثعلبہ اپنے قبیلہ کے ساتھ یثرب (مدینہ ) کی طرف آیا اور یہاں جو چند خاندان بنی اسرائیل کے رہتے تھے انہیں مغلوب کرلیا، قلعے بناۓ اور نخلستان لگاۓ، اسی کی اولاد سے اوس اور خزرج مدینہ کے دو مشہور قبیلے تھے، جن کا تاریخ اسلام میں بہت اونچا مقام ہے۔

*عرب مستعربہ:*

سرزمین عرب پر سب سے آخر میں آباد ہونے والے بنو اسماعیل تھے، انہی کو عرب مستعربہ بھی کہا جاتا ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم پر اپنی زوجہ حضرت ہاجرہ اور شیرخوار بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں لا بسایا اور خود واپس چلے گئے۔

یاد رہے کہ اس وقت نہ مکہ کی آبادی تھی اور نہ ہی خانہ کعبہ کا وجود، خانہ کعبہ ویسے تو حضرت آدم علیہ السلام کے وقت تعمیر ہوا، مگر خانوادہ ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت کے وقت وہ تعمیر معدوم ہوچکی تھی اور پھر بعد میں جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر 15 سال کی تھی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام مکہ تشریف لاۓ تھے اور ان دونوں باپ بیٹے نے مل کر اللہ کے حکم پر اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کی رہنمائی اور نگرانی میں خانہ کعبہ کو انہی بنیادوں پر ازسر نو تعمیر کیا جن پر کبھی حضرت آدم علیہ السلام نے بنایا تھا۔

جب شدت گرمی اور پیاس سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی حالت خراب ہونا شروع ہوئی تو حضرت ہاجرہ۔ ایک عظیم ماں کی وہ بے قرار دوڑ شروع ہوئی جو آج بھی حج کا ایک لازم حصہ ہے۔

آپ پانی کی تلاش میں کبھی صفا پہاڑی پر چڑھ کر دور دور تک دیکھتیں کہ شاید کہیں پانی نظر آۓ اور کبھی صفا کی مخالف سمت میں مروہ پہاڑی پر چڑھ کر دیکھتیں، مگر وہاں پانی ہوتا تو نظر آتا، اس دوران جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کے رونے کی آواز ماں کے کانوں میں پڑتی تو بے قرار ہوکر ان کے پاس دوڑی دوڑی جاتیں اور جب ان کو پیاس سے جاں بلب اور روتا بلکتا دیکھتیں تو پھر دیوانہ وار پانی کی تلاش میں جاتیں۔

اسی اثناء میں کیا دیکھتی ہیں کہ جہاں ننھے اسماعیل علیہ السلام اپنی ایڑھیاں رگڑ رہے تھے وہاں سے پانی کسی چشمہ کی صورت ابل رہا ہے، بھاگ کر بیٹے کے پاس پہنچیں، اللہ کا شکر ادا کرتے ہوۓ بیٹے کو پانی پلایا، خود بھی پیا اور پھر اس چشمہ کے ارد گرد تالاب کی صورت میں مٹی کی منڈھیر بنادی، لیکن جب پانی مسلسل بڑھتے بڑھتے تالاب کے کناروں سے باہر نکلنے لگا تو بے اختیار آپ کے مونہہ سے نکلا:

*" زم زم " (ٹھہر جا ٹھہر جا)*

اور ان کے یہ فرماتے ہی پانی یکدم ٹھہر گیا۔

*زم زم قدرت کا کرشمہ:*

یہاں آپ سے زم زم کے کنویں کے متعلق ایک معجزاتی بات شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ موجودہ دور میں اس کنواں میں بڑی بڑی موٹریں لگا کر پانی نکالا جاتا ہے، کنویں میں پانی کا لیول خانہ کعبہ کی بنیادوں سے ہمیشہ 6 فٹ نیچے رہتا ہے، کنویں سے 24 گھنٹے لگاتار پانی نکالا جاتا ہے، جس کی مقدار ملیئنز آف ملیئنز گیلنز میں ہوتی ہے۔

اب دو بہت ہی عجیب باتیں ظہور پزیر ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ 24 گھنٹے میں مسلسل پانی نکالنے کی وجہ سے کنویں کا جو لیول کم ہوتا ہے وہ بہت تیزی سے محض گیارہ منٹوں میں اپنی اصل جگہ پر واپس آجاتا ہے اور اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ اتنی تیزی سے اوپر چڑھنے والا پانی ہمیشہ ہی اپنے لیول یعنی خانہ کعبہ کی بنیادوں سے 6 فٹ نیچے پہنچ کر خود بخود رک جاتا ہے۔

*یہ اوپر کیوں نہیں چڑھتا؟*

اور اگر یہ پانی خود بخود نہ رک جاۓ تو تب غور کریں کہ اگر 24 گھنٹے نکالا جانے والا پانی صرف 11 منٹوں میں پورا ہوجاتا ہے تو اگر یہ پانی نہ رکے اور اوپر چڑھ کر باہر بہنا شروع کردے تو تب کیا صورت پیدا ہوگی..؟

یقیناً یہ حضرت ہاجرہ کے مبارک فرمان یعنی "زم زم۔ ٹھہرجا ٹھہرجا" کی برکت ہے کہ یہ اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرتا اور جتنا بھی اس سے پانی نکال لیا جاۓ یہ بس اپنے اسی لیول تک آ کر خود بخود رک جاتا ہے، جہاں کبھی اسے حضرت ہاجرہ نے روکا تھا۔

اب اصل موضوع کی طرف پلٹتے ہیں۔

اوپر بنو قحطان کے ایک قبیلہ جرھم کا ذکر کیا گیا۔ سرزمین عرب کیونکہ زیادہ تر صحرا اور لق و دق پہاڑی علاقہ پر مشتمل ہے اور پانی بہت نایاب ہے تو کسی جگہ آبادی کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہاں پانی میسر ہو، قبیلہ جرھم جب اپنے علاقہ یمن سے نئے وطن کی تلاش میں نکلا تو دوران سفر جب مکہ کی وادی میں پہنچا تو وہاں ان کو زم زم کے چشمہ کی وجہ سے ٹھہرنا مناسب لگا، کیونکہ چشمہ کی مالک حضرت ہاجرہ تھیں تو انہوں نے بی بی ہاجرہ کی اجازت سے چشمہ کے ساتھ میں ڈیرے ڈال دیئے اور آباد ہوگئے، یوں حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ایک مضبوط عربی قبیلہ کا ساتھ میسر آیا، بعد ازاں اسی قبیلہ کے سردار کی بیٹی کے ساتھ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شادی ہوئی جبکہ خانہ کعبہ بھی ازسر نو تعمیر ہوا۔

یوں مکہ بے آب وگیاہ وادی سے ایک آباد شھر کا روپ اختیار کر گیا۔


(جاری)

07/09/2025

*تعلیم کے ساتھ ادب بھی ضروری ہے*

تعلیم انسان کو شعور دیتی ہے، مگر *ادب انسان کو انسان بناتا ہے*۔ اگر بچے علم تو حاصل کر لیں مگر بڑوں کا ادب، چھوٹوں سے شفقت، سچ بولنا، نرم مزاجی اور خوش اخلاقی نہ سیکھیں، تو وہ معاشرے کے لیے فائدہ مند فرد نہیں بن سکتے۔
والدین اور اساتذہ کی یہ بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں *ادب، اخلاق، سچائی، امانت، اور حیا* سکھائیں۔
کیونکہ:

*"جس علم کے ساتھ ادب نہ ہو، وہ غرور پیدا کرتا ہے۔"*

لہٰذا اپنے بچوں کو صرف کامیاب نہیں، بلکہ *بااخلاق، باادب اور باکردار* بنائیں۔

07/09/2025

*💥 ٹین ایجر لڑکے – والدین سے محبت کے پانچ رنگ 💥*

ان کے نرم و نازک گالوں کو چومنا۔۔۔۔اپنے ساتھ چمٹانا، محبت کرنا اور کروانا، باتیں سننا اور کرنا۔۔۔۔
*لڑکوں کےابتدائی ایام اتنے تیزی سے گزرتے جاتے ہیں جیسے پلک جھپکی اور وہ ٹین ایج میں داخل ہو گئے* ۔

ہم سوچتے ہیں کہ بڑے ہونے کے بعد وہ ہم سے ویسی محبت نہیں کرتے، نہ ہمارے شکر گزار ہوتے ہیں جیسا کہ ہماری چاہ ہوتی ہے۔ یوں فاصلہ بڑھتا جاتا ہے۔
جبکہ اس عمر میں لڑکے اپنے *مخصوص انداز میں ماں اور باپ کے ساتھ محبت کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں، اپنے روئیے سے شکر* *گزاری کی کیفیات بیان کر رہے ہوتے ہیں۔۔۔۔والدین کو بس انہیں* محسوس کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

▪️1۔ " *امّی۔۔۔۔آپ بتائیں"*
ٹین ایج لڑکے ہماری رہنمائی حاصل کرکے، ہماری رائے پوچھ کر اور عموما اس کو مان کر اپنی شکر گزاری کا مظاہرہ کرتے ہیں. اس بات کا یقین اپنے اندر پیدا کریں کہ وہ ابھی بھی آپ کی طرف دیکھتے ہیں۔۔۔۔
اپنی شخصیت کو بنانے کے لیے آپ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔۔۔۔ لیکن وہ بھی تو انسان ہیں، اپنی رائے کے مطابق فیصلہ لینے میں *آپ ان کی مدد نہیں کرینگے تو ہمیشہ وہ دوسروں پر منحصر رہیں گے۔*

▪️2۔ *"بس آپ پاس رہیں* "
کبھی تاخیر سے واپس آئیں تو انہیں بے چینی سے ٹہلتے دیکھ کر کبھی آپ نے غور کیا کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟؟؟؟ اور آپ کو دیکھ کر ان کے چہرے پر راحت کو کبھی محسوس کیا۔۔۔بظاہر بے حس لیکن ان کی روح تڑپتی ہوئی آپ سے جڑی ہوتی ہے۔
*ان کی فتوحات یا ناکامیوں کے لئے آپ کو موجودگی کتنی اہم ہے، آپ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے۔۔۔*
*آپ کی محض موجودگی ان کے وجود میں سکون کی لہریں بھیجتی ہے۔*

▪️3 *"أبو۔۔۔بات تو* سنیں"
جب وہ اپنے دن بھر کی سرگرمیوں کو شئیرکرتے ہیں تودراصل وہ آپ پر اعتماد کررہے ہوتے ہیں۔ ان کی کہانیاں، چاہے وہ معمولی ہوں یا گہری، آپ سے تعلق جوڑے رکھنے کی خواہش ظاہر کرتی ہیں۔ ان بظاہر غیر اہم کہانیوں کے ذریعے ہی گہری بات چیت کے دروازے ابھرتے ہیں۔

▪️4۔ " *مزہ آگیا* "
*چھوٹے چھوٹَ تعریفی جملے دراصل ان کے گہرے مشاہدے کی* *کہانی ہوتی ہے* ۔۔۔
آپ کو معلوم نہیں، ان کی ہوشیار آنکھیں آپ کی ہر حرکت پر نظر رکھتی ہیں۔

▪️5۔ *"امّی، آج دوست آرہے ہیں"*
*ہر وہ لمحہ جو آپ ان کے دوستوں کی خاطر مدارت میں لگاتے ہیں* *دراصل ایک انمول کرنسی بن جاتی ہے۔۔۔محبت کی* *کرنسی* ۔۔۔۔
*آپ کی ہر چھوٹی سی چھوٹِ مدد ان کے ذہنوں میں نقش ہو رہی ہے، اور گہرے شکرگزاری والے روئیے میں ڈھلنے والی ہے۔*

یہ نوجوان روحیں۔۔۔۔آپ سے جڑی تھیں، ہیں اور رہیں گی ۔۔۔۔۔بس عمر کے ساتھ انy کا رنگ تبدیل ہوتا چلا جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اب آپ کی ٹانگوں سے چپکے نہ رہیں، لیکن وہ آپ کے دل سے ہمیشہ چپکے رہنا چاہتے ہیں، ہاں وہ چاہتے ہیں، انہیں اڑنے کی آزادی حاصل رہے۔۔۔۔۔ لہٰذا پیارے والدین، ان کے اشاروں میں چھپی شکر گزاری کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں، کیونکہ یہ آپ کی محبت اور رہنمائی کا ثبوت ہے۔
ان کے سفر کو گلے لگائیں اور بڑے ہوتے لڑکوں کو غیر معمولی مردوں میں تبدیل کرنے کا اہم فریضہ ضرور انجام دیں۔


*تحریر کو صدقہ جاریہ اور اللہ کی رضا کی نیت سے اپنے پیاروں کے ساتھ شیئر کیجئے ہو سکتا ہے آپ کی تھوڑی سی محنت یا کوشش کسی کی زندگی بدلنے کا ذریعہ بن جائے*

Address

Kot Addu
34030

Telephone

+923317425858

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Anabia Global Islamic Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category